آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی خود کو حراست میں لیے جانے کی تردید

    افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے سابقہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے خود کو حراست میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔

    گذشتہ روز انڈین میڈیا نے دعوی کیا تھا کہ طالبان نے ڈاکٹر عبداللہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

    انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے صحافی نوین کپور نے ٹویٹ کیا کہ ’چند منٹ پہلے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اس خبر کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس صحافی سے کہتا ہوں کہ وہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کریں اور شائع کرنے سے پہلے حقائق کو چیک کر لیا کریں۔

  2. لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے افغانستان کے دیہی علاقوں کے عام لوگ

    افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاوں سے یہ رپورٹ۔

  3. زلمے خلیل زاد: امریکیوں کے انخلا میں مدد اور تعاون کے لیے قطر اور طالبان کا شکریہ

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین دنوں میں امریکی شہریوں سمیت 250 سے زائد غیر ملکیوں نے کابل چھوڑا ہے۔

    ٹویٹ میں قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد قطری پروازوں کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے کابل روانہ ہوئے۔

    ’ان پروازوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے قطر کا شکریہ اور ہم اس اہم کوشش میں طالبان کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے شہریوں، دیگر غیر ملکیوں اور افغانیوں کے لیے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے قطر کی حکومت، طالبان اور دیگر سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

    اس سے قبل امریکہ نے جمعرات کو طالبان کی تعریف کی تھی کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکیوں کو پروازوں کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے اسے ’ایک مثبت پہلا قدم‘ قرار دیا تھا۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ’طالبان امریکی شہریوں اور مستقل ویزا رکھنے والوں کی روانگی میں سہولت فراہم رہے ہیں، انھوں نے لچک دکھائی ہے اور اس کوشش میں انھوں نے کاروباری اور پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

  4. افغانستان کوریج کے لیے گئے پاکستانی صحافی جنھیں طالبان نے جاسوس سمجھا

  5. پنجشیر کے علاقہ مکینوں کو ’طالبان کا نقل مکانی کرنے کا حکم‘

    افغان سوشل میڈیا پر پنجشیر وادی کے اندر گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے کی تصاویر وائرل ہیں، کہا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کے کہنے پر صوبہ چھوڑ رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پنجشیر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ طالبان نے پنجشیر کے مختلف علاقوں میں خاندانوں سے کہا تھا کہ ’وہ اپنے گھر چھوڑ کر کابل چلے جائیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ طالبان پنجشیر کے لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں اور انھیں بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    ایک ویڈیو میں پنجشیر وادی میں کھڑی بسوں اور ٹرکوں سمیت درجنوں کاریں دکھائی گئی ہیں۔

    سڑک کے کنارے قافلے کا انتظار کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ طالبان نے قافلے کو جو سینکڑوں خاندانوں پر مشتمل ہے، گھنٹوں کیوں روکا۔

    ایک اور نے بتایا ’متعدد خاندانوں کے افراد جنھیں زبردستی کابل منتقل کیا گیا تھا، طالبان نے انھیں حراست میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔‘

    قومی مزاحمتی محاذ کے بیرونی تعلقات کے ذمہ دار علی نظاری نے فون کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کی ریلیز کے ساتھ لکھا کہ ہزاروں افراد کو ان کے گھروں پنجشیر سے نکال دیا گیا ہے۔

    انھوں نے لکھا ’طالبان نسلی قتلِ عام کر رہے ہیں اور دنیا بے حسی سے دیکھ رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے ان جنگی جرائم کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  6. کابل کی میک اپ آرٹسٹ: ’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے‘

    جس دن طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر غلبہ حاصل کیا، بیوٹی پارلروں کے باہر لگے خواتین کے عروسی ملبوسات کے اشتہارات پر رنگ پھیر دیا گیا اور شہر بھر میں سیلون بند کر دیے گئے۔

    کئی مالکان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اپنا کاروبار کھول لیں گی لیکن بعض کو مستقبل کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

    افسوں (فرضی نام) ایک میک اپ آرٹسٹ بتاتی ہیں کہ افغان خواتین کے لیے بیوٹی کی صنعت کس قدر اہم ہے۔

    دری زبان میں 'تکان جوردم' لفظ کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہے۔

  7. پناہ ڈھونڈنے والے 50 افغان خاندان ڈی پورٹ

    تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔

    اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

  8. طالبان کی 11 ستمبر کو تقریب حلف برداری ’اب پلان کا حصہ نہیں‘

    پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل بول نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ عبوری کابینہ کی حلف برداری کے لیے تقریب ’اب پلان کا حصہ نہیں ہے۔‘

    اس سے قبل نائن الیون حملوں کے 20 سال مکمل ہونے کے دن طالبان نے نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب کا اعلان کیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پہلے پروگرام میں تھا کہ ہم حلف برداری کی تقریب رکھیں گے۔ لیکن اس کے لیے ضرورت تھی کہ دوسرے ممالک سے وفد مدعو کیے جائیں۔ ادھر پروٹوکول کے انتظامات کی بھی ضرورت تھی۔ جس کے لیے وقت درکار تھا۔‘

    ’دوسری طرف عوام کے لیے سروسز کی بہت ضرورت تھی۔ اس لیے لیڈرشپ نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر وزرا کا اعلان کریں، وہ اعلان ہوچکا ہے۔ ابھی وہ تقریب کینسل ہوچکی ہے۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو طالبان کی طرف سے حلف برداری کی تقریب کے لیے سرکاری اطلاع نہیں دی گئی ’دعوت کی اطلاع ہے نہ تاریخ کی۔‘

    ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شامل نہیں ہوگا۔

    روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے کوئی تقریب حلف برداری منعقد نہیں کی جا رہی۔

    انھوں نے اسے افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نئی افغان حکومت کی تقریب حلف برداری کچھ روز قبل منسوخ کر دی گئی تھی۔۔۔ کابینہ نے پہلے سے ہی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔‘

  9. امریکی ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے بجائے ایک انجینیئر کو نشانہ بنایا گیا: نیو یارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ویڈیو کے جائزے کے بعد کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے ڈرون حملے میں نام نہاد دولت اسلامیہ جنگجوؤں کے بجائے ایک امدادی کارکن کو نشانہ بنایا۔

    پینٹاگون نے دعویٰ کیا تھا کہ کابل میں 29 اگست کے ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ کے دہشتگردوں کو ہدف بنایا گیا۔ مگر کابل کے رہائشی نے دعویٰ کیا کہ اس کار پر اس حملے میں اس کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے۔

    نیو یارک ٹائمز نے سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج کا جائزہ لینے بعد کہا ہے کہ امریکی فوج نے کیلیفورنیا میں قائم میں امدادی تنظیم سے تعلق رکھنے والے الیکٹریکل انجینیئر ازمرائی احمدی کو نشانہ بنایا۔

  10. ’ٹی ٹی پی چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے پاکستانی حکومت عام معافی کا سوچ سکتی ہے‘, پاکستانی صدر عارف علوی کا بیان

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ان اہلکاروں کے لیے عام معافی پر غور کرسکتی ہے جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں اور ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستانی آئین کی پاسداری کا اعلان کرتے ہیں۔

    ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے ’ایک خطرہ ہے۔‘

    ’ان کی ٹاپ لیڈرشپ نہیں بلکہ سیکنڈ یا تھرڈ ٹیئر کی جانب سے یہ بات آئی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ ہمارے ہاں رہیں مگر کوئی حرکت پاکستان کے خلاف نہیں کریں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستانی حکومت نے کہا کہ (جو لوگ) ہتھیار ڈال کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، اسے منظور کر کے، تو پاکستان بھی سوچے گا کہ ان کو ایمنسٹی (عام معافی) دے یا نہ دے۔ ایک قدم ہے۔ پاکستان سوچے گا۔‘

    اس سوال پر کیا پاکستان میں دہشتگرد حملے کرنے والوں، جیسے مولوی فضل اللہ، کو عام معافی دینے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، پاکستانی صدر نے کہا کہ ’میں کسی کا نام نہیں لے رہا۔ ایسے لوگ جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں نہیں رہے۔ سب سے پہلی بات تو وہ ہے۔ وہ اپنے ٹی ٹی پی والے نظریات چھوڑ کر پاکستان کے آئین کی پابندی کرنے کے اعتبار سے آنا چاہیں تو حکومت سوچ سکتی ہے کہ کوئی معافی کا ڈکلیریشن کرے۔‘

    ’امن کا طریقہ تو یہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستانی ہیں اور جتنے ہزار بھی ہیں وہ باہر رہیں کہ ہم نے انھیں پورا نامنظور کردیا ہے۔‘

  11. طالبان نے امراللہ صالح کے بھائی کو ہلاک کر دیا: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان نے سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کے بڑے بھائی روح اللہ عزیزی کو ہلاک کر دیا ہے۔ امراللہ پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمتی اتحاد کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

    روح اللہ عزیزی کے بھانجے نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھوں نے میرے انکل کو قتل کر دیا ہے۔‘

    ’انھوں نے گذشتہ روز انھیں قتل کیا اور وہ ہمیں یہ اجازت بھی نہیں دے رہے کہ ہم انھیں دفن کر سکیں۔ وہ کہتے رہے کہ ان کی لاش کو گلنے سڑنے دیا جائے۔‘

    طالبان سے منسلک ٹوئٹر پر الامارہ نامی اکاؤنٹ نے کہا ہے کہ ’اطلاعات کے مطابق امراللہ صالح کا بڑا بھائی روح اللہ پنجشیر میں لڑائی کے دوران مارا گیا ہے۔‘

    تاحال یہ معلوم نہیں کہ مزاحمتی اتحاد کے دیگر رہنما احمد مسعود اور امراللہ صالح کہاں ہیں۔

  12. اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت

    اقوام متحدہ نے طالبان کی جانب سے اپنے مخالفین کے خلاف ’بڑھتے ہوئے پُرتشدد ردعمل‘ کی مذمت کی ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ حالیہ مظاہروں میں طالبان کے جنگجوؤں نے چار افراد کو ہلاک کیا ہے۔

    افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف مظاہرے دیکھے گئے ہیں جن میں ان سے آزادی اور خواتین کے حقوق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ طالبان نے مظاہرین کے خلاف براہ راست اسلحے، لاٹھیاں اور کوڑے استعمال کیے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پُرامن احتجاج کرنے والے افراد اور مظاہروں کی کوریج پر جانے والے صحافیوں کے خلاف طاقت کا استعمال اور من مرضی حراست (جیسے اقدامات) روکے جائیں۔‘

  13. ’والد طالبان کے خوف سے کوئٹہ آئے اور یہاں مارے گئے‘

    بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی پانچوی قسط ایک ایسے خاندان کہ کہانی ہے جنہوں نے جنگی حالات کی وجہ سے دو بات افغانستان سے حجرت کی۔ کاشان اکمل کی آواز میں سنیے محمد کازم کی تحریر۔

    ایڈیٹنگ: محمد ابراہیم

  14. روس طالبان حکومت کی تقریب حلف برادی میں شرکت نہیں کرے گا

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شامل نہیں ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ اسی لیے ہمارے خیال میں ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ افغانستان کی موجودہ قیادت کے اقدامات کیا ہوں گے۔

    اس سے پہلے آغاز ہفتہ پر روس کے ایوان بالا کے سپیکر نے کہا تھا کہ حلف برادی کےموقع پر سفیر کی سطح کے حکام روس کی نمائندگی کریں گے۔

    جمعرات کو صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ روس دوسرے ممالک کے شہریوں کے افغانستان سے انخلا میں سہولت کے لیے طالبان سے بات چیت کر رہا ہے۔

    ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’بہت سے لوگ کچھ افغان باشندوں کو بھی افغانستان سے نکالنے میں مدد کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ہم یہ چھپ چھپا کر نہیں کر رہے۔ ہم طالبان رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔‘

  15. چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔

    ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس

  16. ایم آئی 5 کی تشویش کے پیچھے کیا ہے؟, گورڈن کوریرا، بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار

    گزشتہ دو دہائیوں سے ایم آئی 5 دہشت گردی سے نمٹنے میں ہی مصروف رہی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اہم تبدیلیوں کے ساتھ۔ اس نے 7 جولائی 2005 کے حملوں کے بعد پوری طرح سمجھا کہ خطرہ اندرونی بھی تھا اور بیرونی بھی۔ تاہم گیارہ ستمبر کی 10 ویں برسی پر یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ القاعدہ کی طرف سے خطرہ شاید کم ہو رہا ہے اور ایم آئی 5 کو اب دوسرے مسائل پر دھیان دینا چاہیئے، جیسا کہ دوسرے ممالک کی جاسوسی وغیرہ۔ لیکن پھر عراق اور شام سے دولتِ اسلامیہ کا گروہ نمودار ہوا اور ایک نئی لہر شروع ہو گئی۔ کم منظم لیکن پھر بھی جان لیوا۔ گذشتہ کچھ برسوں میں ایک بار پھر یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ جہادی خطرہ شاید کم ہو رہا ہے اور ایم آئیو فائیو نے روس اور چین پر زیادہ توجہ شروع کر دی تھی۔ لیکن حالیہ واقعات نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ جہادی خطرہ ایک بار پھر پیدا ہو سکتا ہے اور افغانستان سے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ترغیب مل سکتی ہے یا مغربی انخلا ان گروپوں کے لیے نئے محفوظ ٹھکانے پیدا کر رہا ہے جہاں سے وہ کام کر سکتے ہیں اور مزید پیچیدہ حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے گیارہ ستمبر کے برسوں میں کیا تھا۔

  17. طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں، اقوامِ متحدہ میں سابق حکومت کے نمائندے کا مؤقف

    اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے سفیر نے، جو معزول حکومت کے رکن ہیں، عالمی ادارے پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان پر پابندیاں نافذ کرے۔

    اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے نمائندے غلام اسحاق زئی نے جمعرات کو عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے اور عبوری کابینہ میں شامل رہنماؤں پر اقوام متحدہ کی موجودہ پابندیوں کو نافذ کرے، جس میں ان کے بین الاقوامی سفر پر پابندی بھی شامل ہوں۔

    انھوں نے جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر حالیہ احتجاج ’طالبان کو ایک مضبوط پیغام تھا کہ افغان چاہے ان کا تعلق کسی بھی پس منظر اور مسلک سے ہو، وہ اپنے آپ پر مسلط کردہ مطلق العنان نظام کو قبول نہیں کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا: ’لہذا میں آپ سے کہتا ہوں کہ افغانستان میں کسی بھی حکومت کی کسی بھی شناخت کو روک دیں جب تک کہ اس میں حقیقی طور پر سبھی شامل نہ ہوں اور وہ لوگوں کی مرضی کے مطابق تشکیل پائے۔‘

    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے خبر رساد ادارے اے ےیف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی ہو گی۔

  18. کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

    افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔

    مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔

  19. 1997 میں طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

    سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے۔

    اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر ایڈٹ: محمد ابراہیم

  20. وہ پانچ سبق جو 9/11 کے بعد ہم نے سیکھے (یا نہیں)