گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعے کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔
- شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کو ترقی دے سکیں۔
- وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرنے والے اپنے اعلان پر قائم ہے اور اگر ان کے علاج کے لیے ضرورت پڑی تو انھیں بیرونِ ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
- ایران کے سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لیٹر تک پہنچ گئی ہے اور محدود پیداوار، درآمدی مشکلات اور ذخائر پر دباؤ کے باعث صورتحال ایک ’فوری اور نازک مسئلہ‘ بن چکی ہے۔
- ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کیے گئے نام نہاد ’اقتصادی ڈی ڈے‘ پر تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ
- اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ’غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
- وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے زامبوئی میں، جو کیمرون کی سرحد کے قریب واقع ہے، سونے کی کان کے ایک علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو یہ معلومات فراہم کیں۔
- ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک ایران کو کوئی رقم یا اثاثے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔