پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے، خیبر پختونخوا میں کوئی نیا آپریشن یا آئی ڈی پیز نہیں بنیں گے: رانا ثنا اللہ

،تصویر کا ذریعہX/National Assembly
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی عدم استحکام اور جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کی روش ترک کریں اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب آئیں۔ تاہم، ان کے بقول بات چیت کی خواہش کو ریاست پر دباؤ ڈال کر سیاسی مطالبات منوانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے، تاہم کوئی نیا فوجی آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور نہ ہی نئی بے گھر آبادی (آئی ڈی پیز) پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پہلے سے ایک منصوبہ موجود ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کامیابی کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کوئی بڑا نیا آپریشن ہونے جا رہا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو عناصر سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کر رہے ہیں، کارروائیاں ان کے خلاف ہو رہی ہیں اور ایسے آپریشنز کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی غلط تشریح کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مشاورت کو مسترد کر دیا گیا یا اپوزیشن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بارے میں انھوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کے بیانات کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بارہا خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی فلاح و بہبود اور گورننس کے معاملات پر توجہ دینے کا کہا، تاہم صوبائی حکومت نے ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چار اکتوبر سے جاری مارچ کے باوجود تحریک انصاف کسی مقام پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپوں کے لیے کروڑوں روپے چندہ جمع کیا گیا لیکن شرکا کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبے کے پانچ اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیس کے تھانے موجود نہیں، جبکہ 17 ہزار پولیس آسامیاں خالی ہیں۔ ان کے مطابق بھرتیوں اور تربیت کے عمل میں بھی شدید کمی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مجموعی نفری 3300 ہے، جن میں صرف 25 اہلکار مستقل حیثیت رکھتے ہیں جبکہ باقی ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول کئی علاقوں میں تھانوں کی عمارتیں موجود نہیں اور پولیس کو ضروری ہتھیار اور وسائل بھی میسر نہیں جبکہ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ان کاموں کے لیے نہیں آئے ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قطر، چین، سعودی عرب اور ترکی نے افغان طالبان کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرنے اور انھیں قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم افغان طالبان مطلوبہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار نہیں۔













