لائیو, عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی نظر ثانی درخواست دائر: حزبِ اختلاف کا حکومت پر توہین عدالت کا الزام، سپریم کورٹ جانے کا اعلان
وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دوبارہ دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی کی اجازت دینے سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات شروع کر دیں گے۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف نے حکومت پر توہین عدالت کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کے بجائے پمز میں معائنہ اور گھنٹوں میں جیل واپسی: رات بھر کیا ہوتا رہا؟
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ تاہم انھیں پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں معائنے کے بعد انھیں اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔
عمران خان کی بہن اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کا کیا کہنا تھا، اور اس معاملے پر حکومت کی جانب سے کیا کہا گیا، جانیے عمر دراز ننگیانہ کی اس ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ: حزبِ اختلاف کا حکومت پر توہین عدالت کا الزام، سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہx/BarristerGohar
پاکستان کی حزبِ اختلاف
کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران
خان کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کر کے حکومت توہین عدالت
کی مرتکب ہوئی ہے اور اس حوالے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
حزبِ اختلاف کی مشترکہ
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی
محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں سابق
وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اپوزیشن ارکان نے واضح
کیا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے علاج معالجے کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول
نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے
کے مطابق اپوزیشن ارکان نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس میں
شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی کے
ارکان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کر کے حکومت توہین عدالت کی
مرتکب ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے سنیچر کے روز سپریم کورٹ سے رجوع
کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں 27 ستمبر
کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاج کا فیصلہ برقرار
رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومت کی نظر ثانی درخواست دائر: ’پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی اجازت سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات کریں گے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وفاقی حکومت
نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو علاج
کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دوبارہ دائر کر دی۔
اس سے قبل جمعرات کو
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے حکومتی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی گئی
تھی۔
وفاقی حکومت کی جانب
سے جمعہ کے روز دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ریکارڈ
میں موجود واضح قانونی غلطیوں پر مبنی ہے۔
درخواست میں موقف
اپنایا گیا ہے کہ مجرم عمران خان کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پاکستان پرزن رولز
1978 کے برخلاف ہے۔ درخواست کے مطابق جیل قوانین میں کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ
ہسپتال میں داخل کرنے کا کوئی تصور نہیں۔
نظرثانی درخواست میں
کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت قیدیوں کا علاج صرف جیل، سول یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال
میں ہو سکتا ہے، اور پرائیویٹ ہسپتال منتقلی سے قیدی کی سکیورٹی اور بیرونی اثر و رسوخ
کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے
کہ قیدی کا اپنی مرضی کے پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کی ضد جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا
اور سرکاری ڈاکٹرز انتہائی تجربہ کار پروفیسرز اور اپنے شعبوں کے بین الاقوامی ماہرین
ہیں۔
درخواست میں مزید
کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنائے اور نوٹس جاری
کیے بغیر فیصلہ سنایا گیا اور کیس میں دوسرے فریق کو سنے بغیر فیصلہ دینا آئین کے آرٹیکل
10A کے خلاف ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع
کروائی گئی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں قیدی
کی حالت تشویشناک ہونے کا کوئی ذکر نہیں اور عدالت کو میڈیکل رپورٹ پر تیکنیکی ماہرین
کی رائے لیے بغیر براہ راست فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔
وفاقی حکومت کی اس درخواست میں
موقف اپنایا گیا ہے کہ سی آر پی سی کی دفعہ 561-A کا اطلاق جیل انتظامیہ کے امور پر نہیں ہوتا اور فوجداری اپیل سننے والی عدالت
وہ اختیارات استعمال نہیں کر سکتی جو کوڈ میں درج نہ ہوں۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
درخواست میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جیل میں قید کے دوران نقل و حرکت اور ملاقاتوں کے حقوق قانونی طور پر محدود ہو جاتے ہیں اور قیدی کو ہفتے میں دو بار غیر ملکی ٹیلی فون کالز کی اجازت دینا پرزن رولز 265 کے خلاف ہے۔
نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر بنیادی اور حتمی استدعا کو منظور کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے اور تمام چاروں اپیلوں کو ابتدائی سطح پر ہی عبوری طور پر منظور کر لیا گیا جو کہ قبل از وقت ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک قیدی کو خصوصی رعایت دینا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی حقوق کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور پرائیویٹ ہسپتال کی اجازت دینے سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات شروع کر دیں گے۔
اپنی درخواست میں حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اٹھارہ اگست کے اپنے حکم نامے پر نظرثانی کرے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہ لیا تو اس سے فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔
عمران خان کی بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں: سلمان اکرم راجہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سابق وزیرِ اعظم
اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی کے
جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا کہنا کہ عمران خان کی بہنوں نے پریس کانفرنس
سپریم کورٹ کو کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ
کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ’ایک بات یہ کی جارہی ہے کہ بہنوں کی پریس
کانفرنس سپریم کورٹ کو دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان
سے سوال کیا تھا کہ جو میڈیکل ریکارڈ ہسپتال میں پیش کیا جائے گا کیا آپ اس پر
سیاست کریں گے؟
’ہم نے صرف یہ انڈرٹیکنگ دی تھی کہ میڈیکل
ریکارڈ صرف خاندان اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس رہے گا سیاسی جماعت کا اس سے کوئی تعلق
نہیں ہم اس پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ عدالت
کو کروائی گئی یقین دہانی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔
عمران خان کے وکیل
کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی ریکارڈ پیش ہی نہیں ہوا، وہ میڈیکل بورڈ بنا ہی نہیں جس میں
ڈاکٹر عظمیٰ نے شامل ہونا تھا۔‘
آئی ایس پی آر کا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران 49 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ
چند روز کے دوران پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں
میں 49 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ
عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جارہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسند
نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے گذشتہ چند روز کے دوران پولیس کے ساتھ مل کر خفیہ
اطلاعات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائیوں کی ہیں۔
بیان میں کہا گیا
ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 49 شدت پسند ہلاک جبکہ امن و استحکام کو نقصان
پہنچانے کی کوششیں بھی ناکام بنائی گئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے
مطابق خیبر پختونخوا میں بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور ضلع خیبر میں خفیہ
اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی متعدد کارروائیوں کے دوران 12 شدت پسند ہلاک کیے گئے۔
اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور کے اضلاع میں کی گئی
10 کارروائیوں کے دوران 37 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں
بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، دیسی ساختہ بموں کو دھماکے سے اڑانے کے لیے
استعمال ہونے والے ریموٹ کنٹرول، اسلحہ، گولہ بارود اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد
کر کے تباہ کی گئیں۔
مخالفین کی جانب سے کسی بھی ’مس کیلکولیشن‘ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا: ایرانی مسلح افواج کے سربراہِ
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی مسلح افواج کے سربراہِ میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ مخالفین کی جانب سے کسی بھی ’مس کیلکولیشن‘ (غلط اندازے) کا منہ توڑ اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
22 اگست کو ایران کے یومِ دفاعی صنعت کے موقع پر جاری ایک بیان میں میجر جنرل عبداللہی کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی صنعت غیرمنصفانہ پابندیوں اور ’بچوں کے قاتل استعماری طاقتوں‘ کی دشمنانہ کارروائیوں کے مقابلے میں دفاعی مقامی صلاحیت کا مظہر ہے۔
جنرل عبداللہی نے دفاعی صنعت کو قومی طاقت کا ایک ناگزیر ستون اور ایران کی سلامتی کا اہم عنصر قرار دیا۔
مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کا کہنا کہ حالیہ برسوں میں وزارتِ دفاع کی پیش رفت صرف فوجی ساز و سامان کی تیاری تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ’دفاعی صنعتی انقلاب‘ کی شکل اختیار کر لی ہے جو دشمن کو باز رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عدالت کا حکم تھا کہ عمران خان کا جو بھی علاج ہوگا وہ شفا انٹرنیشنل میں ہی ہو گا: سلمان اکرم راجہ
،تصویر کا ذریعہx/PTIofficial
سابق وزیرِ اعظم اور
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی کے
جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا کہنا کہ کل جو کچھ ہوا وہ اس قوم کے لیے ایک
سانحہ ہے۔
پارلیمنٹ کے باہر
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا اور روایتی
میڈیا کے ذریعے غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا کیا۔’سپریم کورٹ کا
آرڈر بڑا واضح تھا، کہ خان
صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا، وہاں ان کا مکمل ایگزامینیشن
ہوگا اور اس کے بعد جو بھی علاج ہے وہ شفا انٹرنیشنل میں ہی ہو گا، اس میں ایک
ہفتہ لگے، تین ہفتے لگیں یا زیادہ لگیں، پورا علاج شفا انٹرنیشنل میں ہو گا۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا کہ کیس کی اگلی سماعت 16 ستمبر کی تھی اور اس روز از سرِ نو جائزہ لیا جانا
تھا۔
’لیکن جو کچھ کل ہوا اس نے اس تمام حکم کو زائل کردیا۔‘
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں امریکی سفیر کی واپسی کے بعد سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات کیوں لگا رہی ہیں؟, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہ@USAmbIndia
نئی دلّی میں امریکی سفیر اور وسطی و جنوبی ایشیا کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سرجیو گور جوں ہی سرینگر کا دورہ کرکے لداخ روانہ ہوئے تو ان کے بیان پر وادی کی سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ چھِڑ گئی ہے۔
جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صوبائی رہنما سُنیل شرما نے سرجیو گور کی طرف سے کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دینے کو انڈیا کی بڑی سفارتی فتح قرار دیا وہیں کانگریس کے صوبائی صدر طارق حمید نے ’کشمیر کے معاملات میں بیرونی مداخلت‘ کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
سُنیل شرما کا کہنا ہے کہ ’سرجیو گور کا بیان انڈیا کے لیے بڑی سفارتی فتح ہے اور پاکستان کی طرف سے کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔‘
دوسری جانب کانگریس کے رہنما طارق حمید کا کہنا ہے کہ ’اس میں کیا شک ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے لیکن جب بیرونی ممالک کے سفیر آتے ہیں تو مبہم لہجہ استعمال کرتے ہیں، وہ اٹوٹ انگ نہیں کہتے، اہم حصہ کہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔‘
اس دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ایک تقریب کے دوران پاکستان کے ردعمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان اور امریکہ کا باہمی مسئلہ ہے، اس پر دھیان نہ دیا جائے۔‘
حزب اختلاف پی ڈی پی کی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے سرجیو گور کے ساتھ ملاقات کو ضاَئع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عمرعبداللہ کو چاہیے تھا وہ سفیر کو اُن حالات سے آگاہ کرتے
جن کا کشمیریوں کو سامنا ہے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں ہیں، لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، نوکریوں سے نکالا جارہا ہے، جائیدادیں قرق کی جارہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’آج ہی ایک تلاشی مہم کے دوران پلوامہ میں فورسز نے ایک امام مسجد کی پٹائی کی، ان واقعات سے کشمیر میں گھٹن کا ماحول ہے۔ وزیراعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ کم از کم سفیر کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے۔‘
تاہم محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ کی اس بات کے ساتھ اتفاق کیا کہ ’ہمارے مسائل کا حل واشنگٹن میں نہیں، نئی دلّی میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا میں جہاں بھی مداخلت کی وہاں تشدد اور تباہی کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ فلسطین اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت پر بات کرتے، کیونکہ وہاں کے حالات بھی کشمیر کو متاثر کرتے ہیں۔
محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ کہ غیرملکی شخصیات کی کشمیر آمد کو 2019 کے پس منظر میں دیکھنا چاہیئے۔
’آرٹیکل 370 کی منسوخی سے پہلے کوئی بھی سفیر یہاں آتا تو سبھی مکاتب فکر سے ملتا، زمینی حقائق کا جائزہ لیتا، لیکن 2019 کے بعد یہ دورے سرکاری کنٹرول اور مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔‘
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی سفیر بُدھ کے روز کشمیر کے دورے پر پہنچے تھے جہاں انھوں نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ’کشمیر بہت خوبصورت ہے، یہ انڈیا کا اہم حصہ ہے۔‘
اس پر پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کیا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی سفیر کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے دوران دیے گئے ان ریمارکس پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جن میں انھوں نے جموں و کشمیر کو انڈیا کا ایک ’اہم حصہ‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو دیے گئے احتجاجی مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکی سفیر کا بیان مسئلۂ کشمیر کے بارے میں امریکہ کے طویل المدتی اور دستاویزی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلۂ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو سراہا ہے، تاہم امریکی حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق ہوں۔
جمعرات کی صبح سرجیو گور لداخ روانہ ہوئے جہاں انھوں نے نِمو کے مقام پر بودھوں کے مقدس مقام ’سنگم‘ کا دورہ کیا۔ نِمو میں زانسکار اور دریائے سندھ آپس میں ملتے ہیں۔
اس کے بعد انھوں نے سندھ کے تیز بہاؤ والے پانی میں رافٹنگ بوٹ کی سواری کی۔ گور کے سٹاف کے مطابق وہ لداخ میں جمعہ کو بھی قیام کریں گے اور سنیچر کے روز نئی دلّی روانہ ہونگے۔
جمعہ کے روز لیہہ بودھسٹ ایسوسی ایشن اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس سے ان کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ یہ دونوں گروپ مشترکہ طور لداخ کو باقاعد ریاستی درجہ دینے اور وسیع آئینی اختیارات کے لئے گذشتہ برس سے تحریک چلارہے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک مذہبی تقریب کے سلسلے میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ بھی لیہہ میں موجود تھے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ سرجیو گور دلائی لاما سے بھی ملاقات کریں گے، تاہم ان کے سٹاف نے ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
2010 میں اُس وقت کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے لداخ کے دورے کے دوران دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات کی تو چین نے امریکہ اور انڈیا دونوں کی نکتہ چینی کی تھی۔
’کشمیر پر گور کے ریمارکس پاکستان-امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا بن سکتے ہیں‘
امریکہ کے انڈیا میں سفیر سرجیو گور کے بیان کے بارے میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا: ’یہ واضح نہیں کہ آیا یہ بیان واقعی امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم نئی دہلی میں اسے یقیناً خوش آئند قرار دیا جائے گا۔ ان کے بقول، ایسے وقت میں جب امریکہ اور انڈیا کے دوطرفہ تعلقات کو تقویت کی ضرورت تھی، گور کے بیان سے ان تعلقات کو ایک اہم سہارا ملا ہے۔‘
چاہے کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر لوگ بھوکے ہوں گے تو حکومت نہیں بچے گی: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ حکومت کو امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا، ورنہ حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔
عراق کے دورے پر موجود محمد باقر قالیباف نے بغداد میں ایرانی سفارت خانے میں ایرانی اور عراقی تاجروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارے پاس چاہے کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر لوگ بھوکے ہوں گے، معاشی ترقی اور قومی پیداوار نہیں ہوگی تو ہم بچ نہیں پائیں گے۔
قالیباف کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ان ظالمانہ پابندیوں پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تاکہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔‘
اس ملاقات میں انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان تجارت میں دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقۂ کار سے دوطرفہ لین دین میں ڈالر کا کردار ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی نئی پابندیاں ’عالمی تاریخ میں مربوط معاشی تنہائی کی سب سے بڑی مہم‘ ہو گی اور یہ ’ایرانی حکومت کو زوال سے دوچار کر دیں گی۔‘
امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین
چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی ’پابندیاں اور معاشی دباؤ‘ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔
واشنگٹن اس سے قبل چین سمیت مختلف حکومتوں سے ایران کی معیشت کو الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پابندیاں اور دباؤ اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کریں اور مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔‘
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی اقتصادی مہم ’ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی،‘ جبکہ تہران اس دھمکی کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتا ہے اور اسے ناکامی سے دوچار سمجھتا ہے۔
جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ بیجنگ پر اس مہم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالے گا، تو انھوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ ’بہت سے معاملات پر بات چیت خفیہ طور پر کرنا بہتر ہوتا ہے،‘ تاہم انھوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ ’اس پروگرام میں شامل ہو جائے۔‘
سکاٹ بیسنٹ کے بیان کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین ایسی غیر قانونی یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جن کی بنیاد بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں اور جنھیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہیں۔‘
حکومت اور انتظامیہ نے تین ججز کے حکم نامہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا، یہ عدلیہ کی توہین ہے: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جانے پر انتظامیہ اور حکومت کا کل کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا اور ایسا کر کے وہ سپریم کورٹ اورعدالت کے تین ججز کے حکم کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں عمران خان کی بہن عظمی خان اور ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ’اگر عدلیہ اپنے احکامات پر عمل نہیں کروائے گی تو عوام کس کی جانب رخ کرے۔ یہ پاکستان کی تمام عدالتوں کی توہین ہے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’تین ججز نے عمران خان کے علاج شفا انٹرنیشنل میں کرنے کا حکم دیا مگر آئین و قانون سے خود کو یہ بالا تر سمجھتے ہیں۔ یہ ججز کی اور سپریم کورٹ کی توہین کی ہے۔‘
یاد رہے کہ منگل کو سپریم کورٹ نے علاج کے لیے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق انھیں شفا ہسپتال کے باہر اور اطراف سکیورٹی کی صورتحال کے باعث سرکاری ہسپتال پمز لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز سے ‘تفصیلی معائنے’ کے بعد انھیں ‘صحت مند’ قرار دیا۔
عطا تارڑ کے مطابق ’پی ٹی ائی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔‘
’ہم اپنی تحریک چلائیں گے‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ججز فیصلہ کریں کہ کیا عدالت کو تالے لگوانے ہیں یا اپنے حکم پر عمل درآمد کروانا ہے۔ ججز کو آج ہی اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ہم اپنی تحریک چلائیں گے کیونکہ ہمیں عمران خان کے احکامات پر عمل درآمد کرنا ہے اور فیصلے پر عمل در آمد نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ نہ ہی ہسپتال کے اطراف پی ٹی آئی کارکنان تھے اور ہم نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر کارکنان جمع ہوئے تو ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ’جیل کے اطراف میں بھی میڈیا کے سوا کوئی نہ تھا۔‘
اس موقع پر عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں پہلے پتا نہیں چلا لیکن آدھے پونے گھنٹے میں ہم اڈیالہ سے شفا ہسپتال پہنچے جہاں سکیورٹی تھی پھر کہا گیا کہ آپ انتظار کریں۔‘
ڈاکٹر فیصل کے مطابق ’ڈھائی سے تین گھنٹے ہم انتظار کرتے رہے اور ہر بار پوچھنے پر ہمیں بتایا جاتا رہا کہ ابھی پہنچ رہے ہیں اور پھر تقریبا رات کے ساڑھے چار ہوئے تو انھوں نے کہا کہ شاید وہ نہیں پہنچ پائیں گے تو ہم واپس اڈیالہ پہنچے وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عظمی دوسری گاڑی سے واپس اڈیالہ پہنچیں جنھوں نے بتایا کہ وہ پمز سے آ رہی ہیں۔‘
’سب کو بتاؤ کہ میرے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے‘
پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی بہن عظمی خان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کا صرف بلڈ پریشر لیا گیا اور آنکھ کا چیک اپ کیا گیا۔‘
عظمی خان نے دعویٰ کیا کہ ’بار بار پوچھنے کے بعد ہمیں کہا کہ ان کی آنکھ کا فالو اپ ہونا ہے اس لیے ہم پمز آئے ہیں جہاں ان کی آنکھ کی سرجری ہوئی تھی ۔ پھر ہم اندھیرے میں بیٹھے رہے۔ پمز میں اندھیرا تھا فون کی لائٹ سے ہم کو راستہ دکھایا گیا۔‘
’وہ لوگ ہم کو اوپر کہیں لے گئے جہاں عمران خان بیٹھے تھے۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اور کہا میں نے اپنی بہن کو دس ماہ بعد دیکھا ہے۔ وہاں ڈاکٹرز کو میں نہیں پہچانتی تھی مگر ڈاکٹر فیصل وہاں نہیں تھے۔‘
’رات کے دو تین بجے ہوں گے عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا۔ میں نے بتایا کہ ہم آپ کا مکمل چیک اپ شفا سے کروا کر واپس لے جائیں گے تو عمران خان خوش تھے۔‘
’وہ بار بار ایک بات کہتے رہے کہ میرے ساتھ ٹارچر ہوا ہے۔ نہ ٹی وی نہ پڑھنے کا مواد۔ کوئی میری پروا نہیں کرتا تھا میں بتاتا بھی تھا۔ کسی کے ساتھ ہیومن کانٹیکٹ نہیں کرنے دیتے۔ دو دن ٹی وی چلایا اور پھر بند کر دیا۔‘
عظمی خان کے مطابق ’عمران خان کی ایک آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ فجر کی آذان کے وقت سکیم تھری کے پاس ہوئی۔‘
پاکستان اور بلوچستان کا حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا: فیلڈ مارشل
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ہمیشہ جڑا رہے گا، ریاست کے غیرمتزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن ردعمل سے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار عوام سے مالا مال ہے، بلوچستان کے نوجوانوں میں صلاحیت اور مواقع کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘
چیف آف ڈیفنس فورسز کا کہنا تھا کہ ’قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کے غیر متزلزل، پختہ اور فیصلہ کن ردعمل کے ذریعے ان مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔‘
بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کا کہنا تھا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر کو بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے، صوبے کی ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نوجوانوں کو معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے غیرمتزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن ردعمل سے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا 23 اور 24 اگست کو دورہ فرانس متوقع ، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بات چیت کا امکان
فرانسیسی صدر کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ صدر ایمانویل میکخواں 23 اور 24 اگست کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی میزبانی کریں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں رہنما مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
بیان کے مطابق ے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنما اہم علاقائی معاملات اور دیگر باہمی دلچسپی کے موضوعات پر بھی گفتگو کریں گے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق یہ بات چیت فرانس اور خلیجی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے فریم ورک کے تحت ہو گی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ کی حمایت کرنا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ دورۂ پیرس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی اور مشرق وسطیٰ کے رہنما ایران سے متعلق جاری تنازعات کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ضرورت پڑنے پر مزید حملے کر سکتے ہیں: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے مزید درجنوں مرتبہ حملہ کریں گے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر انھوں نے اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل اور مشرق وسطیٰ ختم ہو جاتے۔
77 ڈبلیو اے بی سی ریڈیو کے انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا حکم اس وقت دیا جب یہ ملک جوہری ہتھیار بنانے سے صرف دو ہفتے دور تھا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میڈیا چاہے جو کچھ دکھائے، امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں نمایاں طور پر کمزور ہوچکی ہیں اور اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا: عطا تارڑ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
عطا تارڑ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔‘
یاد رہے کہ یہ پوسٹ اس بیان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد شیئر کی گئی ہے جس میں انھوں نے عمران خان کے معائنے اور ہسپتال سے اڈیالہ منتقلی کی بات تو کی تھی مگر ہسپتال کا نام نہیں بتایا تھا۔
عطا تارڑ کے مطابق ’ان (عمران خان) کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے پیش نظر جمعرات کے روز سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ممکنہ منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے تھے جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی تھی۔
شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی و سکیورٹی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام اور اسرائیل کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر شام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا اور عالمی امن و علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
انھوں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شامی وزیرِ خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔
دونوں فریقوں نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنشام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، یاد رہے یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان ہے
صحافیوں سے گفتگو میں اسعد الشیبانی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی خطے کے اہم ممالک ہیں اور شام مستقبل میں اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے 18 اگست کو حلب کے قریب ابو الظہور فضائی اڈے پر حملے اور اسرائیل کے الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترکی گذشتہ 14 برسوں کے دوران شام اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور وہ شام کا اہم اتحادی ہے۔
انھوں نے کہا، ’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا کوئی حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘
ایران کے ساتھ تعلقات سے متعلق ایک سوال پر اسعد الشیبانی نے کہا کہ ان کے دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد کی جانب سے شام اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران شام اور اس کے عوام کے ساتھ اپنے ماضی کے کردار کو تسلیم کرے اور اس کے بعد پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرے تو دمشق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
بریکنگ, عمران خان کو طبی معائنہ میں صحت مند قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا: عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنوں کے بعد ہسپتال سے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں عطا تارڑ نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ’قیدی‘ کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔‘
عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم میں کیا تھا؟
یاد رہے کہ منگل (18 اگست) کو جاری کردہ اپنے تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم اس کے ساتھ عدالت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس یا صحت سے متعلق معاملات پر سیاست کی گئی تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ شفا ہسپتال کے گرد مناسب سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر اس سہولت کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو حکومت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے جبکہ عمران خان اور ان کے اہلخانہ بھی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق شکایات کے سلسلے میں عدالت کا رُخ کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت کی جانچ سے متعلق ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہوں گی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عظمی خان بھی شامل ہوں گے۔
اس کیس کی آئندہ سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے جس دوران راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام پیش ہوں گے جبکہ شفا ہسپتال میں معائنے اور علاج سے متعلق رپورٹس بھی جمع کرائی جائیں گی۔
،تصویر کا ذریعہ@TararAttaullah
عطا تارڑ کے مطابق ’ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انھیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔‘
عطا تارڑ کے مطابق ’ان کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان، طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔ یہ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انھیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 0500 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہیں واضح نہیں کیا کہ عمران خان کو کس ہسپتال لے جایا گیا تھا تاہم اس سے قبل رات گئے اسلام آباد پولیس نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ عمران خان کو شفا ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور حکام کی خاموشی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جمعرات کی رات گئے اسلام آباد میں ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہپستال منتقل کیا گیا تھا۔
تاہم اس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے بین الاقوامی میڈیا کے لیے ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے دو سینیئر اہلکاروں نے عمران خان کو شفا ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی تھی۔
تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ساتھ ہوں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بی بی سی کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نجی ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعمران کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات
جہاں ایک طرف سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو متوقع طور پر شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کی اطلاعات چل رہی ہیں، وہیں پاکستان تحریکِ انصاف کے متعدد رہنما کارکنان سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ہسپتال کے سامنے جمع نہ ہوں۔
پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، عمران خان صاحب کی فیملی اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ واضح اور متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے گا۔‘
اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتال کے سامنے جمع ہونے کی کوشش کرے گا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے بھی اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’جو واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں، وہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جس سے ان کے علاج میں خلل پڑے۔‘
،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
یاد رہے کہ جمعرات کی رات سابق وزیراعظم عمران کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔
بلوچستان میں نامعلوم افراد نے ایک پولیس سٹیشن کو تباہ اور تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے دو اضلاع پشین اور کچھی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک پولیس تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے علاوہ ایک تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا ہے۔
پولیس تھانے کو تباہ کرنے کا واقعہ ضلع پشین کے علاقے سرانان میں پیش آیا۔
پشین میں پولیس کے ایک اہلکار انور خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جمعرات کو سرانان بازار آئے اور انھوں نے تھانے کے عملے پر قابو پالیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا گیا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
سرانان میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ
سرانان انتظامی لحاظ سے کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 57 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سرانان اور ضلع پشین کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی ہے۔
قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت زیارت، سنجاوی اور ہرنانی میں رونما ہونے والے بدامنی کے بعض واقعات کی مذمت کی ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری بلاخوف اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھ سکیں۔
ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کہاں نذرآتش کیا گیا؟
ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کھٹن کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔
کچھی پولیس کے ایک اہلکار زاہد حسین کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد آئے اور انھوں نے تحصیل آفس کو نذرآتش کیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ آگ کی وجہ سے تحصیل آفس اور اس میں موجود سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ضلع کچھی میں پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔