آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, آبنائے ہرمز تب کھلے گی جب امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے گا: پاسداران انقلاب

ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے کہا ہے: ’جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکہ اس یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔‘ ایک اور موقع پر وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ابھی تک تو ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی رہی ہیں تاہم ممکن ہے کہ اب یہ جارحانہ بھی ہو جائیں۔

خلاصہ

  • آبنائے ہرمز اس وقت کھلے گی جب امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے گا: پاسداران انقلاب
  • حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے گئے: یمنی حکومت کا دعویٰ
  • ٹرمپ کے ایلچی کشنر غزہ امن منصوبے پر حماس سے غیر معمولی مذاکرات کے بعد اسرائیل پہنچ گئے، حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے
  • ٹرمپ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان
  • ابراہم لنکن کے عملے کی نفسیاتی حالت دیگر امریکی بحری جہازوں کے عملے سے بہتر ہے: سینٹکام

لائیو کوریج

  1. ڈی آر کانگو میں ایبولا وائرس ملکی تاریخ کی مہلک ترین وبا بن گیا

    عوامی صحت کے حکام کے مطابق جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وبا اب ملک کی تاریخ کی سب سے زیادہ جان لیوا وبا بن چکی ہے۔

    15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے اب تک 2,325 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جو 2018 سے 2020 کے درمیان ہونے والی وبا میں ہونے والی اموات کی تعداد سے زیادہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ وبا پہلے ہی ریکارڈ پر موجود تیزی سے پھیلنے والی وبا بن چکی ہے، اور خبردار کیا تھا کہ ’یہ وبا ہر 30 منٹ میں ایک شخص کی جان لے رہی ہے۔‘

    اس وقت بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، جس نے موجودہ وبا کو جنم دیا ہے، تاہم کئی ویکسینز تیاری کے مراحل میں ہیں، جن میں ایک ایسی ویکسین بھی شامل ہے جو آسٹرازینیکا کی کووڈ-19 ویکسین کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔

    ڈی آر کانگو کے ادارۂ صحت عامہ نے اتوار کو بتایا کہ اب تک 4,945 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 101 کیسز بھی شامل ہیں۔

    ملک سے باہر نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں۔ 12 اگست تک پڑوسی ملک یوگنڈا میں 20 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ جرمنی میں دو افراد کا علاج کیا گیا اور فرانس میں ایک کیس رپورٹ کیا گیا۔

    تاہم عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈی آر کانگو میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار، جہاں یہ 26 میں سے 6 صوبوں تک پھیل چکا ہے، ’غیر معمولی‘ رہی ہے۔

    رؤٹرز کے مطابق مغربی افریقہ میں 2014 سے 2016 کے دوران دنیا کی مہلک ترین ایبولا وبا کو ایک ہزار اموات تک پہنچنے میں تقریباً پانچ ماہ لگے تھے۔ موجودہ وبا صرف تین ماہ میں دو ہزار ہلاکتوں تک پہنچ گئی، اگرچہ محققین کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یہ وائرس فروری سے ہی بغیر شناخت ہوئے پھیل رہا تھا۔

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گا، تاہم اس نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب صرف وائرس کی منتقلی کو قابو میں لانا ہے، نہ کہ وبا کا مکمل خاتمہ۔

    ایبولا ایک نایاب لیکن مہلک وائرل بیماری ہے، جبکہ بنڈی بگیو قسم اس سے بھی زیادہ نایاب ہے اور اس سے قبل اس کے صرف دو معلوم وبائی پھیلاؤ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    ایبولا کی علامات، جو فلو یا ملیریا سے ملتی جلتی ہیں، میں بخار، سر درد اور شدید تھکن شامل ہیں، اور یہ علامات انفیکشن کے دو سے اکیس دن کے اندر اچانک ظاہر ہو سکتی ہیں۔

    بیماری کے بڑھنے کے ساتھ قے اور اسہال کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے، جو بالآخر اعضا کے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ خون یا قے جیسے متاثرہ جسمانی سیالات کے ساتھ رابطے سے وائرس پھیلتا ہے۔

    برطانیہ کے ادویات کے نگران ادارے ایم ایچ آر اے نے بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف ویکسین کے پہلے انسانی آزمائشی مرحلے کی اجازت دے دی ہے۔

    یہ ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم تیار کر رہی ہے اور یہ اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کووڈ ویکسین کی تیاری میں استعمال کی گئی تھی۔ بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف مزید تین مختلف ویکسینیں بھی مختلف اداروں کی جانب سے تیار کی جا رہی ہیں۔

  2. برطانوی وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ کی ’جعلی چیف آف سٹاف‘ سے بات کرتے رہے

    برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا جو خود کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چیف آف سٹاف ظاہر کر رہا تھا۔

    وزیر اعظم کے دفتر ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس سکیورٹی خلاف ورزی پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی خبر سب سے پہلے پولیٹیکو نے دی تھی۔

    پولیٹیکو کے مطابق حکام نے بتایا کہ برنہم نے اس شخص سے رابطہ رکھا جو خود کو سوزی وائلز ظاہر کر رہا تھا، ’اس سے پہلے کہ انھیں شک ہوتا کہ یہ رابطہ حقیقی نہیں ہے‘، اور دعویٰ کیا گیا کہ صرف ’چند پیغامات‘ کا تبادلہ ہوا تھا۔

    حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘

    خیال ہے کہ برنہم اور وائلز کا روپ دھارنے والے شخص کے درمیان رابطہ پیغامات کی صورت میں تھا اور دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔

    ذرائع کے مطابق ’کسی اہم پیغام‘ کا تبادلہ نہیں ہوا تھا اور جیسے ہی ان پیغامات کے مشکوک ہونے کا شبہ ہوا، انھیں ’فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کر دیا گیا‘۔

    بی بی سی اس سے قبل یہ خبر دے چکا ہے کہ گزشتہ سال مئی میں وائلز کے فون کے ہیک ہونے کے حوالے سے ایف بی آئی تحقیقات کر رہی تھی۔

    اس وقت وائلز نے کہا تھا کہ ان کا فون ہیک ہو گیا تھا، جس کے بعد ایک یا ایک سے زیادہ جعل سازوں نے ان کی رابطہ فہرست استعمال کرتے ہوئے دیگر اعلیٰ امریکی حکام کو پیغامات بھیجے تھے۔

    یہ جعل سازی ان کے ذاتی فون کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی، سرکاری فون کو نہیں، تاہم پیغامات وصول کرنے والوں میں امریکی سینیٹرز، گورنرز اور بڑے کاروباری اداروں کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔

    ٹرمپ کی قریبی اتحادی وائلز ان افراد میں بھی شامل تھیں جنہیں 2024 میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایک سائبر جاسوسی یونٹ نے نشانہ بنایا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب ایران کی مسلح افواج کی ایک طاقتور شاخ ہے۔

    وائٹ ہاؤس سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

    2024 میں فارن آفس (ایف سی ڈی او) نے تصدیق کی تھی کہ اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون ایک فریب پر مبنی فون کال کا شکار ہوئے تھے، جس میں ایک شخص نے خود کو یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو ظاہر کیا تھا۔

    لارڈ کیمرون نے اس جعل ساز کے ساتھ کچھ ٹیکسٹ پیغامات کا بھی تبادلہ کیا تھا، جو خود کو پوروشینکو ظاہر کر رہا تھا۔ پوروشینکو 2014 سے 2019 تک یوکرین کے صدر رہے تھے۔

    اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں لارڈ کیمرون کے یوکرینی رہنما کے ساتھ متعدد معاملات پر روابط رہے تھے، جن میں بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں میں ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔

    ایف سی ڈی او نے کہا تھا کہ اس تبادلے کی تفصیلات عوامی طور پر جاری کی گئیں کیونکہ خدشہ تھا کہ انہیں ’توڑ مروڑ کر استعمال‘ کیا جا سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ 2022 میں مزید دو حکومتی وزرا کو بھی ایک جعل ساز نے نشانہ بنایا تھا، جو خود کو 2020 سے 2025 تک یوکرین کے وزیرِ اعظم رہنے والے ڈینِس شمیہال ظاہر کر رہا تھا۔

  3. جب تک پائلٹس کی صورتِ حال واضح نہیں ہوتی، ہم انھیں قیدی سمجھتے ہیں: ایران

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے تین پائلٹس کی صورتِ حال پر نظررکھے ہوئے ہے، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز میں لاپتہ ہو گئے تھے، اور جب تک اسے قطر کی جانب سے واضح وضاحت موصول نہیں ہوتی، وہ انھیں ’قیدی‘ تصور کرتا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’جب تک ان کی صورتِ حال واضح نہیں ہو جاتی، یہی فرض کیا جائے گا کہ وہ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ لہٰذا ہم اپنی تمام دوطرفہ، کثیرالجہتی اور قانونی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے تاکہ ہمارے پائلٹوں کی صورتِ حال واضح ہو سکے۔‘

    بقائی نے کہا کہ جب یہ پائلٹ جنگ کے دوران ایک کارروائی میں لاپتہ ہوئے تھے، ایران ان کی صورتِ حال کی خبر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں ریڈ کراس کے ساتھ بھی خط و کتابت کی گئی تھی۔

    ایران کا کہنا ہے کہ دو سخو 24 جنگی طیارے 2 مارچ 2026 کو ایک جنگی مشن کے لیے قطر میں موجود ’دشمن کے فوجی اڈے‘ کی جانب روانہ ہوئے تھے، لیکن واپسی پر فضائی دفاعی نظام نے انھیں نشانہ بنایا۔

    چار پائلٹوں میں سے ایک، مجید کاظمی کی شیراز میں تدفین ہوئی۔

    ایران کا دعویٰ ہے کہ باقی تین پائلٹ قطر کی قید میں ہیں، تاہم دوحہ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

  4. آبنائے ہرمز اس وقت کھلے گی جب امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے گا: پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے کہا ہے: ’جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔‘

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ ینگ جرنلسٹس کلب کو دیے گئے انٹرویو میں یداللہ جوانی نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز اور اس پر نافذ انتظامات کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائیں گے۔‘

    پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ’کئی ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ سے نکال لیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔‘

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران اور عمان کے درمیان ایک آبی گزر گاہ کے بارے میں جو بات اس وقت زیرِ بحث ہے، وہ صرف جنگ کے خاتمے اور اس کے حتمی طور پر ختم ہونے کے بعد کے لیے ہے۔‘

  5. آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں آمد و رفت میں کمی

    شائع کردہ معلومات کے مطابق، گذشتہ دنوں آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد اس آبی گزر گاہ کے ذریعے سمندری آمد و رفت میں سنیچر اور اتوار کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔

    یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تنازع کے حل کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات معطل ہو چکے ہیں۔

    کپلر کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق، سنیچر کے روز پانچ مال بردار جہاز اس آبنائے سے گزرے، جبکہ اتوار کو کسی بھی جہاز کی آمد و رفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔

    اس کے برعکس، گذشتہ ہفتے سنیچر اور اتوار کے دوران 31 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

  6. حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے گئے: یمنی حکومت کا دعویٰ

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی صوبے الجوف میں حوثیوں کے خلاف توپ خانے سے حملے کیے گئے ہیں۔

    سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انھوں نے صوبہ الجوف میں حوثیوں کے ’اجتماعات اور پناہ گاہوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس سے قبل یمنی افواج نے صوبہ مأرب میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف متعدد ڈرون حملے کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ ان افواج کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سنیچر اور اتوار کے دوران کئی صوبوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف 181 کارروائیاں کیں، جن میں اس گروہ کے درجنوں ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو 2022 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دوبارہ مکمل جنگ کی طرف لوٹنے کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔

  7. ٹرمپ کے ایلچی کشنر غزہ امن منصوبے پر حماس سے غیر معمولی مذاکرات کے بعد اسرائیل پہنچ گئے

    مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے۔

    یہ پیش رفت کشنر کی جانب سے مصر میں حماس کے ساتھ ہونے والے غیر معمولی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں امریکہ کے حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد پر بات چیت کی گئی۔

    گذشتہ ماہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں حماس اور دیگر گروہوں کے ’مکمل طور پر غیر مسلح ہونے‘ کے لیے ایک معاہدے تک پہنچ گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے اسرائیل نے ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، جس میں اسرائیلی فوج کے انخلا اور ایک نئی فلسطینی سویلین انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد سے قبل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے خواہاں ہیں۔

    نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا: ’اسرائیل غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کی 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج اس وقت تک کوئی انخلا نہیں کریں گی جب تک حماس حقیقتاً غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔‘

    اتوار کو آٹھ مسلم ممالک نے ایک بیان جاری کر کے اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کیے جانے کی مذمت کی۔

    ٹرمپ بورڈ آف پیس کی قیادت کرتے ہیں، جو ابتدا میں غزہ میں امن کے قیام کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تنازعات تک وسیع کر دیا گیا۔

    ایک فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے داماد اور اہلچی جیرڈ کشنر نے اتوار کے روز مصر میں حماس کے نئے رہنما خلیل الحیہ کی سربراہی میں ایک وفد سے ملاقات کی۔

    بعد ازاں حماس نے ایک بیان میں ثالثوں اور بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اگلے مراحل کے لیے طے شدہ روڈ میپ کی منظوری دینے پر ’مجبور‘ کریں۔

  8. ٹرمپ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ تینوں ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے پر دستخط سے انھیں ’بہت خوشی‘ ہوئی۔

    ٹرمپ نے کہا: ’یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کس طرح یکجا ہو رہا ہے، اور کس طرح یہ ممالک زیادہ با معنی انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘

    امریکی صدر نے تینوں ممالک کے سربراہان کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا: ’یہ ایک بڑا، جرأت مندانہ اور اہم پہلا قدم ہے، واہ!‘

  9. اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے: حماس

    حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرے۔

    یہ امن منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا ہے۔

    حماس نے یہ بیان اس کے بعد جاری کیا جب اس کے رہنما خلیل الحیہ نے مصر میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔

    جیرڈ کشنر آئندہ چند روز میں مزید مذاکرات کے لیے اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔

    فلسطینی گروپ نے کہا کہ اس نے اس امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے۔

    امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں اور ایک نئی غیر فوجی انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔

    تاہم اسرائیل نے گذشتہ ہفتے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ سب سے پہلے وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا خواہاں ہے۔

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیل کسی صورت غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

  10. ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ’بہت اچھے تعلقات‘ کی وجہ سے وہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنا چاہتے ہیں۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے ان سالانہ فوجی مشقوں کو مہنگا قرار دیا اور کہا کہ وہ ان سے مطمئن نہیں ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ انھوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہدایت دی ہے کہ ان مشقوں کو محدود کیا جائے۔

    امریکی صدر نے اپنے فیصلے کے جواز میں کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا نے ’دھمکی آمیز‘ رویہ اختیار نہیں کیا اور ’احترام‘ والا برتاؤ کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’اپنے اور شمالی کوریا کے کم جونگ اُن کے درمیان بہت اچھے تعلقات کی بنیاد پر، میں اس بات سے خوش نہیں ہوں کہ امریکہ نے بہت پہلے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینے پر اتفاق کیا تھا۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ انھوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا تھا کہ ’کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی ہماری کوشش میں شامل ہونا چاہیں گے۔‘

    ٹرمپ کے مطابق جنوبی کوریا کا جواب تھا: ’نہیں، شکریہ!‘

    جنوبی کوریا نے ابھی تک ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  11. ابراہم لنکن کے عملے کی نفسیاتی حالت دیگر امریکی بحری جہازوں کے عملے سے بہتر ہے: سینٹکام

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے چیف آف سٹاف بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں کہا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن پر موجود افراد کی ذہنی صحت اُن افراد کے مقابلے میں بہتر ہے جو دیگر بحری جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    سینٹکام کے کمانڈر کا یہ پیغام ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں کی شدید تھکن سے متعلق رپورٹوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔

    ان رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز پر تعینات بہت سے فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔

    بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکہ کے 11 فعال بحری جہازوں میں ابراہم لنکن کے اہلکاروں میں ذہنی مسائل کی شرح سب سے کم ہے۔

    حال ہی میں ابراہم لنکن کے عملے میں سے کچھ کے اہلِ خانہ نے موجودہ حالات کے نتیجے میں عملے کی ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اور کچھ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعدد اہلکاروں نے جہاز کے ڈیک سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔

    امریکی بحریہ نے رسد کی فراہمی میں بعض مشکلات کی تصدیق کرتے ہوئے ابراہم لنکن کے عملے میں ذہنی صحت کے بحران کی تردید کی ہے۔ اس جہاز پر تقریباً پانچ ہزار افراد موجود ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں سفر کرنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن گذشتہ نومبر سے، یعنی تقریباً 10 ماہ یا 250 دن سے زیادہ عرصے سے سمندر میں موجود ہے۔

  12. ہماری کارروائیاں اب تک دفاعی رہی ہیں لیکن ممکن ہے جارحانہ بھی ہو جائیں: پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو میں کہا ہے: ’جنگ کا آغاز دشمن نے کیا تھا اور ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں، تاہم ممکن ہے کہ مستقبل میں ان کی نوعیت جارحانہ بھی ہو جائے۔‘

    یداللہ جوانی نے کہا کہ ’حکم دیے جانے پر مسلح افواج اپنی حکمت عملی تبدیل کریں گی اور ملک کے دفاع، سلامتی کے تحفظ اور دشمن کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے ضروری وقت پر ہر قدم اٹھایا جائے گا۔‘

    حال ہی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اِن چیف کے مشیر محمد رضا نقدی نے بھی ایرانی فوجی حکمت عملی کو دفاعی نظریے سے جارحانہ نظریے میں تبدیل کرنے کے فیصلے کی خبر دی تھی۔

    انھوں نے ایران کے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے کمانڈروں کی نئی تقرریوں کو ’حکمت عملی تبدیل کرنے کی تیاری‘ قرار دیا تھا۔

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ مالی سال 2025-26 کے دوران 61 ارب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جون سنہ 2025 کے اختتام پر 1614 ارب روپے تھا۔ تازہ ترین گردشی قرضے کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا رقم 77 ارب روپے کم ہو کر 784 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سال 861 ارب روپے تھی۔
    • ہنگری میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاحوں سے بھری ایک بس موٹروے سے پھسل کر کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
    • اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے بدر یونٹ کے ایک سینئر کمانڈر ابو حسن علاء کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حزب اللہ کے یہ کمانڈر تنظیم کی جانب سے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے جواب میں کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
    • عرب لیگ نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہے۔
    • ایرانی مسلح افواج کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انھوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ جبکہ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کے دعوے کی تردید کی ہے۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔