افغانستان کے لیے انسانی امداد: اقوام متحدہ کا اجلاس آج جنیوا میں ہو رہا ہے
اقوام متحدہ کے زیراہتمام پیر کو جنیوا میں افغانستان کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس ہونے والی ہے۔
اس اجلاس سے پہلے، افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’طالبان رہنما افغانستان میں خواتین کے حقوق کے متعلق عالمی برادری کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔‘
آج کی میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی آدھی آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔
مارٹن گریفتھس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پیر کو طالبان کے نائب وزیر اعظم سے تحریری یقین دہانی حاصل کرنے کی امید کرتے ہیں کہ فلاحی ادارے اور ان کے اتحادی افغانستان میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں گے اور انھیں اپنے معاملات پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گا۔
توقع ہے کہ اس کانفرنس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اس سال کے آخر تک پانچ ملین افغانیوں کو پانچ ملین ڈالر کی امداد فراہم کریں۔
گریفتھس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے تاکہ وہ موجودہ مشکل صورتحال میں افغانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں۔
مارٹن گریفتھس جنھوں نے حال ہی میں ملک میں بے گھر افراد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کابل کا دورہ کیا، نے کہا کہ بے گھر ہونے والوں میں سے دو تہائی نے انھیں بتایا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔