کم خرچ، زیادہ آمدنی اور بہتر معیارِ زندگی: بیرونِ ملک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بہترین ممالک کون سے ہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سنہ 2026 میں تارکینِ وطن کے لیے سب سے بہترین ممالک کی ایک فہرست سامنے آئی ہے جس میں وہاں منتقل ہونے والے افراد کی آرا شامل کی گئی ہیں۔ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان افراد نے ان ممالک میں منتقل ہونے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا۔

عالمی ریسرچ پروجیکٹ ’انٹر نیشنز‘ کی جانب سے کروائے گئے سروے نے معیارِ زندگی، نئے ماحول میں گھلنے ملنے میں آسانی، بیرونِ ملک کام کرنے، آمدنی اور رہائش و ڈیجیٹل خدمات جیسی عملی سہولیات کی بنیاد پر 31 مقامات کی درجہ بندی کی ہے۔

اس سال سرفہرست آنے والے ممالک کے لیے دوستانہ ماحول اور کم لاگت سب سے زیادہ مؤثر عوامل ثابت ہوئے۔

پہلے 10 مقامات میں شامل سات ممالک نئے ماحول میں بسنے کے لحاظ سے دنیا کے آسان ترین ممالک میں شمار ہوئے جبکہ پانچ ممالک آمدنی کے حوالے سے عالمی سطح پر سرفہرست رہے۔

ہم نے درجہ بندی میں سرِفہرست رہنے والے پانچ ممالک میں رہنے والے تارکینِ وطن سے بات کی تاکہ جان سکیں کہ وہ وہاں کیوں منتقل ہوئے، کیسے خود کو نئے ماحول سے ہم آہنگ کیا اور ممکنہ نئے آنے والوں کو کیا معلوم ہونا چاہیے۔

پاناما

پاناما مسلسل تیسرے سال مجموعی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رہا اور کام کرنے اور آمدنی دونوں اشاریوں میں سرِفہرست رہا۔

87 فیصد تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ وہ یہاں اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ 90 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ یہاں رہائش تلاش کرنا آسان ہے۔

ایریل باریونووو آٹھ سال قبل ارجنٹینا سے پاناما کے کیریبین ساحلی علاقے منتقل ہوئے اور جلد ہی اُنھوں نے محسوس کیا کہ وہ گہری نیند سوتے ہیں، تازہ دم جاگتے ہیں اور بہت بہتر محسوس کرتے ہیں۔

باریونووو جو پاناما کے جزیرے کولون آئی لینڈ میں ایک ہوٹل کے ڈائریکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ ’مجھے احساس ہوا کہ اس کی وجہ چھٹیاں نہیں تھیں بلکہ یہ جگہ اپنی الگ رفتار رکھتی ہے۔‘

ان کا روزمرہ معمول سمندر کے کنارے رکنے، باغ میں چہل قدمی کرنے اور پرندوں کی آوازیں سننے پر مشتمل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’یہ ایک سادہ معمول ہے، لیکن یہ مجھے ہر روز یاد دلاتا ہے کہ میں نے یہاں رہنے کا انتخاب کیوں کیا۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ پاناما میں زندگی ارجنٹینا کے مقابلے میں زیادہ سستی ہے اور مستحکم معیشت منصوبہ بندی اور کاروبار کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بناتی ہے۔

رضا مطلب پور جو اس سال کینیڈا سے پاناما سٹی منتقل ہوئی ہیں، کہتی ہیں کہ گھر سے کام کرنا یہاں آسان ہے کیونکہ گھروں اور مشترکہ دفتری مقامات پر قابلِ اعتماد انٹرنیٹ دستیاب ہے۔ انھیں خصوصاً ملک کی ڈالر پر مبنی معیشت میں بینکاری کے معاملات بھی آسان لگے ہیں۔

اگرچہ زرِ مبادلہ کی شرح ابتدا میں کینیڈین شہریوں کے لیے اخراجات زیادہ محسوس کرا سکتی ہے، لیکن ان کے مطابق کم یوٹیلٹی بل، انشورنس کے اخراجات اور پراپرٹی ٹیکس مجموعی طور پر زندگی کی لاگت کو معقول بناتے ہیں۔

تاہم یہاں زندگی مکمل طور پر مشکلات سے خالی نہیں۔ باریونووو کے مطابق کولون آئی لینڈ میں سامان کی تاخیر سے ترسیل اور موسم کی اچانک تبدیلیاں منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ نسبتاً سست رفتار زندگی اختیار کرنے کا فیصلہ انھیں کبھی پچھتانے نہیں دیتا اور ان کے خیال میں سیاحوں اور ممکنہ تارکینِ وطن کو بھی اس طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے۔

وہ ساحل کی سیر، سڑک کنارے سٹال سے تازہ پھل خریدنے اور ساحل پر سرفرز کو دیکھتے ہوئے دوپہر گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ میں ایک خوبصورت مقام پر منتقل ہو رہا ہوں۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں دراصل ایک مختلف طرزِ زندگی کی طرف آ رہا تھا جو رفتار کے بجائے وقت، ملکیت کے بجائے تجربات اور مسلسل مصروفیت کے بجائے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔‘

میکسیکو

آسانی سے منتقل ہونے والے اشاریے میں پہلے نمبر پر آنے والا میکسیکو مجموعی طور پر دوسرے نمبر پر رہا اور اب بھی دُنیا کا وہ ملک ہے جہاں تارکینِ وطن کے لیے اپنے آپ کو گھر جیسا محسوس کرنا سب سے آسان ہے۔

73 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ مقامی دوست بنانا آسان ہے۔

’سینڈ ان مائی کرلز‘ لکھنے والی کرسٹن راکوئیا کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر 2022 میں پورٹو وییارٹا منتقل ہوئے تھے اور ان کے مطابق مضبوط کمیونٹی اور نسبتاً کم لاگت نے انھیں وہیں رہنے پر آمادہ رکھا۔

ان کے مطابق سڑک کنارے ٹاکوز تقریباً ایک ڈالر میں مل جاتے ہیں جبکہ حالیہ اپینڈکس کے ہنگامی آپریشن اور ہسپتال میں قیام پر چار ہزار ڈالر سے کم لاگت آئی جو امریکہ میں ناقابلِ تصور ہے۔

شہر کو بہتر انداز میں جاننے کے لیے وہ مقامی فوڈ مارکیٹس میں ناشتہ کرنے اور اتوار کے دن ساحلِ سمندر جانے کا مشورہ دیتی ہیں۔

تاہم ایک احتیاطی پہلو بھی ہے۔ حفاظت اور سکیورٹی کے لحاظ سے میکسیکو 31 میں سے 25 ویں نمبر پر رہا، جہاں 68 فیصد تارکینِ وطن نے اپنی ذاتی حفاظت کے بارے میں مثبت رائے دی۔

تھائی لینڈ

مجموعی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر آنے والا تھائی لینڈ دنیا کے خوش ترین تارکینِ وطن کا مسکن ہے جہاں 86 فیصد افراد نے بیرونِ ملک زندگی سے اطمینان کا اظہار کیا۔

کم لاگتِ زندگی کے حوالے سے بھی اسے سروے میں سب سے زیادہ سکور ملا، جہاں 85 فیصد افراد نے اس پہلو کو مثبت قرار دیا جو عالمی اوسط سے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔

ایک سیاح بیتھن جینتی پراپھیٹ کہتی ہیں کہ ہم چار افراد نے بینکاک میں 1.35 ڈالر میں کھانا کھایا۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں 2024 میں اپنے تھائی شوہر کے ساتھ ڈیون سے یہاں منتقل ہوئیں۔ ان کا ارادہ ایک سال رہنے کا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’دو ہفتوں کے اندر ہی مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میں واپس نہیں جا رہی۔‘

وہ تھائی لینڈ کے نظامِ تعلیم کو بھی اپنے بیٹے میں مثبت تبدیلی کا سبب قرار دیتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’تھائی ثقافت میں احترام بہت اہم ہے اور یہاں طلبہ واضح طور پر تعلیم کا بے حد احترام کرتے ہیں۔‘

11 سال قبل لاس اینجلس سے منتقل ہونے والے طویل مدتی تارکِ وطن آرون ہنری کہتے ہیں کہ بینکاک نے جدیدیت اختیار کی ہے لیکن اپنی ثقافت برقرار رکھی ہے۔

’اس نے تھائی ثقافت کی منفرد خصوصیات محفوظ رکھی ہیں جبکہ گذشتہ ایک دہائی میں بین الاقوامی کھانوں، شاندار پارکوں، آرٹ گیلریوں اور لگژری شاپنگ مالز کے حوالے سے غیرمعمولی ترقی کی ہے۔‘

جینتی پراپھیٹ کے مطابق نئے آنے والوں کو مقامی روایات کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے وہ گھروں میں داخل ہوتے وقت جوتے اتارنا ہو یا روزانہ صبح آٹھ بجے اور شام چھ بجے عوامی مقامات پر بجائے جانے والے قومی ترانے کے دوران احترام سے کھڑا ہونا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جو تارکینِ وطن تھائی ثقافت کو اپنانے اور اس کے سماجی اصولوں کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں، ان کے لیے تھائی لینڈ نہایت فائدہ مند جگہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘

متحدہ عرب امارات

انٹر نیشنز نے یہ سروے فروری اور مارچ میں کیا تھا، جو ایران جنگ کے آغاز سے پہلے اور بعد کے عرصے پر مشتمل ہے۔

اس لیے نتائج صرف جزوی طور پر اس کے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم امارات میں رہنے والے تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ بعض معمولی تبدیلیوں کے باوجود زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے۔

امیج کنسلٹنٹ مشیل سٹرلنگ کہتی ہیں کہ ’دبئی میں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق محسوس ہوتی ہے۔‘

نکیتا اوروگنٹی جو اس سال کے آغاز میں لندن سے دبئی مواصلاتی شعبے میں کام کرنے کے لیے منتقل ہوئیں، کہتی ہیں کہ خوش آمدید کہنے والا ماحول اب بھی ملک کو پرکشش بناتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک امیگریشن قوانین کے ذریعے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، لیکن متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ تارکینِ وطن کا خیر مقدم کیا ہے۔

وہ غیر یقینی حالات میں حکام کی جانب سے سکیورٹی اور معلومات کے نظام کو سنبھالنے کے طریقے کو بھی سراہتی ہیں۔

’جب آپ خاندان سے دور بیرونِ ملک رہ رہے ہوں تو استحکام کا یہ احساس بہت اہمیت رکھتا ہے۔‘

مقامی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے وہ مشورہ دیتی ہیں کہ کم از کم ایک دن شہر کے لگژری تصور سے ہٹ کر گزارا جائے، رش کے اوقات میں میٹرو استعمال کی جائے، بر دبئی اور ڈیرہ کے روایتی محلوں میں چہل قدمی کی جائے۔

وہ کسی چھوٹے انڈین، فلپائنی یا لبنانی ریستوران میں کھانا کھانے کا بھی مشورہ دیتی ہیں۔

اُن کے بقول یہی وہ جگہ ہے، جہاں آپ دبئی کا روزمرہ روپ دیکھتے ہیں، جو اس کی بین الاقوامی شہرت سے کہیں زیادہ سادہ ہے۔

برطانوی تارکِ وطن شیرون مک کیرنان گذشتہ آٹھ برس سے رأس الخیمہ میں مقیم ہیں اور کہتی ہیں کہ انھیں کبھی اپنی منتقلی پر افسوس نہیں ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں زندگی کی رفتار سے لطف اندوز ہوتی ہوں، یہاں مستقل دوڑ دھوپ نہیں، ٹریفک کم ہے اور روزمرہ کے مسائل بھی نسبتاً کم ہیں جس سے ہمیں خاندان کے ساتھ پول، ساحل یا پہاڑوں میں وقت گزارنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔‘

ان کے مطابق صحت کی سہولیات بھی تیز رفتار اور مؤثر ہیں اور اُنھوں نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں آسانی سے دوست بنائے ہیں۔

برازیل

اس سال پہلی مرتبہ ٹاپ فائیو میں شامل ہونے والے برازیل نے خوشی، نئے ماحول میں آسانی سے گھلنے ملنے، مقامی لوگوں کی دوستانہ فطرت اور ثقافت کے شعبوں میں اعلیٰ سکور حاصل کیا۔

بہت سے تارکینِ وطن کے مطابق مقامی لوگوں کی گرمجوشی ہی انھیں گھر جیسا احساس دلاتی ہے۔

کاروبار کے سلسلے میں بارباڈوس سے ساؤ پالو منتقل ہونے والے کلنٹ میننگ کہتے ہیں کہ آپ کسی شخص سے جمعرات کو پہلی بار مل سکتے ہیں اور ہفتے تک اس کے گھر باربی کیو سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہاں کا طرزِ زندگی گھر جیسا محسوس ہوتا ہے۔

میننگ کے مطابق یہاں انگریزی زبان وسیع پیمانے پر نہیں بولی جاتی اور وہ اسے ایک مثبت پہلو سمجھتے ہیں۔

لیکن تارکینِ وطن کے مطابق مناظر اور سیاحتی مقامات سے بڑھ کر مقامی لوگ ہی اصل احساسِ وابستگی پیدا کرتے ہیں۔

کرس کوہل نامی رہائشی کہتے ہیں کہ ’برازیلیوں نے مجھے اجنبی محسوس کرانے کے بجائے یہ احساس دلایا کہ میرا تعلق بھی یہاں سے ہے۔‘