آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ کو میدانِ جنگ میں ایران کی نئی حکمتِ عملی کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کو تہران کی جانب سے ایک ’نئی حکمتِ عملی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے محسن رضائی نے لکھا: ’میدانِ جنگ، سفارت کاری اور معاشی محاصرے کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ایران کی نئی حکمتِ عملی آپ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔‘

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائی کورٹ: نیوی سیلنگ کلب کی عمارت گرانے اور نیول چیف سمیت ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ کالعدم قرار
  • تین سے پانچ ستمبر تک پنجاب میں مزید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری
  • آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں: امریکی وزیرِ توانائی کا دعویٰ
  • سب کے لیے پیغام ہے کہ تہران سے دور رہیں: امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ
  • آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے، پاسداران انقلاب: ایرانی
  • ایرانی ہلالِ احمر نے امریکی حملوں کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کو خط لکھ دیا، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی

لائیو کوریج

  1. ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی طویل نہیں ہوگی: ٹرمپ

    ایران پر گزشتہ رات کیے گئے حملوں کے ایک روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف امریکہ کی نئی فوجی کارروائی ’زیادہ دیر‘ جاری نہیں رہے گی۔‘

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات کے حملوں کو ’بہت شدید‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ایران ایک ایسے میزائل کی تیاری کی کوشش کر رہا تھا جو بارودی سرنگیں گرانے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاہم امریکہ نے اسے تباہ کر دیا۔‘

    ان کے مطابق ایران اپنے ’ریڈار اور میزائل‘ نظام بھی دوبارہ تعمیر کر رہا تھا، جنھیں امریکی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘

  2. حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے: ایرانی وزیرِ صحت کا دعویٰ

    ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے ایک اعلان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف صوبوں میں ہونے والے امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے ہیں۔‘

    یہ 40 روزہ جنگ کے بعد ہونے والے امریکہ کے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔

    امریکی حملوں میں سیرِک کے پہاڑی علاقے بھی نشانہ بننے والے مقامات میں شامل تھے۔

    ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے دوران ایک خاتون اور ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔ یہ افراد ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔

    ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے پہاڑی علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں زخمی ہونے والے چھ افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جبکہ 26 سرجیکل وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے ایک سوال کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے حملے کی تردید نہیں کی اور کہا کہ وہ ان رپورٹس سے ’آگاہ‘ ہیں۔ تاہم انھوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

    خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں سات افراد کی ہلاکت اور آٹھ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کو ’عوامی سکیورٹی فورسز‘ کے رکن کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے بھی تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق لاوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورسز کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

  3. جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں 900 سے زائد افراد ہلاک ہوئے: وزارتِ صحت

    حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ’جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

    وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 301 بچے بھی شامل ہیں۔

    حماس اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو قبول کرنے کے بعد جنگ روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے میں ’تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپ خانے کی بمباری‘ روکنے کی شق بھی شامل تھی۔

    اس کے بعد سے بی بی سی ویریفائی نے درجنوں ویڈیوز کا تجزیہ کیا ہے جن میں اسرائیلی حملوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ان حملوں میں ساحل سمندر کے قریب ایک کیفے، بے گھر افراد کے پناہ لینے کے لیے لگائے گئے خیمے اور وسطی غزہ میں ایک مبینہ جنازے کے جلوس سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مہینے ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ مہلک رہے ہیں اور اپریل سے اگست کے درمیان ہر ماہ 100 سے زائد افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی۔

    وزارتِ صحت ان ہلاکتوں کی براہِ راست وجہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو قرار دیتی ہے تاہم وہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان تفریق نہیں کرتی۔

    اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتا ہے، جبکہ ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ ان کا آزادانہ تجزیہ بھی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار سے مطابقت رکھتا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کو مسترد کیا ہے۔ آئی ڈی ایف نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ’یہ فرض کرنے کی کوئی بنیاد نہیں‘ کہ فہرست میں شامل تمام افراد آئی ڈی ایف کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

    اس کا کہنا ہے کہ وہ ’خطرات ختم کرنے اور اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے معاہدے کے مطابق انتہائی درست انداز میں‘ کارروائیاں کرتی ہے اور شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو ’حتی الامکان کم‘ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    رواں سال کے آغاز میں اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی جنگ میں 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 20 ہزار سے زیادہ جنگجو شامل ہیں۔

  4. آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر حملہ، دو فلپائنی ملاح ہلاک

    سعودی عرب کی شپنگ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ہونے والے حملے میں دو فلپائنی سیلرز (ملاح) ہلاک ہو گئے ہیں۔

    شپنگ کمپنی کے مطابق ایک آئل ٹینکر دو روز قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران ’حملے کا نشانہ‘۔ جس کے بعد اب کمپنی نے بحری جہاز کے عملے کے رکن دو فلپائنی سیلرز کی ’ہلاکت‘ کی تصدیق کی ہے۔

    یونان کی بحری خطرات سے متعلق انتظامی کمپنی ’مریسیکس‘ کا کہنا ہے کہ ’پیر اور منگل کی درمیانی شب آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار بحری جہازوں کو نامعلوم سمت سے نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دو آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گئے جس کے بعد ان دونوں میں آگ بھڑک اُٹھی۔

  5. اسلام آباد ہائی کورٹ: نیوی سیلنگ کلب کی عمارت گرانے اور نیول چیف سمیت ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ کالعدم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کی راول جھیل کے کنارے قائم نیول سیلنگ کلب کی عمارت مسمار کرنے، پاکستان نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دینے اور سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا حکم دینے والا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل بینچ نے وزارتِ دفاع اور سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے 2022 میں اُس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

    اپیل کنندگان کی جانب سے اشتر اوصاف، سردار احمد جمال اور عبد الواحد قریشی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکیل نے کی۔

    آڈیٹر جنرل کو قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ملوث افسران سے رقم وصول کرنے سے متعلق احکامات بھی عدالت نے کالعدم قرار دے دیے۔ اسی طرح پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام زمین کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

    انٹرا کورٹ اپیل میں مؤقف

    اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدرِ پاکستان نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی فلاحی سکیم کے لیے زمین کی خریداری کی منظوری دی تھی۔ بحریہ فاؤنڈیشن نے نیول فارمز کے لیے ابتدائی طور پر 2400 کنال زمین خریدی، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں حاصل کی گئی تھی اور بعد ازاں اس کا انتقال ڈائریکٹوریٹ جنرل ویلفیئر کے نام کر دیا گیا۔

    اپیل کنندگان کے مطابق زمین کی خریداری کے لیے کوئی سرکاری فنڈ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ نیوی افسران سے فنڈز جمع کر کے یہ زمین خریدی گئی۔ بعض زمین مالکان کے ساتھ ایسے معاہدے بھی کیے گئے جن کے تحت زمین کے بدلے انھیں ڈیولپڈ پلاٹ دیے گئے۔ ابتدا میں یہ 20 کنال کے ایگرو فارمز تھے، تاہم بعد میں کم از کم چار کنال کے پلاٹ بنانے کی بھی اجازت دی گئی۔

    سنگل بینچ کا فیصلہ

    2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عمارت تین ہفتوں میں گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

    سنگل بینچ نے نیول فارمز کے لیے جاری این او سی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ عدالتی فیصلے کی کاپی وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پاکستان نیوی یا کسی بھی ریاستی ادارے کا نام ریئل سٹیٹ کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام پر زمین کی منتقلی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، جبکہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

    عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمارت کی تعمیر اور افتتاح میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور مجاز اتھارٹی اس کو یقینی بنائے۔ فیصلے میں سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

    سنگل بینچ نے مزید حکم دیا تھا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کا فرانزک آڈٹ کرائیں تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے اور اس منصوبے میں ملوث افسران سے اس نقصان کی وصولی کی جا سکے۔

  6. پاسدارانِ انقلاب کے برعکس امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی: سینٹکام

    اس سے قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ شادی کی تقریب پر امریکی حملے کی اطلاعات سے آگاہ ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

    اب اس مؤقف کو امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے بھی دہرایا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم ان اطلاعات سے آگاہ ہیں، جن کا ماخذ ایرانی سرکاری میڈیا ہے۔ امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی، پاسداران انقلاب کے برعکس۔‘

    ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والے اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل تھے اور 67 افراد زخمی ہوئے۔

  7. امریکی حملوں کے خلاف ایرانی ہلالِ احمر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو خط لکھ دیا

    ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو خط لکھ کر جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی مذمت کی ہے، رپورٹس کے مطابق جن میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا۔

    اپنے خط میں ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ فضائی حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 67 افراد زخمی ہوئے۔

    ہلالِ احمر کے مطابق یہ حملہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے اُس وقت ہوا جب سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی ایک تقریب جاری تھی۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں تنظیم نے کہا: ’زخمیوں میں سے بعض کی تشویشناک حالت کے پیشِ نظر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

    ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ چونکہ شادی کی تقریب ایک شہری اجتماع تھا، اس لیے یہ واقعہ بین الاقوامی انسانی قانون کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے اور ’اس کے لیے آزاد، غیر جانبدار، جامع اور مؤثر تحقیقات ضروری ہیں۔‘

    امریکی فوج نے حملے سے متعلق اطلاعات کا نوٹس لیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

  8. امریکہ کو میدانِ جنگ میں ایران کی نئی حکمتِ عملی کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ میں امریکہ کو تہران کی جانب سے ایک ’نئی حکمتِ عملی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں محسن رضائی نے لکھا: ’ان بے سود کوششوں کے ذریعے آپ نہ صرف اس جہنم کی گہرائیوں سے نکلنے میں ناکام رہیں گے جو آپ نے اپنے لیے خود بنایا ہے، بلکہ جلد ہی آپ دیکھیں گے کہ میدانِ جنگ، سفارت کاری اور معاشی محاصرے کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ایران کی نئی حکمتِ عملی آپ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔‘

    یہ بیان دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے شدید ترین حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    تازہ حملوں میں امریکی فوج نے ساحلی پٹی اور آبنائے ہرمز کے مشرقی علاقوں کے ساتھ ساتھ ایران کے مغربی، جنوب مغربی اور جنوبی صوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں سے ایک میں ہرمز کے شہر کوہستک میں چار افراد ہلاک اور شادی کی ایک تقریب میں موجود 68 افراد زخمی ہوئے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔

    ایران نے کہا ہے کہ جواب میں اس نے خطے بھر میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن میں اردن، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عراق کے شہر اربیل میں موجود مقامات شامل ہیں۔

    ایران نے خطے کے ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو امریکی فوج کے ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

  9. آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں: امریکی وزیرِ توانائی کا دعویٰ

    امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئیں، جو فروری کے اواخر میں ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک ریکارڈ ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو میں رائٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی جانب سے آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد فراہم کیے جانے کے باعث ایران دنیا کی معیشت کو ’یرغمال بنانے‘ کی اپنی صلاحیت کھو رہا ہے، تاہم ان کے بقول تہران اب بھی ’کچھ خلل پیدا کر رہا ہے۔‘

    فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، معمول کے حالات میں تیل اور مائع قدرتی گیس کے پانچویں حصے کی ترسیل اسی گزر گاہ سے ہوتی تھی۔

  10. پنجاب میں مزید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری

    آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مزید مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے اور متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تین سے پانچ ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، لاہور، قصور اور اوکاڑہ میں بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق چار اور پانچ ستمبر کے دوران فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش متوقع ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد سیف انور کے مطابق مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے، جبکہ برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی کہ خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بوسیدہ یا کچے مکانات میں رہائش سے گریز کریں۔

    انھوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ آندھی، طوفان اور گرج چمک کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

    والدین سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کا خاص خیال رکھیں اور انھیں نشیبی علاقوں میں جمع پانی، بجلی کی تاروں اور کھمبوں کے قریب نہ جانے دیں۔

  11. ایران نے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا: سعودی عرب

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل بردار سعودی بحری جہاز ’صِدر‘ کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کر رہا تھا۔

    بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں ٹینکر کے عملے کا جانی نقصان ہوا۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں اردن، بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی گئی ہے اور ان ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔

    بیان میں کشیدگی میں اضافے کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی، عالمی توانائی کی فراہمی کے تحفظ، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں، ریاستوں کی خود مختاری، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا: ’سعودی عرب تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کریں، بین الاقوامی قانون کا احترام کریں، اور مذاکرات و پُر امن حل کی جانب واپس آئیں۔‘

  12. سب کے لیے پیغام ہے کہ تہران سے دور رہیں: امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے فضائی کمپنیاں، جہاز رانی کی صنعت اور ڈیجیٹل اثاثے اگلے اہداف ہو سکتے ہیں۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں سکاٹ بسینٹ نے کہا: ’میرا سب کے لیے پیغام ہے کہ (ایران سے) دور ہو جائیں۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ تنازع ختم ہو اور اس کا تیز ترین راستہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایرانی حکومت کی کسی قسم کی حمایت نہ کرے۔

    ’ہم ان تمام افراد اور اداروں کے ساتھ انتہائی سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر بات چیت کر رہے ہیں جو ایرانی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    امریکی وزیر خزانہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ جو بھی ادارہ پاسداران انقلاب کے ساتھ تجارت کرے گا وہ پابندیوں کی زد میں آئے گا۔

    ’یہ مختلف قسم کے ادارے ہو سکتے ہیں۔ یہ ہوائی جہاز لیز پر دینے والی کمپنیاں بھی ہو سکتی ہیں، جن کا ہم جائزہ لیں گے۔ یہ کوئی بھی شخص یا ادارہ ہو سکتا ہے جو پاسداران انقلاب کے ساتھ تجارت کرتا ہے۔ ہم پاسداران انقلاب کے اثاثوں کا سراغ لگا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’ہم کسی قسم کی نرمی یا برداشت کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور معاشی طور پر اس حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔‘

    سکاٹ بسینٹ نے پاسداران انقلاب کو خبردار کرتے ہوئے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ برٹش ورجن آئی لینڈز میں قائم کن ٹرسٹ کمپنیوں میں آپ کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔ ہمیں دنیا بھر میں آپ کے 100 ملین ڈالر مالیت کے گھروں کے بارے میں معلومات ہیں اور ہمارا ارادہ ان اثاثوں کو منجمد کرنے کا ہے۔‘

  13. شادی کی تقریب پر امریکی حملہ ’جنگی جرم‘ ہے: ایران کا الزام

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک گھر پر حملے کے بعد کی ویڈیو شیئر کی ہے، جس کے بارے میں ایران کا الزام ہے کہ یہاں شادی کی تقریب منعقد کی جا رہی تھی اور امریکہ نے میزائل سے اسے نشانہ بنایا۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جنگ کی حقیقت گذشتہ رات آشکار ہو گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو ’جنگی جرم کا حقیقی چہرہ‘ دکھاتی ہے۔

    ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب کے دوران امریکی میزائل کے ٹکڑے ایک گھر سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کے بارے میں آنے والی اطلاعات سے آگاہ ہے، تاہم اس نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔

  14. اسلحہ ماہر کے مطابق ایران میں شادی کی تقریب پر حملے میں امریکی میزائل استعمال ہوا: بی بی سی ویریفائی, مرلن تھومس

    بی بی سی ویریفائی نے اسلحے کے ایک ماہر سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد آن لائن شیئر کی جانے والی تصاویر، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ ایران میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کی ہیں، میں ایسے کروز میزائل کے ٹکڑے نظر آتے ہیں جو امریکی افواج استعمال کرتی ہیں۔

    آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے ایرانی سرکاری ٹی وی کی جانب سے کوہستک سے نشر کی گئی تصاویر میں دکھائی دینے والے ایک فِن کی باقیات کی شناخت اے جی ایم 84 سٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل کے حصے کے طور پر کی۔

    امریکی بحریہ کے مطابق سٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل ہوا سے داغا جانے والا ایسا میزائل ہے جو ہدف کو درستی سے نشانہ بناتا ہے اور طویل فاصلے پر موجود زمینی اور بحری اہداف کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    اسلحہ کے تجزیہ کار ٹریور بال نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ سٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل کو ’انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیار کے طور پر تیار کیا گیا تھا اور بہت سے دوسرے ہتھیاروں کے برعکس دورانِ پرواز اس کا ہدف تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’اس ہتھیار کے استعمال کنندگان کی تعداد محدود ہے، اور ان میں امریکہ بھی شامل ہے۔‘

  15. اسلام آباد ہائیکورٹ: چین سے گرفتار پاکستانی شہری کی قید کے 12 سال مکمل ہونے پر رہائی کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمے میں چین سے گرفتار کیے گئے سزا یافتہ پاکستانی شہری سید جلال حیدر کی رہائی کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے 12 سال قید کاٹنے والے جلال حیدر کو آج ہی رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یہ احکامات جسٹس خادم حسین سومرو نے جاری کیے۔

    رہائی کی درخواست منظور ہونے پر سید جلال حیدر کی والدہ اور بہن کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئیں۔

    درخواست گزار کی جانب سے وکیل حسنین حیدر تھہیم عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سید جلال حیدر کو 350 گرام ہیروئن کے مقدمے میں چین میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہاں انھیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    وکیل کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت سید جلال حیدر کو پاکستان منتقل کیا گیا، جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق وہ اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں، لہٰذا انھیں رہا کیا جانا چاہیے۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مجرم کو ریلیف دینے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے پاکستان اور چین کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ مجرم کو جیل میں کتنا عرصہ ہو چکا ہے، جس پر وکیل حسنین تھہیم نے بتایا کہ سید جلال حیدر 12 سال سے قید ہیں، جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کی سزا 10 سال ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد سید جلال حیدر کی رہائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا اور کیس نمٹا دیا۔

  16. ایران کے ڈرون حملے سے دار الحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس میں آگ لگ گئی: کویت

    کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے محکمہ فائر بریگیڈ کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کے ڈرون نے دار الحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم ’اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘

    ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح ایران کے جنوب پر امریکی حملوں کے جواب میں اس نے اردن، بحرین، کویت اور شمالی عراق کے شہر اربیل میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

  17. ایرانی فوج کا بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    دعوے کے مطابق ’فوج کے درجنوں ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں الظفرہ اور المنہاد اڈوں پر امریکی افواج کے ریڈار سسٹمز اور اُن مقامات کو نشانہ بنایا جہاں وہ نصب تھے۔‘

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ بحرین کے شیخ عیسیٰ اڈے میں امریکی افواج کی ریڈار تنصیبات اور اجتماع کے مراکز پر بھی آرش ڈرونز کے ذریعے دوبارہ حملہ کیا گیا ہے۔

    یہ حملے امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

    اس سے چند گھنٹے قبل پاسداران انقلاب نے کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کی اطلاع دی تھی۔

  18. آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے: پاسداران انقلاب

    ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ’چند گھنٹے قبل دو تیل بردار بحری جہاز، امریکی فوج کے کہنے پر جن کے عملے کو اتار دیا گیا تھا اور وہ جہاز غیر قانونی راستے سے گزرنے کے لیے امریکی عناصر کے اختیار میں دے دیے گئے تھے، بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے ہیں اور آگ کی لپیٹ میں ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا: ’اس سے پہلے پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بارودی سرنگوں سے آلودہ گزر گاہ عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔‘

    پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وہ بحری کمپنیاں جو قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکہ کے دھوکے میں آتی ہیں اور اپنے جہاز دشمن کے اختیار میں دے دیتی ہیں، ان کے لیے اضافی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں جن پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا۔‘

  19. پاسدارانِ انقلاب کی امریکی حملے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکی حملے میں صوبہ کرمانشاہ میں پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    گذشتہ رات امریکی حملوں کے بعد کرمانشاہ کے نائب گورنر نے کہا تھا کہ صوبے کے کسی حصے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دیار شہر میں سید الشہداء کور کے نائب کمانڈر نے کہا کہ لاوان جزیرے پر ہونے والے حملے میں ’بسیج کے تین اہلکار` ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

  20. ایران، امریکہ کشیدگی میں اضافے کے باوجود پاکستان تنازع کے حل کے لیے پرامید: ’امن و استحکام کے قیام کا واحد پائیدار راستہ بات چیت ہی ہے‘

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں حالیہ اضافے کے باوجود پاکستان پر امید ہے اور بات چیت اور سفارتکاری فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    بدھ کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان دیگت برادر ممالک کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان بحران کے حل کے لیے مخلصانہ کوششوں میں مصروفِ عمل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔

    طاہر اندرابی کے مطابق، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے امن کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ اسلام آباد معاہدے کے تحت طے پانے والی مفاہمت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے سب سے قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہے۔

    وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی میں اضافے کے باوجود ہم پرامید ہیں اور مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ’یہ ہمارا یقین ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کا واحد پائیدار راستہ بات چیت اور سفارتی روابط ہی ہیں۔‘