آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشرق وسطیٰ میں ’غیر ملکی مداخلت‘ کا ذکر: چینی صدر کا دورۂ مصر کیوں اہم ہے؟
چینی صدر شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں غیر ملکی مداخلت ختم کرنے اور خطے میں بیرونی طاقتوں کے ’دوہرے معیار‘ کو ترک کرنے پر زور دیا ہے۔ جبکہ ان کا چار سال بعد خطے کا پہلا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کئی ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات پر نظرِثانی کر رہے ہیں۔
شی جن پنگ نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو ’خود اپنی قسمت کا مالک‘ ہونا چاہیے اور خطے میں سلامتی کے ایک نئے ڈھانچے کی تلاش کرنی چاہیے۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق انھوں نے خطے میں ’غیر ملکی مداخلت‘ ختم کرنے اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے ’دوہرے معیار‘ کو ترک کرنے پر بھی زور دیا۔
چینی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب کئی ماہ سے جاری جنگ نے خطے میں تجارت کو متاثر کیا، معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا اور مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کے طویل مدتی کردار سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
مصر خود امریکہ کا ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے اور اسے واشنگٹن سے ہر سال تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں قاہرہ نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور دفاعی تعاون میں بھی مسلسل اضافہ کیا ہے۔
قاہرہ پہنچنے پر صدر السیسی نے فوجی تقریب کے ذریعے شی جن پنگ کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور اس کے اثرات، بحری تجارت کی سکیورٹی اور مصر میں چینی سرمایہ کاری بڑھانے سمیت مختلف امور زیرِبحث آنے کی توقع ہے۔
چین اور مصر دونوں برکس کے رکن ہیں اور شی جن پنگ کے دورے کے دوران مصنوعی ذہانت، ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں شراکت پر بات چیت ہوئی۔
چین اور مصر کے درمیان تعاون کے 20 سے زائد معاہدے
چین اور مصر نے صدر شی جن پنگ کے دورۂ مصر کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 20 سے زائد معاہدوں اور مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے دونوں مُلکوں کے درمیان جامع سٹریٹیجک شراکت داری مزید گہری کرنے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں مُمالک کے درمیان دونوں معاہدوں اور مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کے حوالے سے اس اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور مصر کے ’ویژن 2030‘ کو مزید مربوط کرنے، جبکہ صنعت، لاجسٹکس، صاف توانائی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
معاہدوں میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز، سائبر سکیورٹی، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، جہاز سازی، سمندری پانی کو میٹھا کرنے، زراعت اور اہم معدنیات کی سپلائی چین سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق چین اور مصر نے تجارت اور سرمایہ کاری میں اپنی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو مزید بڑھانے، دونوں ممالک کے درمیان مقامی کرنسیوں کے تبادلے کے معاہدے کا حجم بڑھانے اور مصری مصنوعات کی چینی مارکیٹ تک رسائی میں اضافے کی حمایت بھی کی۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دونوں ممالک نے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے، سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔‘
چینی اور مصری صدور نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی۔
چینی صدر کا دورہ مصر کیوں اہم ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ کا دورۂ مصر محض دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایسے وقت میں چین کے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے جب خطے کے کئی ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سکیورٹی تعلقات پر نظرِثانی کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے مصر کے سابق سفارت کار ایمن زین الدین نے کہا کہ ’قاہرہ اپنی شراکت داریوں کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے جبکہ چین ایشیا سے باہر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔‘
برطانیہ کے تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سکالر ایچ اے ہیلیئر کے مطابق ’مصر بیجنگ کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔‘ ان کے بقول ’مصر چین کو ایک بڑی مقامی منڈی، سرمایہ کاری کے متعدد مواقع اور مشرقِ وسطیٰ میں نمایاں سفارتی وزن فراہم کرتا ہے، جس میں فلسطین کا معاملہ بھی شامل ہے۔‘
ایچ اے ہیلیئر کا کہنا ہے کہ ’مصر کی اہمیت صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع چین کے لیے افریقہ تک رسائی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔‘
یوں شی جن پنگ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں چین اور مصر کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو ظاہر کرتا ہے جب بیجنگ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اقتصادی، سفارتی اور دفاعی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قاہرہ بھی امریکہ پر اپنے دیرینہ انحصار کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے اپنی سٹریٹیجک گنجائش بڑھا رہا ہے۔
نئے علاقائی دفاعی معاہدے اور مصر
شی جن پنگ کا دورۂ مصر ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ممالک اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی اہم پیش رفتوں میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی شامل ہے۔
سات اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے اور معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو وسعت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
مصر نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے، اگرچہ وہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ مکہ معاہدے سے قبل مصر نے ان تینوں ممالک کے ساتھ خطے میں استحکام سے متعلق چار ملکی مشاورت میں بھی شرکت کی تھی، تاہم سات اگست کے معاہدے میں وہ شامل نہیں تھا۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بعد میں کہا تھا کہ ’قاہرہ کو کسی ایسے دفاعی معاہدے میں شامل ہونے سے قبل قانونی اور آئینی معاملات پر غور کرنا ہوگا۔‘
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، حالانکہ وہ معاہدے کے تینوں فریقوں کے ساتھ پہلے ہی قریبی سکیورٹی اور دفاعی تعاون رکھتا ہے۔
مکہ معاہدے کے علاوہ خلیج میں پہلے سے موجود اجتماعی سکیورٹی کا سب سے نمایاں ڈھانچہ خلیج تعاون کونسل، یعنی جی سی سی، ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان اس کے رکن ہیں، جبکہ مصر اس تنظیم کا رکن نہیں۔
یوں خطے میں ایک طرف خلیجی ممالک اپنے اجتماعی دفاعی انتظامات کو مضبوط کر رہے ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے ایک نئے دفاعی فریم ورک کی بنیاد رکھی ہے، لیکن مصر ان دونوں ڈھانچوں سے باہر ہے۔
یہاں یہ بات مزید واضح کرنا ضروری ہے کہ مصر مکہ معاہدے کا حصہ نہیں بنا تاہم ترک صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ مصری ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے جھڑپوں کے خدشات کی وجہ سے اس معاہدے کا حصہ نہیں بنا جبکہ اسے ایسے دفاعی معاہدے میں شمولیت سے ہچکچاہٹ بھی ہے جس میں سعودی عرب شامل ہے۔
واشنگٹن میں واقع مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ترکی پروگرام کے ڈائریکٹر گونل تول کا کہنا ہے کہ ’مصر کا اسرائیل سے ایک معاہدہ ہے اور اسے اس معاہدے کی پاسداری کرنی پڑے گی۔ ان کے مطابق مصر کے متحدہ عرب امارات اور انڈیا سے بھی تعلقات ہیں۔‘
یہ صورتِ حال مصر کے لیے ایک اہم سٹریٹجیک سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ قاہرہ خطے کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھتا ہے، لیکن حالیہ نئے علاقائی دفاعی اتحادوں میں شامل ہونے کے بجائے وہ اپنی روایتی محتاط پالیسی کے تحت مختلف طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اسی تناظر میں شی جن پنگ کا دورۂ مصر مزید اہم ہو جاتا ہے۔ ایک طرف قاہرہ امریکہ کے ساتھ اپنے طویل عرصے سے قائم دفاعی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب چین کے ساتھ اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
اس طرح مصر خطے میں ابھرنے والے نئے سکیورٹی سسٹم کا براہِ راست حصہ بننے کے بجائے بڑی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔