آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے: ایران

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی پاکستانی کوششوں کا تسلسل ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. عمان اور فلائی دبئی کی جنوبی ایران میں نئے فضائی راستے کی درخواست

    عمان اور فلائی دبئی نے جنوبی ایران میں ایک نئے فضائی راستے کے قیام کی درخواست دی ہے، جس کا ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اس مجوزہ روٹ کا مقصد فضائی ٹریفک کے بہاؤ کو مزید بہتر بنانا، پروازوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور ایران کے جنوبی فضائی راستوں کی اہمیت اور کشش میں اضافہ کرنا ہے۔

    چند روز قبل ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا تھا کہ فلائی دبئی اور اماراتی ایئرلائن ایئر عربیہ نے ایک بار پھر ایرانی فضائی حدود کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت تنظیم کی جانب سے کی جانے والی فالو اپ کارروائیوں اور ایئرپورٹس کمپنی کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

    ادارے کے مطابق عمان کے ساتھ مسلسل مشاورت اور مذاکرات کے بعد یہ انتظامات طے پائے، جبکہ فلائی دبئی کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے کے لیے موسمی لائسنس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے فضائی راستے کی منظوری خطے میں فضائی روابط اور پروازوں کی سہولت کو مزید فروغ دے سکتی ہے۔

  2. فرانس کا دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اقدام بلا جواز ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فرانسیسی حکومت کے دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ اور ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

    اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے فرانس کے اس اقدام کو ایران کے دو فرانسیسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کے ’مکمل طور پر قانونی‘ اقدام پر ’رد عمل‘ قرار دیا۔

    اسماعیل بقائی نے ایران سے فرانسیسی سفارتخانے سے دونوں سفارت کاروں کو نکالنے کی وجہ ’ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت‘ بتائی۔ بُدھ 18 اگست کو ایرانی میڈیا نے ایران کی ثقافتی مشیر نیلوفر شادمہری کو فرانس سے نکالے جانے کی خبر دی۔

    ایک روز قبل فرانسیسی وزیر خارجہ جین نول بارو نے کہا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے پہلے کہا تھا کہ جولائی میں تہران میں سفارتی تنازع میں ملوث فرانسیسی سفارت خانے کے دو ملازمین کو ایران واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے 20 جولائی کو ایرانی سکیورٹی فورسز پر سفارت خانے کے دو عملے کے ارکان کے سفارتی استثنیٰ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے پیرس میں ایران کے ناظم الامور کو بھی احتجاجاً طلب کیا۔

    ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے ایک بیان کے مطابق، دونوں کو ’غیر ملکی دراندازی اور مداخلت کے ایک اہم معاملے کی تفتیش کے دوران‘ اور ’ایک خفیہ ملاقات کی جگہ سے‘ گرفتار کیا گیا۔

  3. سفارتکاری کے دروازے کھلے ہیں، مگر اسرائیل پر اب بھی اعتماد نہیں: شامی وزیرِ خارجہ

    شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ دمشق کو توقع ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ شام کو اب بھی اسرائیل پر اعتماد نہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو شامی فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کے چند روز بعد شائع ہوا، اسعد الشیبانی نے کہا کہ دمشق کی فوری ترجیح اسرائیلی حملوں کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں فریقوں کو اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی معاہدے سے متعلق بات چیت ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد معطل ہو گئی تھی، تاہم امید ہے کہ یہ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے۔ اسعد الشیبانی کے مطابق شامی فضائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد دونوں جانب سے رابطے بھی منقطع ہو گئے تھے۔

    شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دمشق کو امید ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل بالآخر شامی سرزمین سے اپنی افواج واپس بلا لے گا۔

    انھوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اس ’تاریخی موقع‘ سے فائدہ اٹھائے کیونکہ ’سفارتکاری کے دروازے اب بھی کھلے ہیں‘، تاہم ساتھ ہی اعتماد کے فقدان کا بھی اظہار کیا۔

    ان کا کہنا تھا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ رابطہ ہونا چاہیے، خاص طور پر اس فریق کے ساتھ جو مسلسل شام کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ لیکن اگر یہ رابطہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا تو پھر اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس وقت ہمیں اسرائیل پر بھروسہ نہیں ہے۔‘

    دوسری جانب امریکہ ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیل اور شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے، تاہم اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

    ادھر اسرائیل کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث اس نے شام کے بعض علاقوں میں اپنی فوج تعینات کر رکھی ہے اور اسی تناظر میں وہ شامی حکومتی تنصیبات اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

  4. ایران میں اسرائیل اور امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک قیدی کو پھانسی

    ایران کی عدلیہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ ماجد عدینہ کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ عدالتی حکام کے مطابق انھیں جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق عدالت نے ماجد عدینہ کو ’دشمن گروہوں‘ کے لیے سرگرمیاں انجام دینے، جان بوجھ کر آگ لگانے، افراد کو اکٹھا کرنے اور ملک کی داخلی سلامتی کو متاثر کرنے والے اقدامات میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیا تھا۔

    عدلیہ کے مطابق ماجد عدینہ اور ایک دوسرے مشتبہ شخص کو نو جنوری کو تہران کے مغرب میں واقع صوبہ البرز سے گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان کے قبضے سے ایک پستول، گولہ بارود، دو سٹن گنز، دو آنسو گیس کے کنستر، ایک ریچارج ایبل برقی آرا اور پٹرول کی ایک بوتل برآمد ہوئی تھی۔

    شہرِ کرج کی انقلابی عدالت نے ماجد عدینہ کو سزائے موت سناتے ہوئے ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ بعد ازاں ایران کی سپریم کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد اتوار کی صبح سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

    ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس اور پیرس میں قائم تنظیم ٹوگیدر اگینسٹ دی ڈیتھ پینلٹی کے مطابق ایرانی حکام نے 2025 کے دوران کم از کم 1,639 افراد کو پھانسی دی، جو ان تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق 1989 کے بعد سے ایک سال میں ریکارڈ کی جانے والی بلند ترین تعداد ہے۔

  5. چین میں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کی ملاقات، مذاکرات کی تفصیلات جاری نہ ہو سکیں

    چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے بیجنگ کا دورہ کیا جہاں اُن کی چینی نائب وزیرِ خارجہ سے ملاقات ہوئی۔

    چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ملاقات کی تصدیق کی گئی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کن معاملات پر بات چیت ہوئی۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اثنا کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے چینی نائب وزیرِ خارجہ میاؤ دیو سے 17 اگست کو ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اثنا کے مطابق غریب آبادی اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مشاورت کے لیے بیجنگ پہنچے تھے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے ایران اور چین کے سفارتی تعلقات کے 55 سال مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تاریخ کے اہم مواقع پر ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔

    ان کے بقول تہران اور بیجنگ کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کے تحت دوطرفہ اور بین الاقوامی سطح پر تعاون اور روابط کا سلسلہ جاری ہے۔ ملاقات میں دونوں عہدیداروں نے علاقائی امن و سلامتی، آبنائے ہرمز کی صورتِ حال، اقوامِ متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی اور بین الاقوامی اداروں میں تعاون کے امکانات، اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔

  6. ایران جنگ اور پابندیوں سے ناواقف نہیں، دو دہائیوں سے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ اور پابندیاں ایران کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے ملک کو ایسے دباؤ سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے ماضی میں بھی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں اور قومی مفادات کا دفاع کیا ہے۔ ان کے بقول، ایرانی عوام اور ریاست نے مشکل حالات کا سامنا کیا ہے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

  7. عراق نے سعودی عرب کی سرحد کے قریب فوج کی نئی آپریشنز کمانڈ تعینات کر دی

    عراقی حکومت نے ملک کی مغربی سرحدوں، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ سرحد، کی نگرانی کے لیے ایک نئی کمانڈ قائم کی ہے، جس کا مقصد پڑوسی ممالک کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنا ہے۔

    عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل یحییٰ رسول نے 22 اگست کو کرد ویب سائٹ روڈا کو بتایا کہ ایک نئی آپریشنز کمانڈ تشکیل دے دی گئی ہے اور اپنے مشن کے پہلے ہی دن یہ سعودی سرحد کے قریب ایک علاقے میں منتقل ہو گئی ہے، جہاں اسے تعینات کیا جائے گا۔

    میجر جنرل یحییٰ رسول نے مزید کہا: ’اس کمانڈ کی تعیناتی کا مقصد ملک کی جنوبی اور مغربی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور پڑوسی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنا ہے۔‘

    عراقی حکومت کے مطابق بدیہ آپریشنز کمانڈ 10 اگست کو مثنیٰ کے صحرائی علاقے میں سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

    میجر جنرل یحییٰ رسول کے مطابق اس کمانڈ کا ہیڈکوارٹر صوبہ مثنیٰ کے علاقے نقرة السلمان میں ہوگا۔

    نقرة السلمان سماوہ کے صحرا کے وسط میں واقع ہے اور صوبہ مثنیٰ کے ضلع سلمان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ یہ علاقہ سعودی سرحد سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

  8. فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو ایک وفد کے ہمراہ تہران ک دورہ کریں گے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اپنے دورے کے درمیان ایران کے سینیئر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

    پاکستان نے تاحال سرکاری سطح پر اس دورے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق سنیچر کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور اس دوران خطے میں امن، سکیورٹی ور استحکام کی بحالی کی کوششوں پر بات چیت ہوئی تھی۔

  9. امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو ایران اپنا دُشمن سمجھے گا: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو اپنا دُشمن تصور کرے گا۔

    ایران اس سے قبل خطے کے ان ممالک کو ہدف بنا چکا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز کہا کہ اب اس چھ ماہ پر محیط تنازع کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ دیگر ممالک پر بھی زور دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط ختم کر دیں۔

    ’امریکہ کے ایران پر بلااشتعال حملے کے بعد ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی ’خواہش‘ بڑھ گئی ہے‘

    محسن رضائی نے کہا کہ اگر بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری کسی ملک پر حملے کو نہیں روکتی تو ’ہم ایٹم بم کیوں حاصل نہ کریں؟‘

    محس رضائی نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران پر امریکی حملے نے کچھ ممالک کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول زیادہ بہتر دفاعی ڈیٹرنس فراہم کر سکتا ہے۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘ این پی ٹی کا رکن تھا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کر رہا تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اب پوری دُنیا یہ کہہ رہی ہے کہ نہ تو این پی ٹی اور نہ ہی جوہری توانائی کی تنظیم کی رُکنیت مؤثر ہے جس کی وجہ سے ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی ’خواہش‘ بڑھ گئی ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اپنے انٹرویو میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکی آمیز لہجہ بھی اختیار کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف اس عمل میں حصہ لیتا ہے جسے اُنھوں نے ’معاشی جنگ‘ قرار دیا، تو ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ’تیل کا ایک قطرہ‘ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔

    اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ لڑنے کے اپنے انداز اور سفارتی رویے میں تبدیلیاں لائے گا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی حملوں میں ناکامی کے بعد امریکہ اب ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کے ذریعے صورتحال کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  10. ہم مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم اس وقت مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔

    اتوار کو ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو ایک اور وینزویلا بنانے کوشش کی گئی، لیکن ایران ایسی طاقت کے طور پر اُبھرا جس نے مزاحمت دکھا کر دُنیا کو حیران کر دیا۔

    ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے دُشمنوں کو اُمید ہے کہ وہ مسائل کے ذریعے معاشرے میں تقسیم اور پھوٹ ڈال سکیں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم تقسیم، پھوٹ، تنازعات اور انا پرستی سے بچنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

  11. صدر پزشکیان کے ’نہ جنگ نہ امن‘ کے بیان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کے علاقائی ممالک سے رابطے

    ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ’مذاکرات کی بحالی کے لیے موزوں حالات‘ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    عمان حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبد العاطی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کی صورتِ حال نیز خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری تازہ ترین سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت کی۔

    یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے ’طاقت کے ساتھ، مگر منطق کے ساتھ‘ مذاکرات کرنا ممکن ہے۔

  12. چلی کا تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان

    چلی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اگست سے ایران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دے گی، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا خاتمہ نہیں ہے۔

    چلی کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں سفارت خانہ بند ہونے کے بعد، ملک کے قونصلر امور ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود چلی کے قونصل خانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔

    وزارت نے اس فیصلے کی وجوہات میں حکومتی خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے آپریشنل تنظیمِ نو اور وسائل کی ترجیحات کا تعین، نیز مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق احتیاطی پہلوؤں کا حوالہ دیا ہے۔

    چلی کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر ہوزے انتونیو کاسٹ، جو مارچ سے اقتدار میں ہیں، ٹرمپ انتظامیہ سے ہم آہنگ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم، ان کی انتظامیہ کے کچھ ارکان نے حالیہ ہفتوں میں لاطینی امریکہ کے حوالے سے امریکی طرزِ عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

  13. امریکہ میں دورانِ پرواز لیپ ٹاپ میں آگ لگنے سے ایک مسافر زخمی، جہاز بحفاظت لینڈ کر گیا

    امریکہ میں دورانِ پرواز لیپ ٹاپ میں آگ لگنے سے ایک مسافر زخمی ہو گیا تاہم پرواز بحفاظت لینڈ کر گئی۔

    امریکن ایئرلائنز کی پرواز 2398 اٹلانٹا جارجیا سے آ رہی تھی، جمعے کے روز ٹیکساس کے ڈلاس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد ایک مسافر کو موقع پر طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں اسے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس کو حاصل ہونے والی آڈیو کے مطابق پائلٹ نے فضائی ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ ’طیارے کے پچھلے حصے میں کیبن میں آگ لگی ہوئی ہے اور کہا کہ فلائٹ اٹینڈنٹس اس وقت اسے بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو مزید بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ تقریباً چار سے پانچ مسافر لیپ ٹاپ سے جھلس گئے ہیں۔‘

    ایئرلائن نے بی بی سی کو بتایا کہ پرواز ’لینڈنگ کے دوران ایک مسافر کے آلے سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات کے بعد بحفاظت لینڈ کر گئی۔ ہم اپنے عملے کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردعمل پر ان کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے تیزی سے آلے کو قابو میں کر لیا۔‘

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) خبردار کرتا ہے کہ لیتھیم بیٹریاں، جن میں لیپ ٹاپ کی بیٹریاں بھی شامل ہیں، مختلف عوامل کے نتیجے میں حد سے زیادہ گرم ہو سکتی ہیں، جن میں بیٹری کا خراب ہونا، زیادہ گرم ہونا، پانی کے سامنے آنا، حد سے زیادہ چارج ہونا یا غلط طریقے سے پیک کیا جانا شامل ہے۔

    ایف اے اے کے مطابق رواں سال اب تک دھوئیں، آگ یا انتہائی زیادہ حرارت سے متعلق لیتھیم بیٹریوں کے 58 تصدیق شدہ فضائی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ گذشتہ 20 برسوں میں سب سے زیادہ واقعات بیٹری پیکس سے متعلق تھے، جبکہ 84 واقعات لیپ ٹاپس سے متعلق ریکارڈ کیے گئے۔

  14. وسطی نائیجیریا میں مسلح افراد کے متعدد دیہات پر حملے، 40 افراد ہلاک، 100 سے زائد اغوا

    نائیجیریا کی وسطی ریاست نائجر میں کئی دیہات پر مسلح افراد کے حملوں کے دوران 100 سے زائد افراد کو اغوا کر لیا گیا، جبکہ پولیس اور مقامی رہائشیوں کے مطابق حملوں میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق فوجی طرز کے لباس میں ملبوس حملہ آوروں نے جمعے کی نماز کے بعد بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا میں واقع ڈیکارا، گیدان زانا، سابون گیدا اور ماساکا نامی دیہات کو نشانہ بنایا۔

    پولیس ترجمان واسیو ابیودون نے بتایا کہ حکام کو شبہ ہے کہ حملہ آور مسلح جرائم پیشہ گروہ، یعنی ’ڈاکو‘ تھے جو نائیجیریا کے مختلف علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار میں ملوث ہیں۔

    مقامی رہائشیوں کے مطابق مسلح افراد نماز کے بعد ڈیکارا میں داخل ہوئے، لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا اور انھیں قریبی جنگلات میں لے گئے، جس کے بعد وہ دیگر قریبی دیہات کی جانب روانہ ہوگئے۔

    مقامی رکنِ اسمبلی جعفر محمد شیٹی مان بورگو نے بھی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دور دراز علاقے بورگو میں مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ یہ علاقہ نائیجیریا کی ریاستوں کیبی اور کوارا کے علاوہ پڑوسی ملک بینن کی سرحد سے بھی ملتا ہے۔

    رواں ماہ کے آغاز میں پولیس نے بتایا تھا کہ بورگو کے چار دیہات کونکو سو، کاسوان داجی، تنگن ماکری اور شفاچی سے اغوا کیے گئے 145 افراد کو بازیاب کرا لیا گیا۔

    یہ افراد ان 308 مغویوں میں شامل تھے جنھیں حکام کے مطابق ایک بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران بازیاب کرایا گیا، جن میں پڑوسی ریاست کوارا سے اغوا کیے گئے 160 سے زائد افراد بھی شامل تھے۔

    تازہ حملوں نے نائجر ریاست اور شمالی وسطی نائیجیریا میں جاری سکیورٹی بحران کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، جہاں مسلح گروہ دور دراز جنگلات اور کمزور سکیورٹی نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملے اور اغوا برائے تاوان کرتے ہیں۔

  15. دمشق کے قریب اسرائیلی حملہ، شام کا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    شام نے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں بیت جن پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    شامی حکام کے مطابق حملے میں ایک عام شہری کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    یہ ایک ہفتے کے دوران شام میں اسرائیل کا دوسرا معلوم حملہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس نے ایک ایسے ’دہشت گرد‘ کو نشانہ بنایا جو اسرائیلی فوجیوں کے لیے فوری خطرہ بننے والے حملوں کی تیاری کے آخری مرحلے میں تھا۔‘

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل اسرائیل کی جانب سے ترکی کی سرحد کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ شام نے اس حملے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    اس واقعے کے بعد امریکہ نے غیر معمولی طور پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حملے کو ’غیر ضروری‘ قرار دیا تھا جو علاقائی استحکام میں مددگار نہیں۔

    ترکی میں امریکی سفیر ٹام بارک نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ممکن ہے اسرائیل نے ترکی کو تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش میں یہ حملہ کیا ہو، خصوصاً اسرائیلی انتخابات سے قبل۔‘

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے امریکی سفیر کے بیان کو ’غلط معلومات سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج واضح انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہے۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر نے ابو الظہور فوجی اڈے پر منگل کے حملے کے بعد کہا کہ ’اسرائیل اور شام نے سکیورٹی معاملات پر موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم شام مبینہ طور پر حلب کے قریب ایک فوجی اڈے پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دے کر اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔‘

    ترکی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کے فوجی ابو الظہور اڈے پر منتقل ہوئے تھے یا نہیں، تاہم انقرہ نے اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ ترک موجودگی اس کے لیے خطرہ ہے۔

    ابو الظہور ایئربیس سنہ 2013 سے باقاعدہ فوجی ہوائی اڈے کے طور پر غیر فعال ہے۔ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف کارروائی کے دوران باغی فورسز نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ شام اپنے فوجی مراکز کی دوبارہ تعمیر کی کوشش کر رہا ہے جو اسد حکومت کے خاتمے والی کارروائی کے دوران تباہ ہوئے تھے۔

    ترکی نے بھی اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی فوج کو معاونت فراہم کی ہے، جبکہ اسرائیل دونوں ممالک کے بارے میں بدستور شدید تحفظات رکھتا ہے۔

    شام کے موجودہ رہنما احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ نومبر سنہ 2025 میں وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے شام کے پہلے سربراہِ مملکت بھی بنے تھے۔

  16. شاپنگ مال میں ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری، زیلنسکی کی روسی حملے کی شدید مذمت

    یوکرین میں امدادی کارکن روسی حملے میں تباہ ہونے والے ایک بڑے شاپنگ سینٹر کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    جمعے کو کریوی ریہ شہر میں مصروف شاپنگ سینٹر کو یکے بعد دیگرے دو ڈرونز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہوگئے۔

    حکام کے مطابق چار افراد اب بھی لاپتا ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مزید دو روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ملبہ ہٹانے کے دوران مزید روسی حملوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے حملے کو ’مکارانہ اور انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق دوسرے ڈرون نے جان بوجھ کر ان امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جو پہلے حملے کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے پہنچے تھے۔

    دنیپروپیٹروفسک کے علاقائی سربراہ اولیکساندر ہانژا کے مطابق رات کے دوران ملبے سے ایک اور لاش ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اس لیے امدادی کارروائی مزید دو دن جاری رہ سکتی ہے۔

    یوکرین کے سات دیگر علاقوں سے بھی امدادی ٹیمیں فوری طور پر کریوی ریہ روانہ کی گئی ہیں۔

    ادھر روس اور یوکرین کے درمیان رات بھر جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے دوران 457 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔

    روس کے جنوبی علاقے کراسنودار کے ایک بندرگاہی شہر پر یوکرینی ڈرون حملے میں دو بچے ہلاک اور دو بالغ افراد زخمی ہوئے۔

    مغربی علاقے بیلگورود میں بھی یوکرینی فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    دوسری جانب یوکرینی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے روس کے سمارا علاقے میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

    روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی ’اوزون‘ نے بھی بتایا کہ خطے میں اس کے ایک گودام کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین حالیہ مہینوں میں روس کی توانائی تنصیبات اور بڑے لاجسٹک مراکز پر حملے تیز کر چکا ہے۔ کئیو کا مؤقف ہے کہ یہ تنصیبات روسی جنگی کوششوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہیں، جبکہ ماسکو کا الزام ہے کہ یوکرین شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    روس نے فروری سنہ 2022 میں یوکرین پر حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت ماسکو یوکرین کے جنوب مشرقی حصے کے تقریباً ایک پانچویں علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔

  17. ’ٹرمپ کے محصولات کینیڈا کو تقسیم کرنے کی کوشش ہیں‘: کارنی کا امریکہ کے خلاف جوابی محصولات کا اعلان

    کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کی جانب سے کینیڈین اشیا پر نئے ٹیرف عائد کیے جانے کو ’نامناسب‘ اور ایک ’غلط اندازہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کا مقصد کینیڈا کو ’نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا‘ ہے۔

    کینیڈین وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ’کینیڈا آٹھ ستمبر سے امریکی ٹیرف کا ڈالر بہ ڈالر جواب دے گا۔‘ جوابی محصولات میں سٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات اور الیکٹرانکس سمیت مختلف امریکی اشیا شامل ہوں گی۔

    کینیڈا کے وزیراعظم کا یہ بیان جمعہ کی رات امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات اچانک ختم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    کارنی نے سنیچر کی صبح کینیڈین عوام سے خطاب میں کہا کہ ’امریکی مطالبات حد سے تجاوز کر رہے ہیں اور اس کے بدلے میں پیشکش انتہائی کم ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’نئے امریکی محصولات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی صورتحال اب ایک ’جنگ‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔‘

    کارنی نے کہا کہ ’کینیڈا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ’مجبوراً‘ جوابی کارروائی کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جوابی اقدامات کی مزید تفصیلات آئندہ چند دنوں میں جاری کی جائیں گی۔ کینیڈا کی اپوزیشن جماعتوں، بشمول کنزرویٹو پارٹی اور بعض صوبائی رہنماؤں نے بھی وزیراعظم کے موقف کی حمایت کی ہے۔

    مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے متعدد کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کیے ہیں۔ یہ محصولات پہلے سے عائد امریکی ٹیرف کے علاوہ ہیں، جو کینیڈین سٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی پر نافذ ہیں۔

    نئے ٹیرف کا دائرہ نسبتاً محدود ہے اور تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات، یعنی مجموعی درآمدات کے تقریباً پانچ فیصد، کو متاثر کرے گا۔ ان میں شراب، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے اور ہاکی کا سامان شامل ہیں۔

    تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک مذاکرات کے خاتمے اور نئے کینیڈین ٹیرف پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ایک سال سے تجارت کے معاملے پر مذاکرات کبھی تیز اور کبھی معطل ہوتے رہے ہیں، تاہم حالیہ ہفتوں میں امریکی ڈیڈ لائن کے باعث بات چیت میں تیزی آئی تھی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر آخری لمحات میں شرائط تبدیل کرنے کا الزام لگاتے رہے، جس کے نتیجے میں جمعہ کو مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔

  18. ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے لیکن بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں: ایرانی صدر پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے بھی اپنے قتل سے قبل اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔

    صدر پزشکیان نے ڈاکٹروں کے دن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای نے اپنی ملاقاتوں اور تقاریر میں ’عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ ہمیں نہ جنگ، نہ امن کی اس صورتحال سے باہر نکلنا چاہیے۔‘

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ’حکمت، تدبر، دانشمندی اور وقار‘ کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے۔ ہم طاقت کے ساتھ، لیکن منطق کی بنیاد پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔‘

    صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں مذاکرات اور فیصلہ سازی میں شامل افراد کے نزدیک یہ بہترین مفاہمت کی یادداشت تھی۔

    ان کے یہ تازہ بیانات گزشتہ چند دنوں کے دوران جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کی ضرورت سے متعلق ان کے مؤقف کا تسلسلسمجھے جا رہے ہیں۔

  19. مستونگ میں بم حملے میں کم از کم ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سینیچر کے روز بم حملے کے ایک واقعے میں کم از کم ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور آٹھ اہلکار زخمی ہو گئے۔

    سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ کھڈکوچہ میں گرو کے علاقے میں پیش آیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو کہ اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں یہاں سے گزررہی تھیں۔

    اہلکار کے مطابق دھماکے کے باعث ایک سکیورٹی اہلکار زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ آٹھ اہلکار زخمی ہوگئے۔

    زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ایک اہلکار کے مارے جانے پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملے سکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کرسکتے۔’

    دو روز کے دوران کھڈکوچہ میں پیش آنے والا تیسرا واقعہ کھڈکوچہ میں دو روز کے دوران تشدد کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

    گزشتہ روز اس علاقے میں دو مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

    کھڈکوچہ سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں سے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا تھا جبکہ باقی چار افراد کی ہلاکت اور تین کے زخمی واقعہ ایک باغ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدور تھے جو کہ سیب کے ایک باغ میں کام کررہے تھےـ

    نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالرؤف مینگل نے دعویٰ کیا کہ چار مزدور کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کا واقعہ ڈرون حملے کی وجہ سے پیش آیا ہےـ

    دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے مستونگ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  20. اسرائیل کا جنوبی شام میں حملہ، ایک شخص زخمی، دمشق کی شدید مذمت

    شام نے دمشق کے جنوب میں سنیچر کے روز ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے، جس میں ایک شخص زخمی ہوا ہے

    یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔

    شام کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ شامی عرب جمہوریہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے اور شامی سرزمین پر اسرائیل کے بار بار ہونے والے حملوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی افواج نے جنوبی شام میں ایک ایسے ’دہشت گرد‘ کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حملوں کی تیاری کے آخری مراحل میں تھا۔

    تاہم ااسرائیلی فوج نے نہ تو اس شخص کی شناخت ظاہر کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا اس کا تعلق کسی مخصوص گروہ سے تھا۔

    شام کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق زخمی ہونے والا شخص اس وقت نشانہ بنا جب اسرائیلی ڈرون نے دمشق کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں میں ایک گاڑی پر حملہ کیا۔ یہ علاقہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب واقع ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے حملے کے بعد ایک تباہ شدہ ٹرک کی تصاویر بھی نشر کیں۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شخص کی سرگرمیوں سے اسرائیلی فوجیوں کو فوری خطرہ لاحق تھا، تاہم فوج نے اس کی شناخت یا تنظیمی وابستگی کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

    دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے اسرائیل شام میں سیکڑوں حملے کر چکا ہے۔

    اسی عرصے میں اسرائیل نے اپنی افواج کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں قائم بفر زون میں بھی منتقل کیا جو کئی دہائیوں سے گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان حائل رہا ہے۔

    اسرائیل متعدد بار شامی علاقے کے اندر گہرائی تک کارروائیاں بھی کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی شام میں ایک نام نہاد سکیورٹی زون میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔

    اسرائیل جنوبی شام میں ایک وسیع تر غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔