انڈین ریاست کرناٹکا کے ایک گاوٴں میں کورونا وائرس کے حدشے کے پیش نظر 47 بکریوں کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔
کرناٹکا کے توماکورو ضلع کے گوڈے کیرے گاوٴں میں ایک چرواہے کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اس کی چار بکریوں کی موت ہو گئی تھی۔
یہ دیکھ کر گاوٴں والوں کو فکر ہوئی اور انھیں اس بات کا خدشہ ہوا کہ بکریوں کی ہلاکت کی وجہ کووڈ 19 ہے۔ اس بارے میں مقامی انتظامیہ سے تفتیش کی درخواست کی گئی ہے۔
بنگلور سے تقریباً ایک سو پچیس کلومیٹر دور واقع اس گاوٴں کے رہائشیوں کی شکایت پر ضلع انتظامیہ نے چند اہلکاروں کو بکریوں کے سیمپل لینے بھیجا اور بکریوں کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔
گاوٴں کے چند افراد کا مطالبہ ہے کہ بکریوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تاکہ ان کی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے۔
کرناٹکا میں جانوروں کے علاج کے محکمے کے سیکرٹری پی منیوننن نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے بکریوں کو قرنطینہ میں اس لیے رکھا ہے تاکہ گاوٴں والوں کے دل میں کسی طرح کا خوف نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی بھی بات کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں، حالانکہ ماہرین یہ بات کہہ چکے ہیں کہ کورونا جانوروں کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ تفتیشی رپورٹ آنے تک بکریوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔‘
وائرالوجی کے ماہر پروفیسر چھدانند نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب تک ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے جس میں کسی انسان سے جانوروں میں یا جانوروں سے انسان میں کورونا وائرس پہنچا ہو۔ گاوٴں والوں کے پاس وائرس کے پھیلاوٴ کا زیادہ علم نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں انھیں سمجھانا چاہیے تاکہ وہ خوفزدہ نہ ہوں۔ بکریوں کو قرنطینہ میں رکھ کر گاوٴں والوں کو محض تسلی دی جا رہی ہے۔‘
تاہم پی منیوننن نے جنوبی انڈیا کے بندروں کو ہونے والے مرض کائناسور فاریسٹ ڈزیز (کے ایف ڈی) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بیماری بھی تو بندروں کے ساتھ انسانوں کو بھی ہو جاتی ہے اس لیے امکانات بھلے 0.1 فیصد ہوں لیکن ہم اپنی طرف سے لاپرواہی نہیں کر سکتے ہیں۔‘