امریکی میڈیا کا کابل میں ڈرون حملے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار
افغانستان میں امریکی افواج کے ڈرون حملے کو امریکی میڈیا میں چیلنج کیا گیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا، لیکن حقیقت میں ایک فلاحی کارکن کو مارا گیا۔
امریکی فوج کی جانب سے اخباری رپورٹوں میں ان اطلاعات کی بھی تردید کی گئی ہے کہ بمبار نے دوپہر کے بعد امریکی فوجی اڈے کے سامنے حملہ کیا۔
پینٹاگون کے ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی یقین ہے کہ ایک ’ممکنہ خطرہ‘ ٹل گیا ہے۔
متاثرین کے رشتہ داروں نے 8 اگست کو بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملے میں ان کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
امریکی فوج ہائی الرٹ تھی کیونکہ تین دن پہلے ایک خودکش حملہ آور نے 100 سے زائد شہریوں اور 13 امریکی فوجیوں کو کابل ایئر پورٹ کے باہر ہلاک کر دیا تھا۔
ٹائمز اور پوسٹ کی تصاویر اور ویڈیو کلپس کا جائزہ لینے اور ماہرین سے مشاورت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ٹارگٹڈ گاڑی میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں رکھا گیا تھا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اسے اس شخص کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک تھا۔
لیکن ٹائمز اور پوسٹ کے مطابق جس شخص کو نشانہ بنایا گیا اس کا نام زمرائی احمدی تھا، جس نے این آئی اے نامی فلاحی ادارے کے لیے خوراک اور تعلیم کے شعبے میں کام کیا، اس ادارے کا صدر دفتر کیلیفورنیا میں ہے۔