لائیو, امریکہ کے ایران پر تازہ حملوں میں دو ہلاکتوں کی تصدیق، پاسدارانِ انقلاب کا اُردن میں امریکی اڈے پر حملہ

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ’اردن میں موجود امریکی اڈوں‘ پر میزائل داغے ہیں۔ صوبہ ہرمزگان کے علاقے ’سرک‘ میں امریکی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

خلاصہ

  • جنوبی ایران پر امریکی حملہ؛ چاہ بہار، بندر عباس اور قشم میں دھماکوں کی اطلاعات
  • اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو 'سخت' جواب دیں گے: صدر ٹرمپ کا انتباہ
  • امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان
  • روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے: انڈین سیکریٹری خارجہ
  • راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
  • وزیر دفاع سے اختلافات، امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی
  • آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن

لائیو کوریج

  1. پاسدارانِ انقلاب نے ’اردن میں موجود امریکی اڈوں‘ پر میزائل داغے ہیں: ایرانی میڈیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے ’اردن میں موجود امریکی اڈوں‘ پر میزائل داغے ہیں۔

    ایرانی ذرائع نے اردن میں واقع ’موفق السطلی‘ اڈے کو پاسدارانِ انقلاب کے نئے میزائل حملوں کا ہدف قرار دیا ہے اور اردن میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے علاقے ’سرک‘ میں امریکی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    صوبہ ہرمزگان کے گورنر کے نائب برائے سکیورٹی امور نے ایرانی نشریاتی ادارے (IBC) کو بتایا کہ ’سرک‘ کے پہاڑی گاؤں میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی حملے میں دو افراد ہلاک اور تقریباً 50 دیگر زخمی ہوئے۔

    ایران کی سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ 'سرک' کے پہاڑی گاؤں پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک ’چار سالہ بچہ‘ بھی شامل تھا۔

    ایران میں خبر رساں ذرائع نے فضائی حملے کے مقام اور وہاں جاری امدادی سرگرمیوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔

  2. ایران نے امریکی حملے کے بعد جوابی کارروائی کا اغاز کر دیا: ایرانی خبر رساں ادارے کا دعویٰ

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی میں میزائل اور ڈرونز داغے جا رہے ہیں۔

    کرمان کے نائب گورنر برائے سیاسی و سکیورٹی امور رحمان جلالی نے کہا کہ امریکی حملوں میں جیرفت ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی رن وے یا ہوائی اڈے کی عمارتوں کو کوئی نقصان پہنچا۔

    اس کے علاوہ، عسلویہ انتظامیہ نے بھی شہر میں دھماکے کی آواز سنے جانے کی اطلاع دی ہے۔

  3. چابہار اور کونارک میں چار پروجیکٹائل گرنے کی تصدیق

    ایرانی صوبے ہرمزگان کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب ہوئے ہیں۔

    ہرمزگان کے گورنر کے نائب برائے امورِ سیاسی، سکیورٹی و سماجی اُمور کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر آوازوں کا تعلق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے پانیوں میں ہونے والی کشیدگی سے تھا، اور اس صوبے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘

    احمد نفیسی نے کہا کہ ان حملوں کو ’صوبہ ہرمزگان اور ساحلی علاقوں میں دیکھا گیا۔‘

    اسی دوران، صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر کے نائب برائے سکیورٹی امور نے اعلان کیا کہ چار پروجیکٹائل چابہار اور کونارک شہروں میں گرے ہیں۔

  4. امریکہ کو اس کے نئے حملوں پر سخت سزا ملے گی: ایرانی پاسدارانِِ انقلاب کی دھمکی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حملے کا ’سخت‘ جواب دیں گے۔

    منگل کو امریکی حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے ترجمان نے کہا امریکہ کو ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور یہ اپنے نئے حملوں پر پچھتائے گا۔

    انقلابی گارڈز کے ترجمان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوابی کارروائیوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

  5. اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو ’سخت‘ جواب دیں گے: صدر ٹرمپ کا انتباہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو اس بار امریکہ کا ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

    اس سے پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا تھا کہ امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ منگل کی شب امریکہ نے ایران پر ’جائز‘ حملے کیے، جواب میں اگر ایران نے کارروائی کی تو امریکہ دوبارہ حملہ کرے گا۔

    اس سے پہلے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اُردن میں امریکی اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حملے کا ’سخت‘ جواب دیں گے۔ ایران نے اس حملے کو امریکی حملوں کا جواب قرار دیا۔

  6. جنوبی ایران پر امریکی حملہ؛ چاہ بہار، بندر عباس اور قشم میں دھماکوں کی اطلاعات

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی طیاروں نے منگل کو پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

    سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوج پر پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا ردِعمل ہیں۔

    فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ کونارک، چاہ بہار، بندر عباس، سیرک اور قشم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

  7. اگر ایران خلیج فارس سے تیل نہیں برآمد کرے گا تو پھر کوئی نہیں کرے گا: قالیباف

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی میڈیا میں ’عوام سے گفتگو‘ کے عنوان سے محمد باقر قالیباف کی ایک ویڈیو شائع کی گئی ہے، جس میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر نے مختلف موضوعات پر بات کی ہے۔

    ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کا اس ویڈیو میں کہنا تھا کہ ’اگر دشمن کی خواہش یہ ہے کہ ہم خلیجِ فارس سے تیل برآمد نہ کریں، تو پھر یہاں سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔‘

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’دشمن کا مقصد ہائبرڈ جنگ کے ذریعے ملک کے اندر دہشت گردی اور محدود فوجی حملوں کے ساتھ افراتفری پھیلانا ہے۔ اگر وہ محاصرہ مزید سخت کرتے ہیں تو ہم یقینی طور پر عسکری طور پر جواب دیں گے اور سب کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اگر امریکہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو ہم اسے طاقت کی زبان میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کریں گے‘ اور یہ کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی، رہبرِ انقلاب کی ہدایت کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔‘

    ان کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد ’ہم نے آٹھ کروڑ سے زیادہ بیرل تیل برآمد کیا اور ضروری اشیا کی درآمد کے سلسلے میں بھی اچھے اقدامات کیے۔‘

  8. آبنائے ہرمز میں سعودی تیل لے جانے والے دو ٹینکروں پر حملے

    Strait of Hormuz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    شپنگ انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کمپنیوں میریسکس اور کپلر کے مطابق پیر کی شب آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب گزرتے ہوئے سعودی تیل لے جانے والے دو ٹینکروں کو چند منٹوں کے وقفے سے نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق میریسکس کا کہنا ہے کہ ’تقریباً بیک وقت پیش آنے والے یہ واقعات عمانی کوریڈور میں خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘

    کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ٹینکروں نے گذشتہ ہفتے جویمہ ٹرمینل سے سعودی خام تیل کے 20 لاکھ، 20 لاکھ بیرل لادے تھے۔

    کپلر کے مطابق سعودی آرامکو نے اگست میں آبنائے ہرمز کے اندر واقع تنصیبات سے تیل کی لوڈنگ اور فروخت دوبارہ شروع کر دی تھی۔

    اس سے قبل برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تنظیم کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر کر باہر نکل رہا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمان کے علاقے خصب سے تقریباً 31 کلومیٹر مشرق میں جہاز پر تین نا معلوم میزائل نما اشیا آ کر لگیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ برطانوی ادارے نے واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

    دوسری جانب اس رپورٹ کے سامنے آنے سے چند گھنٹے قبل ایران کے بعض غیر سرکاری ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایرانی ساحل سے تین میزائل داغے جانے کی خبریں نشر کی تھیں، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

  9. نیو یارک کے ٹائمز سکوائر کے قریب چاقو حملے میں ایک خاتون ہلاک، مشتبہ حملہ آور بھی ماری گئیں, مالو کرسینو، بی بی سی نیوز

    نیویارک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں پیر کی سہ پہر ایک چاقو حملے میں 32 سالہ خاتون ہلاک ہو گئیں جبکہ ایک زخمی شخص ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

    دو چاقوؤں سے مسلح ایک مشتبہ خاتون حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تینوں افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں متاثرہ خاتون اور مشتبہ حملہ آور دونوں کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

    پولیس نے بعد میں مقتولہ کی شناخت بینک آف امریکہ کی ملازم ایرن پیاسینٹی کے نام سے کی، جبکہ زخمی مرد کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

    نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کمشنر جیسیکا ٹش نے اس واقعے کو کو ’بلا اشتعال‘ حملہ قرار دیا۔

    ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹش نے کہا کہ این وائی پی ڈی کے کال سینٹر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 4:24 بجے شام (21:00 بی ایس ٹی) متعدد 911 کالز موصول ہوئیں، جن میں اطلاع دی گئی کہ دو چاقو لیے ایک خاتون ٹائمز سکوائر میں سیونتھ ایونیو کے ساتھ لوگوں پر حملے کر رہی ہیں۔

    ٹش نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ خاتون ایک ایسے مرد کے قریب گئیں جو ابھی سب وے سے باہر ہی نکلا تھا اور اپنی اہلیہ کے ساتھ سڑک عبور کرنے کے لیے انتظار کر رہا تھا۔

    انہوں نے کہا ’موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے مشتبہ خاتون کو پہلے ایک سرخ ٹارگٹ بیگ سے دو چاقو نکالتے دیکھا، جس کے بعد وہ پہلے متاثرہ شخص کی طرف بڑھیں۔‘

    ’مشتبہ خاتون نے چاقو لہراتے ہوئے 68 سالہ شخص کے پیٹ کے دائیں جانب وار کیا، جو بظاہر ایک بلا اشتعال حملہ معلوم ہوتا ہے۔‘

    68 سالہ زخمی شخص کو بیلیوو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اب ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔

    Knifes

    ،تصویر کا ذریعہNYPD

    اس کے بعد مشتبہ خاتون سیونتھ ایونیو پر 42ویں سٹریٹ کی جانب بڑھتی رہیں، جہاں انھوں نے دوسرے متاثرہ فرد، ایرن پیاسینٹی، پر حملہ کیا۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

    بینک آف امریکہ نے روئٹرز کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا: ’ہم اپنی ساتھی کی المناک موت پر صدمے اور گہرے رنج میں مبتلا ہیں۔ وہ ہماری ٹیم کی ایک قابلِ قدر رکن تھیں اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ ہماری ہمدردیاں ان کے اہلِ خانہ اور تمام عزیز و اقارب کے ساتھ ہیں۔‘

    این وائی پی ڈی کی کمشنر کے مطابق مشتبہ خاتون اس کے بعد سیونتھ ایونیو پر آگے بڑھتی رہیں، جس دوران پولیس اہلکاروں نے انہیں ہتھیار پھینکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور تقریباً چار منٹ تک ان سے بات کرتے رہے۔

    جیسیکا ٹش نے کہا: ’اس دوران مشتبہ حملہ آور نے اہلکاروں سے کہا ’میں کچھ بھی نہیں پھینک رہی، میں آپ دونوں کو قتل کرنا پسند کروں گی۔‘ انھوں نے یہ جملہ بھی دہرایا ’میں تمہیں قتل کر دوں گی۔‘

    مشتبہ خاتون نے پولیس اہلکاروں کی جانب چاقو لہرائے، جس پر اہلکاروں نے ٹیزر استعمال کیے، لیکن وہ ’غیر مؤثر‘ ثابت ہوئے اور اانھیں پولیس کی جانب بڑھنے سے نہ روک سکے۔

    اس کے بعد این وائی پی ڈی کے اہلکاروں نے خاتون پر گولی چلائی۔ بیلیوو ہسپتال میں مشتبہ خاتون حملہ آور کو بھی مردہ قرار دے دیا گیا۔

    مشتبہ خاتون کی شناخت نیویارک شہر کے علاقے کوئنز کی 49 سالہ پامیلا سِسنیروس کے طور پر ہوئی۔

    ٹِش کے مطابق انہیں اس سے قبل کبھی گرفتار نہیں کیا گیا تھا، تاہم ’این وائی پی ڈی کے پاس ان کی ذہنی صحت سے متعلق سابقہ ریکارڈ موجود تھا، جس میں ایک واقعہ 2018 اور ایک 2019 کا تھا۔‘

    بوسٹن سے آنے والی ایک سیاح میلنڈا پوزون نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے گولیوں کی آواز سنی اور ’سڑک پر بہت زیادہ لوگوں‘ کو دیکھا۔

  10. زیارت کراس میں کسٹمز ہاؤس پر حملے میں دو افسران سمیت سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک، دو مختلف واقعات میں 21 شدت پسند بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پیر کی شب بلوچستان میں پیش آئے دو مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں سکیورٹی فورسز کے دو افسران سمیت پانچ اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعات بلوچستان میں نوکچہ (ضلع چاغی) اور زیارت کراس (ضلع پشین) کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

    زیارت کراس میں کسٹمز ہاؤس پر حملہ

    آئی ایس پی آر کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک شدت پسندوں نے ضلع پشین میں واقع کسٹمز ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم اس موقع پر ’سکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیتے ہوئے‘ 10 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر ہونے والی فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں فوج کے پانچ اہلکار (جن میں دو افسران بھی شامل ہیں)، جبکہ محکمہ کسٹمز کے ایک اہلکار ہلاک ہوئے۔

    ضلع پشین میں سرکاری حکام کے مطابق شدت پسندوں کے اس حملے کے نتیجے میں کسٹمز ویئر ہاؤس میں موجود گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    پشین میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں اُن گاڑیوں کو آگ لگی جو مختلف کیسز میں پکڑی گئی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ابتدا کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔

    پشین کے علاقے زیارت کراس میں واقع کسٹمز ہاؤس پر ہونے والے اس حملے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جن میں گاڑیوں میں آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    منگل کے روز پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کسٹمز گودام میں بھڑکنے والی آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے واقعے پر فوری ردِ عمل دیا اور کوشوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔

    زیارت کراس ضلع پشین میں کوئٹہ شہر سے شمال مشرق میں اندازا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ زیارت کراس کے مقام پر محکمہ کسٹمز کی ایک بڑی چیک پوسٹ اور ویئر ہاؤس کے علاوہ سیکورٹی فورسز اور پولیس کی بھی چیک پوسٹیں موجود ہیں۔

    زیارت کراس کے قرب و جوار کے علاقوں میں وقتاً فوقتاً بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ اس سے قبل زیارت کراس سے اندازاً چالیس سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت میں جولائی کے پہلے ہفتے میں مانگی کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 22 اہلکاروں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’کسٹمز ہاؤس پر حملہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا مظہر تھا، جس کا مقصد کسٹمز حکام کو ان کی قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنا اور علاقے میں مجرمانہ سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔‘

    سکیورٹی فورسز کے مطابق گرد و نواح کے علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ شدت پسند کا خاتمہ کیا جا سکے اور مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ اہم قومی شاہراہوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر کیا واقعہ پیش آیا؟

    آئی ایس پی آر کے مطابق31 اگست (پیر) کو کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے این-40 کوئٹہ تا تفتان شاہراہ پر ’مسافروں کی پرامن آمد و رفت میں خلل ڈالنے اور بھتہ خوری کی غرض سے ایک غیرقانونی چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی۔‘

    اعلامیے کے مطابق یہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی جس کے نتیجے میں 11 عسکریت پسند موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

  11. اسرائیلی وزیر دفاع کا حماس کے سینیئر رُکن کو حراست میں لینے کا دعویٰ

    Israel Katz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے فلسطینی مسلح گروہ حماس کے ایک سینیئر رُکن کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی سپیشل فورسز اور اسرائیل کے حمایت یافتہ فلسطینی گروہ کی ایک چھاپہ مار کارروائی کی خبریں چل رہی تھیں۔

    غزہ میں مقامی میڈیکل ورکرز کا کہنا ہے کہ اس دوران اسرائیل کی فضائی کارروائی میں دو بچے اور ایک خاتون ہلاک ہوئی ہیں، جبکہ وسطی غزہ میں ایک علیحدہ واقعے میں بھی ایک بچہ ہلاک ہوا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے حماس کے سینیئر رکن کون ہیں اور انھیں کس نے حراست میں لیا ہے۔

    تاہم شمالی غزہ سے متصل علاقے نیٹیو ہاعسارا میں رہائش پزیر اسرائیلیوں سے ملاقات کے بعد اسرائیل کاٹز نے کہا کہ علاقے میں اسرائیلی افواج کی سرگرمیاں ’ہر وقت جاری رہتی ہیں۔‘

    انہوں نے مزید کہا ’کچھ ہی دیر پہلے حماس کے ایک سینئر دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا اور یہی ہماری پالیسی ہے۔ ہم خطرات کا انتظار نہیں کرتے بلکہ حماس کے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہیں، انہیں ناکام بناتے ہیں اور ان کے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرتے ہیں۔‘

    اس سے قبل غزہ شہر کے مغربی حصے کے ایک گنجان آباد علاقے میں فلسطینیوں نے شدید اسرائیلی بمباری کی اطلاع دی تھی، جس میں دو گاڑیاں تباہ ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

    ویڈیوز میں افراتفری کے مناظر، فائرنگ کی آوازیں اور حملوں کے بعد کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سپیشل فورسز اور اسرائیل نواز فلسطینی ملیشیا کے ارکان اس علاقے میں داخل ہوئے تھے، تاہم ان کی موجودگی کا پتا چل گیا۔ بعض اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ زمینی کارروائی میں صرف ایک مقامی مسلح ملیشیا شریک تھی۔

    ایک فلسطینی سکیورٹی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی کارروائی کا ہدف حماس کی داخلی سکیورٹی سروس کے ایک سینئر عہدیدار تھے۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام سرکاری میڈیا دفتر کے ترجمان اسماعیل الثوابتحہ کے مطابق ’اسرائیلی سپیشل فورسز کے ایک یونٹ نے غزہ شہر میں ایک کارروائی کی کوشش کی، لیکن مشن کے دوران اس یونٹ کی موجودگی کا انکشاف ہو گیا۔‘

    انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ’متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ سپیشل فورسز کے یونٹ کے کئی ارکان بھی مارے گئے۔‘

  12. آبنائے ہرمز کی مستقل بندش ’تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ہے‘: قطر

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مستقل بندش ’خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائے گی‘ جو کہ ’تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

    منگل کو میڈیا بریفنگ کے دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے دیگر ثالثوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں سے بھی رابطے میں ہے۔

    ماجد الانصاری نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آ کر بحران کا حل تلاش کریں۔

    ’خلیجی ریاستوں نے ماضی کے بحرانوں پر قابو پانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، جس کا سہرا ان کی قیادت کی دانشمندی، ان کی معیشتوں کی مضبوطی اور عالمی سطح پر ان کے مقام کو جاتا ہے، جبکہ وہ ثالثی اور تنازعات کے حل میں اپنا فعال کردار بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

  13. روس ’مشکل دور میں‘ تہران کی مدد کر رہا ہے: صدر پوتن

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کو ’سراہتے‘ ہوئے کہا ہے کہ ماسکو ’اس مشکل دور‘ میں تہران کی مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق اقدامات کر رہا ہے۔

    یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا ’ہم قومی مفادات کے دفاع میں آپ کی جرات اور استقامت کی قدر کرتے ہیں۔‘

    روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روسی صدر نے مزید کہا کہ ’اس مشکل دور میں ہم آپ کو درکار معاونت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بارے میں ہماری بات چیت ہو چکی ہے۔ ہم ضروری سامان فراہم کر رہے ہیں۔‘

    ملاقات کے دوران پوتن نے روس اور ایران کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بھی سراہا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ ’عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود‘ ترقی کر رہے ہیں۔

    ’یہ بنیادی طور پر روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن کی مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتا ہے اور جس کا تازہ ترین اجلاس حال ہی میں ہوا ہے۔‘

  14. پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: پاکستانی وزیر اعظم

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو ’کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

    وزیر اعظم نے انڈیا کا نام نہیں لیا لیکن وہ اپنے خطاب میں نئی دہلی کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی طرف ہی اشارہ کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا: ’پانی ہمارے خطے میں زندگی کی بنیاد ہے۔ یہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ اسے کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ نہ ہی اسے دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔‘

    ’ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں۔ یہ ایسے سیاسی معاملات نہیں جنہیں مرضی کے مطابق نظر انداز کر دیا جائے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

    ’پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، پائیدار امن ہماری پہنچ سے دور رہے گا۔’

  15. عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقاتیں اور بیٹوں سے فون پر گفتگو کروائی جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    Adiala Jail

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں قید تنہائی کے خلاف درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

    اسلام اباد ہائی کورٹ نے یہ درخواستیں نصرت بھٹو اور بیگم شمیم آفریدی کیس کے فیصلوں کے مطابق قابل سماعت قرار دیں۔

    درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس خادم حسین سومرو نے سنایا۔

    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اپنے بھائی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو بشریٰ بی بی سے عمران خان کی ملاقات کروانے ہدایت کی ہے اور اس کے ساتھ عمران خان کی جیل قوانین کے مطابق اہلخانہ سے ملاقات کروانے کا بھی حکم بھی دیا گیا ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کروائی جائے۔ تاہم فیصلے کے مطابق اگر عمران خان کی آڈیو ریکارڈ کر کے اس کا غلط استعمال ہوتا ہے تو یہ سہولت واپس لے لی جائے گی۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں اور جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ یہ یقینی بنائیں کہ بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں نہ رکھا جائے۔

    عدالت نے جیل حکام سے پندرہ روز میں ان احکامات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔

  16. نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی، ہزاروں افراد تاحال لاپتہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ ایسے کارکن بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے پن بجلی کے منصوبوں میں موجود مٹی سے بھرے سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    ان سرنگوں میں ہوا پہنچانے کے لیے انجینیئرز پمپس استعمال کر رہے ہیں۔ ایک امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کو نہ پانے کے بعد ٹیم واپس آ گئی۔

    بی بی سی نیپالی سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ انجینیئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ ہم انھیں تلاش کر سکیں۔ میری خواہش ہے کہ وہ گھر واپس آ جائیں۔‘ اوروس ایک پن بجلی منصوبے کی سائٹ سے لاپتہ ہیں۔

    نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے پیر کو بتایا کہ ان منصوبوں کی سائٹس سے 279 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    امدادی کارروائی کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

    Nepal Army/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہNepal Army/Reuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
  17. امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان بشکیک میں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی معاہدے پر عمل درآمد فوری طور پر دوبارہ شروع کر دے گا۔

    شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر کے دستخط موجود تھے، تاہم اس دستاویز سے امریکہ کی وابستگی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک برقرار رہی۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے جواب میں ایران نے بھی متناسب ردعمل دیا تھا۔

  18. روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے: انڈین سیکریٹری خارجہ

    وکرم مسری، انڈین سیکریٹری خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا ہے کہ روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل کے مطابق کرغزستان کے دار الحکومت بشکیک میں وکرم مصری سے اُن انڈین شہریوں کے بارے میں سوال پوچھا گیا جو روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    وکرم مصری نے جواب دیا کہ روسی مسلح افواج میں انڈین شہریوں کی بھرتی کا معاملہ انڈیا اور روس کے درمیان مختلف سطح پر متعدد بار زیرِ بحث آ چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ماسکو میں انڈیا کا سفارتخانہ روسی فوج میں شامل انڈین شہریوں کی وطن واپسی کے عمل کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

    سیکریٹری خارجہ نے کہا: ’ہمارے پاس دستیاب معلومات کے مطابق 227 انڈین شہریوں کے روسی فوج میں بھرتی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے 139 شہریوں کو فوجی خدمات سے فارغ کیا جا چکا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’افسوسناک طور پر اب تک 51 انڈین شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔‘

  19. اسمبلی اجلاس کے دوران سابق افغان فوجیوں کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ، حکومت نے شواہد طلب کر لیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے متصل پاکستانی علاقوں میں ہزاروں سابق افغان فوجی لائے گئے ہیں، تاہم صوبائی حکومت نے اس دعوے کے ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات یا شواہد موجود نہیں۔

    ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے امن و امان سے متعلق ایک قرار داد پر بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا۔ مذکورہ قرار داد عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی انجینیئر زمراک خان اچکزئی نے پیش کی تھی، جس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    بحث میں حصہ لیتے ہوئے فضل قادر مندوخیل نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور کے ہزاروں افغان فوجی ان کے علاقے میں لائے گئے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ان افراد کو وہاں کیوں منتقل کیا گیا ہے۔

    قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے اظہار خیال کیا، تاہم اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اس دعوے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    بعد ازاں اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس سابق افغان فوجیوں کی موجودگی سے متعلق معلومات ہیں تو انھیں اس کے شواہد بھی پیش کرنے چاہییں۔

    انھوں نے کہا کہ اسمبلی ایک ذمہ دار فورم ہے اور وہاں حقائق اور شواہد کی بنیاد پر گفتگو ہونی چاہیے۔

    بخت محمد کاکڑ کے مطابق، بغیر ثبوت کے اس نوعیت کے دعوے ’عوام میں بے چینی اور کنفیوژن‘ پیدا کر سکتے ہیں۔

    فضل قادر مندوخیل کی جانب سے سابق افغان فوجیوں کی موجودگی سے متعلق دعوے کے حوالے سے اجلاس یا بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، جبکہ صوبائی حکومت نے بھی کہا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں اس کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں۔

  20. بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر ایرانی اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی

    ،تصویر کا ذریعہTelegram/s_a_araghchi

    شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے دوسرے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی الگ ملاقات کی۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بشکیک میں جاری ہے، جس میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، انڈین وزیراعظم نریندر مودی سمیت رکن ممالک کے دیگر رہنما شرکت کر رہے ہیں۔