’ہم بھی محبت اور سیکس چاہتے ہیں‘: وہ ڈیٹنگ ایپ جو معذور افراد میں مقبول ہو رہی ہے

    • مصنف, ریچل کینڈلن
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

آج کل محبت کی تلاش کرنے والوں کے لیے جدید ڈیٹنگ ایپس نے شریکِ حیات یا ساتھی تلاش کرنے کے طریقے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

کئی لوگ ٹنڈر، بمپل، گرائنڈر یا ہنج میں سے کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر موجود ہے۔

تاہم بعض معذور افراد یا دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگ کہتے ہیں کہ عام ڈیٹنگ ایپس امتیازی سلوک کا باعث بن سکتی ہیں۔

برسٹل سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ڈین چارڈ، جو فالج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ’لوگ مجھے ایک انسان کے طور پر دیکھنے سے پہلے میری معذوری کو دیکھتے ہیں۔‘

ڈیٹنگ کے ایسے ماحول میں جہاں فیصلے صرف پروفائل تصویر کی ایک جھلک پر کیے جاتے ہیں، معذور افراد اس صورتحال کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟

اب ہزاروں افراد ’ڈیٹ ایبلٹی‘ جیسے پلیٹ فارمز کا رُخ کر رہے ہیں۔ اس ایپ کے بانیوں کا کہنا ہے کہ یہ معذور افراد کے درمیان قربت اور رومانوی تعلقات سے متعلق پائے جانے والی معاشرتی ہچکچاہٹ کو کم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

کسی معذور شخص کے لیے پہلی ملاقات بھی خوف زدہ کرنے والی ہو سکتی ہے۔

چارڈ نے کہا کہ وہ دیگر ڈیٹنگ ایپس سے مایوس ہونے کے بعد ’ڈیٹ ایبلٹی‘ کی طرف آئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے ایسے تجربات ہوئے جہاں لوگوں نے یہ جاننے کے بعد کہ مجھے فالج ہے، مجھ سے رابطہ ختم کر دیا۔ مجھے نظر انداز کیا گیا یا مجھے محسوس ہوا کہ وہ صرف میری معذوری کی وجہ سے میرے بارے میں رائے قائم کر رہے ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن اس نے مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کی کتنی اہمیت ہے جہاں دیانت داری کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

’یہ بہت بڑا اطمینان ہے کہ مجھے اس بات کے دباؤ کا سامنا نہیں رہتا کہ اپنی معذوری کے بارے میں کسی کو کب یا کیسے بتاؤں۔‘

چارڈ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ فرسودہ تصورات کہ معذور افراد رومانوی تعلقات یا قربت نہیں چاہتے یا اس کے مستحق نہیں ہوتے، نقصان دہ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔

معذور افراد کے بھی محبت کے حوالے سے وہی امیدیں، خواب اور خواہشات ہوتی ہیں جو سب کے ہوتے ہیں۔

چیلٹنہم سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ڈینیئل پیک کو 10 سال قبل آٹزم کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں رابطہ قائم کرنے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور غیر مانوس ماحول سے متعلق مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میری کیفیت رکھنے والے کسی شخص کے لیے ڈیٹنگ مشکل ہے کیونکہ اس میں بہت سی رکاوٹیں عبور کرنا پڑتی ہیں۔‘

’میرے لیے تیاری اور منصوبہ بندی اہم ہے تاکہ میں ہر تفصیل جان سکوں اور سمجھ سکوں کہ میں کیا کر رہا ہوں، کہاں، کب اور کیسے۔‘

اُنھوں نے ’ڈیٹ ایبلٹی‘ ایپ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے انھیں اپنی معذوری کے بارے میں ایمانداری اور کھلے پن کے ساتھ بات کرنے کا موقع دیا ہے۔

ٹانٹن سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ ٹام لوئس، جو فالج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں نے بھی کہا کہ اس ایپ نے صارفین کو ہم خیال لوگوں سے رابطہ کرنے میں مدد دی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے جیسے لوگ پسند ہیں۔ اور مجھے ڈیٹ ایبلٹی ایپ استعمال کرنا پسند ہے جسے دیکھنے میں میرے نگہداشت کرنے والے میری مدد کرتے ہیں۔

’یہ میری اس لیے بھی مدد کرتی ہے کیونکہ میں ہم جنس پرست ہوں۔‘

ڈیٹنگ ایپ سے شادی تک

حال ہی میں اس ایپ کے ذریعے امریکہ میں مقیم دو صارفین کولن اور کیسی لافون کی شادی ہوئی ہے۔

کیسی نے کہا کہ اس ایپ نے مجھے دنیا کے اپنے بہترین دوست سے ملنے کا موقع دیا۔

شروع سے ہماری گفتگو ہماری حدود کے بارے میں نہیں تھی بلکہ اس بارے میں تھی کہ ہم مل کر کیا کر سکتے ہیں۔

کولن نے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ کے ذریعے اپنی اہلیہ سے ملاقات نے صحت سے متعلق پیچیدہ گفتگو کو سننے اور سمجھنے والی گفتگو میں بدل دیا۔

’اس سے ابتدا ہی سے ایک گہرا تعلق قائم ہوا۔ ہمارا رشتہ ہماری تمام طبی حالتوں کے ساتھ پروان چڑھا اور اس نے ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا موقع دیا۔‘

تصورات کو چیلنج کرنا

’ڈیٹ ایبلٹی‘ کی شریک بانی جیکولین چائلڈ نے کہا کہ معذور افراد اور دائمی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگ اکثر دیگر ڈیٹنگ ایپس پر معذوری کی بنیاد پر تعصب کا سامنا کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’لوگ یہ توقع نہیں کرتے کہ معذور افراد بھی سیکس یا رومانوی تعلقات رکھتے ہوں۔‘

ہم ان منفرد حالات کو سمجھتے ہیں جو معذوری کے ساتھ ڈیٹنگ کے دوران سامنے آتے ہیں، اسی لیے ہم نے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی معذوری رکھنے والے افراد کے لیے بامعنی تعلقات قائم کرنے کی خاطر ایک محفوظ اور قبولیت پر مبنی جگہ بنائی ہے۔

جیکولین کو 14 سال کی عمر میں ایک دائمی بیماری لاحق ہوئی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ عام ڈیٹنگ ایپس استعمال کرتے ہوئے انھیں خود بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

اُنھوں نے کہا کہ یا تو مجھے فوراً مسترد کر دیا جاتا تھا یا لوگ توہین آمیز باتیں کرتے تھے، مثلاً ’کبھی حیاتیاتی بچے پیدا نہ کرنا، یا مجھے بتایا جاتا تھا کہ میں ایک بوجھ ہوں، یا یہ کہ ان کے خاندان کسی معذور شخص کے ساتھ ان کے تعلق کو قبول نہیں کریں گے۔‘

امریکہ میں مقیم بہنوں جیکولین اور الیکسا چائلڈ نے 2022 میں ڈیٹ ایبلٹی شروع کی۔

جیکولین کی بہن الیکسا چائلڈ ہی تھیں جنھوں نے ایک مخصوص ڈیٹنگ ایپ بنانے کا مشورہ دیا اور ان کے خیال میں یہ ایک وسیع تر تحریک کا آغاز ہے۔

الیکسا نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معذوری اور قربت سے متعلق موضوعات کم ممنوع سمجھے جائیں بلکہ بالکل بھی ممنوع نہ رہیں۔

میچ گروپ جو ٹنڈر اور ہنج جیسی معروف ڈیٹنگ ایپس کی مالک ہے کے ایک ترجمان نے کہا کہ بدسلوکی پر مبنی رویے روکنے کے لیے ٹولز میں ’نمایاں‘ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ وسیع تر معاشرتی تعصبات کسی بھی سماجی ماحول میں، بشمول ڈیٹنگ ایپس، ظاہر ہو سکتے ہیں اور ہم ان سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘