آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دیر بالا میں چیک پوسٹ پر حملہ: ’نائٹ ویژن آلات سے دیکھا تو مسلح شدت پسندوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا‘
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’رات کوئی آٹھ بجے کا وقت تھا ، ہم اپنی پولیس چوکی میں موجود تھے اہلکار نائٹ ویژن آلات سے علاقے کا جائزہ لے رہے تھے کہ اتنے میں مسلح شدت پسندوں کی پیش قدمی نظر آئی جو ہماری چوکی کی جانب ہی تھی۔‘
خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے پولیس اہلکار نے اپنا نام علی شیر بتایا اور کہا کہ انھوں نے مسلح شدت پسندوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’ہم سب چوکس ہو گئے تھے اور اپنے ہتھیار سنبھال لیے تھے، ہمیں لگ بھگ چاروں جانب سے گھیرے میں لے لیا گیا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہم پر فائرنگ شروع کر دی گئی تھی۔ ہم نے جوابی کارروائی شروع کی اور یہ جھڑپ لگ بھگ ساری رات جاری رہی۔‘
علی شیر نے بتایا کہ یہ حملہ بدھ کی رات آٹھ بجے کے قریب کیا گیا اور جھڑپ صبح 6 بجے تک جاری رہی۔
پولیس کے مطابق اس حملے میں ان کا کوئی جانی ننقصان نہیں ہوا۔
یہ پولیس چیک پوسٹ دو بندو روڈ پر واقع ہے اور یہ علاقہ آگے چل کر افغانستان کے ساتھ ملتا ہے لیکن یہاں کوئی باقاعدہ سڑک نہیں ہے بلکہ ایک دشوار گزار پہاڑی راستہ ہے۔ دیر بالا سے ایک اہم راستہ چترال کی جانب جاتا ہے۔
دیر بالا کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مسلح شدت پسندوں نے دو بندو پولیس چیک پوسٹ کے علاوہ دو اور مقامات پر بیک وقت حملہ کیا اور وہاں موجود اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کر کے حملہ ناکام کر دیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس میں پولیس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ مقامی لوگوں نے پولیس کی مدد کے لیے لشکر ترتیب دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیر بالا حملہ کیسے کیا گیا؟
سوشل میڈیا پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ویڈیوز اور ایسی پوسٹس سامنے آئیں کہ مسلح شدت پسندوں نے دو بندو پولیس چیک پوسٹ کا محاصرہ کر لیا ہے اور شدید فائرنگ جاری ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح شدت پسند دو بندو چیک پوسٹ کی جانب جانے والے راستے پر موجود ہیں اور ان کی مدد کے لیے جانے والے پولیس افسر اور ایک سیاسی رہنما کی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی گئی ہے لیکن وہ اس میں محفوظ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق مسلح شدت پسندوں کا اس میں جانی نقصان ہوا ہے اور لگ بھگ بارہ گھنٹوں کے محاصرے کے بعد مسلح شدت پسند واپس پہاڑوں پر چلے گئے ہیں جبکہ پولیس اہلکار بحفاظت واپس دیر پہنچ گئے ہیں۔
پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان کی اطلاع کے مطابق اس حملے میں 6 شدت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جنھیں حملہ آور ساتھ لے گئے ہیں۔
دو بندو چوکی میں موجود پولیس اہلکار علی شیر کا کہنا تھا کہ چوکی میں وہ کل 27 اہلکار تھے اور ان کے پاس اسلحہ موجود تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اسے اسلحے سے انھوں نے مقابلہ کیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی تعداد کا واضح علم نہیں ہو سکا کیونکہ ان کے بقول ’انھوں نے چاروں جانب سے ہم پر حملہ کیا تھا لیکن ان کی تعداد پچاس سے ساٹھ افراد تک ہو سکتی ہے۔‘
دیر بالا سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیاسی رہنما نثار وردک نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں جب اس حملے کا علم ہوا اور بتایا گیا کہ پو لیس چوکی کو محاصرے میں لیا گیا ہے تو وہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ابھی راستے میں تھے کہ ان پر بھی فائرنگ ہوئی جس سے ان کی گاڑی کو گولیاں لگیں اور پولیس کی گاڑیوں پر بھی فائرنگ ہوئی لیکن اس میں جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ دو بندو چیک پوسٹ سے قریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے جب ان پر فائرنگ ہوئی تھی۔
نثار وردگ نے بتایا کہ ان پر اتنی شدت سے فائرنگ کی گئی اور اس میں ہر قسم کا اسلحہ استعمال ہوا کہ جس سے حالات خراب ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا تھا جس پر وہ وہاں سے واپس روانہ ہو گئے تھے۔
مقامی لشکر کی تیاری
دیر بالا میں شدت پسندوں کی جانب سے محاصرے کے بعد جب ویڈیوز سامنے آئیں تو مقامی سطح پر لوگوں کو متحد ہونے اور پولیس کی مدد کے لیے لشکر ترتیب دینے کی اپیلیں کی گئیں اور لوگ مسلح ہو کر پہنچ گئے تھے۔
مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ مسلح لشکر موقع پر جانے کے لیے تیار تھے لیکن انھیں مقامی طور انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس سے مدد کے لیے نہاگدرہ لرجم اور عشیری درہ کے عوام مسلح ہوکر نکل آئے تھے۔
نثار وردک نے بتایا کہ مقامی لوگ پولیس کی مدد کے لیے تیار تھے اور اس میں بڑی تعداد میں لوگ پہنچ گئے تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ انھیں شدت پسندوں کی تعداد کا علم نہیں تھا کیونکہ مسلح شدت پسند پہاڑوں میں موجود تھے۔
ان سے جب پوچھا کہ مسلح شدت پسند اس علاقے میں کیسے آئے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے یہ کچھ دیر ایک جگہ پر اور پھر دوسری جگہ چلے جاتے ہیں جس وجہ سے ان کے کسی ایک ٹھکانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہاں آئے ہیں کیونکہ ان شدت پسندوں کی پناہ گاہیں یہاں تھیں اور یہ لوگ پھر افغانستان سے ان علاقوں کی جانب آئے ہیں۔‘
ریجنل پولیس افسر آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسین شاہ نے جمعے کو پولیس اہلکاروں اور علاقے کے عمائدین سے ملاقاتیں کی ہیں اور کہا ہے کہ پولیس نے بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب دیر پولیس کے پاس اسلحے کی کمی نہیں ہے اور پولیس اہلکاروں نے ساری رات ڈٹ کا مقابلہ کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہر قسم کا اسلحہ موجود ہے جس میں ہیوی ویپن موجود ہے ان میں ایچ ایم جیز ایل ایم جیز شامل ہیں اور جب ساری رات مقابلہ ہوتا ہے تو تو ایمونیشن کی کمی ہو جاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس کی مدد کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹرز کا کہہ دیا گیا تھا لیکن موسم کی خرابی کے مسائل آگئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور پولیس حکام اپنے اہلکاروں کے ساتھ ہیں۔
دیر میں کشیدگی
اگرچہ اپر دیر ایک پر امن علاقہ سمجھا جاتا ہے لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران یہاں تشدد کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔ اس علاقے میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر جہاں حملے ہوئے ہیں وہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔
اپر دیر میں گذشتہ تقریباً ایک سال کے دوران تشدد کے چند اہم واقعات سامنے آئے ہیں گذشتہ سال اگست کے مہینے میں پولیس کی کیو آر ایف کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا جس میں تین اہلکاروں کی جان چلی گئی تھی جبکہ 6 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
اس کے بعد اسی مہینے میں دو بندو درہ، سلام کوٹ اور ہاتن درہ کے پہاڑی علاقوں میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کی عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں اس میں پانچ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے جبکہ جھڑپ میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس جھڑپ کے دوران دو مقامی شہریوں کی جان بھی چلی گئی تھی۔
اگست 2025 کے آخر میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں ایک سکیورٹی چوکی پر بھی بڑا حملے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔