جین پال گیٹی: دنیا کے امیر ترین شخص جو ارب پتی ہونے کے باوجود ہوائی اور سمندری سفر نہیں کرتے تھے

    • مصنف, فیونا مکڈونلڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

یہ جولائی 1960 کا ذکر ہے جب جین پال گیٹی نے جنوب مشرقی انگلینڈ کی کاؤنٹی سرے میں واقع 16ویں صدی کے طرز تعمیر پر بنی عمارت سٹن پلیس میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔

انھوں نے یہ عمارت ایک سال پہلے خریدی تھی اور اس پر آج کی مالیت کے حساب سے تقریباً چار لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے تھے۔

اس تقریب میں اعلیٰ سوسائٹی اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور دیگر مشہور شخصیات شریک ہوئیں۔

یہ تقریب اس وقت خبروں کی زینت بنی جب تصاویر لینے پر بہت زیادہ اصرار کرنے والا ایک فوٹوگرافر سوئمنگ پول میں جا گرا تھا۔

امریکی تیل کے کاروبار سے وابستہ گیٹی کو ہوائی جہاز اور سمندری جہازوں میں سفر سے خوف آتا تھا۔ وہ 1976 میں 83 برس کی عمر میں وفات تک سٹن پلیس میں رہے۔

انھوں نے گھر میں سکوں سے چلنے والے ٹیلی فون بھی نصب کروا رکھے تھے تاکہ مہمانوں کے طویل فاصلے کے فون بل زیادہ نہ ہوں۔

1963 میں بی بی سی کے صحافی ایلن وِکر نے گیٹی کا سٹن پلیس میں انٹرویو کیا۔ گیٹی اپنی نجی زندگی کے بارے میں کم بات کرنے کے لیے مشہور تھے۔

یہ عمارت کبھی انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ہشتم کی گرمیوں کی رہائش گاہ بھی رہی تھی۔

گیٹی نے اس مضبوط حفاظتی انتظامات والے محل کے اندر اپنے لیے ایک نجی گوشہ بنا رکھا تھا، جہاں وہ مصوری کے عظیم فنکاروں کے فن پارے جمع کرتے تھے۔

ارب پتی جین پال گیٹی تقریباً پانچ میٹر لمبی میز پر کھانا کھاتے تھے اور اس دوران ان کے ساتھ صرف ان کا محافظ جرمن شیفرڈ پالتو کتا موجود ہوتا تھا۔

اور اپنی زندگی کے آخری برسوں میں گیٹی نے اپنا تیل کا وسیع کاروباری نیٹ ورک نیویارک کے کسی بلند ٹاور یا مشرقِ وسطیٰ کے کسی محل سے نہیں بلکہ برطانیہ میں واقع اسی وسیع و عریض دیہی رہائش گاہ سے چلایا تھا۔

گنیز بک آف ریکارڈز میں دنیا کا امیر ترین شخص

1966 میں جین پال گیٹی کا نام گنیز بک آف ریکارڈز میں دنیا کے امیر ترین شخص کے طور پر درج کیا گیا۔ انھوں نے 24 سال کی عمر میں اپنی پہلی 10 لاکھ امریکی ڈالرز کی دولت اس وقت کمائی جب امریکی ریاست اوکلاہوما میں ان کی زیر ملکیت زمین سے تیل دریافت ہوا۔

ان کی وفات تک ان کی دولت کا تخمینہ تقریباً چار ارب امریکی ڈالر لگایا گیا تھا جو آج کی مالیت کے حساب سے تقریباً 23.5 ارب امریکی ڈالرز بنتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ وہ ایک دن میں اتنی آمدن حاصل کرتے تھے جتنی ایک عام شخص پوری زندگی میں کماتا ہے۔

کامیابی کے بارے میں گیٹی کا ایک مشہور اصول یہ تھا کہ ’جلدی اٹھو، سخت محنت کرو اور تیل تلاش کرو۔‘

پلے بوائے میگزین کے لیے لکھے گئے مضامین کے ایک سلسلے میں گیٹی نے لکھا کہ اپنی رائے پر اعتماد کرنا اور دوسروں کی باتوں سے غیرضروری طور پر متاثر نہ ہونا بہت اہم ہے۔ بعد میں یہ مضامین ہاؤ ٹو گیٹ رِچ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئے۔)

تاہم 1963 میں اپنی دولت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ یہ واضح طور پر نہیں بتا سکے کہ آخر کون سی چیز نے انھیں اربوں ڈالر کی دولت جمع کرنے میں مدد دی۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک کامیاب اور کم کامیاب کاروباری شخصیت کے درمیان فرق یہ ہو سکتا ہے کہ بڑی کامیابی کے لیے شاید 37 مختلف خوبیاں درکار ہوں۔ اگر کسی شخص میں ان میں سے 35 موجود ہوں تو اسے کچھ نہ کچھ کامیابی ضرور ملے گی لیکن شاید وہ اتنی بڑی نہ ہو۔ مگر میں نہیں جانتا کہ وہ باقی دو خوبیاں کون سی ہیں۔‘

جب ایلن وِکر نے ان سے پوچھا کہ وہ کامیاب کیوں ہوئے جبکہ دوسرے ناکام رہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے واقعی ایسی کسی خاص خوبی کا علم نہیں جو مجھ میں ہو اور دوسروں میں نہ ہو۔‘

محنت، ذہانت اور تخیل جیسی خوبیوں کا ذکر کرنے کے بعد جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ بہت سے دوسرے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں، انھوں نے عاجزی سے کہا کہ ’میں ہمیشہ چاہتا تھا کہ میری شخصیت زیادہ دلکش ہو، میں لوگوں کی بہتر تواضع کر سکوں اور گفتگو میں زیادہ مہارت رکھتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ یہ فکر رہی کہ کہیں میں لوگوں کی نظر میں کچھ بور نہ لگوں۔‘

اگرچہ وہ اپنی کاروباری کامیابی کی ایک ہی وجہ بتانے سے گریز کرتے تھے لیکن انھوں نے اپنے والد کے کردار کو بنیادی اہمیت دی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ میرے والد نے ایک مضبوط اور کامیاب کاروبار قائم کیا تھا۔ میں ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور مجھے ہی اس کاروبار کو آگے بڑھانا تھا۔‘

شاندار رہائش گاہ قلعے میں تبدیل

گیٹی کے والد کا تعلق ایک عام خاندان سے تھا لیکن 1903 میں انھوں نے امریکی ریاست اوکلاہوما کے اُس علاقے میں جو اُس وقت ’انڈین ٹیریٹری‘ کہلاتا تھا، 1,100 ایکڑ زمین صرف 5,000 امریکی ڈالر (آج کے تقریباً 190,000 ڈالر) میں خریدی اور وہاں تیل دریافت کیا۔

1930 میں 74 برس کی عمر میں جب اُن کی وفات ہوئی تو وہ تقریباً ایک کروڑ امریکی ڈالر (آج کے لگ بھگ 20 کروڑ ڈالر) کی دولت کے مالک تھے۔

وہ ایک میتھوڈسٹ عیسائی تھے اور اپنے اکلوتے بیٹے کے مقابلے میں زیادہ مذہبی سمجھے جاتے تھے۔

انھوں نے اپنی وصیت میں گیٹی کے لیے صرف 500,000 ڈالر (آج کے تقریباً ایک کروڑ ڈالر) چھوڑے کیونکہ وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ گیٹی پہلے ہی شادی اور طلاق کا تجربہ کر چکے تھے۔

اپنی پانچ مختصر المدت شادیوں کے دوران گیٹی کے ہاں پانچ بچے پیدا ہوئے اور بعد میں ان کی اولادوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی۔

ان ہی پوتوں میں سے ایک جان پال گیٹی سوم تھے، جنھیں 1973 میں اٹلی میں اغوا کر لیا گیا۔

اغوا کاروں نے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر (آج کے تقریباً 12 کروڑ ڈالر) تاوان کا مطالبہ کیا لیکن ان کے دادا نے رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے 14 دوسرے پوتے پوتیاں بھی ہیں، اگر میں ابھی ایک سینٹ بھی ادا کر دوں تو آخرکار میرے 14 مزید پوتے پوتیاں بھی اغوا ہو جائیں گے۔‘

گیٹی کے 16 سالہ پوتے کو پانچ ماہ تک قید رکھا گیا۔ اغوا کاروں نے اس کا ایک کان کاٹ کر ایک اخبار کے دفتر بھیج دیا۔

بالآخر 28 لاکھ ڈالر (آج کے تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) تاوان ادا کیا گیا، تاہم اس میں گیٹی کا کتنا حصہ تھا یہ ظاہر نہیں کیا گیا۔

ارب پتی تاجر نے 1963 میں اپنی کفایت شعاری کا ذکر کرتے ہوئے کئی واقعات سنائے۔ مثال کے طور پر وہ کتوں کی نمائش کے باہر اس انتظار میں کھڑے رہتے تھے کہ داخلے کی فیس دو یا تین شلنگ کم ہو جائے، یا پھر ریستوران میں رات کا کھانا دیر سے کھاتے تھے تاکہ موسیقی بجانے والے آرکسٹرا کی اضافی فیس ادا نہ کرنا پڑے۔

انھوں نے صحافی ایلن وِکر سے کہا کہ ’مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میرے پاس خرچ کرنے کے لیے اضافی پیسہ موجود ہے۔ اگر میں اپنی ہر چیز بیچ دوں تو شاید تب میرے پاس کچھ رقم بچ جائے۔‘

تاہم گیٹی نے اپنے گرد و نواح میں دولت کی متعدد علامتیں ضرور سجا رکھی تھیں۔ سٹن پلیس میں واقع اُن کی 72 کمروں پر مشتمل رہائش گاہ میں قدیم یورپی مصوروں کی نایاب پینٹنگز موجود تھیں جن میں ویرونیزے، گینزبرا، رینواغ، ریمبرانٹ اور روبنز کے فن پارے شامل تھے۔

ان کے فن پاروں کے ذخیرے میں 600 سے زیادہ شاہکار شامل تھے۔ ان کے فن پاروں کا ایک حصہ مالیبو میں واقع ان کی رہائش گاہ کے وسیع احاطے (رینچ) میں بھی موجود تھا، 1954 میں اسے جے پال گیٹی میوزیم کا نام دے کر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

1959 میں سٹن پلیس خریدنے کے بعد گیٹی نے اس تاریخی عمارت کی سکیورٹی مزید سخت کر دی۔ اس سے پہلے وہ کئی برس تک لندن اور پیرس کے ہوٹلوں میں قیام کرتے ہوئے اپنے کاروبار چلاتے رہے تھے۔

محل کے تمام کمروں، جن میں 14 غسل خانے بھی شامل تھے، میں جدید حفاظتی نظام نصب کیا گیا تھا۔ دروازوں اور کھڑکیوں پر سلاخیں لگا دی گئی تھیں جبکہ 300 ہیکٹر پر پھیلی جائیداد کے مختلف حصوں میں ’داخلہ ممنوع‘ کے بورڈ آویزاں تھے۔

اس وسیع احاطے میں دو سوئمنگ پول، 30 عمارتیں، ٹینس کورٹ اور ایک ندی بھی تھی۔

گیٹی اس بارے میں واضح طور پر نہیں بتاتے تھے کہ انھیں کس بات کا خوف تھا۔ انھوں نے ایلن وِکر سے کہاکہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کسی خاص چیز کا ڈر ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک ضروری احتیاط ہے۔‘

جب ان سے مزید پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کوئی ’پاگل شخص‘ دھماکہ خیز مواد سے عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے سراغ رساں کتوں کو زیادہ تر اس لیے رکھا ہے کیونکہ مجھے وہ پسند ہیں۔‘

1974 میں اپنے اغوا کے واقعے کے کچھ عرصے بعد ان کے پوتے جان پال گیٹی سوم نے رولنگ سٹون میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان خدشات کا ذکر کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ بہت سی چیزوں سے خوفزدہ رہتے تھے۔ اسی لیے وہ زیادہ تر وقت اپنے محل میں رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ تھری پیس سوٹ پہنے رکھتے اور ان کا رویہ بہت سنجیدہ اور محتاط ہوتا تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’جائیداد کی نگرانی کے لیے حفاظتی کتے گشت کرتے تھے، نیرو نامی ایک پالتو شیر بھی وہاں گھومتا پھرتا تھا جبکہ ان کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز اور معاونین بھی موجود رہتے تھے۔ محل کے گرد لگائی گئی باڑ میں بجلی دوڑتی تھی اور اس کے اوپر خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں۔‘

’زندگی کے بہترین لمحات جن کی کوئی قیمت نہیں تھی‘

اپنے اردگرد موجود عملے اور محافظوں کے باوجود گیٹی ایک تنہا زندگی گزارتے تھے۔

1963 میں انھوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں نے کبھی خود کو خاص طور پر تنہا محسوس کیا ہو۔ میں تنہائی محسوس کرنے کے لیے بہت زیادہ مصروف رہا ہوں۔ یہ بالکل پنجرے میں دوڑتی ہوئی گلہری کی طرح ہے، جو اسی جگہ رہنے کے لیے مسلسل بھاگتی رہتی ہے۔‘

تاہم وہ خود کو زیادہ خوش مزاج شخص نہیں سمجھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’بڑی مالی ذمہ داریاں خوشی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔‘

جب ایلن وِکر نے ان سے کہا کہ وہ اکثر اتنے ناخوش دکھائی دیتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں ان کا پیسہ انھیں خوشی نہیں دے سکا تو گیٹی نے جواب دیا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ذمہ داریوں کا اثر ہے۔ والد کی وفات کے بعد جب کاروبار کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آئی تو وہ توانائی مجھ میں نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔‘

دولت کے بوجھ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری زندگی کے بعض بہترین لمحات ایسے تھے جن پر میرا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر ساحل پر اپنے سرف بورڈ کے ساتھ بیٹھ کر کسی بڑی لہر کا انتظار کرنا تاکہ میں اس پر سوار ہو کر کنارے تک آ سکوں۔ اس کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ لہریں مفت ہوتی ہیں، دھوپ مفت ہوتی ہے۔‘