آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیوی فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کو غیرقانونی قرار دینے اور بحریہ کے سابق سربراہ کے خلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ کالعدم قرار
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں راول ڈیم کے کنارے پاکستانی بحریہ کی جانب سے تعمیر کردہ نیول سیلنگ کلب کی عمارت مسمار کرنے، پاکستان نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دینے اور سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کے حکم سے متعلق عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے بدھ کے روز وزارتِ دفاع اور سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے 2022 میں اُس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
یاد رہے کے سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے جنوری 2022 میں پاکستان بحریہ کے زیر انتظام شروع کیے گئے ہاؤسنگ پروجیکٹ اور کلب کے منصوبوں کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر 45 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔
اس فیصلے میں راول ڈیم کے کنارے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے اور بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی سمیت ملوث افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے نیول فارمز کی تعمیر کے لیے جاری کیے گئے اجازت نامے کو بھی غیرقانونی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کو اس سے متعلق این او سی جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
2022 کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجاوزات والی زمین پر غیرقانونی عمارت (نیوی سیلنگ کلب) کا افتتاح کر کے اپنے آئینی فرض سے تجاوز کیا اور اُن کی جانب سے ’یہ (افتتاح) اس کے باوجود کیا گیا کہ سی ڈی اے اور سمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے اس حوالے سے نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے تھے۔‘
تاہم بدھ (دو اکتوبر) کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا ہے۔
آڈیٹر جنرل کو قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ملوث افسران سے رقم وصول کرنے سے متعلق احکامات بھی عدالت نے کالعدم قرار دے دیے۔ اسی طرح پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام زمین کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ بھی ختم کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے نیول فارمز کی پاکستان نیوی کو منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا ہے، جبکہ زمین کو ہیڈکوارٹرز آفس کے نام منتقل کرنے کی ہدایت بھی منسوخ کر دی گئی۔
جسٹس اطہر من اللہ کے ابتدائی فیصلے کے خلاف یہ اپیلیں وزارت دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل (ریٹائرڈ) عباسی اور دیگر متاثرہ فریقین کی جانب سے فائل کی گئی تھیں۔
ان اپیل کنندگان کی جانب سے اشتر اوصاف، سردار احمد جمال اور عبد الواحد قریشی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکیل نے کی۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدرِ پاکستان نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی فلاحی سکیم کے لیے زمین کی خریداری کی منظوری دی تھی اور بحریہ فاؤنڈیشن نے نیول فارمز کے لیے ابتدائی طور پر 2400 کنال زمین خریدی، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں حاصل کی گئی تھی اور بعد ازاں اس کا انتقال ڈائریکٹوریٹ جنرل ویلفیئر کے نام کر دیا گیا۔
اپیل کنندگان کے مطابق زمین کی خریداری کے لیے کوئی سرکاری فنڈ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ نیوی افسران سے فنڈز جمع کر کے یہ زمین خریدی گئی۔ جبکہ بعض زمین مالکان کے ساتھ ایسے معاہدے بھی کیے گئے جن کے تحت زمین کے بدلے انھیں ڈیولپڈ پلاٹ دیے گئے۔ ابتدا میں یہ 20 کنال کے ایگرو فارمز تھے، تاہم بعد میں کم از کم چار کنال کے پلاٹ بنانے کی بھی اجازت دی گئی۔
سنگل بینچ نے کیا فیصلہ دیا تھا؟
2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عمارت تین ہفتوں میں گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
سنگل بینچ نے نیول فارمز کے لیے جاری این او سی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ عدالتی فیصلے کی کاپی وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پاکستان نیوی یا کسی بھی ریاستی ادارے کا نام ریئل سٹیٹ کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام پر زمین کی منتقلی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، جبکہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمارت کی تعمیر اور افتتاح میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور مجاز اتھارٹی اس کو یقینی بنائے۔ فیصلے میں سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ چیف آف نیول سٹاف اور اس غیرقانونی سیلنگ کلب کی تعمیر اور اس کے افتتاح میں ملوث دیگر افسران فوجداری کارروائی کے مستحق ٹھہرے ہیں اور ’مجاز حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی فوری طور پر شروع کی جائے۔‘
فیصلے میں پاکستان نیوی کو بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ راول جھیل میں اپنی تمام تر سرگرمیوں کو ختم کرے اور غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی تمام زمین سمال ڈیمز آرگنائزیشن کو واپس کرے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ سیلنگ کلب اور نیوی فارمز کا فورنزک آڈٹ کرے تاہم قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ ’اس غیرقانونی عمل کے ذریعے خزانے کو پہنچنے والے تمام تر نقصان کی وصولی ان افسران سے کی جائے جو اس غیرقانونی عمل میں ملوث پائے جائیں۔‘
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ پورے معاملے میں چیف آف نیول سٹاف اور مسلح افواج کا ایک بازو، یعنی پاکستان نیوی، قانون کی خلاف ورزی اور ملک کے آئین کے تحت طے شدہ مینڈیٹ سے تجاوز کی مرتکب پائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ راول ڈیم کے کنارے پر نیوی کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست زینت سلیم نامی خاتون نے دائر کر رکھی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسلام آباد نیشنل پارک میں تعمیرات غیر قانونی ہیں کیونکہ اس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کیس میں درخواست گزار خاتون زینت سلیم اور ان کے شوہر کی سکیورٹی کا بندوبست کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست گزار کو اس فیصلے کی بنیاد پر کسی طور ہراساں نہ کیا جائے۔
زینت سلیم نے اپنی درخواست میں کہا گیا تھا کہ راول ڈیم سے راولپنڈی شہر کو پانی کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اس لیے راول ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب سے ماحولیاتی آلودگی پھیلے گی۔
یہ معاملہ جولائی 2020 سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا اور ابتدائی طور پر نیوی حکام نے موقف اپنایا تھا کہ 1991 میں حکومت پاکستان نے یہ جگہ سیلنگ کی پریکٹس کے لیے پاکستان نیوی کے لیے مختص کی تھی۔