سی آئی اے سربراہ کے اچانک دورۂ ماسکو پر چہ مگوئیاں: ’شاید معاملہ اتنا حساس تھا کہ فون پر بات نہیں کی جا سکتی تھی‘

Director of the Central Intelligence Agency (CIA) John Ratcliffe

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنامریکی مرکزی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کی اس سال کے اوائل میں واشنگٹن میں لی گئی تصویر
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 10 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اور روسی خفیہ اداروں کی شخصیات کے درمیان ہونے والی غیر اعلانیہ ملاقات سے ’کوئی پیشرفت ہو سکتی ہے۔‘

اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ جان ریٹکلف اچانک منگل کو ماسکو کیوں گئے۔ وہ وہاں ایک فوجی طیارے پر پہنچے اور چند گھنٹوں بعد واپس روانہ ہو گئے۔

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ ان مذاکرات میں کیا بات چیت ہوئی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ ملاقات اتنی غیر معمولی بات نہیں ہے اور یہ کہ واشنگٹن ’یوکرین میں جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔‘

اس نوعیت کی آخری ملاقات یوکرین پر مکمل حملوں سے پہلے کے مہینوں میں ہوئی تھی۔

کریملن نے کہا ہے کہ ریٹکلف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات نہیں کی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا: ’خفیہ اداروں کے ساتھ رابطے ہوئے تھے۔‘

انھوں نے کہا: ’روس کے صدر کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس موضوع پر میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔ فطری طور پر صدر پوتن کو ہر چیز کے بارے میں فوراً آگاہ کر دیا جاتا ہے۔'

پیسکوف نے یہ تبصرہ یومیہ پریس بریفنگ سیشن میں ایک روسی صحافی کے سوال کے جواب میں کیا، جس نے پوچھا تھا کہ کیا پوتن کو سی آئی اے کے سربراہ کی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا اور یہ ملاقاتیں ’کس سطح‘ پر ہوئیں۔

پوتن کے ترجمان سے بی بی سی کے روس ایڈیٹر سٹیو روزنبرگ نے یہ بھی پوچھا کہ سی آئی اے کی ان بات چیت کا موضوع کیا تھا۔

پیسکوف نے جواب دیا: ’اس موضوع پر جو کچھ میں پہلے کہہ چکا ہوں، اس میں اضافہ کرنے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ اس ملاقات کا امریکہ اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بحالی پر کیا اثر پڑے گا۔‘

انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ ’اس کا ہمارے دوطرفہ تعلقات کو موجودہ بحران سے نکالنے کے مجموعی عمل پر کتنا اثر پڑے گا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘

تاہم پیسکوف نے مزید کہا کہ خفیہ اداروں کے درمیان رابطے ’ایک مثبت عمل‘ ہیں، اور یہ کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے ’انتہائی مشکل ترین ادوار‘ میں بھی یہ رابطے اکثر جاری رہتے ہیں۔

’امریکہ عموماً اعلیٰ عہدیدار کو اچانک ماسکو نہیں بھیجتا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سی بی ایس کے مطابق ایک سینیئر یوکرینی عہدیدار نے بتایا کہ اس دورے سے قبل امریکہ نے یوکرین کو آگاہ کیا تھا کہ ایک اعلیٰ سطحی وفد ماسکو جا رہا ہے اور کیئو سے کہا تھا کہ وفد کی روانگی تک حملے معطل رکھے جائیں۔

سی آئی اے، وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون کی جانب سے ریٹکلف کے دورے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دورے کا مقصد غالباً ماسکو کو یہ دوٹوک انتباہ دینا تھا کہ وہ نیٹو ممالک کے خلاف اپنی غیر روایتی جنگی مہم بند کرے۔

روس کے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا ماسکو ایسے کسی انتباہ پر عمل کرے گا یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد روس کا یہ ریٹکلف کا پہلا پبلک دورہ تھا۔

یوکرین میں روس کی جنگ کے باعث تعلقات میں کشیدگی کے باوجود واشنگٹن اور ماسکو نے خفیہ اور سکیورٹی امور پر براہِ راست رابطے برقرار رکھے ہیں۔

سی آئی اے کے کسی ڈائریکٹر کا ماسکو کا آخری دورہ نومبر 2021 میں ہوا تھا، جب ولیم برنز نے روس کو یوکرین میں فوجیں بھیجنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

چند ہی ہفتوں بعد کریملن نے یوکرین کے خلاف مکمل پیمانے کی جنگ شروع کر دی۔

اس کے بعد سے امریکہ کے روس کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جبکہ روس عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوا اور اسے بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ریٹکلف کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب گذشتہ ایک برس کے دوران نیٹو اتحادیوں کے خلاف روسی جارحیت میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں پولینڈ، رومانیہ اور لٹویا کے اوپر ڈرون یا فوجی طیاروں کی پروازیں شامل ہیں۔

ٹرمپ نے گذشتہ برس الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سربراہی ملاقات کی تھی، تاہم اس سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اس کے بعد امریکہ کی قیادت میں روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہو گئے۔

2019 سے 2022 کے درمیان ماسکو میں برطانوی فوجی اتاشی کے طور پر خدمات انجام دینے والے جان فورمین نے ریڈیو 4 کے پروگرام کو بتایا: ’امریکی عام طور پر اتنے اعلیٰ عہدے کے افسر کو مختصر نوٹس پر غیر اعلانیہ طور پر ماسکو نہیں بھیجتے، جب تک کوئی اہم معاملہ نہ ہو۔‘

Russian President Vladimir Putin and Kremlin spokesman Dmitry Peskov

،تصویر کا ذریعہEPA

شاید معاملہ اتنا حساس تھا کہ فون پر اس پر بات نہیں کی جا سکتی تھی: مبصرین

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق جب ماسکو اور واشنگٹن ریٹکلف کے دورے کے مقصد پر خاموش رہے اور کریملن نے صرف اتنا تسلیم کیا کہ اس میں خفیہ اداروں کے رابطے شامل تھے تو اس صورتحال میں روسی مبصرین نے مختلف نظریات پیش کیے کہ کون سی پیشرفت اس دورے کا سبب بنی ہو گی۔

ان قیاس آرائیوں کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دستخط شدہ تین مبینہ خفیہ فرمانوں نے بھی ہوا دی ہے۔

مفرور یوکرینی بلاگر اناطولی شاری اور دیگر مبصرین نے ان کے دورے کے وقت پر توجہ دلائی، جبکہ اس نظریے کے ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ فرمان ریٹکلف کے ماسکو پہنچنے سے پہلے ہی دستخط ہو چکے تھے۔

ٹی وی میزبان اناطولی کوزیچیف اور سیاسی مبصر ایگور دیمترییف سمیت بعض افراد نے 2021 کے آخر میں سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز کے دورۂ ماسکو سے مماثلت نکالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے دورے اکثر بڑی بین الاقوامی پیش رفتوں سے پہلے ہوتے ہیں۔

کوزیچیف نے کہا کہ ریٹکلف کا ذاتی طور پر ماسکو جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید معاملہ اتنا حساس تھا کہ فون پر اس پر بات نہیں کی جا سکتی تھی۔

انھوں نے کہا: ’اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‘ پھر انھوں نے جوہری کشیدگی سے لے کر تناؤ کم کرنے کی کوششوں تک مختلف امکانات پیش کیے۔

انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ امکان ہے کہ اس دورے کے مستقبل قریب میں سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

اسی طرح دیمترییف نے کہا کہ جوہری نوعیت کا کوئی معاملہ اس دورے کا ایک ممکنہ محرک ہو سکتا ہے، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ماسکو براہِ راست یورپ کو چیلنج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہو۔

دمترییف کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کے محاذ پر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کے بجائے، جہاں تھوڑا سا علاقہ حاصل کرنے کے لیے بھی بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اپنی توجہ یورپ کی طرف کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یورپی ممالک یوکرین کی مدد تو کر رہے ہیں، لیکن وہ خود کسی بڑی جنگ کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہیں، چاہے بات فضائی دفاع کی ہو، فوجی وسائل کی ہو یا جنگ کے لیے ذہنی تیاری کی۔

قوم پرست فلسفی الیگزینڈر دوگن نے کہا کہ دنیا ’جوہری جنگ کے دہانے پر توازن قائم کیے ہوئے ہے۔‘

انھوں نے تجویز کیا کہ امریکہ روس کے اندر ہونے والی پیش رفتوں پر فکر مند ہے اور ’کچھ تیاری کی جا رہی ہے۔‘

بعض دیگر مبصرین نے مذاکرات کے امکانات پر توجہ مرکوز کی۔

سیاسی مبصر یوری بارانچک نے دورے کی کئی ممکنہ وجوہات بیان کیں، جن میں قیدیوں کا تبادلہ، ایران سے متعلق بات چیت، اور روس و نیٹو کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرات پر وسیع تر مذاکرات شامل تھے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایلچی کے انتخاب سے بہت کچھ ظاہر ہوتا ہے۔

جبکہ حالیہ مہینوں میں قیاس آرائیاں سفارت کاروں اور یوکرین مذاکرات میں شامل حکام کے گرد گھومتی رہی تھیں، بالآخر ماسکو جانے والے شخص سی آئی اے کے ڈائریکٹر تھے۔

بارانچک کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت روایتی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر خفیہ معلومات اور دباؤ کے دائرے تک پھیلی ہوئی تھی۔

ان کے پیش کردہ امکانات میں ایک یہ بھی تھا کہ ریٹکلف ماسکو کو خبردار کرنے آئے تھے کہ اگر روس جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط نرم نہ کرے تو واشنگٹن یوکرین کی حمایت، خصوصاً انٹیلیجنس تعاون، بڑھا سکتا ہے۔

بارانچک نے کہا: ’اگر ماسکو کچھ رعایتیں دینے پر تیار ہو تو یوکرین کے لیے امریکی خفیہ معاونت کو محدود کرنا معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگرچہ صاف بات یہ ہے کہ یہ واضح نہیں کہ روس اپنی موجودہ مذاکراتی پوزیشن سے کہاں پیچھے ہٹ سکتا ہے، جو پہلے ہی کافی محدود ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ایک اور امکان روس اور نیٹو کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرے پر وسیع تر گفتگو کا بھی ہے۔‘

فوجی نامہ نگار الیگزینڈر کوٹس نے روسی اور مغربی میڈیا میں گردش کرنے والے متعدد نظریات کا حوالہ دیا، جن میں قیدیوں کا تبادلہ، یوکرین سے متعلق ممکنہ تجاویز اور ایران سے جڑی بات چیت شامل تھی۔

تاہم کوٹس کا کہنا تھا کہ شاید سب سے سادہ وضاحت ہی سب سے زیادہ قابلِ یقین ہو۔

انھوں نے کہا: ’سی آئی اے سربراہ کا دورہ نہ امن کی علامت ہے اور نہ جنگ کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معمول کے ذرائع اب کام نہیں کر رہے۔ اور یہ کہ بھاری ہتھیار استعمال کرنا پڑے ہیں۔‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق بلاگر ایگور ستوکوز نے کہا کہ یہ دورہ ’شاید اچھی خبر نہیں‘ اور غالباً اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کو 'تشویش ناک اشارے' موصول ہوئے ہیں جو 'روس، ایران اور چین سے متعلق ممکنہ متحرک سازی کے منصوبوں پر مشتمل کشیدگی میں اضافے' کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

صحافی رومان برکو ان بہت سے افراد میں شامل تھے جنھوں نے تجویز کیا کہ یہ دورہ روس کے نیٹو پر حملے کے منصوبوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔

انھوں نے اس کا موازنہ 2021 میں سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز کے خفیہ دورۂ ماسکو سے کیا، جس کا مقصد یوکرین پر حملے سے روکنے کے لیے خبردار کرنا تھا، مگر وہ ناکام رہے تھے۔

'اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا نیٹو اس بار کریملن کو ایک اور 'مونگوز لیپ' آپریشن کرنے سے روکنے کے لیے کافی عزم اور مضبوطی کا مظاہرہ کر پاتا ہے یا نہیں۔'

سیاسی تجزیہ کار یوری ہونچارینکو نے تجویز کیا کہ ممکن ہے ریٹکلف نے روس کو وسیع تر تنازع کو امریکی انتخابات کے بعد تک مؤخر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہو۔

انھوں نے کہا: 'یہی ایک چیز ہے جس کی ٹرمپ کو فکر ہے۔ دوسری طرف یوکرین کو اندرونی طور پر خود کو ازسرِ نو منظم کرنا اور اتنا مضبوط بننا ہو گا کہ وہ، مثال کے طور پر، 2035 تک جنگی حالت برقرار رکھ سکے۔'

ہونچارینکو کی رائے شیئر کرتے ہوئے صحافی زویا کانانژی نے کہا کہ اس دورے کے حوالے سے 'امید کی زیادہ گنجائش نہیں' کیونکہ ریٹکلف امریکی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں، یوکرینی مفادات کی نہیں۔

فوجی اہلکار وولودیمیر شیریدیہا نے کہا کہ پوتن کے لیے ریٹکلف کا پیغام یہ تھا: 'آپ یوکرین کی جنگ کے لیے روسیوں کو متحرک کر سکتے ہیں، لیکن بالٹک ممالک اور پولینڈ کے خلاف جنگ کے لیے نہیں۔'

بلاگر دمترو کالنچک ووونیانکو نے کہا کہ یہ دورہ اس بات کا ایک اور اشارہ تھا کہ امریکی حکام ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ نتائج سے خبردار کر کے پوتن کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: 'ہماری واحد امید یوکرین کی مسلح افواج ہیں، امریکی سفارت کاری نہیں۔'

سیاسی تجزیہ کار ویتالی پورٹنیکوف کے مطابق زیرِ بحث موضوعات کچھ بھی رہے ہوں، روس کے مؤقف پر اثر انداز ہونے کی سی آئی اے ڈائریکٹر کی صلاحیت محدود ہے کیونکہ 'ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے حقیقی اثر و رسوخ میں شدید کمی' آئی ہے۔

انھوں نے کہا: 'جو امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو رہا، وہ روس کو خوفزدہ کرنے کے بجائے اسے صورتحال مزید بگاڑنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔'

سی آئی اے سربراہ کشیدگی کم کرنا چاہتے تھے: روس نواز حلقوں کا مؤقف

روسی سکیورٹی اداروں سے منسلک سمجھے جانے والے روس نواز ٹیلیگرام چینل لیجِٹِمنی نے دعویٰ کیا کہ سی آئی اے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ پر امن مذاکرات کی کوشش کر سکتی ہے تاکہ انتخابات سے قبل ٹرمپ کو سفارتی کامیابیاں دلائی جا سکیں۔

چینل نے کہا: 'ایک نظریہ یہ ہے کہ سی آئی اے انتخابات سے متعلق ایک معاہدہ تجویز کر رہی ہے، جس کے تحت کیو ماسکو کو بغیر کسی مداخلت کے انتخابات کرانے کا حق دے، جبکہ اس کے بدلے کریملن یوکرین میں انتخابات اور ایک ریفرنڈم کرانے پر آمادہ ہو۔'

ایک اور روس نواز ٹیلیگرام چینل زی راڈا نے کہا کہ ریٹکلف کا دورہ کشیدگی پر قابو پانے اور یوکرین کو ایسے حملوں سے روکنے کے لیے تھا جو روس کی جانب سے زیادہ سخت ردِعمل، حتیٰ کہ جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال، کو جنم دے سکتے ہیں۔

چینل نے کہا: 'لہٰذا غالب امکان یہی ہے کہ ریٹکلف زیلینسکی کی کشیدگی بڑھانے والی مہم جوئی کو لگام دینے کا وعدہ کرنے آئے تھے۔'

اسی نوعیت کے ایک اور چینل ریزیڈنٹ نے کہا کہ سی آئی اے ڈائریکٹر نے پوتن تک یوکرین کی نئی مذاکراتی تجاویز پہنچائیں، جن میں فضائی، بحری اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق جنگ بندی کے امکانات شامل تھے۔