ڈی آر کانگو میں ایبولا وائرس ملکی تاریخ کی مہلک ترین وبا بن گیا
عوامی صحت کے حکام کے مطابق جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وبا اب ملک کی تاریخ کی سب سے زیادہ جان لیوا وبا بن چکی ہے۔
15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے اب تک 2,325 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جو 2018 سے 2020 کے درمیان ہونے والی وبا میں ہونے والی اموات کی تعداد سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ وبا پہلے ہی ریکارڈ پر موجود تیزی سے پھیلنے والی وبا بن چکی ہے، اور خبردار کیا تھا کہ ’یہ وبا ہر 30 منٹ میں ایک شخص کی جان لے رہی ہے۔‘
اس وقت بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، جس نے موجودہ وبا کو جنم دیا ہے، تاہم کئی ویکسینز تیاری کے مراحل میں ہیں، جن میں ایک ایسی ویکسین بھی شامل ہے جو آسٹرازینیکا کی کووڈ-19 ویکسین کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
ڈی آر کانگو کے ادارۂ صحت عامہ نے اتوار کو بتایا کہ اب تک 4,945 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 101 کیسز بھی شامل ہیں۔
ملک سے باہر نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں۔ 12 اگست تک پڑوسی ملک یوگنڈا میں 20 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ جرمنی میں دو افراد کا علاج کیا گیا اور فرانس میں ایک کیس رپورٹ کیا گیا۔
تاہم عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈی آر کانگو میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار، جہاں یہ 26 میں سے 6 صوبوں تک پھیل چکا ہے، ’غیر معمولی‘ رہی ہے۔
رؤٹرز کے مطابق مغربی افریقہ میں 2014 سے 2016 کے دوران دنیا کی مہلک ترین ایبولا وبا کو ایک ہزار اموات تک پہنچنے میں تقریباً پانچ ماہ لگے تھے۔ موجودہ وبا صرف تین ماہ میں دو ہزار ہلاکتوں تک پہنچ گئی، اگرچہ محققین کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یہ وائرس فروری سے ہی بغیر شناخت ہوئے پھیل رہا تھا۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گا، تاہم اس نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب صرف وائرس کی منتقلی کو قابو میں لانا ہے، نہ کہ وبا کا مکمل خاتمہ۔
ایبولا ایک نایاب لیکن مہلک وائرل بیماری ہے، جبکہ بنڈی بگیو قسم اس سے بھی زیادہ نایاب ہے اور اس سے قبل اس کے صرف دو معلوم وبائی پھیلاؤ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ایبولا کی علامات، جو فلو یا ملیریا سے ملتی جلتی ہیں، میں بخار، سر درد اور شدید تھکن شامل ہیں، اور یہ علامات انفیکشن کے دو سے اکیس دن کے اندر اچانک ظاہر ہو سکتی ہیں۔
بیماری کے بڑھنے کے ساتھ قے اور اسہال کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے، جو بالآخر اعضا کے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ خون یا قے جیسے متاثرہ جسمانی سیالات کے ساتھ رابطے سے وائرس پھیلتا ہے۔
برطانیہ کے ادویات کے نگران ادارے ایم ایچ آر اے نے بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف ویکسین کے پہلے انسانی آزمائشی مرحلے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم تیار کر رہی ہے اور یہ اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کووڈ ویکسین کی تیاری میں استعمال کی گئی تھی۔ بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف مزید تین مختلف ویکسینیں بھی مختلف اداروں کی جانب سے تیار کی جا رہی ہیں۔