لائیو, حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کے دوران حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے اور تعز پر ایک سعودی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ شام، سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اے آئی چپس کی طلب میں اضافہ، سام سنگ کو ریکارڈ 80 ارب ڈالر منافع کی توقع

    Samsung

    جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اسے اپنی سہ ماہی آمدنی میں نو گنا اضافے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

    سام سنگ کے اندازے کے مطابق ستمبر کے اختتام تک تین ماہ کی مدت کے لیے اس کا آپریٹنگ منافع بڑھ کر 107.4 کھرب وون (80 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مسلسل چوتھی سہ ماہی ہوگی جس میں کمپنی کو ریکارڈ منافع حاصل ہو گا۔

    سام سنگ دنیا میں میموری چِپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مقامی حریف ایس کے ہائنکس اور امریکہ کی مائکرون بھی ایسی چِپس تیار کرتی ہیں جو اینویڈیا جیسی اے آئی کمپنیوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    جنوبی کوریائی کمپنی کو اگست میں متعارف کروائی گئی اپنی نئی فولڈنگ ڈیوائسز سے بھی منافع کی توقع ہے۔

    کمپنی کے تیسرے سہ ماہی کے مکمل مالی نتائج اکتوبر کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔

    مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹر چِپس کی عالمی سطح پر طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی سے وابستہ چِپ ساز کمپنیوں کی آمدنی اور حصص کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  2. رائل نیوی کے اہلکار کو غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزام پر تحویل میں لیا گیا ہے: برطانوی پولیس

    UK Royal Navy

    برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ رائل نیوی کے ایک اہلکار پر ایک غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بیڈفورڈشائر سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ ٹیڈی ینگ پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کا ایک الزام بھی شامل ہے، جس سے ایک نامعلوم غیر ملکی طاقت کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

    انھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے اور انھیں جمعرات کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج کے ایک حاضر سروس رکن کے خلاف یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ الزامات رائل ایئر فورس کے اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ کے حالیہ واقعے سے متعلق نہیں، جس کے بعد اڈے کے قریب مشتبہ سرگرمی کی اطلاع پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    منگل کو اس واقعے کے سلسلے میں ایک ساتویں شخص کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی پولیس بدستور کر رہی ہے۔

    ٹیڈی ینگ کو منگل کے روز بیڈفورڈشائر میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    الزامات 26 نومبر 2024 سے 21 مئی 2025 کے درمیان کے عرصے سے متعلق ہیں اور ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ینگ نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’ۂگمعلومات افشا کرنے کے جرم کی تیاری کے لیے" اقدامات کیے تھے۔

  3. مقبوضہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی سرگرمیاں بند، صرف سات سفارت کاروں کو محدود سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت: اسرائیل

    UK Consulate

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے سے زیادہ تر سفارت کار واپس چلے جائیں گے، تاہم برطانیہ کا اصرار ہے کہ قونصل خانہ ’بند نہیں کیا جا رہا‘ اور ’برطانوی مشن‘ کے طور پر کام کرجاری رکھے گا۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں لکھا کہ ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ بات یہاں تک پہنچے۔‘

    انھوں نے کہا کہ 20 سفارت کار اور قونصل جنرل اسرائیل چھوڑ دیں گے، جبکہ سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم عمارت میں رہ سکتی ہے، لیکن اس کی سرگرمیوں کا دائرہ ’بہت محدود‘ ہوگا۔

    برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جواب میں کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اہلکاروں کو ’عارضی طور پر واپس بلا لیا گیا‘ ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ مشن ’فلسطینی عوام کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔‘

    اسرائیل نے ستمبر میں کہا تھا کہ وہ قونصل خانہ بند کر دے گا۔ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا، جنھیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

    1838 میں قائم ہونے والا برطانیہ اس قونصل خانے کو یروشلم کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    یہ تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے الگ ہے، جو اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کا بنیادی مرکز ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے کہا کہ ملک نے 8 ستمبر کو برطانوی پابندیوں کے جواب میں اعلان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ آج اپنی سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے۔‘

    تاہم جمعرات کی صبح عمارت کے باہر برطانوی پرچم اب بھی لہراتا ہوا دیکھا گیا، جبکہ متعدد اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہوتے بھی دیکھا گیا۔

    سعار نے تسلیم کیا کہ یہ عمارت ’برطانوی حکومت کی ملکیت‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے عمارت میں کام جاری رکھنے کے لیے ’صرف سات سفارت کاروں پر مشتمل ایک ٹیم کو محدود پیمانے پر سرگرمیاں‘ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

    UK Consulate
    ،تصویر کا کیپشنیروشلم میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے
  4. ’21 لاکھ گمشدہ‘ گولیوں کی خبر پر صحافی کو سائبر کرائم نوٹس، صحافتی تنظیموں کا احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    حماد علی

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حماد علی کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ایک خبر کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    نجی ٹی وی چینل 92 سے وابستہ صحافی حماد علی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نوٹس سابق لیویز فورس کے اسلحے سے متعلق اپنی ایک خبر پر جاری کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد چھوٹے اسلحے کی لاکھوں گولیاں ریکارڈ کے مطابق منتقل نہیں ہوئیں۔

    صحافی کو یہ نوٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ این سی سی آئی اے کے حکام کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ سابق لیویز فورس کے ایک اہلکار کی شکایت پر ان سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔

    حماد علی نے بتایا کہ ان کی خبر میں پولیس کے تحفظات کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے مطابق پولیس کو ایس ایم جی سمیت چھوٹے اسلحے کی تقریباً 28 لاکھ گولیاں منتقل ہونی چاہیے تھیں، تاہم ریکارڈ کے مطابق تقریباً چھ لاکھ گولیاں ہی موصول ہوئیں، جبکہ 21 لاکھ سے زائد گولیوں کا فرق سامنے آیا۔

    ان کے بقول این سی سی آئی اے حکام نے انھیں بتایا کہ شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خبر سے اس کی دل آزاری ہوئی اور سابق لیویز فورس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

    Balochistan Levies Force/FACEBOOK
    ،تصویر کا کیپشنبرٹش بلوچستان میں سب سے پہلے سر رابرٹ سنڈیمن نے 1887 میں لیویز فورس کو قائم کیا

    حماد علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکام سے پوچھا کہ جب خبر میں کسی فرد کا نام تک نہیں لیا گیا تو کسی مخصوص شخص کی دل آزاری کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ جس فورس کا حوالہ دیا گیا اس کا پولیس میں انضمام ہو چکا ہے۔

    صحافی کے مطابق انھوں نے اپنی خبر کے حق میں شواہد بھی پیش کیے، جن میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ایک ایف آئی آر شامل تھی۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں سابق لیویز اہلکار روشن خان کے گھر پر چھاپے، اسلحے اور بڑی تعداد میں گولیوں کی برآمدگی کا ذکر موجود ہے اور اس سلسلے میں گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انھیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور مزید شواہد فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

    دریں اثنا بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے صحافی کو نوٹس جاری کرنے اور بار بار طلب کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے صدر منظور احمد رند اور جنرل سیکریٹری شاہ حسین ترین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو نوٹسز، مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کا رجحان تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی پر ہراساں کرنا آزادیِ صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر بلوچستان بار کونسل کے رکن اور سینیئر وکیل راحب خان بلیدی نے بھی صحافی کے خلاف کارروائی کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر دباؤ میں لانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

  5. پونچھ میں گرفتار پاکستانی لڑکی وطن واپس، کولگام میں پانچ مبینہ سہولت کار گرفتار, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    Kashmir
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے انڈین علاقے میں داخل ہونے والی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک نوجوان لڑکی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    فوج کے مطابق 19 سالہ سامیہ عظیم، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ کے گاؤں بھینس گالا کی رہائشی ہیں، دو اکتوبر کو مبینہ طور پر غلطی سے راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی عبور کر کے انڈین علاقے میں داخل ہو گئی تھیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کا سرحد پار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ نادانستہ طور پر دوسری جانب پہنچ گئی تھی۔ فوج کے مطابق بُدھ کے روز پونچھ کے چکن دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد انھیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ کارروائی کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھیں حکام نے عسکریت پسندوں کے مبینہ سہولت کار قرار دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت تجمل حسین میر، رحمت علی نائیکو، تحریم احمد بٹ، منظور احمد بٹ اور کفایت احمد ڈار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان کے قبضے سے دو پستول، تین میگزین، 40 گولیاں اور تین دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ادھر شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک پرانی زیرِ زمین پناہ گاہ کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حکام کے مطابق پناہ گاہ سے ایک اے کے 47 رائفل، تین ہینڈ گرنیڈ، 857 اے کے راؤنڈز، 192 پیکا راؤنڈز، آٹھ میگزین، ایک سائلنسر اور پستول کی 83 گولیاں برآمد کی گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گاہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی اور اس کارروائی سے علاقے میں عسکریت پسندی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں ہندوارہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  6. روہنگیا پناہ گزینوں کے بعد کشمیر میں بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا آغاز, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    Bangladesh

    انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب حکام نے بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 300 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وادئ کشمیر اور جموں میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف حکومتی اقدامات میں تیزی آئی ہے، جس کے تحت بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت اور ان کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق انڈین وزارتِ داخلہ کی جانب سے مئی میں تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ وادیٔ کشمیر اور جموں میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تقریباً 600 غیر قانونی تارکینِ وطن کئی برسوں سے مقیم ہیں۔

    Kashmir

    بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا پس منظر

    انڈین حکام کے مطابق جموں و کشمیر، خصوصاً جموں کے مختلف علاقوں میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمان گذشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان میں سے متعدد افراد قانونی سفری دستاویزات یا ویزا کے بغیر سرحد پار کرکے یہاں پہنچے۔

    حالیہ برسوں میں سکیورٹی خدشات اور آبادیاتی توازن برقرار رکھنے کے نام پر ان کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ مختلف آپریشنز کے دوران متعدد بنگلہ دیشی شہریوں کو حراستی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کی شہریت کی تصدیق کے بعد انھیں فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے۔

    ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کو دو الگ الگ گروپوں میں تقریباً 300 بنگلہ دیشی شہریوں کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے کیا گیا، جہاں سے انھیں بنگلہ دیش منتقل کیا جا رہا ہے۔

    Kashmir

    روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں

    بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کو روہنگیا پناہ گزینوں کی بے دخلی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سنہ 2017 میں میانمار کی ریاست راکھین میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان بے گھر ہوئے۔ ان میں سے بیشتر نے بنگلہ دیش میں پناہ لی، جبکہ چند ہزار افراد طویل سفر طے کر کے جموں و کشمیر پہنچے، جہاں وہ عارضی بستیوں میں آباد ہو گئے۔

    انڈین حکومت روہنگیا باشندوں کو قانونی پناہ گزین کا درجہ نہیں دیتی، کیونکہ انڈیا نے 1951 کے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے۔ اسی پالیسی کے تحت روہنگیا افراد کو بھی حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

    سکیورٹی اور آبادیاتی خدشات

    بی جے پی اور اس کے حامی سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی سے خصوصاً جموں خطے میں وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مقامی آبادی کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ شناختی دستاویزات سے محروم افراد کو شدت پسند یا جرائم پیشہ عناصر استعمال کر سکتے ہیں، جس سے سکیورٹی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان ان دلائل سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکین انتہائی غربت اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھیں صحت، تعلیم اور صفائی سمیت بنیادی سہولیات تک مناسب رسائی حاصل نہیں۔

    Kashmir

    بین الاقوامی قوانین اور قانونی پیچیدگیاں

    صحافی اور تجزیہ کار ہارون ریشی کے مطابق بین الاقوامی قانون کا ایک اہم اصول ’نان ریفولمنٹ‘ ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔

    ان کے بقول اگرچہ انڈیا اس بین الاقوامی معاہدے کا فریق نہیں، تاہم انڈین سپریم کورٹ متعدد مواقع پر آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت غیر ملکیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دے چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کی واپسی کا عمل صرف انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سفارتی اور قانونی مرحلہ بھی ہے، کیونکہ اس کے لیے بنگلہ دیشی حکام سے شہریت کی تصدیق اور دیگر سرکاری کارروائیاں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بے دخلی کے عمل میں شفافیت، قانونی نمائندگی اور متاثرہ افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ حکام اس اقدام کو قومی سلامتی اور قانون کے نفاذ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

  7. حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

    Yeman, Saudi Arabia

    یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کے دوران حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ شام، سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان کے مطابق حملہ جمعرات کو کیا گیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب چند روز قبل اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دے چکا ہے۔

    ادھر یمنی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز، جن میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز، جائنٹس بریگیڈز اور مشترکہ افواج شامل ہیں، نے ملک کے کئی محاذوں پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے اور حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسی تناظر میں خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ شام، سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیر غور تجاویز میں دفاعی تعاون سے لے کر حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف آپشنز شامل ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایک شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ شام اس وقت بنیادی طور پر اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

    شامی سفارت کار نے کہا کہ اگر سعودی عرب کسی قسم کے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست کرتا ہے تو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت غور کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی کسی بھی ممکنہ شمولیت سے تنازع کے فرقہ وارانہ اور علاقائی پہلو مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے خبردار کیا کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم حساس نوعیت کے علاقائی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، جس سے تمام فریق گریز کرنا چاہتے ہیں۔

    شام کے عبوری سربراہ احمد الشارع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ مبصرین کے مطابق دمشق اور ریاض کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون شام کی عرب دنیا میں دوبارہ شمولیت اور علاقائی سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب یمن میں جاری زمینی کارروائیوں کے باوجود سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش رفت محدود بتائی جا رہی ہے، جبکہ حوثی سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  8. افغانستان میں 25 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم، خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں: پاکستانی حکام کی انتونیو گوتریس سے ملاقات

    Pakistan

    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ملاقات کی، جس میں عالمی و علاقائی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور اقوام متحدہ کے امن مشنز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں اس وقت 25 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنا بھرپور کردار جاری رکھے گا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی پولیس افسران اور اہلکار بھی اقوام متحدہ کی پولیس فورس کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان امن مشنز کے دوران اب تک 181 جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

    اس موقع پر انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں اور امن مشنز میں اس کی شمولیت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر وزیر داخلہ نے قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی مدد اور معاونت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں سپیشل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور وزارتِ داخلہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  9. لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج پشاور سے شروع ہوگا، صوبے کے مستقبل کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، بند کمروں میں نہیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    وزیر اعلی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعرات کو لانگ مارچ کے اگلے مرحلے میں بھرپور شرکت کر کے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔

    رات گئے جاری کیے گئے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ دوپہر دو بجے حیات آباد انڈر پاس سے شروع ہوگا۔ انھوں نے پشاور کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بڑی تعداد میں نکل کر یہ پیغام دیں کہ ’پشاور عمران خان کے ساتھ تھا، ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ ہموار ہو۔ ان کے بقول صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونے چاہییں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت اور ’پھولوں کا شہر‘ ہے، جسے دوبارہ تشدد، گولیوں اور دھماکوں کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    انھوں نے پشاور کے شہریوں سے لانگ مارچ میں فعال شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی موجودگی کے ذریعے عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کریں۔

    تحریک انصاف کا لانگ مارچ گذشتہ چند روز سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔

  10. حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے اور باب المندب میں حملوں کا دعویٰ

    Houthis

    یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے صوبہ تعز میں سعودی عرب کے زیرِ استعمال ترک ساختہ بیرقدار آقنچی جاسوسی ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری کے مطابق ڈرون تعز میں ’ہوسٹائل مشن‘ پر مامور تھا اور اسے ’مناسب ہتھیاروں‘ کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔

    ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ حوثی فورسز نے آبنائے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ان کے اجتماعات کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

    Yeman

    یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل حملہ کیا ہے۔ یحییٰ ساری کے مطابق اس ہفتے کے دوران ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا یہ تیسرا موقع ہے۔

    دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حوثیوں کے دعوؤں پر سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  11. جڑواں شہروں میں وی آئی پی نقل و حرکت، احتجاج اور کرکٹ سرگرمیوں کے باعث ٹریفک متاثر ہونے کا امکان

    Islamabad traffic

    وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں آج وی آئی پی نقل و حرکت، تاجروں کے متوقع احتجاج اور کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے باعث بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ میٹرو بس سروس کے چند اوقات میں محدود آپریشن کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور بحرین کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے۔ ان کی نقل و حرکت کے دوران ریڈ زون، ایکسپریس وے اور پرانے ایئرپورٹ کے اطراف ٹریفک کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران نے آج سہ پہر تین بجے سے پانچ بجے کے درمیان آبپارہ چوک میں احتجاج اور ممکنہ شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج کے باعث آبپارہ اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

    ادھر کرکٹ ٹیم کی پریکٹس سیشن کے لیے سٹیڈیم آمدورفت بھی آج ٹریفک پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ٹیم کے تقریباً 4:15 بجے سٹیڈیم روانہ ہونے اور 8:35 بجے ہوٹل واپس پہنچنے کی توقع ہے۔

    میٹرو بس انتظامیہ کے مطابق سروس بعض اوقات میں جزوی طور پر بند رہے گی۔ میٹرو سٹیشنز پر تین بجے سے 4:40 بجے اور 7:55 بجے سے نو بجے تک عارضی پابندیاں متوقع ہیں، جبکہ میچوں کے دوران 6th روڈ، شمس آباد اور فیض آباد سٹیشنز پر میٹرو نہیں رکے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسلام آباد اور راولپنڈی کے اندر تمام مرکزی سڑکیں اور موٹرویز کھلی ہیں اور کسی شاہراہ کی مکمل بندش کی اطلاع نہیں۔

    دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے شہریوں نے موبائل فون اور ڈیٹا سروسز میں تعطل کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    اسلام آباد کے ریڈ زون کے متعدد داخلی و خارجی راستے بند، شہریوں کو ٹریفک میں تاخیر کا سامنا

    وفاقی دارالحکومت کے حساس علاقے ریڈ زون میں سکیورٹی اقدامات کے باعث بُدھ کی صبح متعدد داخلی اور خارجی راستے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور سفر میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ٹریفک حکام کے مطابق صبح آٹھ بج کر 39 منٹ تک سیرینا گیٹ، نادرا گیٹ، ایکسپریس گیٹ (ڈی چوک) اور پریڈ ایونیو پر ٹی کراس باری امام کے راستے آمدورفت کے لیے بند تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ان راستوں کی بندش کے باعث ریڈ زون کی جانب جانے والی ٹریفک کا دباؤ متبادل راستوں پر منتقل ہو رہا ہے، جس سے ملحقہ سڑکوں پر بھی رش اور سست روی کا خدشہ ہے۔

    تاہم مارگلہ گیٹ اور میریٹ گیٹ کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھا گیا ہے اور شہریوں کو انہی راستوں کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق سکیورٹی انتظامات کے تحت ریڈ زون کے اطراف عارضی سفری پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں، جبکہ متاثرہ اور آس پاس کی شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کے باعث تاخیر متوقع ہے۔

  12. امریکہ ’جلد ہی ایران سے نکل جائے گا‘، تیل کی قیمتیں چٹان کی طرح نیچے گرنے والی ہیں: ٹرمپ

    Mandel NGAN / AFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ’جلد ہی ایران سے نکل جائے گا‘ اور ان کے بقول تیل کی قیمتیں ’چٹان کی طرح گرنے والی ہیں‘۔

    ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے خواہاں ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا تہران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے قابل قبول اقدامات کرنے پر آمادہ ہے یا نہیں۔

    انھوں نے کہا، ’میں سمجھتا ہوں کہ معاہدہ ایک ایسی چیز ہے جو میں واقعی کرنا چاہتا ہوں، لیکن کیا ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کچھ پیش کرنے کو تیار ہے؟ ہم ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    ٹرمپ نے گذشتہ دنوں لاس اینجلس اور سان ڈیاگو پر مبینہ ایرانی حملے سے متعلق اپنے متنازع بیانات کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حملے ہوئے تو امریکہ سخت ردعمل دے گا اور اپنے ملک کے دفاع کو یقینی بنائے گا۔

    یہ گذشتہ ماہ کے دوران ٹیکساس کا ان کا تیسرا دورہ تھا، جہاں وہ ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کے سلسلے میں سرگرم ہیں۔ وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

  13. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

    Pakistan-IMF

    پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان تقریباً 1.2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا اہل ہو جائے گا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق یہ معاہدہ اس کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 210 ملین ڈالر موصول ہوں گے۔ اس کے ساتھ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو دی جانے والی مجموعی رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مشکل بین الاقوامی حالات کے باوجود پاکستان میں پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر درست سمت میں رہا ہے اور حکومت میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے، سرکاری مالیات مضبوط بنانے، مہنگائی کو سٹیٹ بینک کے ہدف تک لانے، توانائی شعبے کی اصلاحات، سماجی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    فنڈ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھا۔ مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو چار فیصد رہی، جبکہ پورے مالی سال کے لیے شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گئی جبکہ بنیادی افراطِ زر قابو میں رہی۔ اسی دوران مضبوط ترسیلاتِ زر کی بدولت جاری کھاتہ تقریباً متوازن رہا اور ستمبر کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حکومتی معاشی پالیسیوں پر بڑھتے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم جیوپولیٹیکل کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی سختی اور تجارتی رکاوٹیں اب بھی اہم خطرات ہیں۔

    آئی ایم ایف نے مالی سال 2027 کے بجٹ پر مؤثر عمل درآمد کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جی ڈی پی کے دو فیصد بنیادی سرپلس کے ہدف کے ذریعے سرکاری قرضوں کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے خطرات کی بنیاد پر آڈٹ، ڈیجیٹل انوائسنگ اور تیسرے فریق کے ڈیٹا کے استعمال سمیت ٹیکس اصلاحات جاری رکھی جائیں گی۔

    IMF

    سماجی شعبے کے حوالے سے آئی ایم ایف نے کہا کہ صحت اور تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کے 2.2 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہو چکے ہیں اور حکومت انھیں مالی سال 2027 میں 2.8 فیصد تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ساتھ ہی ہدفی نقد امدادی پروگراموں میں اضافے اور مستحقین کی بہتر رجسٹریشن کے ذریعے کمزور طبقے کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    فنڈ نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی کے موجودہ معاونتی پروگرام کو مرحلہ وار ختم کرنے کا مشورہ بھی دیا، جبکہ کسی بھی مستقبل کی امداد کو محدود، عارضی اور صرف مستحق طبقوں تک محدود رکھنے کی سفارش کی۔

    آئی ایم ایف نے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ مہنگائی کو مطلوبہ ہدف میں واپس لانے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے، جبکہ شرح مبادلہ میں لچک کو معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے جاری رکھا جائے۔

    توانائی کے شعبے کے بارے میں آئی ایم ایف نے بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گردشی قرضے کے دوبارہ اضافے کو روکنے کے لیے بجلی اور گیس کے شعبوں میں لاگت میں کمی، کارکردگی میں بہتری، نجی شعبے کی شمولیت اور گیس کے نقصانات میں کمی ضروری ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق آرٹیکل فور مشاورت کے دوران معیشت کو زیادہ ویلیو ایڈڈ سرگرمیوں کی جانب منتقل کرنے، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے، سرکاری اداروں کی گورننس بہتر بنانے، مسابقت بڑھانے، کاروباری و تجارتی رکاوٹیں کم کرنے اور بدعنوانی کے خلاف اداروں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آر ایس ایف پروگرام کے تحت پاکستان پبلک سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے مالیاتی نظام، آبپاشی کے پانی کی قیمتوں اور وصولیوں، توانائی کی بچت کے معیارات اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کاربن اخراج کم کرنے کی اصلاحات پر بھی کام جاری رکھے گا۔

  14. پی ٹی آئی لانگ مارچ: پشاور کے چند نجی سکول جمعرات کو بند رہیں گے، موبائل سروس متاثر ہونے کی اطلاعات, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    PTI MEDIA CELL

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مارچ کے باعث پشاور کے چند نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے جمعرات کے روز بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سکول انتظامیہ کی جانب سے بدھ کی شام والدین کو پیغامات کے ذریعے چھٹی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

    جمعرات کو پی ٹی آئی کا مارچ پشاور شہر سے ہوتا ہوا پشاور اور چارسدہ کی حدود تک جائے گا۔ مارچ کی آمد کے پیش نظر بعض نجی سکولوں نے طلبہ کے لیے جمعرات کو تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ سرکاری سکولوں کی بندش کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب پشاور کے چند علاقوں میں موبائل فون سروس بند ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، تاہم اس کی سرکاری طور پر نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔

    پی ٹی آئی کا مارچ اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا تھا اور بدھ کو قبائلی ضلع خیبر پہنچا۔ جمعرات کو مارچ کے پشاور شہر سے گزرنے کا پروگرام ہے۔

    بی بی سی نے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے حکام سے رابطے کی کوشش کی، تاہم موبائل فون سروس متاثر ہونے کے باعث رابطہ نہیں ہو سکا۔

  15. سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت، پروازوں میں رکاوٹ کا خدشہ: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر امور نے سعودی عرب میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور حوثیوں کی جانب سے ایئرپورٹس اور فضائی حدود کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے پیش نظر امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’حوثی ماضی میں سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں، جن میں شہری ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق موجودہ فوجی تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے سعودی عرب میں موجود امریکی شہریوں کو صورتحال پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی کی صورتحال کے باعث پروازیں منسوخ ہو سکتی ہیں، فضائی حدود بند کی جا سکتی ہیں اور سفر میں رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔‘

    امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر سے قبل اپنی پرواز کی روانگی کی صورتحال ایئرلائن اور متعلقہ ایئرپورٹ سے براہِ راست معلوم کریں۔

  16. ابھا اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر حملوں میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک، 36 زخمی ہوئے: سعودی سول ایوی ایشن

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے ہیں۔

    سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ منگل اور بدھ یعنی چھ اور سات اکتوبر کی درمیانی شب دونوں ہوائی اڈوں کی تنصیبات کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکشی اور الجزائر کی شہریت رکھنے والی دو خواتین ہلاک جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔

    جبکہ زخمیوں میں سعودی شہریوں اور مقیم افراد کے علاوہ بنگلہ دیشی اور فلپائنی شہری بھی شامل ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے۔

    تاہم کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں سوڈانی شہریت رکھنے والا ایک شخص ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

    زخمیوں میں پانچ سعودی شہری، مصری شہریت رکھنے والے دو افراد اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دونوں حملوں کے نتیجے میں مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مسافروں و ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل چھ اکتوبر کو حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب میں تین فوجی کارروائیاں کیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، رابغ میں آرامکو کی ایک آئل ریفائنری، ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بیان میں حملوں کی ذمہ داری کسی گروہ پر عائد نہیں کی گئی۔

  17. پاکستانی فوج کے دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    احمد شریف چوہدری

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا: ’میں تصدیق کرتا ہوں کہ پاکستانی فورسز وہاں (سعودی عرب میں) پہلے سے موجود ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی دستے مکہ اتحاد کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں تو پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا: ’مختلف صلاحیتیوں کے حامل دستے سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجود رہے ہیں۔ مکہ اتحاد کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلق کا تسلسل ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مختلف صلاحیتوں کی حامل پاکستانی فورسز پہلے سے وہاں موجود ہیں۔‘

    سی این این کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ معلومات شیئر نہیں کیں کہ پاکستانی فوج کے دستے کس تعداد میں سعودی عرب میں موجود ہیں۔ سی این این کے مطابق ترجمان نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کن صلاحیتوں سے لیس ہیں اور آیا وہ یمن میں حوثیوں کے خلاف سرحد پار کارروائیوں میں بھی شامل ہیں۔

    سی این این کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ان معلومات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

  18. اس بار فکسڈ میچ نہیں ہو گا، صوابی پہنچ کر اگلا پلان بتائیں گے: سہیل آفریدی

    سہیل آفریدی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ صوابی پہنچنے پر تحریک انصاف اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی اور اس کے بعد مخالفین کی ’نیندیں حرام ہو جائیں گی۔‘

    ضلع خیبر کے باڑہ بازار میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کے اگلے مرحلے کا منصوبہ فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مخالفین پریشان ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’اس بار فکسڈ میچ نہیں ہو گا، میدان میں مقابلہ کریں گے‘ اور دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت ہر روز ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوابی میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت ایک نئے سیاسی مرحلے کا آغاز ثابت ہو گی۔ ان کے مطابق کل جمعرات کے روز قافلہ پشاور سے مارچ شروع کرے گا اور شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا چارسدہ کی جانب بڑھے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تحریک انصاف کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، کل آٹھ اکتوبر کو دوپہر دو بجے لانگ مارچ تحصیل پشتخرہ کے حیات آباد ٹول پلازہ سے روانہ ہو گا اور بھانہ ماڑی چونگی، کوہاٹی چوک، جمیل چوک، پیرزکوڑی پل، اور کبوتر چوک سے ہوتا ہوا رات کے نو بجے چارسدہ روڈ پہنچے گا۔

    باڑہ بازار میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ مکمل طور پر پُر امن رہے گا اور اس کے شرکا کسی قسم کی غیر آئینی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔

    ان کے بقول تحریک انصاف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی جن مطالبات کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے، ان کی تفصیلات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چار اکتوبر کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی تھیں۔

    ان میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات کی فراہمی، وکلا اور رفقا سے ملاقات کی اجازت، ’بلا جواز تاخیر کے بغیر‘ مقدمات کا فیصلہ، اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان نئی مشاورت اور سکیورٹی پالیسی پر نظر ثانی سمیت سات مطالبات شامل ہیں۔

  19. وزیر اعلیٰ کا رویہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی راہ ہموار کر رہا ہے: طارق فضل چوہدری

    طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا رویہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی راہ ہموار کر رہا ہے، تاہم ’وفاقی حکومت کو صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا کوئی شوق نہیں۔‘

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو اس کی وجہ وزیر اعلیٰ کا شدت پسندی کے خلاف جاری حکومتی پالیسیوں میں عدم تعاون ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان کہ وہ وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کریں گے، ایک ’انتہائی خطرناک‘ مؤقف ہے۔

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی ملاقاتوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ ’انا کا مسئلہ‘ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت عمران خان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانا چاہتی ہے۔

    ان کے مطابق عمران خان کی صحت اور علاج کے لیے ممکنہ حد تک بہترین سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور جیل مینوئل کے تحت حاصل تمام حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کی ان سے ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں، جن میں سے بعض میڈیا پر رپورٹ ہوئیں جبکہ بعض نہیں ہوئیں۔

  20. میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے بیانات مکمل کر لیے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    میر رضا علی
    ،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش برآمد ہوئی

    کراچی میں پراسرار حالات میں مرنے والے تاجر میر رضا علی کے کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔

    جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے سماعت کے دوران پولیس تفتیش، کرائم سین، سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ، موبائل فون، ایپل واچ، پوسٹ مارٹم رپورٹس، کرپٹو اکاؤنٹس اور دیگر شواہد سے متعلق تفصیلی سوالات کیے۔

    کمیشن کے سامنے مجموعی طور پر 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ حسن تنولی اور صارم بن طاہر کے بیانات زوم کے ذریعے قلم بند کیے گئے۔

    ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی آئی جی شرقی فرخ لنجار اور ڈی آئی جی عامر فاروقی سے تحریری جوابات بھی طلب کیے گئے، جو تینوں افسران نے سیل بند لفافوں میں جمع کرا دیے۔

    کمیشن نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری سے پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے بیانات پر سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ متعدد گواہوں نے بعد میں اپنے سابقہ بیانات کے بعض حصوں کو ماننے سے انکار کیا، جبکہ بعض کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے نام سے کیا بیان درج کیا گیا ہے۔

    کمیشن نے سوال کیا کہ گواہوں سے صرف رقم کے لین دین سے متعلق سوالات کیوں کیے گئے اور دیگر ممکنہ محرکات یا پہلوؤں پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔

    سراج لاشاری نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے تمام پہلوؤں سمیت قتل کے امکان پر بھی تفتیش کی۔

    کمیشن نے جائے وقوعہ سے متعلق ریکارڈ میں موجود تضادات پر بھی سوالات کیے۔ کرائم سین یونٹ کی آمد کے اوقات اور پولیس میموز میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کمیشن نے پوچھا کہ کیا جائے وقوعہ پر آگ لگانا پولیس پروٹوکول کا حصہ تھا۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

    کمیشن نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا شواہد کو خراب یا تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    سٹیزنز پولیس لائیزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے نے کمیشن کو بتایا کہ جیو فینسنگ کا 48 گھنٹوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور ہزاروں نمبروں کی جانچ پڑتال کے باوجود کوئی ایسی مشکوک سرگرمی سامنے نہیں آئی جس سے کسی مخصوص شخص کو واقعے سے جوڑا جا سکے۔

    سی پی ایل سی کے مطابق میر رضا کا انٹرنیٹ صبح چار بج کر 25 منٹ تک فعال تھا جبکہ چار بج کر 10 منٹ سے 4 بج کر 20 منٹ کے دوران ایپل میپس استعمال کیا گیا۔

    کمیشن نے ایپل واچ کی فرانزک رپورٹ بھی طلب کی۔ سراج لاشاری نے بتایا کہ یہ رپورٹ سات یا آٹھ ستمبر کو موصول ہوئی تھی اور اس کے مطابق میر رضا کی واچ پر آخری سرگرمی چار بج کر 22 منٹ پر ریکارڈ ہوئی۔

    وکیل جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ 29 جولائی کے بعد متعدد افراد کو اس واچ تک رسائی حاصل رہی اور خاندان نے اس حوالے سے تفصیلات طلب کی تھیں۔

    موبائل فون کے ڈیٹا کی عدم دستیابی پر تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ فون بار بار اَن لاک کرنے کی کوششوں کے باعث بلاک ہو گیا تھا اور متعلقہ ماڈل کو پاکستان میں اَن لاک کرنے کا کوئی طریقہ دستیاب نہیں تھا۔

    کمیشن نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس پر بھی سوالات کیے۔ سراج لاشاری کے مطابق تین کرپٹو اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً نو کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں جبکہ مزید تفصیلات کے لیے این سی سی آئی اے سے رابطہ کیا گیا ہے۔ جبران ناصر نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لینے سے تین افراد کی نشاندہی ہوئی اور میر رضا کے اکاؤنٹ میں کرپٹو لین دین سے متعلق ادائیگیاں بھی موصول ہوئیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹس کے جائزے میں تقریباً تین کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی ہے اور پلیٹ فارم کے مطابق یہ رقم واپس اکاؤنٹ میں نہیں آئی۔

    سماعت کے دوران کمیشن نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ ملزمان کب گرفتار ہوں گے۔ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ پولیس کے لیے کسی کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنانا آسان تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ پولیس انصاف کے حصول کی خواہاں ہے۔

    کمیشن نے متعدد مواقع پر تفتیش میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے۔ ایس ایچ او عدیل افضال سے متعلق کمیشن نے ریمارکس دیے کہ شواہد ضائع ہونے کے باوجود وہ اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ کمیشن کے مطابق اصل سوال اعلیٰ سطح پر ذمہ داری کے تعین کا ہے، جبکہ پولیس نے صرف نچلی سطح کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی۔

    میر رضا کے اہل خانہ سے مکالمے کے دوران کمیشن نے کہا کہ خاندان کو حکومت پر اعتماد نہیں تھا اور کسی حکومتی نمائندے نے ان سے مؤثر رابطہ نہیں کیا۔ کمیشن نے کہا کہ اگر خاندان کو مسلسل آگاہ رکھا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔

    کمیشن نے یہ بھی کہا کہ بعض عناصر نے کیس کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی، جس پر انھیں شرم آنی چاہیے۔

    تمام گواہوں کے بیانات، پولیس افسران کے تحریری جوابات، طبی اور فرانزک رپورٹس، سی سی ٹی وی ریکارڈ، جیو فینسنگ ڈیٹا، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر مواد کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن اب اپنی حتمی فائنڈنگز مرتب کرے گا۔ کمیشن کی رپورٹ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی، جس کے بعد اس کی اشاعت یا مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔