اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد
کی راول جھیل کے کنارے قائم نیول سیلنگ کلب کی عمارت مسمار کرنے، پاکستان نیول
فارمز کو غیر قانونی قرار دینے اور سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس
کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا حکم دینے والا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام
امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل بینچ نے وزارتِ دفاع اور سابق نیول
چیف ظفر محمود عباسی کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے 2022 میں
اُس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
اپیل کنندگان کی جانب سے اشتر اوصاف،
سردار احمد جمال اور عبد الواحد قریشی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی نمائندگی
ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکیل نے کی۔
آڈیٹر جنرل کو قومی خزانے کو پہنچنے
والے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ملوث افسران سے رقم وصول کرنے سے متعلق احکامات
بھی عدالت نے کالعدم قرار دے دیے۔ اسی طرح پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام زمین کی
منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ بھی ختم کر دیا گیا۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ
صدرِ پاکستان نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی فلاحی سکیم کے لیے زمین کی خریداری کی منظوری
دی تھی۔ بحریہ فاؤنڈیشن نے نیول فارمز کے لیے ابتدائی طور پر 2400 کنال زمین
خریدی، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں حاصل کی گئی تھی اور بعد ازاں اس کا انتقال
ڈائریکٹوریٹ جنرل ویلفیئر کے نام کر دیا گیا۔
اپیل کنندگان کے مطابق زمین کی
خریداری کے لیے کوئی سرکاری فنڈ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ نیوی افسران سے فنڈز
جمع کر کے یہ زمین خریدی گئی۔ بعض زمین مالکان کے ساتھ ایسے معاہدے بھی کیے گئے جن
کے تحت زمین کے بدلے انھیں ڈیولپڈ پلاٹ دیے گئے۔ ابتدا میں یہ 20 کنال کے ایگرو
فارمز تھے، تاہم بعد میں کم از کم چار کنال کے پلاٹ بنانے کی بھی اجازت دی گئی۔
2022 میں
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے
ہوئے عمارت تین ہفتوں میں گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سابق نیول چیف کے خلاف
مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
سنگل بینچ نے نیول فارمز کے لیے جاری
این او سی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی تھی
کہ عدالتی فیصلے کی کاپی وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے 45
صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پاکستان نیوی یا کسی بھی ریاستی ادارے
کا نام ریئل سٹیٹ کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا
کہ پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام پر زمین کی منتقلی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،
جبکہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے
اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمارت کی
تعمیر اور افتتاح میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور مجاز
اتھارٹی اس کو یقینی بنائے۔ فیصلے میں سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ کارروائی کی
بھی ہدایت کی گئی تھی۔
سنگل
بینچ نے مزید حکم دیا تھا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب
کا فرانزک آڈٹ کرائیں تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا
سکے اور اس منصوبے میں ملوث افسران سے اس نقصان کی وصولی کی جا سکے۔