پاکستان کی وفاقی حکومت
نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو علاج
کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دوبارہ دائر کر دی۔
اس سے قبل جمعرات کو
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے حکومتی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی گئی
تھی۔
وفاقی حکومت کی جانب
سے جمعہ کے روز دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ریکارڈ
میں موجود واضح قانونی غلطیوں پر مبنی ہے۔
درخواست میں موقف
اپنایا گیا ہے کہ مجرم عمران خان کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پاکستان پرزن رولز
1978 کے برخلاف ہے۔ درخواست کے مطابق جیل قوانین میں کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ
ہسپتال میں داخل کرنے کا کوئی تصور نہیں۔
نظرثانی درخواست میں
کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت قیدیوں کا علاج صرف جیل، سول یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال
میں ہو سکتا ہے، اور پرائیویٹ ہسپتال منتقلی سے قیدی کی سکیورٹی اور بیرونی اثر و رسوخ
کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے
کہ قیدی کا اپنی مرضی کے پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کی ضد جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا
اور سرکاری ڈاکٹرز انتہائی تجربہ کار پروفیسرز اور اپنے شعبوں کے بین الاقوامی ماہرین
ہیں۔
درخواست میں مزید
کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنائے اور نوٹس جاری
کیے بغیر فیصلہ سنایا گیا اور کیس میں دوسرے فریق کو سنے بغیر فیصلہ دینا آئین کے آرٹیکل
10A کے خلاف ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع
کروائی گئی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں قیدی
کی حالت تشویشناک ہونے کا کوئی ذکر نہیں اور عدالت کو میڈیکل رپورٹ پر تیکنیکی ماہرین
کی رائے لیے بغیر براہ راست فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔
وفاقی حکومت کی اس درخواست میں
موقف اپنایا گیا ہے کہ سی آر پی سی کی دفعہ 561-A کا اطلاق جیل انتظامیہ کے امور پر نہیں ہوتا اور فوجداری اپیل سننے والی عدالت
وہ اختیارات استعمال نہیں کر سکتی جو کوڈ میں درج نہ ہوں۔
درخواست میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جیل میں قید کے دوران نقل و حرکت اور ملاقاتوں کے حقوق قانونی طور پر محدود ہو جاتے ہیں اور قیدی کو ہفتے میں دو بار غیر ملکی ٹیلی فون کالز کی اجازت دینا پرزن رولز 265 کے خلاف ہے۔
نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر بنیادی اور حتمی استدعا کو منظور کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے اور تمام چاروں اپیلوں کو ابتدائی سطح پر ہی عبوری طور پر منظور کر لیا گیا جو کہ قبل از وقت ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک قیدی کو خصوصی رعایت دینا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی حقوق کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور پرائیویٹ ہسپتال کی اجازت دینے سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات شروع کر دیں گے۔
اپنی درخواست میں حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اٹھارہ اگست کے اپنے حکم نامے پر نظرثانی کرے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہ لیا تو اس سے فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔