ٹرمپ، مودی ملاقات اور میڈیا کے ’سوال نہ لینے‘ کی درخواست: ’سرجیو گور، آپ کو مودی کے راز بے نقاب کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟‘

،تصویر کا ذریعہgettyimages
انڈیا میں امریکی سفیر سرجیو گور کے ایک بیان نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک پرانی تنقید کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے براہِ راست سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
گور نے یہ بات سنیچر کو دہلی میں منعقدہ اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم سے خطاب کے دوران کہی۔ وہ جون میں فرانس کے شہر ایویان میں جی-سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا حوالہ دے رہے تھے۔
گور کے مطابق اس ملاقات سے قبل انڈین وزارتِ خارجہ نے امریکی حکام کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم مودی صحافیوں کے سوالات نہیں لینا چاہتے۔ ان کے بقول انڈین فریق کی درخواست تھی کہ میڈیا کو ملاقات تک رسائی دی جائے، مگر صحافیوں کو مودی سے سوالات پوچھنے کا موقع نہ دیا جائے۔
گور نے کہا کہ جب انھوں نے انڈین وزارتِ خارجہ کی یہ خواہش صدر ٹرمپ کے سامنے رکھی تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’شیور، نو پرابلم۔‘
تاہم بعد میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے متعدد سوالات کیے۔ ان کے ساتھ وزیرِ اعظم مودی بھی موجود تھے، مگر پورے سوال و جواب کے سیشن کے دوران وہ خاموش رہے اور گفتگو صحافیوں اور امریکی صدر کے درمیان ہی ہوتی رہی۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے مودی کے بارے میں کہا تھا: ’آپ انھیں دیکھیں، یہ بہت اچھے لگتے ہیں، فرشتے جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن بہت مشکل آدمی ہیں۔۔۔ بہت مشکل مذاکرات کار ہیں، یہ کِلر ہیں۔ آپ کو حیران کر سکتے ہیں۔‘
دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی جب امریکہ اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی تھی اور اس سے چند روز قبل خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر امریکی نیوی کے حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے بعد اس تناؤ میں مزید اضافہ نظر آیا تھا۔
تاہم فرانس کے شہر ایویان میں ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے ایک دوسرے کے لیے دونوں رہنماؤں کے مثبت کلمات اور صدر ٹرمپ کی جانب سے انڈیا کے دورے کے اشارے کو دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا۔ اگرچہ بعض حلقوں نے اس پر تنقید بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گفتگو کے دوران مودی نے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر صدر ٹرمپ کی تعریف کی، جبکہ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ معاہدے میں ملاحوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے سے متعلق شق بھی شامل ہونی چاہیے۔
اب سرجیو گور کے تازہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا وزیرِ اعظم مودی صحافیوں کے آزادانہ سوالات سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی دوروں کے دوران مودی کی جانب سے پریس کانفرنسوں سے اجتناب کا معاملہ بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے۔
اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا گور کا بیان محض سفارتی انتظامات سے متعلق ایک معمول کی تفصیل ہے یا پھر یہ ان الزامات کو تقویت دیتا ہے جو مودی کے ناقدین طویل عرصے سے عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ غیر سکرپٹڈ سوالات اور کھلی پریس کانفرنسوں سے گریز کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
سرجیو گور نے کیا کہا؟
سرجیو گور نے اکانومک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فارم سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم سٹیج کے پیچھے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا جب وہاں صرف صدر (ٹرمپ) اور ہم ہی رہ گئے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ انڈیا کن مسائل پر بات کرنے والا ہے؟ ہم نے چند موضوعات پر گفتگو کی۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ ’کیا ان کی کوئی خاص درخواست ہے؟‘ میں نے بتایا کہ انڈین وزارتِ خارجہ کی ایک درخواست ہے۔ انھوں نے ہم سے کہا تھا کہ میڈیا کو اندر آنے دیا جائے، لیکن مکمل پریس کانفرنس نہ کی جائے۔‘
گور نے مزید کہا: ’میں نے صدر سے کہا کہ انڈین فریق سوال و جواب نہیں چاہتا۔ انھوں نے جواب دیا، ’ٹھیک ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔‘ اس کے بعد ملاقات شروع ہوئی اور میڈیا کو اندر آنے دیا گیا۔ وہاں تقریباً پچاس کیمرے موجود تھے۔ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی ایک دوسرے کے قریب بیٹھے تھے۔ دونوں نے چند منٹ بات چیت کی۔ جیسے ہی گفتگو مکمل ہوئی، صدر نے سب سے پہلے کیمرے کی طرف دیکھا اور کہا، ’کوئی سوال؟‘ پھر 45 منٹ کی پریس کانفرنس ہوئی اور ہر طرح کے موضوعات زیرِ بحث آئے۔‘
سرجیو گور کے اس بیان پر ابھی تک انڈین وزارتِ خارجہ یا مودی حکومت کی طرف سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن ذرائع کے حوالے سے دی ٹائمز آف انڈیا اور انڈیا ٹوڈے نے لکھا ہے کہ رہنماؤں کے لیے انتظامات سے متعلق اس قسم کی بات چیت معمول کا حصہ ہوتی ہے۔
خبررساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ذرائع نے کہا: ’رہنماؤں کی عوامی تقریبات سے متعلق انتظامات پر گفتگو کسی بھی انتہائی اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کے دورے سے پہلے ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں انڈین فریق نے ایسے دوروں کے لیے اپنے معمول کے اور معیاری طریقۂ کار سے آگاہ کیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@MattooShashank
تاہم سوشل میڈیا پر گور کے اس بیان پر خاصی بحث ہو رہی ہے۔
مودی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ گور کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران بھی صحافیوں کے براہِ راست سوالات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس میں راہل گاندھی کے وہ بیانات بھی دوبارہ شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں انھوں نے وزیر اعظم کی جانب سے پریس کے سوالات کا سامنا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہ@Pawankhera
بعض ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر انڈیا نے واقعی ’نو کوئسچن‘ (کوئی سوال نہ پوچھنے) کی درخواست کی تھی تو وزارتِ خارجہ کو اس بارے میں وضاحت دینی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر وزیر اعظم اور امریکی صدر کی ملاقات میں میڈیا موجود تھا تو انڈین وزیر اعظم نے صحافیوں کے سوالات کیوں نہیں لیے۔ حالیہ غیر ملکی دوروں میں بھی مودی کی جانب سے صحافیوں کے سوالات نہ لینے کے معاملے پر بحث ہونے کے باعث یہ موضوع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@arunruby08
’سرجیو گور، آپ کو مودی کے راز اتنی محبت سے بے نقاب کرنے کی ضرورت آخر کیوں محسوس ہوئی؟‘
کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ایکس پر لکھا: ’یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں انڈیا کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ کبھی انڈیا ایک ایسی طاقت تھا جسے نظر انداز کرنا مشکل تھا، لیکن آج اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ مودی پریس کی آزادی سے اتنا خوف زدہ کیوں ہیں، چاہے ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک؟‘
ہندوستان ٹائمز کے امریکہ میں نامہ نگار ششانک مٹّو نے لکھا: ’انڈیا نے جی-سیون اجلاس کے دوران ٹرمپ اور مودی کی ملاقات میں خاص طور پر یہ درخواست کی تھی کہ پریس کانفرنس نہ کی جائے۔ ٹرمپ ابتدا میں اس پر راضی ہو گئے تھے، لیکن بعد میں وہ یہ بات بھول گئے اور مودی کے پہلو میں بیٹھ کر 45 منٹ طویل پریس کانفرنس کر ڈالی۔‘
صحافی روبی ارون نے ایک طویل پوسٹ میں پوچھا کہ ’سرجیو گور، آپ کو مودی جی کے راز اتنی محبت سے بے نقاب کرنے کی ضرورت آخر کیوں محسوس ہوئی؟‘
جبکہ صحافی رویش کمار نے ایکس پر لکھا: ’تو کیا واقعی دوسرے ملک سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ پریس کانفرنس نہ کرے؟ یاد رہے کہ تنقید جمہوریت کی روح ہے۔‘



















