آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آر سی ڈی شاہراہ کی کہانی: علاقائی تعاون کا ادھورا خواب اور ترکی و ایران تک پاکستانی بیئر کی تجارت
- مصنف, وقارمصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
کراچی سے کوئٹہ اور پھر تفتان تک پھیلی این۔25 آج پاکستان کی ایک اہم قومی شاہراہ ہے جو وسعت اور تعمیرِ نو کے بعد پاکستان ایکسپریس وے کہلائے گی۔ مگر اس سڑک کی کہانی صرف پاکستان سے متعلق نہیں۔
کئی دہائیوں پہلے پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان علاقائی تعاون کے منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والی یہ شاہراہ آر سی ڈی ہائی وے کے نام سے جانی جاتی تھی، ایک ایسا زمینی راستہ جو تینوں ملکوں کو تجارت اور آمدورفت کے ذریعے جوڑنے کے وسیع تر خواب کا حصہ تھا۔
انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق یہ تین ملک برطانیہ اور امریکہ کی ترغیب پر قائم کی گئی تنظیم سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) کے رکن تھے جس کا مقصد ’مشرقِ وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں سوویت یونین کی توسیع پسندانہ پیش قدمی کے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا۔‘
سینٹو سے بے اطمینانی سے آر سی ڈی کے قیام تک
سینٹو کو چھوڑے بغیر، پاکستان، ایران اور ترکی نے 21 جولائی 1964 کوایک نیا پلیٹ فارم ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ (آرسی ڈی) قائم کر لیا۔
اگرچہ کہا گیا کہ اس تنظیم کے قیام کا مقصد اقتصادی، فنی اور ثقافتی تعاون ہے لیکن اس کے پس منظر میں سرد جنگ کی سیاست، کشمیر اور قبرص کے تنازعات اور تینوں ممالک کی اپنے مغربی اتحادیوں سے بڑھتی بے اطمینانی بھی شامل تھی۔
سی۔ گوک تپے اپنی کتاب ’برٹش پالیسی ٹوورڈز ٹرکی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’پاکستان، صدر ایوب خان اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں، اس بات پر سخت ناراض تھا کہ مغربی ممالک انڈیا کو بڑے پیمانے پر اسلحہ دے رہے تھے، جبکہ پاکستان کو ان سے کشمیر کی معاملے پر وہ حمایت نہیں مل رہی تھی جس کی اسے توقع تھی۔
’ترکی کو قبرص کے بحران میں اپنے مغربی اتحادیوں کے رویے سے مایوسی تھی۔ ایران بھی مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تپے کے مطابق البتہ تینوں ممالک کی عمومی خواہش تھی کہ وہ اپنی آزادی اور خودمختاری کا اظہار کریں، اگرچہ اس حد تک نہیں کہ انھیں سینٹو سے الگ ہونے کی ضرورت محسوس ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’انھیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ نئی تنظیم سے حقیقی معاشی فوائد حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔‘
زبیدہ حسن کے مطابق، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، ایران اور ترکی نے سوویت یونین سے اپنے تعلقات بہتر بنانا شروع کردیے تھے۔
اپنے ایک مضمون ’ایران، پاکستان اینڈ ٹرکی: ریجنل کوآپریشن فار ڈویلیپمنٹ‘ میں وہ لکھتی ہیں کہ ایران نے سوویت یونین کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی روابط بڑھائے، جبکہ پاکستان نے بھی تیل کی تلاش میں سوویت مدد قبول کی اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور تجارتی معاہدے ہوئے۔
تینوں ممالک کو محسوس ہوا کہ سینٹو فوجی اتحاد سے انھیں فائدہ کم اور افرو-ایشیائی دنیا میں وقار کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی روایتی دوستی کو اقتصادی اور ثقافتی تعاون میں بدلنے کے لیے آر سی ڈی کا رخ کیا۔ چین اور انڈونیشیا نے آر سی ڈی کا پُرجوش خیرمقدم کیا۔
لیکن بہجت کمال یشیل بورسا کی برطانوی نیشنل آرکائیوز پر کی گئی تحقیق سے علم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے صرف ترقی اور تجارت کا خواب نہیں تھا۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے بعد میں نتیجہ اخذ کیا کہ آر سی ڈی کے قیام کی اصل تحریک غالباً سینٹو کے سیاسی و عسکری پہلوؤں سے بے اطمینانی تھی، نہ کہ اس کے اقتصادی پروگرام سے۔
اسی لیے لندن اور واشنگٹن نئی تنظیم پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
تینوں ممالک کا اصرار تھا کہ آر سی ڈی سینٹو کو کمزور کرنے کے بجائے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش ہے، اگرچہ برطانوی تجزیے میں اسے مغربی اتحادیوں سے نسبتاً آزاد پالیسی کی علامت بھی سمجھا گیا۔
امریکہ بھی بڑی حد تک اس مؤقف سے متفق تھا اور پاکستان، ایران اور ترکی کے تعاون کو افغانستان کو قریب لانے کے لیے مفید سمجھتا تھا، تاہم اس نے براہِ راست مداخلت سے گریز کیا۔
سینٹو کے ایرانی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اے اے خلعت باری نے ابتدا میں آر سی ڈی کو سینٹو سے نکلنے کا ’پچھلا دروازہ‘ قرار دیا، مگر بعد میں اس کا خیرمقدم کیا۔
اس وقت، یعنی 1964 میں، آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے طرزِ حکومت اور مغربی، خصوصاً امریکی اثر و رسوخ، کے سخت ناقد تھے۔
تہران میں امریکی سفارت خانے سے محکمۂ خارجہ کے نام عام (ڈی کلاسیفائی) کیے گئے ایک ایئرگرام سے پتا چلتا ہے کہ آیت اللہ خمینی نے نو ستمبر کو اپنی تقریر میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کا ذمہ دار ’عالمی استعمار‘ اور ایرانیوں، عربوں اور دیگر مسلمانوں کے درمیان اختلافات کا ذمہ دار’مغرب‘ کو قرار دیا تھا۔
انھوں نے آر سی ڈی کا نام لیے بغیر اسے بھی مسلمانوں میں بیرونی طاقتوں کی پیدا کردہ تقسیم کی ایک مثال قرار دیا۔
انھیں نومبر 1964 میں گرفتار کر کے ترکی جلاوطن کر دیا گیا۔
افغانستان آر سی ڈی کا حصہ کیوں نہیں بنا؟
آر سی ڈی کے بانی ممالک نے ابتدا ہی میں دوسرے علاقائی ممالک کی شمولیت کا دروازہ کھلا رکھا۔
مگر 1964 میں انڈونیشیا کی ممکنہ شمولیت کی خبریں سامنے آنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ ایران اور ترکی بھی اس کے حق میں نہیں تھے۔
چنانچہ پاکستان اور انڈونیشیا نے آر سی ڈی کی طرز پر دوطرفہ تعاون اختیار کیا، جبکہ 1967 میں انڈونیشیا نے آسیان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
آر سی ڈی میں شمولیت کے لیے افغانستان سب سے فطری امیدوار دکھائی دیتا تھا— جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے بھی۔
مگر کابل محتاط رہا۔
بہجت کے مطابق افغانستان اپنی غیر جانب دار پالیسی ترک کرکے سینٹو کے تین ارکان کے ساتھ کسی رسمی تنظیم میں شامل ہوکر سوویت یونین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پاکستان کے ساتھ پشتونستان کا مسئلہ اور ایران و عرب دنیا کے باہمی اختلافات بھی رکاوٹ تھے۔
چنانچہ افغانستان نے آر سی ڈی کے ساتھ رسمی رکنیت کے بجائے تجارت، ٹرانزٹ، سیاحت اور مواصلات جیسے شعبوں میں دوطرفہ روابط کو ترجیح دی۔
ایک مشترکہ منڈی کا خواب
آر سی ڈی نے تجارت، صنعت، زراعت، معدنیات، تعلیم، صحت، مواصلات، سیاحت، ڈاک، ٹیلی کمیونیکیشن اور شپنگ سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے منصوبے بنائے۔
تینوں ممالک نے آزاد یا نسبتاً آزاد نقل و حرکتِ تجارت، مشترکہ منصوبوں، تجارتی معاہدوں، چیمبرز آف کامرس کے تعاون، فضائی اور بحری روابط، سڑک اور ریلوے رابطوں اور تکنیکی ماہرین کے تبادلے کا تصور پیش کیا۔
لیکن بہجت کے مطابق تینوں معیشتیں بڑی حد تک ایک جیسی تھیں۔
’پاکستان اور ترکی زرعی معیشتیں تھیں، جبکہ ایران اگرچہ تیل کی دولت رکھتا تھا، پھر بھی اس کی صنعتی بنیاد محدود تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی بھی ملک کے پاس ایسی بہت سی مصنوعات نہیں تھیں جن کی دوسرے کو فوری ضرورت ہو۔‘
’سنہ 1958 سے 1962 کے دوران تینوں ممالک کی مجموعی بین الاقوامی تجارت میں باہمی تجارت کا حصہ دو فیصد سے بھی کم تھا۔ چنانچہ آر سی ڈی کی اصل امید موجودہ تجارت بڑھانے سے زیادہ نئی، خصوصاً صنعتی مصنوعات کی تجارت پیدا کرنے سے وابستہ ہوگئی۔‘
سڑک سے سمندر تک
اس خواب کی تعبیر کے لیے مواصلاتی رابطے بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ کراچی سے ایران اور پھر ترکی تک جانے والی شاہراہ اسی وسیع تصور کا حصہ بنی۔ آر سی ڈ ی کے منصوبے میں سڑک اور ریل روابط بہتر بنانے کی بات کی گئی، اگرچہ بعد میں برطانوی دفترِ خارجہ نے اس شعبے میں آر سی ڈی کی عملی پیش رفت کو محدود قرار دیا۔
بحری تعاون نسبتاً زیادہ عملی ثابت ہوا۔
آر سی ڈی شپنگ سروس نے جون 1966 میں علاقائی روٹس پر کام شروع کیا۔ اس کا مقصد تینوں ممالک کا اپنی بحری تجارت میں حصہ بڑھانا اور غیر ملکی شپنگ کمپنیوں پر انحصار کم کرنا تھا۔
پی آئی اے کی منفردحیثیت
فضائی تعاون میں مشترکہ ایئرلائن کا خیال بھی پیش کیا گیا۔
لیکن برطانوی دفترِ خارجہ کے نزدیک ایک اضافی مشکل یہ تھی کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یا پی آئی اے ایرانی اور ترک ایئرلائنز کے مقابلے میں کہیں بہتر تھی اور حال ہی تک تینوں ممالک میں واحد مکمل بین الاقوامی ایئرلائن رہی تھی۔
’چنانچہ وہ دو نسبتاً کمزور شراکت داروں کے ساتھ ملنے پر آمادہ نہیں تھی، اور بالآخرمشترکہ ایئرلائن کا منصوبہ ترک کردیا گیا۔‘
تاہم فضائی تعاون مکمل طور پر ناکام نہیں رہا۔
بہجت نے لکھا ہے کہ سنہ 1966 میں تینوں قومی ایئرلائنز نے ایک دوسرے کے ممالک میں جنرل سیلز ایجنٹ کے طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ اسی سال پی آئی اے اور ایران ایئر نے استنبول کے راستے جیٹ سروس شروع کردی۔ فضائی کمپنیوں کے درمیان بعض مشترکہ انتظامات اور بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
بڑے خواب، چھوٹے نتائج
آر سی ڈی نے کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کیں۔
ڈاک، ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کے نرخ کم ہوئے، تجارتی معاہدے ہوئے، سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھا، مشترکہ چیمبر آف کامرس اور ثقافتی ادارہ قائم ہوا، شپنگ سروس شروع ہوئی اور پیمنٹس یونین جیسے منصوبے سامنے آئے۔
آر سی ڈی کی ایک علامت اس کے مشترکہ ڈاک ٹکٹ بھی تھے، جو 1965 سے 1979 تک جاری ہوتے رہے اور تینوں ممالک کی تاریخی شخصیات، ثقافتی ورثے اور مناظر کو نمایاں کرتے تھے۔
لیکن بڑے صنعتی منصوبے زیادہ تر کاغذوں تک ہی محدود رہے۔
بہجت کے مطابق تنظیم نے مجموعی طور پر 81 اقتصادی منصوبے تجویز کیے، ان میں سے 49 منظور ہوئے مگر صرف 17 عملی شکل اختیار کرسکے۔
وجوہات کئی تھیں: مالی وسائل کی کمی، تینوں ممالک کے متضاد مفادات، کمزور انتظامی صلاحیت، بیرونی سرمائے اور ٹیکنالوجی کی ضرورت، اور قومی ترجیحات کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ۔
ترکی مغربی یورپ سے قریبی تعلقات کی طرف بڑھتا گیا، پاکستان انڈیا کے ساتھ کشیدگی میں الجھا رہا اور ایران خلیجِ فارس میں اپنے کردار کو وسعت دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔
یوں آر سی ڈی کا معاشی خواب اس رفتار سے حقیقت نہ بن سکا جس کی امید بانیوں نے کی تھی۔
آر سی ڈی کی سیاسی اہمیت
اقتصادی کامیابی تو محدود رہی، مگر آر سی ڈی کی سیاسی اہمیت بڑھتی گئی۔
تینوں ممالک نے تنظیم کو سینٹو کا متبادل قرار دینے سے گریز کیا، لیکن ان کے درمیان بڑھتا تعاون خود سینٹو کے اندر ایک نئی علاقائی شناخت پیدا کر رہا تھا۔
پاکستان خصوصاً آر سی ڈی کو زیادہ سیاسی کردار دینے پر زور دینے لگا۔
آرسی ڈی کا سیکرٹیریٹ تہران میں تھا جسے رکن ممالک کے نمائندے ایک مخصوص مدت کے لیے باری باری سنبھالتے۔
پاکستانی بیوروکریٹ مختار مسعود 1978 میں تہران میں آر سی ڈی کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے اور بعد ازاں اس کے آخری سیکریٹری جنرل ثابت ہوئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایران اپنی تاریخ کے ایک بڑے انقلاب سے گزر رہا تھا۔ حالات بہت پرآشوب تھے۔
علاقائی تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹیں
اپنی کتاب ’لوحِ ایام‘ میں مختار مسعود لکھتے ہیں کہ حالات خراب ہونے کی وجہ سے دفتر میں ملاقاتی بہت کم آتے تھے۔ ایسے میں ایک دن پاکستانی تاجر اور کارخانہ دارمینو بھنڈارا ملنے آئے۔
انھوں نے پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت بڑھانے اور پاکستانی برآمدات میں اضافے کے لیے ایک تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق ’وہ کچھ عرصے سے اپنے کارخانے کی تیار کردہ بیئر سڑک کے ذریعے ایران برآمد کر کے مشہد میں فروخت کر رہے تھے۔‘
’وہاں اس کی مقبولیت کے باعث کھپت بڑھ گئی تھی، جس پر ولایتی شراب فروشوں اور مقامی بیئر بنانے والوں نے وزارتِ بازرگانی (تجارت) سے مل کر کسٹم ڈیوٹی کا طریقہ تبدیل کرا دیا۔‘
مختار مسعود کے مطابق ’بھنڈارا نے بتایا کہ پہلے کسٹم ڈیوٹی قیمت کے حساب سے عائد ہوتی تھی، مگر اب وزن کے حساب سے لی جانے لگی ہے۔ پاکستانی بیئر شیشے کی بوتلوں میں جبکہ ایرانی اور ولایتی بیئر ہلکے ٹین کے ڈبوں میں فروخت ہوتی تھی۔ چنانچہ بوتلوں کے اضافی وزن کے باعث پاکستانی بیئر پر دوگنا، چوگنا محصول پڑنے لگا اور اس کی برآمد تقریباً بند ہو گئی۔
’ان کی تجویز تھی کہ ایرانی وزارتِ بازرگانی سے ایسا طریقہ وضع کرایا جائے جس میں ظرف کا وزن منہا کر کے صرف خالص بیئر پر کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے۔ ان کے خیال میں اس مقصد کے لیے آر سی ڈی کا تعاون درکار تھا۔‘
لیکن یہ تعاون انھیں نہ مل سکا۔
مختار مسعود لکھتے ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ آر سی ڈی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے تہران میں ابتدائی ملاقاتوں کے لیے ایک ماہ کافی ہوگا، مگر ایسا نہ ہوسکا۔
ان کے بقول، جب بھی وہ مختلف وزارتوں سے ملاقاتوں کا ایک دور مکمل کرنے لگتے، حکومت بدل جاتی اور انھیں دوبارہ ملاقاتیں شروع کرنا پڑتیں۔ جس کام کے لیے انھوں نے ایک مصروف مہینہ کافی سمجھا تھا، اسے دو سال لگ گئے اور پھر بھی مکمل نہ ہوسکا۔
اسی دوران انھوں نے امیر عباس ہویدا سے ملاقات کی، جو اس وقت وزیرِ دربار تھے اور اس سے پہلے تیرہ سال سے زیادہ عرصے تک ایران کے وزیراعظم رہ چکے تھے۔
مختار مسعود نے ان سے کہا کہ ہویدا کے دورِ حکومت میں ایران نے بہت ترقی کی، لیکن آر سی ڈی سے وابستہ توقعات پوری نہ ہوسکیں۔ انھوں نے ان کی طویل وابستگی کے پیش نظر آر سی ڈی کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔
ہویدا نے جواب دیا کہ وہ گذشتہ دہائی میں ہونے والے آر سی ڈی کے تینوں سربراہی اجلاسوں میں شریک رہے تھے، خصوصاً ایوب خان کے دور کا کراچی اجلاس۔
ان کے مطابق ان اجلاسوں میں طولِ کلام، قراردادوں کا انبار اور الفاظ کے پہاڑ تو بہت تھے، مگر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر تھا اور کارروائی زیادہ تر کاغذی رہتی تھی۔
ہویدا کے مطابق پس ماندہ ممالک کی ترقی کے لیے علاقائی تعاون کی راہ میں تین بڑی رکاوٹیں تھیں: قوم پرستی، حکومتوں کی بار بار تبدیلی اور داخلی مسائل کی کثرت، جس کے باعث حکمرانوں کے پاس علاقائی مسائل کے لیے نہ فرصت رہتی تھی نہ حوصلہ۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے خود علاقائی تعاون کے کئی منصوبے پیش کیے تھے۔
’مثال کے طور پر ایران کو گوشت کی ضرورت تھی جبکہ ترکی کے پاس بھیڑ بکریاں بہت تھیں۔ انھوں نے ایران اور ترکی کی سرحد پر جدید مذبح اور سرد خانے کی تعمیر کا منصوبہ بنایا، جس میں ترکی جانور فراہم کرتا اور ایران سرمایہ لگاتا، مگر لاکھ کوشش کے باوجود منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
ہویدا کے مطابق انھوں نے یہ منصوبہ اتنی بار ترکی کے سامنے رکھا کہ ترک انھیں ’بھیڑ بکریوں والا وزیراعظم‘ کہنے لگے۔
اسی طرح وہ پاکستان اور افغانستان کے لیے ’ہیضے اور چیچک کے ٹیکوں والا وزیراعظم‘ بن گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سرحد سے سو میل تک پاکستان اور افغانستان کی آبادی کو مفت ویکسین فراہم کرنے پر تیار تھا، مگر کوئی اس پیشکش پر توجہ نہیں دیتا تھا۔
انھوں نے پاکستان کو یہ بھی تجویز دی کہ ایران کو برآمد کیے جانے والے پھلوں میں پائی جانے والی بحیرۂ روم کی مکھی کے خلاف مشترکہ علاقائی اقدامات کیے جائیں، مگر اس کا جواب بھی ابھی تک زیرِ انتظار تھا۔
ہویدا نے ان مثالوں کی بنیاد پر کہا کہ ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ علاقائی تعاون کے کس قدر حامی تھے اور یہ بھی کہ آر سی ڈی اب تک مطلوبہ ترقی کیوں نہ کرسکی۔
آر سی ڈی سے ای سی او تک
بارہ برس کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے بعد 1976 میں ازمیر میں تینوں ممالک کے سربراہان نے آرسی ڈی کے ڈھانچے میں اصلاحات پر اتفاق کیا، جبکہ 1977 میں معاہدۂ ازمیر نے اسے قانونی فریم ورک فراہم کیا۔ تاہم یہ اقدامات بھی تنظیم کو دیرپا کامیابی نہ دلا سکے۔
1970کی دہائی کے اواخر میں تینوں ممالک کی سیاست بدلتی گئی اور 1979 میں ایران میں شاہ کا اقتدار ختم ہونے کے ساتھ آر سی ڈی عملاً غیر فعال ہوگئی، جبکہ سینٹو بھی تحلیل ہو گئی۔
مگر علاقائی تعاون کا تصور ختم نہیں ہوا۔
جنوری 1985میں ایران، پاکستان اور ترکی نے اسی تصور کو اقتصادی تعاون تنظیم یا اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کے نام سے دوبارہ زندہ کیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد 1992 میں افغانستان اور وسطی ایشیا اور قفقاز کی سات نئی ریاستیں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔
دانش ور انور اقبال لکھتے ہیں کہ انھیں آج بھی ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ کا نام خوبصورت لگتا ہے: یعنی ’ہم ایک دوسرے کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس تصور میں سڑکوں، ریل اور مواصلاتی روابط، تجارت، صنعت، مشترکہ منصوبوں، تعلیم، ثقافت اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینا شامل تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے صنعتی تعاون اور عالمی منڈی کے لیے مسابقتی پیداوار کے اس تصور کو اپنی قومی پالیسی کا مرکز بنایا ہوتا تو شاید آج اس کی کہانی مختلف ہوتی۔
’ترکی کی وزارتِ خارجہ بھی ای سی او کو 1964 کی آرسی ڈی کا قانونی اور تاریخی تسلسل قرار دیتی ہے یعنی 1964 کا خواب غلط نہیں تھا، ہم اسے پورا نہیں کرسکے۔‘
آج آر سی ڈی تاریخ کا ایک باب ہے، مگر کراچی سے تفتان تک پھیلی آر سی ڈی ہائی وے اس علاقائی تعاون کے خواب کی ایک ٹھوس یادگار ہے۔