لائیو, لانگ مارچ خیبر کی طرف روانہ: حکومت مطالبات ماننے میں سنجیدہ ہوئی تو دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، پی ٹی آئی

تحریک انصاف کا لانگ مارچ خیبر کی طرف روانہ ہو گیا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ جواب میں تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومت عمران خان کے علاج سمیت دیگر مطالبات ماننے میں سنجیدہ ہوئی تو مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں گے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، پھر بات چیت ہو گی: وزیر اعظم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی مشروط پیش کش

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ’میں ابھی بھی آپ سے یہ گزارش کروں گا کہ آپ ہوش کے ناخن لیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنوں کو ختم کریں۔ آپ اس کو ختم کریں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھیں گے، بیٹھ کر بات کریں گے۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا ’تاکہ انھیں سمجھایا جا سکے کہ اس (دھرنے اور لانگ مارچ) راستے کو ترک کریں۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔‘

    تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی عمل کے آخری مراحل میں جن امور پر اتفاق ہو چکا تھا ان میں دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

    شہباز شریف نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کا ’ایک ہی مقصد تھا کہ یہ بات چیت کسی طرح بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘

    اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ ملکی معیشت بنتی ہے اور اس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اور ’یہ ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، ’اسے ہم ہر صورت یقینی بنائیں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران اجتماعی کاوشوں اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے اور اب معیشت کی ’گروتھ اور ترقی کا وقت آ چکا ہے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ اگر کوئی اس مرحلے پر معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اقدام ’ملک دشمنی‘ کے مترادف ہے کیونکہ اس سے ’ترقی کے پہیے جام‘ ہوتے ہیں اور عوام کی جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  2. سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر قیاس آرائی پر مبنی ہے: پاکستان

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی سے متعلق خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کو ’قیاس آرائی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’فیکٹ چیکر وزارتِ اطلاعات و نشریات‘ نامی اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات خفیہ ہیں اور انھیں میڈیا کی قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا پہلے ہی واضح اظہار کر چکا ہے اور اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل روئٹرز کی تین اکتوبر کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کی روک تھام میں مدد کے لیے 30 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔

    روئٹرز کی رپورٹ میں، جس کا حوالہ وزارتِ اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک میں دیا، ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ فوجی دستے گذشتہ سال سے مختلف مراحل میں سعودی عرب پہنچے جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید تعیناتی عمل میں آئی۔

    وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس سے گریز کیا جانا چاہیے جو نامعلوم اور غیر منسوب ذرائع پر مبنی ہیں۔

    وزارتِ اطلاعات کے مطابق اگر کوئی سوالات ہوں تو متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جانا چاہیے، نہ کہ غیر مصدقہ اعداد و شمار اور تفصیلات شائع کی جائیں۔

  3. مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کریں: بیرسٹر گوہر کا وزیر اعظم کو جواب

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلسلہ منقطع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، اور مطالبہ کیا ہے کہ بات چیت کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کیا جائے۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انھوں نے پہلے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’آج نہیں تو کل‘ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں اور کسی حل کے پہنچنے تک بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

    ’چین بریک ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آپ مسلسل بیٹھیں، باقاعدگی سے بیٹھیں، ضرور کوئی حل نکلے گا۔‘

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جمعہ اور سنیچر کو مذاکرات کے دو دور ہوئے، جن کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔

    جبکہ آج وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس پر ردعمل میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔

    انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق تحریک انصاف نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ محض فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہوگی بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز بات چیت چاہتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو اپنے اپنے تحفظات اور خدشات میز پر رکھ کر متعدد نشستوں میں ان پر بات کرنی چاہیے تھی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بغیر کسی پیشگی شرط کے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہوئی، تاہم ان کے بقول حکومت نے وہ سنجیدگی اور فراخ دلی نہیں دکھائی جو اس عمل کے لیے ضروری تھی۔

  4. پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست، وفاق کو نوٹس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    CM Media Cell

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

    شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور آصف خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ رہا ہے، اس لیے شرکا کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ معظم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار لانگ مارچ کے میزبان ہیں جبکہ مارچ کے شرکا ان کے مہمان ہوں گے، لہٰذا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انھیں مناسب سکیورٹی فراہم کرے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی نمٹائی جا چکی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت فریق تھیں، اس لیے موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔

    اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ کم از کم عبوری ریلیف دیا جائے اور لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے۔

    دورانِ سماعت وکیل نے یہ بھی درخواست کی کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر کیس کو کل تک ملتوی کرنے کے بجائے آج عدالتی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقِ مخالف کو سنے بغیر کیس میں پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔ بینچ نے کہا کہ اگر متعلقہ فریق وقفے کے بعد سماعت کے لیے تیار ہوتا تو کیس دوبارہ سنا جا سکتا تھا، تاہم چونکہ دوسرا فریق اس وقت تیار نہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔

    عدالت نے عبوری ریلیف کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  5. لانگ مارچ کا روٹ تبدیل، پہلے خیبر پھر پشاور جائیں گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب قافلہ پہلے خیبر جائے گا، جس کے بعد پشاور روانہ ہو گا۔

    کوہاٹ سے روانگی کے موقع پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل منصوبے کے تحت قافلے نے پشاور جانا تھا، تاہم خیبر کے عوام کی درخواست پر شیڈول تبدیل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’کل جو پشاور سے چارسدہ کا پلان تھا اس کو تھوڑا تبدیل کر دیا ہے کیونکہ خیبر کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم ان مہمانوں کی مہمان نوازی کریں گے، تو کل خیبر جائیں گے، پھر اس کے بعد پشاور جائیں گے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو پُر امن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے لانگ مارچ کو کرکٹ میچ سے تشبیہ دی۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوور باقی ہیں اور بہت سے کھلاڑی بھی باقی ہیں۔ آرام آرام سے کھیلیں گے۔‘

    تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ نے چار اکتوبر کو لکی مروت سے روانہ ہونا تھا، پانچ اکتوبر کو کرک اور کوہاٹ، جبکہ چھ اکتوبر کی شام پشاور پہنچنا تھا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے بنیادی مطالبات میں بانی تحریک انصاف عمران خان کے علاج کی سہولت، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کا حق اور ان کی ’انصاف کے مطابق رہائی‘ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، جس کے بعد احتجاج کا راستہ اپنایا گیا۔

    انھوں نے زور دیا کہ لانگ مارچ کا مقصد پُر امن انداز میں احتجاج ریکارڈ کرانا ہے اور کارکن کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔

  6. اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ بد عنوانی کے الزام پر معطل

    محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران نوید اشرف کو کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات پر معطل کر دیا ہے، جبکہ ان کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عمران نوید اشرف کو 90 روز کے لیے معطل کیا گیا ہے اور انھیں انسپکٹریٹ آف پریزنز پنجاب، لاہور کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    حکام نے سینٹرل جیل لاہور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ، کاشف علی کو سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک تعینات کر دیا ہے۔

  7. آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوجی کمانڈر کا دعویٰ

    ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ایک سینیئر کمانڈر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری ہے اور اب تک 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل شمخال جعفری نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ’دشمن‘ کو اپنے بحری جہاز اور بحری ساز و سامان ایرانی سرحدوں سے بہت دور تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی افواج نے مخالف فریق کا کچھ ساز و سامان ’مالِ غنیمت‘ کے طور پر حاصل کیا ہے، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    دوسری جانب سینٹکام نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج 130ویں تجارتی بحری جہاز کا راستہ تبدیل کروا چکی ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق یہ ناکہ بندی 14 جولائی کو امریکی صدر کے حکم پر دوبارہ شروع کی گئی تھی اور اس کا ہدف وہ جہاز ہیں جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔

    امریکی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ایسے تین جہازوں کو ناکارہ بنایا جو امریکی احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے، جبکہ گذشتہ 12 ہفتوں کے دوران 13 تجارتی جہاز تباہ کیے گئے۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ خفیہ تجارتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

  8. حوثیوں کا سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا: اتحادی افواج کا دعویٰ

    سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ہے۔

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ بیلسٹک میزائل ’شدت پسند حوثی ملیشیا‘ کی جانب سے داغا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ یمنی حکومت اور اتحادیوں نے ’آپریشن فجر الیمن‘ کے نام سے ایک عسکری کارروائی شروع کی ہے۔ یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور ’حوثی بغاوت‘ کا خاتمہ ہے۔

  9. ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر

    x.com/MofaQatar_EN

    قطر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی رکا نہیں ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے شعبۂ اطلاعات و ابلاغ کے ڈائریکٹر ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کا مقصد ایسے حل تک پہنچنا ہے جس پر آگے پیش رفت ممکن ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری ہے اور مختلف معاملات پر پیغامات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقوں کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔

  10. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 19 پیسے فی لیٹر اضافہ، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 91 پیسے کمی

    پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 19 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 394 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ڈیزل کی قیمت ایک روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 395 روپے 85 پیسے ہو گئی ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی یہ قیمت سات اکتوبر کے لیے ہے۔

  11. ایرانی پائلٹس کے حوالے سے قطری حکام سے بات چیت ہوئی ہے: ایرانی وزیرِ داخلہ

    ہم پہلے ہی یہ اطلاع دے چکے ہیں کہ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی قطری حکام سے ملاقات کے لیے دوحہ گئے تھے۔

    اب اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایرانی پائلٹوں کے معاملے پر قطر کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔

    اُنھوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تکنیکی ٹیم واپس آئے گی اور کام کو آگے بڑھانے کے لیے مزید اجلاس منعقد کرے گی۔‘

    ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں جس کا آغاز فروری میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے دو لڑاکا طیاروں نے قطر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن واپسی پر انھیں فوجی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ چار پائلٹوں میں سے ایک ہلاک ہو چکا ہے اور اس کی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی ہیں، تاہم مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے اعلان کیا کہ باقی تینوں پائلٹ زندہ ہیں اور قطر کی حراست میں ہیں۔

    قطر نے ایران کے ان بیانات کی تردید کی ہے۔

  12. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    یہاں آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اہم خبریں اور تازہ ترین خبریں شامل کی جائیں گی۔گذشتہ دنوں کی کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔