محسن خان اور انڈین اداکارہ رینا رائے: ’میں نے شادی سے پہلے ان کی کوئی فلم نہیں دیکھی تھی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یہ ستمبر 1983 کی بات ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنگلور میں پہلا ٹیسٹ ابھی شروع نہیں ہوا تھا کہ انڈین فلموں کے ایک مشہور ہدایت کار نے ایک معروف پاکستانی کرکٹر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔
جب وہ کرکٹر سے ملے تو اُنھوں نے محسن خان کو اپنی فلم میں کام کرنے کی پیشکش کر دی۔ ’میرے پاس آپ کے لیے ایک کردار ہے۔‘
جواب ملا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ میں اس وقت کرکٹ میں بہت زیادہ مصروف ہوں۔ میں جتنے طویل عرصے تک ممکن ہو سکے اپنے ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں۔ لیکن جب میں کرکٹ چھوڑ دوں گا تو آپ سے وعدہ ہے کہ میں یہ کردار ادا کروں گا۔‘
چند جملوں پر مشتمل یہ ملاقات اُس وقت تو ختم ہو گئی لیکن کچھ عرصے بعد دونوں کی ممبئی میں دوبارہ ملاقات ہوئی۔ تب ہدایت کار نے کرکٹر کو اُن کا وعدہ یاد دلایا اور کہا: ’فلم کا موضوع اچھا ہے۔ میں دھرمیندر اور ونود کھنہ کو پہلے ہی کاسٹ کر چکا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس فلم میں آپ کو تیسرے ہیرو کے طور پر کاسٹ کروں۔‘
اور اس گفتگو کے بعد اُس کرکٹر کی بالی وڈ کی چمکتی دنیا میں انٹری ہو گئی۔ وہ پاکستانی کرکٹر محسن خان تھے جبکہ ہدایت کار جے پی دتہ تھے۔
جے پی دتہ اور محسن خان کا ذکر ایک اور نام کے بغیر ادھورا ہے۔ وہ نام اداکارہ رینا رائے کا ہے۔
رینا رائے اور جے پی دتہ کے درمیان دوستی تھی۔ دراصل محسن خان کے فلمی کیریئر کو شروع کرنے اور آگے بڑھانے میں رینا رائے ہی سب سے آگے تھیں۔
محسن خان اور رینا رائے کی پہلی ملاقات لندن میں ہوئی تھی۔ اُس وقت محسن خان انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیل رہے تھے اور رینا رائے اپنی بہن کے ساتھ وہاں آئی ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محسن کو رینا رائے سے اُن کی بہن نے ہی متعارف کروایا تھا۔ اُنھوں نے بتایا تھا کہ رینا رائے انڈین فلموں کی نمایاں اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔
تاہم محسن خان کو فلموں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ دنیا انھیں ایک سٹائلش کرکٹر کے طور پر جانتی تھی۔
محسن خان کہتے ہیں کہ ’میں نے شادی سے پہلے رینا رائے کی کوئی فلم نہیں دیکھی تھی۔ فلموں میں میری دلچسپی صرف اتنی تھی کہ گھر سے نکلتے وقت اگر امیتابھ بچن کا کوئی فلمی منظر سکرین پر آ جاتا تو میں چند لمحوں کے لیے اسے دیکھنے کو رک جاتا۔
’اس کے علاوہ میں فلمیں بالکل نہیں دیکھا کرتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہMike Stephens/Central Press/Hulton Archive/Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
محسن خان اور رینا رائے کی دوستی محبت میں بدل گئی۔ پھر دونوں 1983 میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔
انڈیا میں اس سے پہلے بھی کرکٹر نواب منصور علی خان پٹودی اور اداکارہ شرمیلا ٹیگور کی شادی ہو چکی تھی۔ بعد میں بھی کئی کرکٹرز نے اداکاراؤں سے شادیاں کیں لیکن کسی پاکستانی کرکٹر کا کسی انڈین اداکارہ کو شریکِ حیات بنانا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔
دونوں اُس وقت اپنے اپنے کیریئر کی بلندی پر تھے۔ شادی کے بعد رینا رائے فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو کر پاکستان میں رہنے لگیں۔
لیکن پھر وہ وقت آیا جب محسن خان اور رینا رائے کی راہیں جدا ہو گئیں۔ 90 کی دہائی کے آغاز میں اُن کی طلاق کی خبر میڈیا میں اتنی ہی بڑی سرخی تھی جتنی اُن کی شادی کی خبر تھی۔
رینا رائے طلاق کے بعد دوبارہ انڈیا واپس چلی گئیں۔ اُنھوں نے پھر فلموں میں کام بھی کیا۔ بعد ازاں وہ ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں بطور مہمان بھی نظر آئیں۔
ان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام پہلے جنت تھا۔ بعد میں اس کا نام صنم خان ہو گیا۔
دونوں کے درمیان بیٹی کی تحویل کا معاملہ بھی رہا۔ ابتدا میں بیٹی اپنے والد کے پاس تھی لیکن بعد میں اپنی والدہ کے پاس چلی گئی۔
محسن خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’میں نے ایک انسان سے اُس کی خوبصورتی اور شہرت نہیں بلکہ اُس کی عادت اور اچھے رویے کو دیکھ کر شادی کی تھی۔ میں نے شادی سے پہلے رینا رائے کی کوئی فلم نہیں دیکھی تھی۔ شاید میری اس بات پر کوئی یقین نہ کرے لیکن یہ سچ ہے۔‘
فلمی کیریئر
فلم بٹوارہ میں کام کرنے کا تجربہ محسن خان کے لیے خاصا دلچسپ رہا۔ اس فلم میں دھرمیندر، ونود کھنہ اور شمی کپور جیسے بڑے نام شامل تھے۔
ان کے سامنے اداکاری کرنا آسان کام نہیں تھا، خاص طور پر ایسے شخص کے لیے جسے اس شعبے کا کوئی تجربہ نہ ہو۔
لیکن جے پی دتہ کی ہدایات اور مشوروں نے محسن خان کے لیے ایک پولیس افسر کا کردار نبھانا آسان بنا دیا۔
جے پی دتہ نے انھیں کرکٹ کی زبان میں ایک منظر سمجھاتے ہوئے کہا: ’فرض کریں آپ نے سنچری بنائی ہے لیکن پھر بھی آپ کی ٹیم ہار گئی ہے۔ ایسی صورت میں آپ خوشی سے زیادہ دکھ کو کس طرح محسوس کریں گے؟‘
محسن خان کے لیے خوشی کا لمحہ وہ تھا جب فلم ’بٹوارہ‘ میں اپنے کردار پر انھیں فلم فیئر ایوارڈ میں بہترین معاون اداکار کے زمرے میں نامزد کیا گیا۔
محسن خان کو ذاتی طور پر فلم ’ساتھی‘ پسند ہے، جس کے ہدایت کار مہیش بھٹ تھے۔
وہ کہتے ہیں: ’بھٹ صاحب بے حد علم رکھنے والے انسان ہیں۔ آپ اُن کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کے فلسفے کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔‘
محسن خان نے بالی وڈ کی 13 فلموں میں کام کیا۔ 1997 میں ریلیز ہونے والی ’مہانتا‘ اُن کی آخری بالی وڈ فلم تھی۔
اُنھوں نے کئی پاکستانی فلموں میں بھی کام کیا جن میں راز، پیاسا ساون، ہاتھی میرے ساتھی، جنت، انسانیت، بیٹا، گھونگھٹ، دل تیرا عاشق اور چلتی کا نام گاڑی شامل ہیں۔
پاکستان میں اُن کی آخری فلم ’سالا بگڑا جائے‘ تھی جو 1999 میں ریلیز ہوئی۔
محسن خان کی زیادہ تر فلمیں باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکیں۔
کرکٹ کو سنجیدگی سے لینے کا مشورہ

،تصویر کا ذریعہArif Ali/AFP via Getty Images
محسن خان ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد پاکستان نیوی میں افسر تھے جبکہ والدہ ٹیچر اور وائس پرنسپل تھیں۔
ایک جانب انھیں نظم و ضبط کی تعلیم ملی اور دوسری جانب تعلیم پر مکمل توجہ دی گئی۔ ان دونوں خوبیوں نے اُن کی شخصیت کو نکھار دیا۔
طالب علمی کے زمانے میں اُنھوں نے تقریباً ہر کھیل میں حصہ لیا۔ یہاں تک کہ وہ پاکستان کے نیشنل جونیئر بیڈمنٹن چیمپئن بھی بن گئے۔
ایک کالج میچ میں اُنھوں نے سنچری بنائی۔ اُس میچ کے ایک امپائر عمر خان تھے جو سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور ٹیسٹ امپائر رہ چکے تھے۔
اُنھوں نے محسن خان کی بیٹنگ دیکھ کر مشورہ دیا کہ کرکٹ کو سنجیدگی سے کھیلیں۔ اس کے بعد محسن خان نے حقیقی معنوں میں کرکٹ سے اپنا تعلق جوڑ لیا۔
انڈر 19 سطح پر کھیلتے ہوئے اُنھوں نے ٹرپل سنچری بھی بنائی اور بعد ازاں کراچی اور پاکستان یونیورسٹیز کی ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔
لارڈز کی تاریخی ڈبل سنچری

،تصویر کا ذریعہDESHAKALYAN CHOWDHURY/AFP via Getty Images
محسن خان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز اُس وقت کیا جب پاکستان کے کئی سٹار کرکٹر کیری پیکر کرکٹ کھیلنے چلے گئے تھے۔
1982 میں سری لنکا کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں بنائی گئی سنچری نے انہیں پہلی مرتبہ بھرپور اعتماد دیا۔
اسی سال لارڈز کے تاریخی میدان میں ان کی شاندار ڈبل سنچری نے پاکستان کی پہلی فتح کی بنیاد رکھی۔
بعد میں جاوید میانداد کے ساتھ تیز رفتار رنز بنا کر انھوں نے پاکستان کو صرف 13.1 اوورز میں کامیابی دلوا دی۔
1982 اُن کے کیریئر کا بہترین سال ثابت ہوا۔ اس سال وہ ایک کیلنڈر سال میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے پہلے پاکستانی بلے باز بنے۔
اسی برس انھوں نے انڈیا، آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف بھی ٹیسٹ سنچریاں بنائیں۔
ڈان بریڈمین سے نہ مل پانے کا افسوس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1983-84 میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز بھی محسن خان کی یادگار سیریز میں سے ایک تھی جس میں اُنھوں نے ایڈیلیڈ میں 149 اور میلبورن میں 152 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں۔
یہ پہلا موقع تھا جب کسی پاکستانی بلے باز نے آسٹریلیا میں مسلسل دو ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنائیں۔
محسن خان کو آج بھی افسوس ہے کہ وہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے دوران عظیم سر ڈان بریڈمین سے نہ مل سکے۔
بعد میں این چیپل نے انھیں بتایا کہ سر ڈان بریڈمین اُن کی بیٹنگ سے بہت متاثر ہوئے تھے اور کہا تھا کہ ’یہ لڑکا بیٹنگ کرنا جانتا ہے۔‘
اسی طرح میلبورن کی اننگز کے بعد ڈینس للی نے عمران خان سے کہا تھا کہ ’آج میں نے دنیا کے چند بہترین بلے بازوں میں سے ایک کے خلاف گیند بازی کی ہے۔‘
چیف سلیکٹر سے تند و تیز گفتگو
1984 میں انگلینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کے دوران محسن خان کو معلوم ہوا کہ انھیں آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے۔
اس خبر کے باوجود اُنھوں نے دوسری اننگز میں شاندار سنچری اسکور کی جس کے بعد سلیکٹرز کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔
محسن خان کے مطابق ’جب میں سنچری بنا کر ڈریسنگ روم واپس آیا تو ہر شخص میری تعریف کر رہا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ ٹیم کے اعلان کو روک لیا گیا ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ اُس دوران چیف سلیکٹر ان کے پاس آئے اور آئندہ سیریز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جس پر محسن خان نے انہیں سخت جواب دیا۔
جس چیف سلیکٹر سے یہ گفتگو ہوئی تھی وہ حسیب احسن تھے۔
مدثر نذر کے ساتھ کامیاب جوڑی
1984 وزڈن نے 2008 میں ٹیسٹ کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر دس بہترین اوپننگ جوڑیوں کی فہرست مرتب کی تھی۔
اس میں محسن خان اور مدثر نذر کو نویں بہترین اوپننگ جوڑی قرار دیا گیا تھا۔
دونوں نے ایک ساتھ کھیلتے ہوئے 54 ٹیسٹ اننگز میں اوپننگ شراکت کے طور پر 2054 رنز بنائے تھے جن میں تین سنچری اور سولہ نصف سنچری شراکتیں شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہLAKRUWAN WANNIARACHCHI/AFP via Getty Images
دوبارہ کرکٹ کی طرف واپسی
فلمی دنیا کو خیرباد کہنے کے بعد محسن خان دوبارہ کرکٹ سے وابستہ ہو گئے۔
وہ چیف سلیکٹر بھی رہے اور کچھ عرصہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہے۔
ہیڈ کوچ کے طور پر اُن کی سب سے بڑی کامیابی دنیا کی نمبر ایک ٹیم انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کرنا تھی۔
ان کی کوچنگ میں پاکستان نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے دوروں پر تینوں فارمیٹس، یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔
وہ کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے، جس میں وسیم اکرم، مصباح الحق اور عروج ممتاز شامل تھیں۔
محسن خان جب اپنی پہلی کرکٹ اننگز مکمل کر کے رخصت ہوئے تو اُن کی عمر صرف 31 برس تھی۔
وہ اپنے خوبصورت سٹروکس اور سٹائلش شخصیت کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے۔
شاید اُن کی یہی شخصیت اُنھیں کرکٹ کے میدان سے بالی وڈ تک لے گئی۔
کرکٹ اور فلم میں زیادہ مشکل کیا ہے، اس سوال کے جواب میں محسن خان نے کہا: ’دونوں کام آسان نہیں ہیں، لیکن کرکٹ زیادہ مشکل ہے کیونکہ اس میں براہِ راست کارکردگی ہوتی ہے اور غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔‘
اُن کے بقول ’فلم کی شوٹنگ میں ری ٹیک کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ ایک سے زیادہ غلطیاں بھی ہو جائیں تو بھی آپ کو بہترین شاٹ مل جاتا ہے۔‘



















