عاصم منیر کے دورۂ تہران پر پاکستانی دفتر خارجہ کو وضاحت کیوں دینا پڑی؟

Asim Munir, Iran Visit

،تصویر کا ذریعہPress TV

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستانی دفتر خارجہ نے ایسے دعوؤں کو ’گمراہ کُن‘ قرار دیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دورہ ایران ’بطور امریکی صدر کے نمائندے یا امریکہ کی ہدایت‘ پر کیا تھا۔

پاکستان، امریکہ اور ایران تنازع میں ثالث ہے اور حکومت پاکستان کے مطابق اِسی پس منظر میں رواں ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا تھا جس دوران پاکستانی وفد نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا یہ دورہ ’پاکستان کے بطور ثالث کردار‘ کے پس منظر میں کیا گیا‘ جو ’امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے میں معاونت اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی نئی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔‘

طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’میں واضح کرنا چاہوں گا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا، گمراہ کُن اور حقائق کے منافی ہے۔‘

واضح رہے کہ اس دورے سے قبل، اس کے دوران اور دورے کے بعد ذرائع ابلاغ کے چند اداروں اور مبصرین نے یہ تاثر دیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران گئے ہیں۔

وزارت خارجہ کی بریفنگ کے دوران ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’امریکی صدر اور فیلڈ مارشل کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعد فیلڈ مارشل نے ایران کا دورہ کیا۔ کیا آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی مزید تجویز سامنے آئی ہے؟‘

یاد رہے کہ 24 اگست کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کے دورے سے قبل صدر ٹرمپ سے بات کی تھی۔ تاہم اسی خبر میں آگے چل کر یہ کہا گیا تھا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں نے کس موضوع پر تفصیلی بات کی تھی۔

صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا: ’میں پہلے ہی دو ٹوک انداز میں بیان کر چکا ہوں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کو امریکی صدر کے نمائندے یا امریکہ کی ہدایت پر کیے گئے دورے کے طور پر پیش کرنے والی رپورٹس گمراہ کُن ہیں۔‘

پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان

،تصویر کا ذریعہIranian Presidency/Anadolu via Getty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ایسی رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں ہیں‘ اور اس دورے کو صرف پاکستان کی امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملک کی قیادت اس نوعیت کے معاملات پر جب بھی اہم عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کرتی ہے تو اس بارے میں باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے۔

صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے مزید سوالات کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں ضرور کی گئیں لیکن حتمی فیصلہ ’ایران اور امریکہ نے خود کرنا ہے۔‘، جبکہ پاکستان سمیت ثالث اور سہولت کار صرف مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’رابطہ کار، ثالث اور سہولت کار صرف کوشش کر سکتے ہیں، اور یقیناً ایسی ہی ایک مخلصانہ کوشش ہمارے چیف آف ڈیفنس فورسز نے اپنے تہران کے دورے کے دوران کی۔‘

واضح رہے کہ جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے 24 اگست کو ٹرمپ اور عاصم منیر میں ٹیلیفونک رابطے کی خبر رپورٹ کی تھی تو اسے انڈیا کے کئی میڈیا اداروں نے بھی شائع اور نشر کیا تھا۔ بعد ازاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران پہنچنے اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے بعد بھی ایسے دعوے اور قیاس آرائیاں جاری رہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورۂ ایران کے دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی تھی۔

ان ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آنے کے ساتھ ہی بعض حلقوں میں اس دورے کے مقصد پر قیاس آرائیاں کی گئی تھیں۔

یونیورسٹی آف تہران میں انگریزی ادب کے پروفیسر سید محمد مرانڈی نے 24 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ پاکستانی ثالثوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف پہنچایا اور ایران کا جواب حاصل کیا۔

تاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے اس دورے اور ملاقاتوں کے بارے میں جاری کیے گئے سرکاری بیانات میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی تھی کہ دورہ ایران کا مقصد امریکہ کا پیغام تہران تک پہنچانا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر، نے ملاقات کے بعد جاری کردہ اپنے بیان میں کہا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ’جامع مذاکرات‘ ہوئے جن میں مزید کشیدگی کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے ’جلد از جلد خاتمے‘ کے لیے اقدامات پر بات کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’دونوں فریقوں نے علاقائی امن اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل تک پہنچنے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔‘

وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ ان کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر کے ساتھ ’نہایت مثبت اور نتیجہ خیز‘ ملاقات ہوئی۔

انھوں نے لکھا تھا کہ گفتگو ان اقدامات پر مرکوز رہی جو ایران اور امریکہ میں تنازع کے جامع تصفیے کے لیے ضروری ہیں۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر نے ’کھل کر اپنی حکومت کا مؤقف اور خدشات بیان کیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران متعلقہ امور پر ’نہایت تعمیری‘ تبادلۂ خیال ہوا، ’نمایاں پیش رفت‘ ہوئی اور ’ملاقات انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔‘

تاہم اسی دوران بعض علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ یہ تاثر دے رہے تھے کہ پاکستانی وفد امریکہ کے لیے پیغام رسانی کر رہا ہے۔

عاصم منیر اور باقر قالیباف

،تصویر کا ذریعہIranian Parliament Speaker's Office

عاصم منیر کے دورۂ تہران پر ایرانی میڈیا نے کیا رپورٹ کیا تھا؟

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب امریکی صدر نے ایران کے خلاف نئی معاشی پابندیاں عائد کی تھیں، جنھیں ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کا نام دیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان پابندیوں کے تحت ایران کے ساتھ مالی شراکت داری رکھنے والے ممالک کو بھی عالمی اقتصادی نظام سے الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔

ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری اخبار ’تہران ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ دباؤ اور دھمکی کے ذریعے ایران کو جھکانے میں ناکام ہو گیا ہے، اور اب چاہتا ہے کہ وہ اس بحران سے بھی نکل آئے اور شرمندگی سے بھی بچ جائے۔

25 اگست کو ’ایران کے سامنے جواری کا ہاتھ آشکار ہو گیا‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے ٹیزر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’ٹرمپ نے بیسنٹ کے ذریعے معاشی دباؤ کا پتا کھیل دیا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران بھیج دیا تاکہ جنگ کی دلدل سے نکلنے کا باعزت راستہ تلاش کیا جا سکے۔‘

ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تہران کے ساتھ محاذ آرائی میں واشنگٹن مایوس ہو چکا ہے اور امریکی پابندیاں اور پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کا دورۂ ایران انھی مایوسیوں کے ازالے کے لیے ہیں۔

تاہم تسنیم نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران گئے تھے۔

25 اگست کو تسنیم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے کا یہ بیان نقل کیا کہ ’بعض میڈیا اداروں کے دعوؤں کے برعکس، پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر جنھوں نے گذشتہ روز ایران کا دورہ کیا، اپنے ساتھ امریکہ کی جانب سے کوئی دھمکی آمیز یا اس نوعیت کا کوئی پیغام نہیں لائے تھے، بلکہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور امریکی فریق تک ایران کی شرائط و موقف پہنچانے کے خواہاں تھے۔‘

تاہم سخت گیر ایرانی روزنامے ’جوان آن لائن‘ نے بھی پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے تہران کے دوروں کو سفارتکاری کی بحالی کے لیے امریکہ کی بے چینی کی علامت قرار دیا۔