لائیو, پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے، خیبر پختونخوا میں کوئی نیا آپریشن یا آئی ڈی پیز نہیں بنیں گے: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی عدم استحکام اور جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کی روش ترک کریں اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب آئیں۔ تاہم، ان کے بقول بات چیت کی خواہش کو ریاست پر دباؤ ڈال کر سیاسی مطالبات منوانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے، خیبر پختونخوا میں کوئی نیا آپریشن یا آئی ڈی پیز نہیں بنیں گے: رانا ثنا اللہ

    Rana Sanaullah

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی عدم استحکام اور جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کی روش ترک کریں اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب آئیں۔ تاہم، ان کے بقول بات چیت کی خواہش کو ریاست پر دباؤ ڈال کر سیاسی مطالبات منوانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے، تاہم کوئی نیا فوجی آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور نہ ہی نئی بے گھر آبادی (آئی ڈی پیز) پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پہلے سے ایک منصوبہ موجود ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کامیابی کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کوئی بڑا نیا آپریشن ہونے جا رہا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جو عناصر سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کر رہے ہیں، کارروائیاں ان کے خلاف ہو رہی ہیں اور ایسے آپریشنز کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی غلط تشریح کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مشاورت کو مسترد کر دیا گیا یا اپوزیشن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بارے میں انھوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کے بیانات کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بارہا خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی فلاح و بہبود اور گورننس کے معاملات پر توجہ دینے کا کہا، تاہم صوبائی حکومت نے ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چار اکتوبر سے جاری مارچ کے باوجود تحریک انصاف کسی مقام پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپوں کے لیے کروڑوں روپے چندہ جمع کیا گیا لیکن شرکا کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں۔

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبے کے پانچ اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیس کے تھانے موجود نہیں، جبکہ 17 ہزار پولیس آسامیاں خالی ہیں۔ ان کے مطابق بھرتیوں اور تربیت کے عمل میں بھی شدید کمی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مجموعی نفری 3300 ہے، جن میں صرف 25 اہلکار مستقل حیثیت رکھتے ہیں جبکہ باقی ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول کئی علاقوں میں تھانوں کی عمارتیں موجود نہیں اور پولیس کو ضروری ہتھیار اور وسائل بھی میسر نہیں جبکہ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ان کاموں کے لیے نہیں آئے ہیں۔

    افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قطر، چین، سعودی عرب اور ترکی نے افغان طالبان کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرنے اور انھیں قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم افغان طالبان مطلوبہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار نہیں۔

  2. شہباز شریف کا ایم ایل ون منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت

    PMO

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کی اصلاحات اور مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کو مضبوط، منافع بخش اور مالی طور پر خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ایم ایل ون منصوبے، ریلوے کی اراضی کے استعمال اور ادارے کی مالی و انتظامی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور واگزاری کے لیے چیئرمین نیب کی سربراہی میں نیب اور وزارتِ ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ ٹرانسپورٹ میں اضافے کے لیے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

    شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی اراضی کو کمرشل بنیادوں پر مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایم ایل ون منصوبے کی تعمیر کو آگے بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لا کر نہ صرف ادارے کی آمدن بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں سے فنڈنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر میں استعمال کرنے کی اصولی منظوری بھی دی۔ انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ریلوے کی اراضی کی تجارتی استعداد اور فنڈنگ کے امکانات کے حوالے سے دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کراچی۔روہڑی، روہڑی۔ملتان، ملتان۔لاہور اور لاہور۔پشاور سیکشن شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کراچی۔روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر حصوں کی تکمیل کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، حنیف عباسی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

  3. 7 اکتوبر حملوں کی تیسری برسی، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 74000 سے زائد افراد مارے گئے

    Hammas, Israel

    حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں کی تیسری برسی کے موقع پر اسرائیل بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں یادگاری تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا۔

    7 اکتوبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 74 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران علاقے کے بڑے حصے کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کے خلاف مغربی ممالک سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں مظاہرے ہوئے اور غزہ میں اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔

    تین سال قبل اسی روز حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں 1,100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔

    اس موقع پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دنیا کے مختلف شہروں میں بھی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فجر کے وقت سینکڑوں افراد یادگاری اجتماع میں شریک ہوئے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

  4. قیمتوں میں اضافے کے خدشات، تیل و گیس کے ذخائر کے اجرا کا منصوبہ زیرِ غور

    Oil and Gas

    تیل اور گیس کی عالمی منڈی میں ممکنہ سپلائی خدشات کے پیشِ نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا ایک غیر رسمی اجلاس آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے منعقد ہوگا، جس میں ہنگامی ذخائر سے تیل اور گیس جاری کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یورپی یونین کے دو سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ اجلاس میں اس منصوبے پر غور کیا جائے گا، جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندے اس حوالے سے پہلے ہی ابتدائی مشاورت کر چکے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے جی سیون (جی 7) ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد اپنے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اصولی اتفاق کیا تھا۔ ساتھ ہی انھوں نے توانائی کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا۔

    تاہم اس حوالے سے اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ یورپ اور امریکہ مجموعی طور پر کتنی مقدار میں تیل اور گیس کے ذخائر مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ اقدام کا مقصد سپلائی میں کمی کے خدشات کو کم کرنا اور توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر قابو پانا ہے۔

  5. عمان کی فضائیہ نے آبنائے ہرمز میں تباہ شدہ ٹینکر سے عملے کے 10 زخمی ارکان کو نکال لیا

    عمانی فضائیہ نے آبنائے ہرمز میں تباہ کیے گئے پانامہ کے جھنڈے والے آئل ٹینکر سے عملے کے 10 زخمی ارکان کو نکال لیا ہے۔ عمانی وزارت دفاع کے مطابق ٹینکر آن پیس کو منگل کو عمان کی بندرگاہ لیما سے 17 کلومیٹر دور نشانہ بنایا گیا۔

    حملے کے نتیجے میں جہاز کے ڈیک پر آگ لگ گئی۔

    عمانی وزارت دفاع نے ایکس چینل پر ایک بیان میں کہا، ’جہاز کے عملے کو خاصاب کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔‘

  6. بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کے عملے کے باقی تین پاکستانی بھی وطن واپس روانہ، اسحاق ڈار

    Puntland Maritime Police Force

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملہ ارکان بھی محفوظ طریقے سے وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں اور آج کراچی پہنچ کر اپنے اہلِ خانہ سے مل جائیں گے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران علی، حسین یوسف اور محمد یٰسین ادیس ابابا سے کراچی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور ان کی اپنے خاندانوں سے ملاقات ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے سفیر نے ادیس ابابا میں تینوں عملہ ارکان سے ملاقات کی اور ان کے قیام کے دوران ضروری سہولیات اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

    اسحاق ڈار کے مطابق وزارتِ خارجہ اور حکومتِ پاکستان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی عملے کے تمام ارکان کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انھوں نے ان کوششوں میں تعاون کرنے والے تمام افراد اور اداروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عملہ ارکان کی بحفاظت واپسی خوش آئند ہے، تاہم اس واقعے میں جان سے محروم ہونے والے تین پاکستانی سی فاررز کے نقصان پر گہرا افسوس ہے۔ انھوں نے مرنے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سمندری قزاقی کے خاتمے اور بحری کارکنوں و سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

  7. امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان، افغانستان، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ متاثر، خطے کے تقریباً نصف انتہائی غریب افراد پاکستان میں مقیم: عالمی بینک, تنویر ملک، صحافی

    Poverty

    عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری 2026 میں خلیج فارس میں شروع ہونے والے تنازع نے پاکستان، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں لوگوں کے ذرائع معاش کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ انسانی سطح پر بھی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔

    خطے کے ممالک سے متعلق جاری کیے گئے اکنامک اپ ڈیٹ میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ لبنان، پاکستان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی قیمت لبنان میں 80 فیصد سے زیادہ، متحدہ عرب امارات میں تقریباً 70 فیصد اور پاکستان، مغربی کنارے اور غزہ میں 40 فیصد سے زائد بڑھی۔

    رپورٹ کے مطابق قیمتوں پر حکومتی کنٹرول اور سبسڈیز نے صارفین کو فوری اثرات سے کسی حد تک تحفظ فراہم کیا، تاہم اس کے نتیجے میں حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا۔ مصر، اردن اور تیونس میں حکومتی قرضے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 80 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ لبنان میں یہ شرح 130 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    عالمی بینک کے مطابق الجزائر، جبوتی، عراق، مراکش اور پاکستان کو بھی قرضوں اور مالی ضروریات کے حوالے سے نمایاں دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی طرح ایندھن اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شام اور پاکستان میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح 2018-19 سے 2024-25 کے دوران روزانہ تین ڈالر کی غربت کی لکیر کے حساب سے 6.4 فیصد پوائنٹس، جبکہ 4.20 ڈالر یومیہ کی غربت کی لکیر کے حساب سے 3.2 فیصد پوائنٹس بڑھی۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند افراطِ زر، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ نے غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اندازہ ہے کہ یہ منفی رجحانات 2026 تک برقرار رہیں گے۔

    عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح وبا سے پہلے کی سطح سے اب بھی بلند ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خطے کے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ دیگر غریب افراد کی بڑی تعداد افغانستان، شام اور یمن میں رہتی ہے۔ یہ تینوں ممالک جنگوں اور تنازعات سے متاثر ہیں، اور ان میں مجموعی طور پر روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد کا مزید 47 فیصد حصہ آباد ہے۔

  8. تحریک انصاف کا لانگ مارچ کوہاٹ سے ہوتا ہوا پشاور کے مضافات متنی تک پہنچ گیا

    @ShafiJanPTI

    پاکستان تحریک انصاف کا چار اکتوبر کو شروع ہونے والا لانگ مارچ کوہاٹ سے پشاور کے مضافافتی علاقے متنی پہنچ گیا ہے، جہاں سے پھر یہ قافلہ خیبر کی طرف جائے گا۔ اس سے قبل یہ مارچ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ پہنچا تھا۔ کوہاٹ میں لانگ مارچ کے قافلے کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں شہریوں کی شرکت پر صوبائی ترجمان شفیع جان نے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ کے باشعور عوام نے لانگ مارچ کے موقع پر بھرپور شرکت کر کے اپنے سیاسی شعور اور وابستگی کا مظاہرہ کیا۔

    ان کے مطابق شہر میں پہنچنے والے قافلے کا والہانہ استقبال کیا گیا جبکہ شرکا کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کیا گیا۔

    شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ کے عوام کی میزبانی، تعاون اور گرم جوشی قابلِ ستائش ہے، جس نے مارچ کے شرکا کے حوصلے بلند کیے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ عوام آئندہ بھی عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اسی جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔

    پارٹی رہنماؤں کے مطابق تحریک انصاف آج اس لانگ مارچ کے آگے کا اعلان کر سکتی ہے۔

  9. امریکی حملوں میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل مراکز کو نقصان پہنچا، ایران

    Iran
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس سے صنعتی سپلائی چینز اور کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد بھی متاثر ہوا ہے۔

    ایران کے نمائندے ہادی فرج وند نے تنظیم برائے ممانعتِ کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی کیمیائی صنعتوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی نے سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے اور کیمیکل ویپنز کنونشن پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔‘

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، ہادی فرج وند کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات میں پیٹروکیمیکل اور دوا ساز صنعتوں کے مراکز شامل ہیں۔

    ایران اس سے قبل بھی او پی سی ڈبلیو میں اپنی صنعتی اور کیمیائی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایسی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے خطرناک کیمیائی مادوں کے اخراج کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جو عوامی صحت اور ماحولیات کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ کیمیائی اور صنعتی ڈھانچے پر حملے نہ صرف ملکی پیداوار اور سپلائی چینز کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

  10. مارکو روبیو ’سٹریٹیجک مذاکرات‘ کے آغاز کے لیے یونان پہنچ گئے

    USA

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو یونان کے ساتھ علاقائی سلامتی، توانائی اور دفاعی تعاون پر مبنی ’سٹریٹیجک ڈائیلاگ‘ کے آغاز کے لیے ایتھنز پہنچ گئے ہیں۔

    ایران اور یوکرین کی جنگوں نے عالمی توانائی کی سپلائی چین کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایسے میں نیٹو کے رکن ملک یونان جنوب مشرقی یورپ میں قدرتی گیس کی ترسیل کے ایک اہم مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    مارکو روبیو، جو منگل کی شب آئس لینڈ سے ایتھنز پہنچے، اپنے دورے کے دوران یونان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان شخصیات میں وزیرِ اعظم کیریاکوس متسوتاکس اور وزیرِ خارجہ گیورگوس گیراپیٹریٹس شامل ہیں۔

    ملاقاتوں سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’یونان امریکہ کا ایک نہایت اہم اتحادی ہے۔ وہاں ہماری نہ صرف فوجی موجودگی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات بھی قائم ہیں۔‘

    توانائی کے شعبے میں تعاون کے تحت فروری میں ایتھنز میں ایسے معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن کے تحت امریکی توانائی کمپنی شیورون کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو جنوبی پیلوپونیس اور جزیرہ کریٹ کے سمندری علاقوں میں ہائیڈروکاربن کی تلاش اور پیداوار کے خصوصی حقوق دیے گئے۔

    بعد ازاں اپریل میں ایک اور معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایکسون موبل کی سربراہی میں قائم کنسورشیم شمال مغربی آئیونین سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے ڈرلنگ کرے گا۔ اس منصوبے پر عملی کام 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

    یونانی وزیرِ اعظم کے مطابق، امریکہ سے دفاعی تعاون کے تسلسل میں یونان 20 ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، جبکہ ان طیاروں کے پائلٹس کی تربیت 2027 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

    مارکو روبیو کے دورے کا اہم ترین پہلو ایتھنز کے تاریخی مقام ’پِنِکس‘ میں ان کی تقریر ہوگی۔ ایکروپولس کے قریب واقع یہ مقام قدیم ایتھنائی جمہوریت کی پارلیمانی اسمبلی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے معاون برائے عالمی عوامی امور ڈیلن جانسن کے مطابق، ’سیکرٹری روبیو مغربی تہذیب کی جائے پیدائش پر خطاب کریں گے، جہاں وہ امریکیوں اور یورپیوں پر زور دیں گے کہ وہ مغربی اقدار کے احیا کے لیے متحد ہوں۔ یہ فکری ورثہ قدیم ایتھنز اور روم سے ہوتا ہوا مسیحی روایت اور پھر امریکی جمہوریہ کے قیام تک پھیلا ہوا ہے۔‘

  11. ایران کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، وزیرِ تیل بھی مستعفی ہو چکے ہیں: ٹرمپ

    Trump

    ایران کے بارے میں اپنے تازہ بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے بیان کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی نہیں جانتا کہ ایران کو کون چلا رہا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’ایران کی قیادت کا ایک اور گروپ بھی ختم ہو چکا ہے اور میرے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔‘

    امریکی صدر نے ایران کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اس وقت شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ وہاں مہنگائی تقریباً 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے وزیرِ تیل نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے پاس نہ معیشت بچی ہے، نہ تیل اور نہ ہی کچھ اور۔‘

    تاہم ایرانی وزیرِ تیل محسن پاک نژاد دو روز قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، لیکن ان کی جانب سے ٹرمپ کے بیان سے ملتا جلتا کوئی بیان ایرانی یا بین الاقوامی میڈیا میں سامنے نہیں آیا۔

    آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’گذشتہ چند دنوں کے دوران لاکھوں بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا ہے۔ تیل کی ترسیل اس قدر زیادہ ہے کہ بعض اوقات یہ جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود تیل کی ترسیل بدستور جاری ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے اثرات گہری نظر سے دیکھے جا رہے ہیں۔

  12. جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو اپنی افزودگی کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کرنا ہوگا: امریکی نائب صدر

    USA

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے تہران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں اور عملی کمی کرنا ہوگی۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے صرف مستقبل میں افزودگی کم کرنے کے وعدے کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایران کو اپنی موجودہ صلاحیتوں میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔

    الاسکا میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم میں شرکت کے بعد روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ کو ابھی یہ یقین نہیں کہ تہران جوہری مذاکرات کے حوالے سے کس سمت میں پیش رفت کرے گا اور اس کے حتمی فیصلے کیا ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اس تنازع کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور واشنگٹن اسی ہدف کے حصول کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ امیدوار ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی پوری توجہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

  13. یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، حوثی میزائل حملوں میں ریاض اور عدن ہدف

    Yeman

    یمن میں جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ انصار اللہ (حوثی) گروپ نے سعودی عرب اور جنوبی یمن میں متعدد میزائل حملے کیے ہیں، جبکہ مختلف محاذوں پر زمینی جھڑپیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ سعودی زیرقیادت اتحاد کے مطابق ریاض کے شمال میں حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب عدن سکیورٹی اتھارٹی کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے داغے گئے دو میزائل عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیے گئے۔ حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن کے مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں، خصوصاً مغربی ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے اطراف، پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یمنی سرحد کے قریب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔

    اگرچہ سعودی حکام نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق اس دوران ایئرپورٹ کی فضائی حدود میں بار بار عارضی بندش دیکھی گئی۔

    جنگی جرائم کے الزامات

    دریں اثنا، باب المندب کے قریب لڑائی کی ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویڈیو کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ویڈیو میں بکتر بند گاڑیوں کو ایسے افراد کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن میں بعض مسلح اور بعض بظاہر غیر مسلح نظر آتے ہیں۔ کچھ افراد ہاتھ بلند کیے، بیٹھے یا زمین پر لیٹے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

    حوثیوں نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے حکومتی فورسز پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ان کے مخالفین کی ’’حقیقی نوعیت‘‘ کو بے نقاب کرتی ہے۔

    تاہم باب المندب کے محاذ پر سرگرم جائنٹس بریگیڈز کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ حوثی جنگجو ہتھیار ڈال رہے ہیں، لیکن بعد میں بعض افراد نے حکومتی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔

    سعودی زیرقیادت اتحاد نے ویڈیو یا لگائے گئے الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ ہوم لینڈ شیلڈ فورسز نے اپنے اہلکاروں کو قیدیوں کے ساتھ انسانی، اخلاقی اور قانونی اصولوں کے مطابق سلوک کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    باب المندب کے گرد شدید جھڑپیں

    دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے باب المندب کے اطراف لڑائی بدستور جاری ہے۔

    حکومتی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ حوثیوں کے زیر قبضہ متعدد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ پیر کی شب فورسز نے کئی محاذوں پر کامیابیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ تعز کے مختلف علاقوں سے حوثیوں کو پسپا کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبہ مارب کے جنوبی حصوں میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

  14. تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، سہیل آفریدی کا عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

    KPK

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، مگر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہاں ایک عام سپاہی ہمارے ارکانِ اسمبلی کو روک لیتا ہے، لیکن ایک سابق وزیرِ اعظم کو انصاف نہیں مل رہا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں دو آئین چل رہے ہیں، ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان کے اس آئین نے ہمارے پورے ملک کو متحد رکھا ہے، مگر طاقتور حلقے اسے محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہیں۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو شوکت خانم انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی ڈاکٹر اور نرسز کی نگرانی میں علاج کیا جائے۔

  15. لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، پھر بات چیت ہو گی: وزیر اعظم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی مشروط پیش کش

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ’میں ابھی بھی آپ سے یہ گزارش کروں گا کہ آپ ہوش کے ناخن لیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنوں کو ختم کریں۔ آپ اس کو ختم کریں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھیں گے، بیٹھ کر بات کریں گے۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا ’تاکہ انھیں سمجھایا جا سکے کہ اس (دھرنے اور لانگ مارچ) راستے کو ترک کریں۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔‘

    تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی عمل کے آخری مراحل میں جن امور پر اتفاق ہو چکا تھا ان میں دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

    شہباز شریف نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کا ’ایک ہی مقصد تھا کہ یہ بات چیت کسی طرح بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘

    اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ ملکی معیشت بنتی ہے اور اس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اور ’یہ ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، ’اسے ہم ہر صورت یقینی بنائیں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران اجتماعی کاوشوں اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے اور اب معیشت کی ’گروتھ اور ترقی کا وقت آ چکا ہے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ اگر کوئی اس مرحلے پر معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اقدام ’ملک دشمنی‘ کے مترادف ہے کیونکہ اس سے ’ترقی کے پہیے جام‘ ہوتے ہیں اور عوام کی جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  16. سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر قیاس آرائی پر مبنی ہے: پاکستان

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی سے متعلق خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کو ’قیاس آرائی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’فیکٹ چیکر وزارتِ اطلاعات و نشریات‘ نامی اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات خفیہ ہیں اور انھیں میڈیا کی قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا پہلے ہی واضح اظہار کر چکا ہے اور اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل روئٹرز کی تین اکتوبر کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کی روک تھام میں مدد کے لیے 30 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔

    روئٹرز کی رپورٹ میں، جس کا حوالہ وزارتِ اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک میں دیا، ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ فوجی دستے گذشتہ سال سے مختلف مراحل میں سعودی عرب پہنچے جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید تعیناتی عمل میں آئی۔

    وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس سے گریز کیا جانا چاہیے جو نامعلوم اور غیر منسوب ذرائع پر مبنی ہیں۔

    وزارتِ اطلاعات کے مطابق اگر کوئی سوالات ہوں تو متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جانا چاہیے، نہ کہ غیر مصدقہ اعداد و شمار اور تفصیلات شائع کی جائیں۔

  17. مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کریں: بیرسٹر گوہر کا وزیر اعظم کو جواب

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلسلہ منقطع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، اور مطالبہ کیا ہے کہ بات چیت کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کیا جائے۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انھوں نے پہلے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’آج نہیں تو کل‘ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں اور کسی حل کے پہنچنے تک بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

    ’چین بریک ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آپ مسلسل بیٹھیں، باقاعدگی سے بیٹھیں، ضرور کوئی حل نکلے گا۔‘

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جمعہ اور سنیچر کو مذاکرات کے دو دور ہوئے، جن کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔

    جبکہ آج وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس پر ردعمل میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔

    انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق تحریک انصاف نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ محض فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہوگی بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز بات چیت چاہتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو اپنے اپنے تحفظات اور خدشات میز پر رکھ کر متعدد نشستوں میں ان پر بات کرنی چاہیے تھی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بغیر کسی پیشگی شرط کے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہوئی، تاہم ان کے بقول حکومت نے وہ سنجیدگی اور فراخ دلی نہیں دکھائی جو اس عمل کے لیے ضروری تھی۔

  18. پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست، وفاق کو نوٹس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    CM Media Cell

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

    شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور آصف خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ رہا ہے، اس لیے شرکا کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ معظم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار لانگ مارچ کے میزبان ہیں جبکہ مارچ کے شرکا ان کے مہمان ہوں گے، لہٰذا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انھیں مناسب سکیورٹی فراہم کرے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی نمٹائی جا چکی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت فریق تھیں، اس لیے موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔

    اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ کم از کم عبوری ریلیف دیا جائے اور لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے۔

    دورانِ سماعت وکیل نے یہ بھی درخواست کی کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر کیس کو کل تک ملتوی کرنے کے بجائے آج عدالتی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقِ مخالف کو سنے بغیر کیس میں پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔ بینچ نے کہا کہ اگر متعلقہ فریق وقفے کے بعد سماعت کے لیے تیار ہوتا تو کیس دوبارہ سنا جا سکتا تھا، تاہم چونکہ دوسرا فریق اس وقت تیار نہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔

    عدالت نے عبوری ریلیف کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  19. لانگ مارچ کا روٹ تبدیل، پہلے خیبر پھر پشاور جائیں گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب قافلہ پہلے خیبر جائے گا، جس کے بعد پشاور روانہ ہو گا۔

    کوہاٹ سے روانگی کے موقع پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل منصوبے کے تحت قافلے نے پشاور جانا تھا، تاہم خیبر کے عوام کی درخواست پر شیڈول تبدیل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’کل جو پشاور سے چارسدہ کا پلان تھا اس کو تھوڑا تبدیل کر دیا ہے کیونکہ خیبر کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم ان مہمانوں کی مہمان نوازی کریں گے، تو کل خیبر جائیں گے، پھر اس کے بعد پشاور جائیں گے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو پُر امن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے لانگ مارچ کو کرکٹ میچ سے تشبیہ دی۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوور باقی ہیں اور بہت سے کھلاڑی بھی باقی ہیں۔ آرام آرام سے کھیلیں گے۔‘

    تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ نے چار اکتوبر کو لکی مروت سے روانہ ہونا تھا، پانچ اکتوبر کو کرک اور کوہاٹ، جبکہ چھ اکتوبر کی شام پشاور پہنچنا تھا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے بنیادی مطالبات میں بانی تحریک انصاف عمران خان کے علاج کی سہولت، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کا حق اور ان کی ’انصاف کے مطابق رہائی‘ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، جس کے بعد احتجاج کا راستہ اپنایا گیا۔

    انھوں نے زور دیا کہ لانگ مارچ کا مقصد پُر امن انداز میں احتجاج ریکارڈ کرانا ہے اور کارکن کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔

  20. اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ بد عنوانی کے الزام پر معطل

    محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران نوید اشرف کو کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات پر معطل کر دیا ہے، جبکہ ان کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عمران نوید اشرف کو 90 روز کے لیے معطل کیا گیا ہے اور انھیں انسپکٹریٹ آف پریزنز پنجاب، لاہور کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    حکام نے سینٹرل جیل لاہور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ، کاشف علی کو سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک تعینات کر دیا ہے۔