شام نے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں بیت جن پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
شامی حکام کے مطابق حملے میں ایک عام شہری کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
یہ ایک ہفتے کے دوران شام میں اسرائیل کا دوسرا معلوم حملہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس نے ایک ایسے ’دہشت گرد‘ کو نشانہ بنایا جو اسرائیلی فوجیوں کے لیے فوری خطرہ بننے والے حملوں کی تیاری کے آخری مرحلے میں تھا۔‘
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل اسرائیل کی جانب سے ترکی کی سرحد کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ شام نے اس حملے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس واقعے کے بعد امریکہ نے غیر معمولی طور پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حملے کو ’غیر ضروری‘ قرار دیا تھا جو علاقائی استحکام میں مددگار نہیں۔
ترکی میں امریکی سفیر ٹام بارک نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ممکن ہے اسرائیل نے ترکی کو تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش میں یہ حملہ کیا ہو، خصوصاً اسرائیلی انتخابات سے قبل۔‘
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے امریکی سفیر کے بیان کو ’غلط معلومات سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج واضح انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر نے ابو الظہور فوجی اڈے پر منگل کے حملے کے بعد کہا کہ ’اسرائیل اور شام نے سکیورٹی معاملات پر موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم شام مبینہ طور پر حلب کے قریب ایک فوجی اڈے پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دے کر اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔‘
ترکی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کے فوجی ابو الظہور اڈے پر منتقل ہوئے تھے یا نہیں، تاہم انقرہ نے اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ ترک موجودگی اس کے لیے خطرہ ہے۔
ابو الظہور ایئربیس سنہ 2013 سے باقاعدہ فوجی ہوائی اڈے کے طور پر غیر فعال ہے۔ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف کارروائی کے دوران باغی فورسز نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ شام اپنے فوجی مراکز کی دوبارہ تعمیر کی کوشش کر رہا ہے جو اسد حکومت کے خاتمے والی کارروائی کے دوران تباہ ہوئے تھے۔
ترکی نے بھی اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی فوج کو معاونت فراہم کی ہے، جبکہ اسرائیل دونوں ممالک کے بارے میں بدستور شدید تحفظات رکھتا ہے۔
شام کے موجودہ رہنما احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ نومبر سنہ 2025 میں وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے شام کے پہلے سربراہِ مملکت بھی بنے تھے۔