آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دینے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں انتخابی ریلی کے دوران ایک بار پھر ایران اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اب آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہا ہوں۔‘ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے اور خبردار کیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں بہت برے نتائج سامنے آئیں گے۔

خلاصہ

  • پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق ہو گیا: فضل الرحمان
  • امریکی پابندیاں اسرائیل کے خلاف 'مزاحمت' کو نہیں روک سکتیں: حزب اللہ
  • امریکہ کی نئی پابندیاں بھی ناکام ہوں گی: عباس عراقچی کا ٹرمپ کی جانب سے معاشی جنگ شروع کرنے کے اعلان پر ردِعمل
  • یہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا بہترین وقت ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • جنگ سے پہلے اپنے عسکری اثاثے منتقل کر دیے تھے: ایرانی وزارتِ دفاع
  • ترکی کا غزہ فلوٹیلا کو روکنے کے معاملے پر نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان
  • مسلح گروہوں کے ساتھ فوجی تصادم کا کوئی ارادہ نہیں: عراقی وزیر اعظم

لائیو کوریج

  1. ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران 68 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ 21 اگست تک امریکی افواج نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے تحت 68 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق اس دوران تین جہازوں کو سروس سے ہٹا دیا گیا جبکہ امریکی افواج نے عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دو دیگر جہازوں پر سوار ہو کر تلاشی اور معائنہ کیا۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی میں 20 سے زائد جنگی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار امریکی بحری جہاز یو ایس ایس راس کی سرگرمیوں سے متعلق جاری کی گئی ایک وضاحتی ویڈیو میں سامنے آئے ہیں۔

  2. ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دینے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں انتخابی ریلی کے دوران ایک بار پھر ایران اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اب آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہا ہوں۔‘

    ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ’کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں بہت برے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

    ٹرمپ کے یہ نئے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ خطے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں۔

    واشنگٹن پیر کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تفصیلات جاری کرنے والا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان پابندیوں کی زد میں ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار، جن میں چین بھی شامل ہے، آ سکتے ہیں۔

    آبنائے ہرمز ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنی ہوئی ہے اور اس آبی گزرگاہ سے تیل بردار بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  3. کینیڈا کے گرودوارے میں چاقو کے حملے کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    کینیڈین پولیس کے مطابق ایڈمنٹن میں ایک گرودوارے میں علی الصبح چاقو سے حملہ کرکے دو افراد کو زخمی کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں واقع گرودوارہ نانکسَر میں ہونے والے حملے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

    حکام نے بتایا کہ حملہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے گرودوارے کے اندر ہوا۔ پولیس نے مشتبہ شخص کی شناخت یا حملے کے ممکنہ محرک کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پولیس نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ وہ کیلگری کے دو گرودواروں کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز فون کالز کی تحقیقات کر رہی ہے۔ کیلگری اس مقام سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے جہاں جمعے کو حملہ ہوا۔

    کینیڈا میں قائم ورلڈ سکھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ’یہ حملہ انتہائی تشویش ناک ہے اور ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر میں سکھ مخالف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    ایڈمنٹن پولیس سروس کے مطابق پولیس کو مقامی وقت کے مطابق صبح چار بج کر 49 منٹ پر پہلی اطلاع ملی کہ ایک شخص ہائی وے پر ٹریفک کے درمیان چل رہا ہے۔ تقریباً 15 منٹ بعد ایک فون کال کے ذریعے پولیس کو گرودوارے کے اندر پیش آنے والے واقعے کی اطلاع ملی۔

    پولیس کے مطابق اطلاعات میں بتایا گیا کہ ایک شخص گرودوارے میں داخل ہوا اور عبادت کے لیے مخصوص حصے میں جانے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر عملے نے اسے روکنے کی کوشش کی۔

    قائم مقام انسپکٹر ایرک سٹیورٹ نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’صورتحال شدت اختیار کر گئی اور گرودوارے میں موجود دو عقیدت مندوں پر چاقو سے وار کیے گئے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اچھی بات یہ ہے کہ موقع پر موجود افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو قابو کر لیا۔‘

    پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے دونوں افراد کی عمریں 75 اور 51 سال ہیں۔ انھیں شدید نوعیت کے زخم نہیں آئے اور دونوں کی حالت اب بہتر ہے۔ پولیس نے انھیں زائرین قرار دیا ہے، تاہم ان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پولیس نے بتایا کہ 27 سالہ مشتبہ شخص پہلے ہی پولیس کی حراست میں تھا اور اس کے خلاف 2015 سے تشدد کے متعدد واقعات کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔

    حکام کے مطابق حملے سے ایک روز قبل اسے البرٹا کی وفاقی جیل سے رہا کیا گیا تھا، تاہم وہ ایڈمنٹن میں اپنے مقررہ بحالی مرکز میں رپورٹ کرنے میں ناکام رہا۔

  4. ٹرمپ کی ایران کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی مدد کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد جمعے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 61 سینٹ اضافے کے بعد 94.39 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 23 سینٹ بڑھ کر 87 اعشاریہ 60 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں چھ فیصد سے زیادہ جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی تازہ دھمکی نے آنے والے ہفتوں میں تیل کی رسد محدود ہونے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔‘

    دوسری جانب آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کی سطح سے کہیں کم ہے۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف سات تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک روز قبل یہ تعداد اس سے بھی نصف تھی۔

    فروری کے اواخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے قبل دنیا میں مجموعی طور پر فراہم کیے جانے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔

    روئٹرز نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ ’چینی خریداروں کو ایرانی تیل کی رسد میں کمی آئی ہے اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔‘

  5. نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور

    نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اتحاد کے اعلیٰ کمانڈر نے متعدد رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے ممکنہ تعاون پر بحث ہوئی ہے۔ تاہم تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ’یہ کوئی نیٹو مشن نہیں ہوگا۔‘

    نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکووچ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ اجلاس بدھ 19 اگست کو ان ممالک کے سربراہانِ دفاع کی سطح پر ہوا جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ میں ممکنہ طور پر حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق نیٹو نے اپنے رکن ممالک کو ایک ساتھ لانے اور ان کی فوجی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت کے باعث اس معاملے میں رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک اب تک ایران کے ساتھ تنازع میں اتحاد کی براہِ راست شمولیت سے گریز کرتے آئے ہیں اور اس کے بجائے نیٹو کے دائرہ کار سے باہر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    فرانس اور برطانیہ تقریباً 12 ممالک پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، جس کا مقصد کشیدگی کم ہونے یا تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا ہے۔

    فروری میں لڑائی شروع ہونے سے قبل دنیا میں تجارت کیے جانے والے مجموعی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔

  6. ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی کارروائی کا امکان ختم ہو گیا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے پر واشنگٹن کی توجہ کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائی کا امکان ختم ہو گیا ہے۔‘

    جمعے کو ان سے جو یہ پوچھا گیا کہ آیا ایران کے خلاف ’معاشی جنگ‘ کی حکمتِ عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائی محدود ہو گئی ہے؟ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، بالکل بھی نہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’واشنگٹن صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ کیا ہوتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کو شدید معاشی اور فوجی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔‘

    امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہرمز سے متعلق علاقے پر واشنگٹن کا مکمل کنٹرول ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران معاہدہ چاہتا ہے، تاہم ان کے خیال میں تہران ابھی درست معاہدے کے لیے تیار نہیں۔‘

    حالیہ دنوں میں امریکی حکومت نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے پر زیادہ زور دیا ہے، جبکہ فوجی حملوں کی شدت میں کمی کی گئی ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران پر ’’تاریخ کا سخت ترین مالی دباؤ‘‘ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دباؤ ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔

  7. پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق ہو گیا: فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمان کے اندر ایک مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم مذاکرات کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور ’میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے۔‘

    ملک میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ دو صوبوں میں ’حالتِ جنگ‘ جیسی کیفیت ہے، حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران شدت پسندی کے خلاف متعدد آپریشن کیے گئے، تاہم ان کے بقول امن و امان کے قیام، حکومتی رِٹ کے استحکام اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں کامیابی نظر نہیں آ رہی۔

    فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کے باعث معیشت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ خصوصاً قبائلی علاقوں کے تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر تجارت بند ہے اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے۔

    فضل الرحمٰن نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مطالبات سننے کے بجائے ان سے مذاکرات نہیں کیے جا رہے، جس کے نتیجے میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اپوزیشن عوام تک اپنا مؤقف اور ’حقائق‘ پہنچائے گی، جبکہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ جماعتوں سے مشاورت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل اور فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔

  8. امریکی پابندیاں اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ کو نہیں روک سکتیں: حزب اللہ

    لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے خلاف اس کی ’مزاحمت‘ کو نہیں روک سکے گا۔

    یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے حزب اللہ پر نئی پابندیاں عائد کرنے اور اس گروپ پر ایران کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام لگانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے گذشتہ روز حزب اللہ کی قانونی درجہ بندی میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ ’ایرانی حکومت کے مفادات کی نگہبانی کرتا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی قیادت میں کام کرتا ہے۔‘

    امریکہ نے مزید 10 افراد پر بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو رقوم منتقل کرنے والے ایک نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

    حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا: ’یہ تمام پابندیاں اور غیر منصفانہ درجہ بندیاں ہمیں مزاحمت کے راستے اور لبنان اور لبنانی عوام کے اپنے سر زمین، خود مختاری اور وسائل کے دفاع کے حق سے نہیں ہٹا سکتیں۔‘

    ایرانی حمایت یافتہ اس گروپ نے زور دے کر کہا کہ ’ایران کے ساتھ ہمارا قریبی اور برادرانہ تعلق ہے جس کی ہم قدر کرتے ہیں اور جس پر ہمیں فخر ہے۔‘

    امریکی محکمۂ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے پاس افراد کا ایک ایسا نیٹ ورک موجود ہے جو پابندیوں سے بچنے کے لیے ’لبنان، ترکی، متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان تجارتی پروازوں کے ذریعے سفر کرتا ہے اور کروڑوں ڈالر کی رقوم منتقل کرتا ہے۔‘

  9. نوشکی: مسلح افراد کا حملہ، تاجر ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نا معلوم مسلح افراد کے حملے میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر ہلاک ہو گئے۔

    ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کے روز نوشکی بازار میں زیادہ تر دکانیں بند تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ تاجر راکیش نے شام تقریباً پانچ بجے انام بوستان روڈ پر واقع اپنی دکان کھولی تو نا معلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔

    ان کے مطابق فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے تاجر بعد ازاں ہلاک ہو گئے۔

    نوشکی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ واقعے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے ڈی ایس پی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

  10. امریکہ کی نئی پابندیاں بھی ناکام ہوں گی: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیاں ’وہی پرانی کہانی‘ ہیں اور ناکام ہوں گی۔

    عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں 2012 میں امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کی ایک پوسٹ کا حوالہ دیا، جس میں لکھا گیا تھا کہ ’یہ تاریخ کی سب سے سخت پابندیاں ہوں گی۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 14 سال قبل امریکہ نے ’تاریخ کی سب سے زیادہ مفلوج کر دینے والی پابندیاں‘ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن ان کے بقول وہ پابندیاں ناکام رہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آٹھ سال قبل امریکی حکام نے ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن وہ بھی ناکام رہی۔

    عراقچی نے اس کے بعد پانچ ماہ قبل امریکہ کی جانب سے ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کے مطالبے کا حوالہ دیا اور زور دیا کہ وہ کوشش بھی ناکام رہی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں امریکی حکام کے ان بیانات کا بھی ذکر کیا جن میں ’تاریخ کی سخت ترین اقتصادی کارروائی‘ کی بات کی گئی تھی، اور کہا کہ ’یہ بھی ناکام ہو گی۔‘

    ان کے بقول: ’ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، یہ وہی پرانی کہانی ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک غیر معمولی اور تباہ کن معاشی جنگ (اقتصادی ڈی ڈے ) شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی برادری کو تہران سے لین دین ختم کرنے کا کہا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ جو بھی ملک ایران کی مدد یا اس کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  11. سعودی عرب کے پاس یمنی عوام کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: حوثی تحریک

    ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب میں اہداف پر حملے کے ایک روز بعد کہا ہے کہ ریاض کے پاس ’یمنی عوام کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔‘

    حوثیوں نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں، جن میں یمن کے ’محاصرے‘ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

    حوثی تحریک کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جنوبی سعودی عرب کے نجران علاقے میں ایک ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس گروپ کے فوجی ترجمان نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ڈرون حملے ’سعودی ڈرونز کی شمالی یمن کی فضائی حدود میں دراندازی‘ کے ردِعمل میں کیے گئے ہیں۔

  12. مسلح گروہوں کے ساتھ فوجی تصادم کا کوئی ارادہ نہیں: عراقی وزیر اعظم

    عراق کے وزیرِ اعظم علی زیدی نے بغداد ڈائیلاگ کانفرنس کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا مسلح گروہوں کے ساتھ فوجی تصادم میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری ہیں۔‘

    علی زیدی نے کہا: ’ہم ایسے مشکل دنوں کا سامنا کر رہے ہیں جن کا سامنا ماضی کی کسی بھی حکومت کو نہیں کرنا پڑا۔‘

    انھوں نے نشاندہی کی کہ بعض گروہ پہلے ہی اپنے ہتھیار حوالے کر چکے ہیں، سابقہ وابستگیاں ختم کر چکے ہیں اور پاپولر موبلائزیشن فورسز میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر گروہوں کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔

    عراقی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’تمام سیاسی دھڑے ہتھیاروں کو محدود کرنے اور انھیں ریاست کے حوالے کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھانے پر متفق ہیں‘ اور مزید بتایا کہ ان ہتھیاروں کی حوالگی کے طریقۂ کار پر کام جاری ہے۔

    انھوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کو بھی ایک ’بڑا چیلنج‘ قرار دیا اور کہا کہ اس وقت عراق کی تیل برآمدات معمول کی سطح کے تقریباً 10 فیصد تک محدود ہیں، جبکہ برآمدات کے متبادل راستے بھی ’عارضی اور محدود‘ ہیں۔

  13. جنگ سے پہلے اپنے عسکری اثاثے منتقل کر دیے تھے: ایرانی وزارتِ دفاع

    ایران کی وزارتِ دفاع کے معاون نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہونے والے حملوں کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا گیا تھا اور اس کے پیش نظر ایران کا دفاعی ساز و سامان دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    بریگیڈیئر شہروخ شہرام نے شیراز میں نمازِ جمعہ کے ایک خطاب میں کہا کہ ان حملوں کے دوران ’دشمن ہمارے کسی ایک بھی میزائل سٹی کا سراغ نہیں لگا سکا۔‘

    شہرام نے مزید کہا کہ ’ہتھیاروں کی پیداوار بلا تعطل جاری ہے۔‘

  14. ڈیفنس فورسز بل 2026 کیا ہے اور اس سے کیا تبدیلیاں آئیں گی؟

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو بِل منظور کیے ہیں۔ ان دونوں بِلز کی منظوری کا کیا مطلب ہے اور اس سے افواج کی کمان میں کیا تبدیلیاں آئیں گی؟

    جانیے عدیل احمد کی اس ویڈیو میں۔

  15. ترکی کا غزہ فلوٹیلا کو روکنے کے معاملے پر نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان

    ترکی نے غزہ امداد لے جانے والے امدادی بحری بیڑے (فلوٹیلا) کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ترک وزیرِ انصاف اکین گورلیک نے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کا اعلان کیا۔

    اس سال مئی میں اسرائیلی افواج نے غزہ کے لوگوں کے لیے امداد لیے جانے والے ایک بحری امدادی بیڑے میں شامل تقریباً 40 ممالک کے 430 سے زائد فلسطینی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کر دیا تھا۔

    بعد ازاں ان کارکنوں کو ترک طیاروں کے ذریعے اسرائیل سے نکال کر ترکی منتقل کیا گیا۔

    یہ کارکن ’گلوبل فلیٹ آف اینڈیورنس‘ مہم کا حصہ تھے اور غزہ پر عائد بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ترکی اس سے قبل بھی نیتن یاہو اور متعدد سینیئر اسرائیلی حکام کے خلاف غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں کے سلسلے میں ’نسل کشی‘ کے الزامات کے تحت گرفتاری وارنٹ جاری کر چکا ہے۔

  16. یہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا بہترین وقت ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے بہتر وقت ہے کیونکہ اس وقت واشنگٹن کے مقابلے میں تہران بہتر پوزیشن میں ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ’آج جنگ ختم کرنا بہتر ہے، جب ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں اور پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکہ نے تمام قوانین کے برخلاف ہمارے سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا اور دنیا بھر میں نفرت کا سامنا کر رہا ہے۔‘

    تاہم مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ان کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ایران ممکنہ جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔

    ’ہم کسی بھی صورت میں دھونس یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔‘

    ایرانی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں طے پائے جانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی ایک ’عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔

    ان کے مطابق اس معاہدے کی ایرانی کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے متفقہ منظوری دی تھی۔

    پزشکیان نے ’باہر بیٹھے‘ ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو ’یہ نہیں جانتے کہ حکومت کن حالات سے گزر رہی ہے، پارلیمان کن حالات میں ہے اور فوجی کمانڈر کس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد بنا کسی آگاہی کے تبصرے اور تجزیے کرتے ہیں، حالانکہ انھوں نے کوئی مشکل برداشت نہیں کی، اور پھر وہ بھاری قیمت کی بات کرتے ہیں۔

    ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ممکنہ جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں گے۔

    ایرانی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی حکام بظاہر ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی کا مرکز فوجی کارروائیوں سے ہٹا کر معاشی دباؤ پر لے آئے ہیں۔

  17. عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کے بجائے پمز میں معائنہ اور گھنٹوں میں جیل واپسی: رات بھر کیا ہوتا رہا؟

    جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ تاہم انھیں پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں معائنے کے بعد انھیں اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔

    عمران خان کی بہن اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کا کیا کہنا تھا، اور اس معاملے پر حکومت کی جانب سے کیا کہا گیا، جانیے عمر دراز ننگیانہ کی اس ویڈیو میں۔

    فلمنگ: کاشف باجوہ

    ایڈیٹنگ: نعمان مسرور، کرن فاطمہ

  18. عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ: حزبِ اختلاف کا حکومت پر توہین عدالت کا الزام، سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کر کے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے اور اس حوالے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    حزبِ اختلاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

    اجلاس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    اپوزیشن ارکان نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے علاج معالجے کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق اپوزیشن ارکان نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پارلیمانی پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کر کے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے سنیچر کے روز سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ اجلاس میں 27 ستمبر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاج کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

  19. عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومت کی نظر ثانی درخواست دائر: ’پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی اجازت سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات کریں گے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دوبارہ دائر کر دی۔

    اس سے قبل جمعرات کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے حکومتی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی گئی تھی۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ریکارڈ میں موجود واضح قانونی غلطیوں پر مبنی ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مجرم عمران خان کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پاکستان پرزن رولز 1978 کے برخلاف ہے۔ درخواست کے مطابق جیل قوانین میں کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرنے کا کوئی تصور نہیں۔

    نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت قیدیوں کا علاج صرف جیل، سول یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ہو سکتا ہے، اور پرائیویٹ ہسپتال منتقلی سے قیدی کی سکیورٹی اور بیرونی اثر و رسوخ کے خدشات بڑھ جائیں گے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ قیدی کا اپنی مرضی کے پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کی ضد جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا اور سرکاری ڈاکٹرز انتہائی تجربہ کار پروفیسرز اور اپنے شعبوں کے بین الاقوامی ماہرین ہیں۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنائے اور نوٹس جاری کیے بغیر فیصلہ سنایا گیا اور کیس میں دوسرے فریق کو سنے بغیر فیصلہ دینا آئین کے آرٹیکل 10A کے خلاف ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں قیدی کی حالت تشویشناک ہونے کا کوئی ذکر نہیں اور عدالت کو میڈیکل رپورٹ پر تیکنیکی ماہرین کی رائے لیے بغیر براہ راست فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔

    وفاقی حکومت کی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سی آر پی سی کی دفعہ 561-A کا اطلاق جیل انتظامیہ کے امور پر نہیں ہوتا اور فوجداری اپیل سننے والی عدالت وہ اختیارات استعمال نہیں کر سکتی جو کوڈ میں درج نہ ہوں۔

    درخواست میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جیل میں قید کے دوران نقل و حرکت اور ملاقاتوں کے حقوق قانونی طور پر محدود ہو جاتے ہیں اور قیدی کو ہفتے میں دو بار غیر ملکی ٹیلی فون کالز کی اجازت دینا پرزن رولز 265 کے خلاف ہے۔

    نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر بنیادی اور حتمی استدعا کو منظور کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے اور تمام چاروں اپیلوں کو ابتدائی سطح پر ہی عبوری طور پر منظور کر لیا گیا جو کہ قبل از وقت ہے۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک قیدی کو خصوصی رعایت دینا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی حقوق کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور پرائیویٹ ہسپتال کی اجازت دینے سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات شروع کر دیں گے۔

    اپنی درخواست میں حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اٹھارہ اگست کے اپنے حکم نامے پر نظرثانی کرے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہ لیا تو اس سے فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔

  20. عمران خان کی بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں: سلمان اکرم راجہ

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا کہنا کہ عمران خان کی بہنوں نے پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ’ایک بات یہ کی جارہی ہے کہ بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان سے سوال کیا تھا کہ جو میڈیکل ریکارڈ ہسپتال میں پیش کیا جائے گا کیا آپ اس پر سیاست کریں گے؟

    ’ہم نے صرف یہ انڈرٹیکنگ دی تھی کہ میڈیکل ریکارڈ صرف خاندان اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس رہے گا سیاسی جماعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہم اس پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت کو کروائی گئی یقین دہانی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

    عمران خان کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی ریکارڈ پیش ہی نہیں ہوا، وہ میڈیکل بورڈ بنا ہی نہیں جس میں ڈاکٹر عظمیٰ نے شامل ہونا تھا۔‘