’جو مرضی کرنا ہے، کرو‘: جب عمران خان سے ناراض سلیم ملک نے انڈین بولرز کی پٹائی کر دی

پاکستان کے سلیم ملک نومبر 1989 میں انڈیا میں نہرو کپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل رہے تھے، ایک میچ پاکستان نے جیتا تھا (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAdrian Murrell/Allsport

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سلیم ملک نومبر 1989 میں انڈیا میں نہرو کپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل رہے تھے (فائل فوٹو)
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم ملک کی سٹائلش بلے بازی کے بارے میں انگلینڈ کے سابق کرکٹر ڈیوڈ گاور نے ایک بہت خوبصورت بات کہی تھی۔

’ایسا لگتا تھا کہ وہ مخمل (ویلویٹ) کے دستانے پہن کر بلے بازی کرتے ہیں۔‘

کلائیوں کے استعمال سے کھیلے گئے سلیم ملک کے خوبصورت شاٹس اور ان کی کئی یادگار اننگز آج بھی شائقین کو یاد ہیں۔ لیکن افسوس کہ دنیا انھیں ان کی شاندار بلے بازی کے بجائے ایک دوسری وجہ سے زیادہ یاد کرتی ہے۔

اسی لیے مشہور شاعر شیفتہ کا یہ مصرع یاد آتا ہے: ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔‘

لیکن سچ یہ ہے کہ سلیم ملک کے شاندار کیریئر کے کئی پہلو آج بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ان کا تعلق ان کی کئی بہترین اننگز اور یادگار کارکردگی سے ہے۔

سلیم ملک کس بات پر ناراض تھے؟

اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے سلیم ملک کی اس اننگز کا ذکر ضروری ہے، جو سنچری یا ڈبل سنچری نہ ہونے کے باوجود ون ڈے تاریخ کی یادگار ترین اننگز میں شمار کی جاتی ہے۔

18 فروری 1987 کو کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں تقریباً 80 ہزار تماشائی انڈیا اور پاکستان کے درمیان ون ڈے میچ دیکھ رہے تھے۔

وہ کرشن ماچاری سری کانت کی پاکستانی بورلز کے خلاف جارحانہ بلے بازی دیکھ چکے تھے۔ لیکن ان کے لیے ابھی ایک اور شاندار اننگز باقی تھی۔

انڈیا نے 238 رنز بنائے تھے۔ جواب میں پاکستان کا آغاز اچھا رہا، کیونکہ رمیز راجہ اور 39 سالہ یونس احمد نے 106 رنز جوڑ دیے تھے۔

یونس احمد 17 سال بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے تھے۔ لیکن اس کے بعد پاکستان کی وکٹیں مسلسل گرتی رہیں اور ایک وقت ٹیم کا سکور 161 رنز پر 5 وکٹ ہو گیا۔

اصل ڈرامہ اس کے بعد شروع ہوا جب سلیم ملک میدان میں آئے۔ انھوں نے انڈین بولرزکے خلاف انتہائی جارحانہ شاٹس کھیلے اور کوئی بھی بولر انھیں روک نہیں پایا۔

کرکٹر سلیم ملک کی 1992 کی تصویر (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images / Staff

،تصویر کا کیپشنکرکٹر سلیم ملک کی 1992 کی تصویر (فائل فوٹو)

کپل دیو، مدن لال اور منیندر سنگھ جیسے بولر ان کے نشانے پر تھے۔ ان کے اوورز میں تین چار چوکے لگنا جیسے سلیم ملک کے لیے معمول کی بات بن گئی تھی۔

اس اننگز میں صرف ایک موقع ایسا آیا جب انڈیا سلیم ملک کی وکٹ حاصل کر سکتا تھا۔

تقریباً 30 رنز کے سکور پر منیندر سنگھ کی گیند پر وکٹ کیپر چندرکانت پنڈت سٹمپنگ کا موقع گنوا بیٹھے۔ چندرکانت پنڈت اس غلطی کو کبھی نہیں بھول پائے۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’سلیم ملک، منیندر سنگھ کی گیند پر آن ڈرائیو کھیلنے کے لیے کریز سے باہر نکل گئے تھے۔ گیند میرے دستانوں سے نکل گئی اور انھیں واپس کریز میں لوٹنے کا موقع مل گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم یہ میچ اسی وقت ہار گئے تھے۔‘

اب آتے ہیں اس بات پر کہ آخر سلیم ملک کو کس بات کا غصہ تھا۔ یہ بات انہی کی زبانی سنیے۔

سلیم ملک کہتے ہیں ’اس دورے پر مجھ سے رنز نہیں بن رہے تھے۔ اس کی ایک وجہ میرا بیٹنگ آرڈر بھی تھا، جو بہت نیچے رکھا گیا تھا۔‘

’ایک دن مدثر نذر نے مجھ سے کہا کہ کپتان عمران خان تمہیں دورے سے واپس بھیجنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘

’میں نے مدثر نذر سے کہا کہ مجھے ایک بار اوپر بیٹنگ کرنے کا موقع دلا دیں تاکہ میں کچھ کر کے دکھا سکوں۔‘

’مدثر نے کہا کہ وہ کپتان سے بات کریں گے۔‘

سلیم ملک 1994 میں آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنانے کے بعد جشن منا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہShaun Botterill / Staff

،تصویر کا کیپشنسلیم ملک 1994 میں آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنانے کے بعد جشن منا رہے ہیں

’کولکتہ ون ڈے میں عمران خان نے مجھ سے کہا کہ ون ڈاؤن بیٹنگ کے لیے پیڈ پہن لو۔ لیکن میں حیران رہ گیا جب ون ڈاؤن پر پہلے جاوید میانداد گئے، پھر عبدالقادر اور اس کے بعد منظور الٰہی کو بھیج دیا گیا۔‘

’میں جب بھی اٹھتا، عمران خان مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر دیتے۔‘

سلیم ملک بتاتے ہیں ’مجھے عمران خان پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ ون ڈاؤن سے شروع ہو کر میں ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آیا۔‘

’میرے سامنے عمران خان بھی کپل دیو کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ انھیں کبھی پسند نہیں تھا کہ وہ کپل دیو کی گیند پر آؤٹ ہوں۔‘

سلیم ملک کہتے ہیں ’جب عمران آؤٹ ہو کر جا رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا، ’کپتان، اب کیا کرنا ہے؟‘

’عمران خان نے غصے میں جواب دیا، ’جو مرضی کرنا ہے، کرو۔‘

پھر جو کرنا تھا، وہ سلیم ملک نے کر کے دکھا دیا۔

انھوں نے صرف 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 72 رنز بنائے اور پاکستان کو آخری اوور میں سنسنی خیز فتح دلا دی۔