ایرانی رہنما کی مکہ معاہدے میں بطور ’شریک بانی‘ شامل ہونے کی شرط: کیا سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے لیے یہ شرائط قابلِ قبول ہو سکتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایران کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک (پاکستان، سعودی عرب اور ترکی) نے باضابطہ طور پر ایران کو اِس معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کی صبح ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’ہمیں مکہ معاہدے میں شمولیت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم علاقائی سلامتی کے حوالے سے اِن ممالک کے ساتھ مذاکرات کی تجاویز ضرور دی گئی ہیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل لبنانی ٹی وی نیٹ ورک ’المیادین‘ نے ایک نامعلوم ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے اور اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔‘
ایران کے مکہ معاہدے میں شمولیت سے متعلق خبریں سامنے آنے کا سلسلہ دو روز قبل اُس وقت شروع ہوا تھا جب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا اس ضمن میں ایک بیان سامنے آیا۔
22 اگست کو سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا تھا کہ ایران مکہ معاہدے کا حصہ صرف اُسی صورت میں حصہ بن سکتا ہے اگر اُسے اس معاہدے کا ’شریک بانی‘ (کو فاؤنڈر) تسلیم کیا جائے اور اسے اس معاہدے کی بنیادی دستاویزات کی تیاری میں کردار دیا جائے۔
محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور مصر کو (مکہ معاہدے جیسے) علاقائی انتظامات سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران اور مصر ایسے معاہدوں سے غائب نہیں ہو سکتے، البتہ اُن کی شمولیت بانی ممالک (کو فاؤنڈرز) کے طور پر ہونی چاہیے، یعنی ان فریقوں کے طور پر جن کے تصورات اور خیالات دستخط شدہ دستاویزات کی تشکیل میں شامل ہوں۔‘
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ یہ قابل قبول نہیں کہ ’یہ دوست ممالک‘ پہلے آپس میں معاہدہ طے کر لیں اور بعد ازاں ایران سے اس کی توثیق یا حمایت کا مطالبہ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محسن رضائی، جو رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سیینئر مشیر بھی ہیں، نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ پیش رفت (مکہ معاہدہ) خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کا نتیجہ ہے۔ ’پاکستان، ترکی اور سعودی عرب یعنی ہمارے دوست اور برادر ممالک نے ایک معاہدہ کیا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ امریکہ نے انھیں کہہ دیا ہے: 'خداحافظ، ہم جا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
محسن رضائی کے مطابق خطے میں امریکی موجودگی میں کمی سے پیدا ہونے والا خلا مختلف ممالک کو نئے انتظامات تشکیل دینے پر آمادہ کر رہا ہے، اور ان کے بقول یہ صورتحال واشنگٹن کے ساتھ ایران کی طویل کشمکش کا نتیجہ ہے۔
یاد رہے کہ 10 اگست کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس معاہدے کے بارے میں مجموعی طور پر غیر جانبدار مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے خطے میں سکیورٹی سے متعلق بدلتے ہوئے تصورات کا ثبوت قرار دیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ایران تینوں ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور اسے اس اقدام کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران کی شمولیت کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا گیا تھا۔
ایران کی جانب سے سامنے آنے والے اس نوعیت کے حالیہ بیانات کے بعد ایک سوال یہ سامنے آ رہا ہے کہ ایران مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے؟ وہ اس معاہدے میں خود کو صرف ’شریک بانی‘ کے طور پر شامل کرنے کی بات کیوں کر رہا ہے؟ اور کیا سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے لیے ایران کی اس نوعیت کی شرائط قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟
عالمی اُمور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اگر ایران بغیر شرائط کے اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے تو شاید سعودی عرب سمیت پاکستان اور ترکی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ محسن رضائی کے بیان سے یہ لگتا ہے کہ ایران اس معاہدے میں شمولیت کے لیے اس کے فریم ورک میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں چاہتا ہے جو شاید اِن تینوں ممالک (ترکی، پاکستان، سعودی عرب) کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سینیئر ایرانی عہدیدار کے حالیہ بیان سے یہ لگتا ہے کہ موجودہ مکہ معاہدے کو امریکہ مخالف معاہدے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ ’مگر دوسری جانب معاہدے میں شامل تینوں ممالک واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہے۔ وہ اسے ایک دفاعی معاہدہ قرار دیتے ہیں اور جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔‘
ڈاکٹر عسکری کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی کچھ کم ہوئی ہے، مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، لہذا وہ اس سارے معاملے پر نظر رکھے گا۔
ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا تھا کہ ایران اس معاہدے میں شامل ہو یا نہ ہو اُس کا ہدف امریکہ ہی ہے اور وہ معاہدے میں شامل ہونے کی شرائط میں خطے میں امریکی تنصیبات اور اڈوں سے متعلق نکات شامل کروانا چاہے گا۔
’اگر ایسا ہوا تو یہ معاہدہ کسی خاص ملک کے خلاف نظر آئے گا جو ان تینوں ممالک کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ خاص طور پر وہ اسے امریکہ مخالف معاہدے کا تاثر تو ہرگز نہیں دیں گے۔‘
سابق سفارتکار عاقل ندیم کے مطابق ایران کی جانب سے مکہ معاہدے میں دلچسپی کا ایک ممکنہ سبب امریکہ کی جانب سے حالیہ معاشی دباؤ اور پابندیاں ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں شریک ممالک (پاکستان، سعودی عرب، ترکی) میں سے کسی ایک پر بیرونی حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔
عاقل ندیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران شاید یہ چاہتا ہو کہ معاہدے کے دائرۂ کار کو صرف فوجی یا براہِ راست حملوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشی دباؤ اور پابندیوں جیسے اقدامات تک بھی وسعت دی جائے اور ایسی صورت میں معاہدے میں شامل ممالک کسی رکن ریاست کے خلاف معاشی اقدامات کی صورت میں بھی مشترکہ ردِعمل دینے یا تعاون کا طریقۂ کار وضع کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا یہ ایک قیاس آرائی ضرور ہے، تاہم ایران کے حالیہ مؤقف کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ ان کے نزدیک ایران کا یہ مطالبہ کہ اسے مکہ معاہدے میں ’بانی رُکن‘ کی حیثیت حاصل ہو، عملی طور پر مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ معاہدہ پہلے ہی سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پا چکا ہے اور یہی تین ممالک اس کے بانی ارکان ہیں۔
عاقل ندیم کے مطابق زیادہ قابلِ عمل امکان یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایک نئے نوعیت کے معاہدے پر غور کیا جائے، جس میں رکن ممالک نہ صرف عسکری خطرات بلکہ معاشی دباؤ اور پابندیوں کے خلاف بھی مشترکہ تعاون اور مزاحمت کے طریقہ کار پر اتفاق کریں۔ ان کے خیال میں ایران کی حالیہ دلچسپی کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔



















