سکاٹ لینڈ کا وہ قصبہ جسے تارکینِ وطن کی ضرورت ہے

A coastal cityscape with a tall clock tower in the foreground, surrounded by historic and modern buildings. Behind it, a large white cruise ship is docked beside red industrial cranes. Beyond the harbour, green hills and mountains rise under a partly cloudy blue sky.
،تصویر کا کیپشنسکاٹ لینڈ کے مغربی ساحل پر واقع گرینوک کی آبادی کئی دہائیوں سے مسلسل کم ہو رہی ہے
    • مصنف, مائیکل بکانن
    • عہدہ, سماجی امور کے نمائندے
    • مصنف, ایڈم ایلی
    • مقام, گرینوک
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

گرینوک کی ماند پڑتی ہوئی ہائی سٹریٹ پر مئی میں ایک نئی دکان کھلی۔

’اینک افریقن سٹور‘ نے اس سکاٹش قصبے میں نائیجیریا کا ایک چھوٹا سا رنگ بھر دیا ہے، جہاں یام، پلانٹین، بھنڈی اور کیٹ فش فروخت کی جاتی ہیں۔

یہ یہاں افریقی خوراک کی واحد دکان نہیں ہے۔ صرف چند میٹر کے فاصلے پر ایک اور دکان بھی موجود ہے، جو علاقے کی بدلتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کر رہی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق پانچ سال پہلے گرینوک میں کسی سیاہ فام شخص کو دیکھنا غیر معمولی بات ہوتی تھی۔ اب سینکڑوں افریقی اور پناہ گزین اس علاقے میں آ کر آباد ہو چکے ہیں۔

مقامی کونسل نے درحقیقت سکاٹ لینڈ کے مغربی حصے کے اس علاقے میں مزید لوگوں کو آنے کی ترغیب دینے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ آبادی میں مسلسل کمی کے رجحان کو روکا جا سکے۔

اینک کی مالک کرسچیانا اومیلانا، جو 2021 میں برطانیہ آئی تھیں، کہتی ہیں، ’سکاٹش لوگ بہت اچھے اور دوسروں کو قبول کرنے والے ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں، ’جب روزگار کے مواقع ہوں گے تو تارکین وطن خود آ جائیں گے۔‘

Christianah wears a light green hoodie and stands inside a well‑lit grocery store,  with shelves of canned goods, snacks and bulk food items behind her.
،تصویر کا کیپشنکرسچیانا کا کہنا ہے کہ گرینوک کے لوگ بہت خوش اخلاق، دوستانہ ہیں

تاہم روزگار کے مواقع کی کمی گرینوک اور اس کے وسیع تر علاقے اِن ورکلائیڈ میں آبادی میں کمی کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ سکاٹ لینڈ میں کسی بھی مقامی انتظامیہ کو آبادی میں کمی کا اتنا زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا اِن ورکلائیڈ کو۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

1981 کے مقابلے میں انورکلائیڈ کی آبادی میں 22 ہزار افراد کی کمی آ چکی ہے۔ موجودہ آبادی 78 ہزار ہے، اور اندازہ ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں اس میں مزید 16 فیصد کمی واقع ہوگی۔

کم ہوتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنا مقامی کونسل کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے لیے وہ ایک طرف مقامی لوگوں کو یہیں رہنے کی ترغیب دینا چاہتی ہے اور دوسری طرف نئے لوگوں کو اس علاقے میں آنے کی طرف راغب کر رہی ہے۔

اینک سٹور کے ایک گاہک سنڈے، جو حال ہی میں ڈیون سے یہاں منتقل ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ایک ’خوبصورت اور دوستانہ‘ قصبہ ہے۔

انھوں نے گلاسگو کے ایک ہسپتال میں ملازمت شروع کی ہے اور گرینوک اس لیے آئے ہیں کہ ان کی اہلیہ مقامی ہسپتال، انورکلائیڈ رائل، میں کام کرتی ہیں۔

سنڈے کہتے ہیں، ’اگر مقامی کونسل روزگار کے مواقع فراہم کر دے تو گرینوک میں سب کچھ بدل جائے گا، کیونکہ افریقہ سے لوگ یہاں آنا چاہیں گے۔‘

گرینوک کی زیادہ تر افریقی آبادی گلاسگو یا پیسلے میں کام یا تعلیم حاصل کر رہی ہے اور کم قیمت رہائش کی وجہ سے اس قصبے کی طرف آئی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ ہنر مند ملازمتوں کے ویزوں پر یہاں پہنچے ہیں، جنھیں سپانسرشپ ویزا کہا جاتا ہے، اور وہ صحت اور نگہداشت کے شعبوں میں افرادی قوت کو مضبوط بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔

اِن ورکلائیڈ کونسل کی آبادی بڑھانے کی حکمت عملی اس بات پر مبنی ہے کہ ان لوگوں کو یہاں مستقل طور پر آباد ہونے کی ترغیب دی جائے، ساتھ ہی دیگر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزین کا درجہ حاصل کرنے والے افراد کو بھی اس علاقے میں آنے کی طرف راغب کیا جائے۔

تاہم، روزگار کے مواقع کی کمی اس قصبے کے مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

ایک مقامی خاتون ٹفنی، جن سے ہماری ملاقات والدین اور چھوٹے بچوں کے ایک مقامی گروپ میں ہوئی، کہتی ہیں، ’یہ ایک ویران قصبہ بن چکا ہے۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ کرنے کے لیے کچھ نہیں، دکانیں نہیں ہیں اور روزگار کے مواقع بھی نہیں ہیں۔‘

29 سالہ ٹفنی کام کی خاطر گرینوک چھوڑ کر چلی گئی تھیں، لیکن اپنے بچے کی پرورش کے لیے واپس آ گئی ہیں۔ اب وہ کہتی ہیں کہ شاید انھیں دوبارہ یہاں سے جانا پڑے۔

وہ کہتی ہیں، ’مجھے ایسی ملازمت تلاش کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے جو بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں اور میری ضروریات دونوں کے مطابق ہو۔ میں نے یہاں سے پیسلے منتقل ہونے پر بھی غور کیا ہے کیونکہ وہاں کرنے کے لیے بہت زیادہ چیزیں موجود ہیں۔‘

A woman in a black zip‑up athletic top stands indoors against light brick walls and wooden doors
،تصویر کا کیپشنٹیفنی کے مطابق گرینوک ’ایک بھوتوں کا شہر‘ بن گیا ہے

گرینوک کی صنعتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کا ایک منفرد ماضی سامنے آتا ہے۔ 19ویں صدی میں چینی صاف کرنے کی عالمی صنعت کے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے اسے ’شوگر اوپولس‘ کا لقب ملا تھا۔ اس کے علاوہ تقریباً 300 سال کے عرصے میں اس ساحلی قصبے میں ہزاروں بحری جہاز بھی تعمیر کیے گئے۔

حالیہ دور میں کمپیوٹر بنانے والی کمپنی آئی بی ایم نے گرینوک کے قریب اپنے کیمپس میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد کو ملازمت دی تھی، لیکن یہ مرکز 2016 میں مکمل طور پر بند ہو گیا۔

درحقیقت گذشتہ چار برسوں میں مزید 1,500 ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔ ایمازون، ای ای اور متعدد دوسری کمپنیاں اپنے کاروبار دوسرے علاقوں میں منتقل کر چکی ہیں۔ صرف اسی ہفتے مقامی شپ یارڈ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے تقریباً ایک چوتھائی ملازمین کو فارغ کر رہا ہے۔ دوسری جانب مقامی فٹبال ٹیم گرینوک مورٹن کے حامیوں نے کلب کو مالی بحران سے بچانے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا ہے۔

قصبہ معاشی طور پر کمزور ہو کر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی اس ماہ یہاں کا دورہ کرنے والے ہیں تاکہ مسائل کو خود سن سکیں۔

اگرچہ صحت اور سماجی نگہداشت کے شعبوں میں بہت سے افریقی افراد کو ملازمتیں ملی ہوئی ہیں، لیکن مقامی طور پر پیدا ہونے والے لوگوں اور پناہ گزینوں کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ہائی سٹریٹ کے قریب لائل گیٹ وے کمیونٹی کیفے میں موجود بزرگ رہائشیوں میں سے ایک، میوریل کہتی ہیں، ’جب ملازمتیں ختم ہو جاتی ہیں تو لوگ بھی یہاں سے چلے جاتے ہیں۔‘

Muriel and Pamela  women sit together indoors at a community space, smiling as they talk, both wear glasses and have brightly coloured tops.
،تصویر کا کیپشنمیوریل اور پامیلا نے مقامی چرچ میں قائم ایک کیفے میں ہم سے گفتگو کی

ٹیبل ٹینس کے کھیل اور سستے مگر بھرپور کھانوں کے دوران یہ بزرگ ایک ایسے گرینوک کو یاد کرتے ہیں جو کبھی لوگوں اور دکانوں سے آباد اور سرگرم ہوا کرتا تھا، جہاں جانے کے لیے بے شمار جگہیں موجود تھیں۔

اب صورتحال مختلف ہے۔ گفتگو میں بار بار ’افسردہ‘ اور ’خالی‘ جیسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ یہ بزرگ مقامی کونسل کی آبادی بڑھانے کی حکمت عملی کے بارے میں بھی شکوک رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ تارکین وطن کے یہاں آ کر آباد ہونے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن وہ سوچتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں نئے لوگوں کی آمد کتنی دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔

آبادی کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے کونسل کو ہر سال سینکڑوں نئے تارکین وطن کی ضرورت ہے۔

پامیلا پوچھتی ہیں، ’وہ کہاں کام کریں گے؟ گرینوک کے اپنے لوگوں کو ہی روزگار نہیں مل رہا، تو پھر دوسرے لوگوں کو لا کر کیا ہوگا؟‘

یہ کیفے لائل کرک چرچ میں قائم ہے، جہاں جاناتھن فلیمنگ گذشتہ پانچ برس سے چرچ آف سکاٹ لینڈ کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ قصبے میں آبادی کی کمی کے بحران کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ہمارے چرچ میں شادیوں سے زیادہ جنازے ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔‘

فلیمنگ کے مطابق چرچ حال ہی میں چند ایرانی پناہ گزینوں کی مدد کر رہا ہے اور ان کا تجربہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں، لیکن انھیں کام نہیں مل رہا۔

فلیمنگ کہتے ہیں، ’وہ کمیونٹی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ مالی امداد پر انحصار چھوڑ کر خود مختار بننا چاہتے ہیں، لیکن ایسا نہیں کر پا رہے۔ ایک لحاظ سے وہ اسی صورتحال میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔‘

Jonathan stands inside a church in front of a wooden pulpit with a gold cross on a wooden backdrop.
،تصویر کا کیپشنچرچ کے پادری جوناتھن فلیمنگ کا کہنا ہے کہ وہ شادیوں کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ‘ جنازے پڑھاتے ہیں

حالیہ برسوں میں بیرونِ ملک سے اِن ورکلائیڈ آنے والوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے اور 2023 کے بعد سے ہر سال تقریباً 750 افراد یہاں آ رہے ہیں۔ اس علاقے میں اب سینکڑوں افریقی تارکین وطن کے علاوہ یوکرین، افغانستان اور دیگر کئی ممالک سے آنے والے پناہ گزین بھی آباد ہو چکے ہیں، جن میں سے بہت سے لوگ اپنے تجربات کو مثبت قرار دیتے ہیں۔

آبادی بڑھانے کے منصوبے کے تحت مقامی کونسل ایسے افراد کے لیے انگریزی زبان کی کلاسیں فراہم کر رہی ہے جنھیں اس کی ضرورت ہے، جبکہ ہنر مند ملازمتوں تک رسائی میں بھی مدد دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں کو ایک جامع اور ’نسل پرستی کے خلاف تعلیم‘ فراہم کرنے کے لیے معاونت دی جاتی ہے۔

مو الملارشید 2018 میں ایک شامی پناہ گزین کے طور پر گرینوک پہنچے تھے اور انھیں انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں یہاں ایک مددگار کمیونٹی ملی اور سخت محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب وہ ایک مقامی جم میں انسٹرکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’میرے لیے ہمیشہ لوگ موجود تھے جو میری مدد کرتے تھے۔‘

Mo is wearing an Inverclyde Leisure shirt standing in a gym with weights and exercise machines behind him.
،تصویر کا کیپشنمو الملارشید 2018 میں ایک پناہ گزین کے طور پر گرینوک آئے تھے، اور اب ایک جم انسٹرکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں

کچھ تناؤ بھی رہا ہے۔ گذشتہ سال ایک مقامی نوجوان کو مقامی مسجد میں بڑے پیمانے پر قتل کی منصوبہ بندی کرنے پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اور جون میں، پناہ کے متلاشی افراد کو رہائش دینے والے ایک مقامی ہوٹل کے باہر ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں ایک خاتون پر نفرت پر مبنی جرم کا مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

اس کے باوجود، مئی میں ہونے والے سکاٹش پارلیمانی انتخابات میں ریفارم یو کے، جو ملک بھر میں امیگریشن کم کرنے کی بھرپور مہم چلاتی ہے، اِن ورکلائیڈ میں تیسرے نمبر پر رہی۔ اسے کامیاب ہونے والے ایس این پی امیدوار سے تقریباً 8,500 کم ووٹ ملے، حالانکہ اس نے اس حلقے میں اپنی سکاٹش رہنما کو امیدوار بنایا تھا۔

آنے والے برسوں میں دیگر کونسل علاقوں کو بھی انورکلائیڈ جیسے آبادی میں کمی کے مسئلے کا سامنا ہوگا۔ توقع ہے کہ سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی آبادی اگلے عشرے کے اندر کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

سٹیفن میک کیب، جو 2007 سے تقریباً مسلسل اِن ورکلائیڈ کی اقلیتی لیبر قیادت والی کونسل کے سربراہ رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ آبادی بڑھانے کا منصوبہ اثر دکھانا شروع کر چکا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں آبادی مستحکم ہوئی ہے، جس کی بڑی وجہ امیگریشن ہے۔

میک کیب کہتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ اِن ورکلائیڈ کونسل کے تقریباً ہر منصوبے کا بنیادی مقصد ہے، چاہے وہ ہاؤسنگ منصوبے ہوں، سکولوں کی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر ہو، یا پھر سب سے اہم، روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔

کلائیڈ دریا کے کنارے کھڑے ہو کر وہ سمندری، قابلِ تجدید توانائی اور دفاعی شعبوں میں مواقع دیکھتے ہیں۔ وہ 21ویں صدی کے لیے دریا کے استعمال کو نئے انداز میں سوچ رہے ہیں، تاہم اس کے لیے انھیں سکاٹش اور برطانیہ کی حکومتوں کی نمایاں حمایت درکار ہوگی۔

پناہ کے متلاشی افراد کے بارے میں پوچھے جانے پر، جنھیں زیادہ تر ہوم آفس کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، میک کیب تسلیم کرتے ہیں کہ ’لوگوں میں بے چینی ضرور پائی جاتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘

اگرچہ کونسل نے ہوم آفس کی تقسیمِ آبادی کی سکیم میں ’خوشی سے‘ حصہ لیا ہے اور 200 سے زیادہ پناہ کے متلاشی افراد کو قبول کیا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ اس علاقے کو ’غیر متناسب طور پر زیادہ حصہ دیا گیا ہے‘، جبکہ کہا جاتا ہے کہ ہوم آفس کے ایک ٹھیکیدار نے علاقے میں کئی مکانات خرید لیے ہیں۔

میک کیب کا کہنا ہے کہ ایسے تارکینِ وطن اور پناہ گزین جو کام کر سکتے ہیں، اِن ورکلائیڈ میں خوش آمدید ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان لوگوں کے بغیر ہماری صحت کی خدمات واقعی مشکلات کا شکار ہوتیں۔ جو پناہ گزین یہاں آئے ہیں، انھوں نے اس علاقے کو فائدہ پہنچایا ہے۔ وہ امنگیں لائیں گے اور بچوں کو بھی اس علاقے میں لائیں گے۔‘

گرینوک کی آبادی صرف کم نہیں ہو رہی بلکہ اس کی اوسط عمر بھی بڑھ رہی ہے۔ بچوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایک نرسری بند ہو رہی ہے، جبکہ عمر رسیدہ افراد کو صحت کی زیادہ سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ علاقے میں غربت کی بلند شرح کو شامل کریں تو ٹیکس ادا کرنے والوں کی کم ہوتی تعداد کے درمیان سرکاری خدمات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ جو لوگ یہیں رہ گئے ہیں، وہ زیادہ ادائیگی کر رہے ہیں، اور اس سال مقامی سطح پر کونسل ٹیکس میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Matthew Quinn stands by a waterfront with calm blue water, coastal buildings and green hills behind him.
،تصویر کا کیپشنمیتھیو کوئن کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو ’عوامی خدمات اور یہ یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے کہ لوگوں کے رہنے کے لیے ہمارے پاس ایک اچھا ماحول ہو۔‘

تاہم گرینوک کے بارے میں مختلف نقطۂ نظر دیکھنے کے لیے آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف 15 منٹ کی مسافت پر گوراک کا مرکز واقع ہے، جو کبھی اسی طرح پسماندہ تھا، لیکن اب وہاں ایک چھوٹی مگر خوشحال ہائی سٹریٹ موجود ہے جہاں دکانیں کام کر رہی ہیں۔ اس بہتری میں کونسل کی جانب سے حالیہ 50 لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری اور زیادہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے رہائشیوں کا بھی کردار ہے۔

مقامی رہائشی میتھیو کوئن، جو 19 سالہ سابق رکنِ سکاٹش یوتھ پارلیمنٹ ہیں، کہتے ہیں کہ گوراک نے ایک آنے جانے والے شہری علاقے (کمیوٹر ٹاؤن) کے طور پر اپنے مستقبل کو قبول کر لیا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ اِن ورکلائیڈ کے دیگر علاقوں کو بھی یہی راستہ اپنانا چاہیے۔

میتھیو کے مطابق کونسل کی جانب سے مقامی سطح پر بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنے پر توجہ مناسب نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب بہت سے لوگ گھروں سے کام کرتے ہیں، اور علاقے کی گلاسگو سے قربت، جو تقریباً 40 منٹ کی دوری پر ہے، سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں، ’اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ ملازمتیں گلاسگو میں ہیں، تو پھر ہماری توجہ عوامی خدمات اور لوگوں کے لیے ایک اچھا رہائشی ماحول فراہم کرنے پر ہونی چاہیے۔ تب میرا خیال ہے کہ ہم کہیں زیادہ کامیاب ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا، ’ایسا نہیں کہ لوگ یہاں سے جانے کے لیے بے چین ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں رُکنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔‘

Derek Mitchell stands in front of an old brick industrial building with tall arched windows and metal fencing.
،تصویر کا کیپشنڈیرک مچل ایک غیر استعمال شدہ چینی کی ریفائنری کو تعلیمی مرکز میں تبدیل کرنے کی امید رکھتے ہیں

یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے گرینوک کے کچھ رہائشی براہِ راست نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مثبت سوچ سے بھرپور ڈیرک مچل ایک سابق چینی ریفائنری کو، جو ایک سپر مارکیٹ کے کار پارک کے قریب واقع ہے، ایک ایسے سرگرم مرکز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں نوجوانوں کو تعلیم دی جائے اور ان میں جوش و جذبہ پیدا کیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، فنون اور ریاضی پر توجہ نوجوانوں کو مستقبل کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرے گی۔

ان کے مطابق، ’اگر آپ لوگوں میں اپنے علاقے سے وابستگی کا احساس پیدا کر دیں تو قدرتی طور پر لوگ یہاں سے جانا نہیں چاہیں گے۔‘

انھوں نے مقامی افراد کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر یہ عمارت خریدی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ شراکت داروں کی تلاش جاری رہنے کے دوران اس منصوبے کو تقریباً 50 لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

وہ کہتے ہیں، ’بہت سے لوگ اب خود آگے بڑھ کر کام کرنا شروع کر رہے ہیں۔ انھیں نظر آ رہا ہے کہ یہاں صلاحیت موجود ہے، وہ انتظار کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔‘

ایک ایسے وقت میں جب برطانیہ کے بیشتر حصوں میں امیگریشن کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں، اِن ورکلائیڈ کا تارکینِ وطن اور مہاجرین کو خوش آمدید کہنا اسے نمایاں بناتا ہے۔

آبادی کی کمی وہاں ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی منفرد ہے۔ جلد ہی دیگر علاقوں کو بھی آبادی میں کمی کے اسی طرح کے چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، اور وہ گرینوک کی اس کوشش کو آگے بڑھنے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔