’حکومتیں فضائی سفر سے متعلق ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہی ہیں‘
سرحدوں کی بندش ہوابازی اور سیاحت کی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ایئرلائنز پروازوں کے آغاز کے لیے بیتاب ہیں۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد متعدد ممالک ٹریول ببل بنانے یعنی حفاظتی علاقہ متعین کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
اسوسی ایشن آف ایشیا پیسیفک ایئرلائن کے ڈائریکٹر جنرل سبہاس مینن نے بی بی سی ایشیا بزنس رپورٹ کو بتایا کہ خطے میں حکومتیں ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ دکھا رہی ہیں۔
ان کی جانب سے محدود سفر کے لیے تو فضائی حدود کھولی گئی ہیں لیکن عام عوام میں یہ اعتماد پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ یہ سفر محفوظ رہ کر کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ بہتر رابطہ استوار کریں اور قرنطینہ کے حوالے سے شرائط ہٹائیں تاکہ لوگ پھر سے فضائی سفر کی جانب راغب ہو سکیں۔