کل ہم نے آپ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کے حوالے سے خبر دی تھی کہ حکومت کی جانب سے صوبے میں اپنے خود کے آکسیجن گیس کے پلانٹس لگانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
آج پنجاب کے محکمہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے بتایا ہے کہ صوبے بھر میں گیس کی سپلائی کے لیے آٹھ اضلاع میں آکسیجن پلانٹس لگانے کا ابتدائی منصوبہ تیاری کے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
محکمہ صحت کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 10 آکسیجن پلانٹس کی روزانہ 100 سلنڈر آکسیجن پیداوار کی صلاحیت ہوگی اور ماہانہ 30 ہزار آکسیجن سلنڈر بنائے جا سکیں گے۔
یہ منصوبہ صوبے بھر کے 125 ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ضرورت پوری کر سکے گا۔
سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چار سالوں میں سالانہ اوسطاً ایک لاکھ 24 ہزار 549 سلنڈر جبکہ کُل چار سال میں چار لاکھ 98 ہزار 198 آکسیجن سلنڈر استعمال ہوئے۔
حکام کے مطابق جنوبی پنجاب میں آکسیجن پلانٹس لگانے کے لیے وہاڑی، مظفر گڑھ، ڈی جی خان اور لیہ جبکہ بالائی پنجاب میں اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، مرید کے، جہلم اور حافظ آباد کے اضلاع زیر غور ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ 10 سال میں اپنے آکسیجن پلانٹس لگانے سے تقریباً 3.81 ارب روپے خرچ آئے گا جبکہ 10 سال کے لیے مارکیٹ سے آکسیجن خریداری کے اخراجات تقریباً 11.50 ارب روپے ہوں گے، چنانچہ حکومت پنجاب کے اپنے آکسیجن پلانٹس لگانے سے 10 سال میں تقریباً آٹھ ارب روپے کی بچت ہو گی۔
محکمہ صحت کے مطابق منصوبہ بندی مکمل کر کے حتمی پلان کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گا۔