دُکی میں بم دھماکے سے تین بھائی ہلاک، ماشکیل میں پولیس سٹیشن اور کسٹمز دفتر نذرِ آتش, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہEPA
بلوچستان کے ضلع دُکی میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے، جبکہ گذشتہ روز ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس سٹیشن اور کسٹمز کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ دو روز کے دوران صوبے میں تشدد کے یہ تیسرے بڑے واقعات ہیں۔
دُکی میں بم دھماکہ کیسے پیش آیا؟
دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار کے مطابق بم دھماکے کا واقعہ تحصیل لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں پیش آیا۔
انھوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو کسی نامعلوم شخص نے فون پر اطلاع دی تھی کہ ان کی زرعی اراضی پر نصب سولر پلیٹوں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد چار افراد ایک گاڑی میں اپنی زمین کی جانب روانہ ہوئے۔
پولیس کے مطابق راستے میں ایک ندی کے قریب ان کی گاڑی کے نزدیک زور دار دھماکہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد علاقے میں پہلے سے نصب کیا گیا تھا۔
منصور احمد بزدار نے بتایا کہ دھماکے میں تین افراد، جو آپس میں بھائی تھے، ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔ لاشوں اور زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب ضلع مستونگ میں مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک فروٹ ٹھیکیدار ہلاک ہو گیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کھڈکوچہ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔
ان کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر ضلع پشین سے تعلق رکھنے والا ایک فروٹ ٹھیکیدار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
کھڈکوچہ کے علاقے میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے اور سکیورٹی فورسز وہاں کالعدم تنظیموں سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ماشکیل میں کیا ہوا؟
گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد ضلع واشک کے سرحدی شہر ماشکیل کے بعض علاقوں میں داخل ہوئی۔
مقامی رہائشیوں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ مسلح افراد کی آمد کے بعد شہر کے مختلف حصوں سے دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایک حکومتی عہدیدار اور ایک پولیس اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ حملہ آوروں نے ایک پولیس سٹیشن اور کسٹمز کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ ان کے مطابق حملہ آور کچھ اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہو گئے۔
ماشکیل بلوچستان کا ایک دور افتادہ سرحدی علاقہ ہے جو ایرانی سرحد سے تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگرچہ ضلع واشک کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ماشکیل شہر میں یہ نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
اس سے قبل جولائی کے دوسرے ہفتے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک حجام کی دکان پر حملہ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو قتل کر دیا تھا۔


























