آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی جوہری صلاحیت، ترکی کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی مالی طاقت: مکہ معاہدے سے کون سا ملک کیا فائدہ حاصل کر پائے گا؟
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی نیوز اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
دو ہفتے قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے مختلف پہلوؤں پر عالمی میڈیا میں تاحال بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
جہاں ایک جانب ترک مبصرین یہ دعوے کر رہے ہیں کہ اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی سرمایہ ترکی کے دفاعی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تو وہیں لندن میں قائم میڈیا ادارے ’مڈل ایسٹ آئی‘ نے سعودی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دراصل سعودی عرب مکہ معاہدے میں مصر کی شمولیت کے خلاف تھا۔
مڈل ایسٹ آئی، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کے قطر سے روابط ہیں، نے تین سعودی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’سعودی عرب نہیں چاہتا تھا کہ مصر اس معاہدے میں شامل ہو، حالانکہ ترکی اس معاہدے میں قاہرہ کی شمولیت پر زور دے رہا تھا۔‘
اِن تین ذرائع میں شامل ایک ذریعہ، جنھیں سعودی فرمانروا کا ایک سابق سینیئر مشیر بتایا گیا ہے، نے بتایا کہ سعودی عرب کم از کم اس سٹیج پر مصر کی شمولیت کا خواہاں نہیں تھا۔
یاد رہے کہ اس دفاعی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔
دوسری جانب ترک مبصرین نے مکہ معاہدے کے ترکی کے دفاعی شعبے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب ’کان‘ (Kaan) لڑاکا طیاروں سمیت ملک کے بڑے دفاعی منصوبوں کے لیے اہم مالی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔
ترک تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری صلاحیت، سعودی عرب کی مالی طاقت اور ترکی کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترکی کی خارجہ پالیسی کی ماہر نباہت تانری وردی نے ’فکر تُورو‘ ویب سائٹ پر لکھا کہ ’ترکی اپنی دفاعی پیدوار کی صلاحیت بڑھانے، نئے اور جاری منصوبوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے اور بعض پروگرامز کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ اس لیے دفاعی صنعت میں تعاون، اس سکیورٹی معاہدے کا سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والا حصہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ روس نواز مؤقف رکھنے والے ترک اخبار ’آئدنلک‘ کے لیے اپنے کالم میں تجزیہ کار دوغان اک دنیز نے استدلال کیا کہ اگر ریاض ترکی کی دفاعی صنعت میں جدید تحقیق اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا ہے، تو اس سے انقرہ کا مغربی سرمائے پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔
دیگر ترک مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید قریبی تعاون کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس معاہدے کا مقصد کسی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور یہ کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔
ان معاہدے کے حوالے سے مختلف ممالک میں جاری بحث کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں اس نوعیت کے سوالات نے جنم لیا ہے کہ اس معاہدے سے تینوں ممالک بالخصوص پاکستان کس طرح اور کس نوعیت کا فائدہ حاصل کر پائیں گے اور کیا واقعی کسی ایک ملک کے خلاف جارحانہ اقدام کے بعد دیگر دونوں ممالک بھی تنازع میں کود پڑیں گے؟
بی بی سی اردو نے جیوپولیٹیکل ماہرین و مبصرین سے بات کر کے اِن سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے۔
سعودی عرب کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
خلیجی خطہ فروری 2026 سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو اُس کے ردعمل میں ایران نے نہ صرف اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر بھی حملے کیے۔
تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ اِن خلیجی ممالک پر نہیں بلکہ وہاں موجود ایسے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے اُس کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم خلیجی حکومتوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے اُن کے سویلین انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے ہیں۔
سعودی عرب بھی ان خلیجی ممالک میں شامل ہے، جس کی عسکری اور تیل کی تنصیبات ایرانی ڈرون و میزائل حملوں کی زد میں آئیں۔
ماہرین اس تناظر میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کو سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور اُن کا ماننا ہے کہ بظاہر آگے چل کر اِس سے سب سے زیادہ فائدہ بھی ریاض کو ہی ہو گا۔
استنبول پولیٹیکل ریسرچ انسٹٹیوٹ کے فارن پالیسی پروگرام کوآرڈینیٹر ریکارڈو گاسکو نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’سعودی عرب کو اس معاہدے سے فوری طور پر سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔‘
انھوں نے خطے کی موجودہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو ایران اور یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں اور خصوصاً سمندری راستوں میں خلل جیسے خطرات کا سامنا ہے۔
گاسکو ک مطابق ’مکہ معاہدہ ترک ٹیکنالوجی اور پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیتوں اور سٹریجک تجربے کو ایک جگہ یکجا کرے گا، جس سے سعودی عرب کی ڈیٹرنس صلاحیتیں اور دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہو گی۔‘
ریکارڈو گاسکو وہ واحد تجریہ کار نہیں جو ایسا سمجھتے ہیں۔ دیگر ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ ابتدائی طور پر اس معاہدے سے سب سے زیادہ فوائد سعودی عرب کو ہی حاصل ہوں گے۔
سعودی عرب اور پاکستان نے گذشتہ برس ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اسی کا حوالہ دیتے ہوئے ماضی میں امریکی انتظامیہ میں متعدد عہدوں پر کام کرنے والی اٹلانٹک کونسل کی مڈل ایسٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر ایلیسن مائنر کہتی ہیں کہ ’ترکی کی سعودی عرب اور پاکستان کی موجودہ پارٹنرشپ میں شمولیت سے اس اتحاد کے سفارتی اور دفاعی قد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔‘
’ترکی نیٹو کا رُکن ہے، جبکہ اس کی فوج کا شمار نیٹو میں موجود بڑی قوتوں میں ہوتا ہے۔‘
مکہ معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایلیسن مائنر نے مزید کہا کہ ’کئی ممالک پر مشتمل اس شراکت داری کا قیام سعودی عرب کی اس حکمتِ عملی سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت وہ اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہا ہے اور مستقبل میں اس معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔‘
سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خطرے کے سبب ایک نیا بحری دفاعی اتحاد بھی تشکیل دیا ہے۔
ایلیسن مائنر کہتی ہیں کہ سنہ 2015 میں پاکستان نے یمن میں سعودی کارروائیوں کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد کا بحیرہ احمر میں کردار بڑھ سکتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے نہ صرف حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت کی ہے بلکہ انھیں خبردار بھی کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں اسلام آباد کے مفادات پر حملے کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور اس پر ردِعمل بھی دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ بدھ (12 اگست) کو بحیرہ احمر میں ایک جہاز پر حملے میں تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔
اس صورتحال میں ایلیسن مائنر سمجھتی ہیں کہ ’یمن میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے تناظر میں یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان نئے معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فوجی دستے یا دفاعی سامان فراہم کر سکتا ہے۔‘
تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس تنازع میں پاکستان اور ترکی کی شمولیت ممکنہ طور پر حوثیوں کی ناراضی کا باعث بنے گی اور یہ صورتحال یمن کی جنگ کو مزید علاقائی نوعیت دے سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ترکی یا پاکستان کی ممکنہ شمولیت زمینی حقائق یا جنگ کے نتائج پر کس حد تک فیصلہ کن اثر ڈال سکے گی۔‘
اس معاہدے سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
سات اگست کو اس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ سوال پاکستان میں بار بار سُننے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان کے سفارتی قد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے اس کی دفاعی، عسکری اور معاشی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامِک سٹڈیز سے منسلک ماہرِ امورِ مشرقِ وسطیٰ عمر کریم کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے پاکستان کی علاقائی حیثیت میں بہتری آئی گی اور مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی میں اس کا کردار مزید بڑھے گا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اس شراکت داری سے پاکستان کو معاشی اور دفاعی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
’سعودی عرب نہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اثاثے شیئر کر سکتا ہے بلکہ اسلام آباد کی مزید معاشی امداد بھی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی کی دفاعی پیداوار بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے، جس کے سبب ایک طرح سے انڈیا کے خلاف پاکستان غیر براہ راست طریقے سے مزید مضبوط ہی ہو گا۔‘
تاہم ریکارڈو گاسکو سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس معاہدے کے بعد ترکی کی دفاعی صلاحیتوں سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکے گا۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان کے لیے ’سب سے زیادہ مواقع براہِ راست علاقائی جنگوں میں شرکت کے بجائے ٹریننگ اور دفاعی صنعتی تعاون سے پیدا ہوں گے۔‘
’ترکی ڈرونز، انسدادِ ڈرون نظام، الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں، سینسرز، درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں، محفوظ مواصلاتی نظام اور فضائی دفاع کے شعبوں میں پاکستان کی معاونت کر سکتا ہے۔‘
دوسری جانب مڈل ایسٹ پالیسی انسٹٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے فوائد شاید ملنا شروع ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ کسی کے بھی خلاف جارحانہ انداز اپنانے سے زیادہ ’سگنلنگ‘ کے لیے ہے۔
’آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ انڈیا میں اس معاہدے سے متعلق سوال ہوا تھا، جس پر انڈیا نے سرکاری طور پر یہی کہا کہ وہ اس معاہدے کو سٹڈی یعنی اس پر غور کر رہا ہے۔‘
انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’یعنی بظاہر سگنلنگ نے اپنا کام کر دیا ہے۔ انڈیا کو اب معلوم ہے کہ اگر اس نے پاکستان پر حملہ کیا تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ اب پاکستان کے ساتھی بھی اس کے ساتھ موجود ہیں۔‘
اس معاہدے سے ترکی کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
ترکی نہ صرف خطے میں ایک بڑی عسکری طاقت ہے بلکہ نیٹو کا رُکن ہونے کی وجہ سے اسے ان وسائل تک بھی رسائل حاصل ہے، جس تک پاکستان یا سعودی عرب کی رسائی نہیں ہے۔
تاہم استنبول پولیٹیکل ریسرچ انسٹٹیوٹ سے منسلک ریکارڈو گاسکو کہتے ہیں کہ اس معاہدے کے بعد ’سیاسی طور پر نیٹو اور خطے کی دیگر ممالک کے درمیان ایک پُل کے طور پر ترکی کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے بعد نہ صرف انٹیلیجنس شیئرنگ، فضائی دفاع اور تجارتی جہاز رانی کا تحفظ مزید بہتر طریقے سے ہو گا، بلکہ ترکی کے لیے دفاعی برآمدات بڑھانے اور مشترکہ دفاعی پیداوار بڑھانے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ترکی اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے خوشگوار تعلقات ہیں اور ریکارڈو گاسکو سمجھتے ہیں کہ اب انقرہ سفارتی اور دفاعی امور پر بھی اسلام آباد پر مزید انحصار کر سکے گا۔
’انقرہ کے نقطہ نظر سے پاکستان کی سب سے زیادہ قدر اس کی عسکری ساکھ، خطے میں رسائی اور خطے میں حریف طاقتوں سے بات چیت کی قابلیت ہے۔‘
کیا ایک ملک پر حملے کی صورت میں دیگر دونوں ممالک بھی عسکری کارروائیوں میں شامل ہوں گے؟
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خلیجی خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
سعودی عرب کو نہ صرف ایران کی جانب سے بلکہ یمن میں تہران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ انصار اللہ کی جانب سے بھی حملوں کا سامنا ہے۔
اس اتحاد میں شامل نیوکلیئر طاقت پاکستان کی اپنے پڑوسی ملک انڈیا سے گذشتہ برس ہونے والی چار روزہ جنگ بھی ابھی دنیا فراموش نہیں کر پائی ہے۔ دوسری جانب خلیجی خطے میں جاری جنگ کے دوران ترکی پر بھی کئی میزائل فائر کیے گئے تھے، جنھیں انقرہ کے مطابق فضا میں ہی تباہ کردیا گیا تھا۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ اگر مستقبل میں پاکستان، ترکی یا سعودی عرب میں سے کسی پر حملہ ہوتا ہے، تو دیگر ملک کیا کریں گے؟
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینیئر ریذیڈنٹ فیلو ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ خطے کی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس وقت سعودی عرب کو اپنا دفاع مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران ترکی یا پاکستان سے کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہے گا کیونکہ یہ بڑی عسکری طاقتیں ہیں۔‘
تاہم کامران بخاری اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایک ملک پر مسلح حملے کے بعد دیگر دو ممالک بھی عسکری طور پر کسی تنازع کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گے۔
’ایسا دعویٰ صرف نیٹو ہی کر سکتا ہے کیونکہ اُن کے پاس وسائل ہیں، ایک باقاعدہ فوج ہے اور دفاعی ساز و سامان بھی موجود ہے۔‘
ڈاکٹر بخاری کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے پاس فی الحال کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اُس سمت ایک قدم ضرور ہے۔
’ابھی اس اتحاد کو سٹرکچر، ہتھیاروں اور کسی کمانڈ کی بھی ضرورت ہے۔‘
تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ کسی تنازع کی صورت میں ترکی اور سعودی عرب باقاعدہ کسی جنگ کا حصہ بنے بغیر پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں۔
’یہ دونوں ممالک کسی تنازع کی صورت میں پاکستان کو اسلحہ اور انٹیلیجنس فراہم کر سکتے ہیں اور آپ یہ بھی نہ بھولیں کہ ترکی اور سعودی عرب بڑی سفارتی طاقتیں بھی ہیں۔‘
لیکن کیا تیسرا فریق ترکی بھی اس اتحاد کے ذریعے خطے میں موجود خطرات کے خلاف اپنی طاقت بڑھا سکتا ہے؟
استنبول میں مقیم تجزیہ کار ریکارڈو گاسکو کہتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ ترکی کو اس وقت خطے میں کسی قسم کے بڑے عسکری خطرات کا سامنا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ اس مشترکہ معاہدے کے تحت ترکی کی خلیجی خطے، جنوبی ایشیا اور بحیرہ احمر میں سٹریٹجک رسائی بڑھ جائے گی۔
حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ ترکی کا عسکری طور پر اسرائیل اور ایران سے موازنہ کیا جاتا رہا ہے اور اس امکان کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ انقرہ کے ان دونوں ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
’ایران اور اسرائیل کے لیے یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ اس معاہدے کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگرچہ اس میں باضابطہ طور پر کسی ملک کو مخالف فریق قرار نہیں دیا گیا، مگر یہ معاہدہ جارحانہ پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرنے اور علاقائی کشیدگی کی سیاسی قیمت بڑھانے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔‘
’غزہ اور شام کے حوالے سے موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں، ان ممالک کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید معمول پر لانا سیاسی طور پر انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ترکی کے نزدیک اس معاہدے کا مقصد جنگ کا دائرہ وسیع کرنا نہیں بلکہ ڈیٹرنس قائم کرنا ہے۔
’ترکی کی ایران کے ساتھ کسی براہِ راست جنگ کا امکان کم ہے اور وہ خطے میں اپنا دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سفارتکاری اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو بھی آگے بڑھانا چاہے گا۔‘
اس نئے اتحاد کو درپیش چیلنجز کیا ہیں؟
جہاں ان تینوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، وہیں ان کے ایک دوسرے کے حریف ممالک سے بھی تعلقات ہیں۔
تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان تعلقات میں توازن رکھنا ان تینوں ممالک کے لیے کسی حد تک ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
اٹلانٹک کونسل سے منسلک ایلیسن مائنر نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان تینوں ممالک کے درمیان شراکت داری کسی فعال سکیورٹی اتحاد کی شکل اختیار کرے گی یا نہیں۔‘
’تینوں ممالک کے بدلتے ہوئے اور بعض اوقات ایک دوسرے سے مختلف مفادات اور حکمتِ عملیوں کو دیکھتے ہوئے، یہ امکان کم ہے کہ یہ اتحاد نیٹو کی طرح مختلف بحرانوں کے جواب میں ایک جامع اور مکمل طور پر مربوط فوجی ردعمل دے گا۔‘
تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ اس شراکت داری کا محض وجود ہی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کو ایک مضبوط سیاسی پیغام دینے، سفارتی وزن بڑھانے اور سٹریجک فائدہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر کامران بخاری کا خیال ہے کہ اس نئے اتحاد کو ابھی مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی طرف آگے بڑھنے کے لیے مزید کام کرنا ہو گا۔
اُن کے مطابق اس طرف قدم بڑھانے کے لیے تینوں ممالک کو ایک مشترکہ عسکری کمانڈ اور نیٹو طرز کے وسائل کی ضرورت ہو گی۔
چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ایران کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ذہنوں میں یہ بات ہو گی کہ کہیں تہران اس سہ فریقی معاہدے کو اپنے خلاف نہ سمجھے۔
پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں اور حکومتی بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اس معاہدے پر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بات کر چکے ہیں، بلکہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی اپنے دورے کے دوران ایرانی قیادت سے اس معاملے پر بات کی ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان بھی دو روز قبل کہہ چکے ہیں کہ تہران اس معاہدے کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔
ایک اور قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کے دوران انڈیا سے یہ آوازیں بھی اُٹھتی رہی تھیں کہ ترکی اس دوران اسلام آباد کو مدد فراہم کر رہا تھا۔ تاہم سعودی عرب نے ہمیشہ سے انڈیا کے ساتھ ایک متوازن تعلق رکھا ہے۔
ایسے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مستقبل میں کشیدگی بڑھنے کے بعد سعودی عرب کا کردار اہم ہو جائے گا۔
ایلیسن مائنر کہتی ہیں کہ سعودی عرب اپنی سکیورٹی اور معاشی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم کے پیشِ نظر انڈیا اس کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ریاض یہ تاثر پیدا ہونے سے بچنا چاہے گا کہ وہ پاکستان اور انڈیا میں سے کسی ایک فریق کا ساتھ دے رہا ہے، تاہم جب علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا دیگر ممالک اپنے اپنے اتحاد اور بلاکس تشکیل دینے لگتے ہیں تو ایسا توازن برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔‘
تاہم خطے کی صورتحال اور نئے اتحاد کی تشکیل کے پیچھے ڈاکٹر کامران بخاری کے مطابق امریکہ کا بھی ایک بڑا کردار ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی تینوں ہی امریکہ سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر کامران بخاری کے سمجھتے ہیں کہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ معاہدہ ’امریکہ کی آشیرباد‘ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
اُن کے نزدیک اس خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا طویل عرصے سے واشنگٹن کے لیے ایک چیلنج رہا ہے۔
’اب امریکہ چاہتا ہے کہ یہاں واقع ممالک اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود لیں، اس سے امریکہ کا خرچہ بھی کم ہو گا اور خطے میں موجود خطرات میں بھی کمی آئی گی۔‘
’یعنی امریکہ کہہ رہا ہے کہ اپنی سلامتی کی ذمہ داری آپ خود اُٹھائیں۔‘