لائیو, آبنائے ہرمز میں سعودی تیل لے جانے والے دو ٹینکروں پر حملہ، قطر نے صورتحال ’تمام فریقین کے لیے نقصان دہ‘ قرار دے دی

شپنگ انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کمپنیوں میریسکس اور کپلر کے مطابق پیر کی شب آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب گزرتے ہوئے سعودی تیل لے جانے والے دو ٹینکروں کو چند منٹوں کے وقفے سے نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب قطر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مستقل بندش ’خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائے گی‘ جو کہ ’تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان
  • روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے: انڈین سیکریٹری خارجہ
  • راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
  • وزیر دفاع سے اختلافات، امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی
  • آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن

لائیو کوریج

  1. نیپال میں سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں جاری اور اپنے پیاروں کے غم میں نڈھال خاندان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال میں امدادی کارکنان اور فوجی اہلکار لاپتہ افراد کی تلاش میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی تصاویر تباہی کا اندازہ لگانے کے لیے بھی ناکافی معلوم ہوتی ہیں۔

    متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنے پیاروں کی ہلاکت پر سوگ منا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی چند تازہ تصاویر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد تیل بردار جہاز میں آگ بھڑک اُٹھی: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک بڑے تیل بردار جہاز میں دو بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی ہے۔‘

    ایرانی میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کا انجام اس سے مختلف نہیں ہوگا۔‘

    تاہم یہ واضح نہیں کہ مذکورہ تیل بردار جہاز کا نام کیا تھا یا اس کا تعلق کس ملک سے تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی مالک کمپنیوں سے کہا ہے کہ ’اس آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے کے لیے ایرانی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے بحری جہازوں کی مالک کمپنیوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے کہنے پر کسی دوسرے راستے سے گزرنے کی کوشش کرکے ’دھوکا نہ کھائیں‘ اور اپنے جہازوں کے سامان اور عملے کی جانوں کو بلاوجہ تباہی کے خطرے میں نہ ڈالیں۔‘

  3. نیپال میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد اور اب تک سامنے آنے والی تفصیل

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشننیپالی فوج کے اہلکار دریائے نارایانی میں لاشیں تلاش کر رہے ہیں۔

    نیپال میں ریسکیو آپریشن چھٹے روز میں داخل ہونے کے ساتھ لاپتہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    ملک کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 4,247 ہو گئی ہے، جو اتوار کو 2,502 تھی۔

    لاپتہ افراد میں:

    • 3,655 نیپالی شہری
    • 592 غیر ملکی شامل ہیں۔

    ان میں 933 پن بجلی منصوبوں کے کارکن جبکہ 102 نیپالی فوجی، پولیس اہلکار اور کسٹمز افسران بھی شامل ہیں۔

    ہر روز درجنوں لاشیں مل رہی ہیں اور نیپال میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد اب 903 ہو گئی ہے، جو اتوار کو 781 تھی۔

    تاہم چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاکتوں کی تعداد فی الحال 16 ہے جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔

  4. مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا ’تحریری پیغام‘: ایرانی رہبر اعلیٰ ابھی تک منظرِ عام پر کیوں نہیں آئے؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہوں۔ یہ اپیل انھوں نے ایک تحریری پیغام میں کی، جسے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے شائع کیا۔

    یہ پیغام ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے جن میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کی چوٹیں شدید نوعیت کی تھیں۔

    ارنا کے مطابق، ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں خامنہ ای نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں کو ’حقیقی دشمن کو پہچاننا، اس کی سازشوں کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا‘ چاہیے، اور ان کا اشارہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب تھا۔

  5. بریکنگ, ایرانی فوج کا اردن کے بعد متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک کارروائی کے دوران ’متحدہ عرب امارات میں المنہاد ائیر بیس پر امریکی ہیلی کاپٹروں اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مقام کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ’یہ حملے گذشتہ رات امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیے گئے۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ رات امریکی فورسز نے لارک جزیرے پر ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جوابی کارروائی میں اردن میں دو امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی فوج کے بیان میں آخر میں لارک جزیرے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو خلیج فارس میں ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے اور جہاں قائم ٹرمینلز سے ملک کی خام تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ کیا جاتا ہے۔

  6. نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، 4000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیپال میں 275 انڈین شہری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ انڈین نژاد مزید 128 افراد بھی لاپتہ ہیں۔

    وزارت کے مطابق 403 انڈین شہری چین سے نیپال میں داخل ہوئے جبکہ مزید 500 انڈین شہری چین میں محفوظ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 149 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    انڈیا نے نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے اپنی مدد بھی بڑھا دی ہے۔ 19 رکنی خصوصی فرانزک ٹیم نے کھٹمنڈو میں کام شروع کر دیا ہے جو ڈی این اے نمونوں کے تجزیے اور ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں مدد کر رہی ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تاہم انڈیا کی ایک سرنگوں میں ریسکیو کی ماہر ٹیم چلیمے اور لانگ ٹانگ کے پن بجلی منصوبوں میں نیپالی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    ادھر اس تباہی کے بعد لاپتہ آسٹریلوی شہریوں کی سرکاری تعداد میں بھی روزانہ معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے آج بتایا ہے کہ 43 آسٹریلوی شہری لاپتہ ہیں۔

    آسٹریلیا کے نائب وزیرِ خارجہ میٹ تھیسٹلوائٹ نے اے بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے ان آسٹریلوی شہریوں کو صحیح سلامت تلاش کرنے کی امید نہیں چھوڑی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم لاپتہ آسٹریلوی شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب چین کے زیرِ انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہیں۔

  7. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ’ایم کیو-9‘ ڈرون مار گرایا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا ہے کہ ’ڈرون کو پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ڈرون خلیج فارس کے پانیوں میں گر کر تباہ ہوا ہے۔

  8. ایران جنگ کا خواہاں نہیں، مگر کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا: ایرانی صدر

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایرانی صدر مسعود پزشکیان

    تہران سے کرغزستان روانہ ہونے سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھے گا اور اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘

    صدر پزشکیان نے کہا کہ ’ایران پہلے ہی دنیا کو یہ پیغام پہنچا چکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور یہ سب کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔‘

    ایرانی صدر کے یہ بیانات امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر حملے کے ایک دون بعد سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ ایان کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں ایک کارروائی کے دوران اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مسعود پزشکیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک روانہ ہو گئے ہیں۔

  9. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چار اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری, تابندہ کوکب، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کے حکم پر چار اضلاع میں مکمل جبکہ چار میں جزوی انٹرنیٹ سروس بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    تاہم فی الحال کشیدگی کے شکار علاقوں سدھنوتی و پونچھ میں انٹرنیٹ سروسز مکمل بند رہیں گی۔ یاد رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مظاہرین نے دھرنا دے رکھا ہے۔

    ریاست کے محکمہ داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ، کوٹلی میں براڈ بینڈ اور وائی فائی انٹرنیٹ سروس صرف تعلیمی اداروں (سکول، کالجز، یونیورسٹیوں) کے لیے بحال کی جائے گی۔

    ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بینک برانچز کے ذمہ داران کو حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے مطابق یقینی بنایا جائے گا کہ انٹرنیٹ کنکشن کے ریاستی مفادات اور قومی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ ا سکے علاوہ انٹرنیٹ کنکشنز کو عوامی نظم کے خلاف استعمال کرنے کی اجازی نہیں ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق میرپور، بھمبر، حویلی اور نیلم ویلی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    لیپا ویلی کو بھی مکمل سروس مل گئی جبکہ سدھنوتی،اور راولاکوٹ کی انٹرنیٹ سروس مکمل بند رکھی گئیں۔

  10. نیپال میں تعلیمی اداروں کے 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں: وزارتِ تعلیم

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ تین اضلاع میں کم از کم 19 سکول متاثر ہوئے ہیں۔

    وزارت کے مطابق کم از کم نو سکول مکمل طور پر تباہ اور سات دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    وزارتِ تعلیم و کھیل کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں جبکہ تقریباً 20 طلبہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

    شدید متاثر ہونے والے بیشتر سکول رسوا اور نواکوٹ اضلاع میں ہیں۔

    ان دونوں اضلاع کے کئی سکول، جہاں 2425 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، یا تو وہ سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے ہیں۔

    ایک سکول کی انتظامیہ میں سے ایک فرد نے بتایا کہ ’سیلاب ان کے سکول کی ایک بس بھی بہا لے گیا۔‘

    بی بی سی کی جنوبی ایشیا کی ویژول جرنلزم ٹیم نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ان علاقوں کا نقشہ تیار کیا ہے جہاں سکول سیلاب سے متاثر ہوئے۔

    BBC
    BBC
  11. نیپال اور تبت میں سیلاب: ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری، ہلاکتیں 800 کے قریب

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 800 تک پہنچ گئی ہے۔

    کھٹمنڈو میں بی بی سی نیپالی نے ایسے افراد سے بات کی ہے جو اپنے لاپتہ عزیزوں کی تصاویر اس امید پر ہسپتال کی دیوار پر لگا رہے ہیں کہ شاید ان کا کوئی سراغ مل جائے۔

    دوسری جانب تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے میں امدادی کارکنوں نے اتنا بڑا سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے ذریعے اندر داخل ہو کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کی جا سکتی ہے، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    2500 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سینکڑوں افراد نیپال کے پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے کارکن ہیں۔

    لاپتہ افراد میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

    تباہی اور جانی نقصان کے درمیان کچھ افراد کے بچائے جانے اور امید کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

    چین کے زیرِ انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہیں۔

    شگاتسے کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اب تک کوئی شخص زندہ نہیں ملا۔

  12. امریکی صدر نے ’ایرانی لارک جزیرے‘ پر حملے کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو جاری کر دی

    @realDonaldTrump

    ،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں تیل کی ایک بڑی تنصیب کو دھماکے کے بعد جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’لارک جزیرے کو مکمل طور پر زمین بوس کیا جا رہا ہے!!!‘

    یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

    امریکی فورسز اس سے قبل لارک جزیرے پر ایرانی میزائل لانچ کرنے والے دو مقامات کو نشانہ بنا چکی ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں دو امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    لارک جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے اور ملک کی خام تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ جزیرے پر قائم ٹرمینلز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    BBC
  13. پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش روکنے کے لیے حملہ کیا گیا: سینٹکام

    @CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف امریکی فورسز کی حالیہ کارروائی ’محدود اور انتہائی درست‘ تھی اور اسے جہاز رانی کے لیے موجود ’فوری خطرے‘ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا۔‘

    سینٹکام نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی ’جارحیت‘ تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’ایرانی فورسز نے خود یہ خطرہ پیدا کیا تھا اور امریکی فوج نے شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے اسے ختم کیا۔‘

    تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا ہے کہ ’امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام مکمل کر لیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز میں ’تجارت کے آزادانہ بہاؤ‘ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

    امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس سے ایران میں پیٹرول کی فراہمی پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ ملک میں مقامی پیداوار کی کمی بھی موجود ہے۔

  14. واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا: امریکی وزیرِ خزانہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے باعث چین کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمد کم ہوئی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایران پر معاشی دباؤ کی مہم کی کامیابی کا انحصار چینی کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے پر ہے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے روئٹرز کو بتایا کہ ’جمعے کو متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخوں کے خلاف کارروائی کے بعد اگلا قدم کسی مالیاتی ادارے کی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی مکمل طور پر ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ ان شاخوں پر ایران کے ساتھ مبینہ مالی روابط کا الزام ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’آپ ہر ہفتے اس طرح کی مزید کارروائیاں دیکھیں گے۔ ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انھیں بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ’گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں وہ دیگر ممالک سے بھی ایران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کم کرنے کا مطالبہ کریں گے، بصورتِ دیگر انھیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  15. ایران کی ناکہ بندی کے دوران 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام

    CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’30 اگست تک ایران کی ناکہ بندی کے دوران اُن کی فورسز نے 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا، تین کو ناکارہ بنایا اور دو جہازوں کی تلاشی لی۔‘

    سینٹکام نے یہ اعداد و شمار ایک تصویر کے ساتھ جاری کیے، جس میں ایک امریکی ملاح کو ’ایم ایچ 60 ایس‘ سی ہاک ہیلی کاپٹر کو یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک پر اترنے کے لیے رہنمائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق یہ جنگی جہاز بحیرۂ عرب میں ایران کی امریکی ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

  16. پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں دو امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناردن میں الازرق ایئربیس (فائل فوٹو)

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرو سپیس فورس نے امریکہ کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں اردن میں کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاہم اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں اڈوں پر تکنیکی اور مرمتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ’شدید نقصان‘ پہنچا۔

    آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب ’مزید تباہ کن کارروائیوں‘ سے دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ’لارک جزیرے پر امریکی حملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو کمزور نہیں کر سکے گا۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے فاکس نیوز کے ایک رپورٹر اور ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’ایران نے اردن میں امریکی فورسز کو نشانہ بنایا، تاہم اب تک کسی ’اہم نقصان‘ کی اطلاع نہیں ملی اور تقریباً تمام آنے والے میزائلوں کو روک لیا گیا ہے۔

  17. جزیرہ لارک پر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی

    ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے جزیرہ لارک پر حملے کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کارروائی کا جواب لازمی دیا جائے گا۔

    انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’ہماری قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے‘ کی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں کی قیمت مزید بھاری کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دے گا۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاسدارانِ انقلاب نے جزیرہ لارک پر حملے میں اپنے متعدد اہلکاروں اور شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  18. جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی افواج کی جانب سے جزیرہ لارک پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنانا جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔

    یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی شدت میں کمی آئی تھی اور جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں یا تو ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی جہاز یا کشتی جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گی، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ ہو چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اسے بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع بدستور جاری ہے۔

  19. ترجمان پاسدارانِ انقلاب: جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی کا کہنا ہے کہ ’جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتائج امریکہ کو ’اقتصادی اور عسکری محاذوں پر‘ بھگتنا ہوں گے۔‘

    انھوں نے اس حملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’نام نہاد اقتصادی جنگ‘ کے دوران کی جانے والی ایک ’مہلک سٹریٹجک غلطی‘ قرار دیا ہے۔

    حسین محبی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ اقدام اس کے منصوبہ سازوں کے خلاف طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا اور امریکہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔‘

    واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام کی 200 روزہ مزاحمت‘ کے بعد ’دشمن‘ اب نفسیاتی جنگ کے ذریعے ’قومی استحکام اور عوامی ثابت قدمی کو کمزور کرنے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’ایران کے خلاف جاری دباؤ کا مقصد عوامی اعتماد کو متاثر کرنا اور داخلی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم ایرانی قوم ان کوششوں کے مقابلے میں اپنی مزاحمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘

  20. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے جزیرہ لارک پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے ’چند‘ اہلکاروں اور علاقے مکینوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    • گذشتہ روز پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے استنبول میں ملاقات ہوئی۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا کہ ’وینزویلا کے تیل کو امریکہ کے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹریٹجک تیل ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
    • ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست یعنی آج استنبول میں منعقد ہوگا۔