پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست، وفاق کو نوٹس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

،تصویر کا ذریعہCM Media Cell
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور آصف خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ رہا ہے، اس لیے شرکا کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ معظم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار لانگ مارچ کے میزبان ہیں جبکہ مارچ کے شرکا ان کے مہمان ہوں گے، لہٰذا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انھیں مناسب سکیورٹی فراہم کرے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی نمٹائی جا چکی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت فریق تھیں، اس لیے موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔
اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ کم از کم عبوری ریلیف دیا جائے اور لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے۔
دورانِ سماعت وکیل نے یہ بھی درخواست کی کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر کیس کو کل تک ملتوی کرنے کے بجائے آج عدالتی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقِ مخالف کو سنے بغیر کیس میں پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔ بینچ نے کہا کہ اگر متعلقہ فریق وقفے کے بعد سماعت کے لیے تیار ہوتا تو کیس دوبارہ سنا جا سکتا تھا، تاہم چونکہ دوسرا فریق اس وقت تیار نہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔
عدالت نے عبوری ریلیف کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

