آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شیخ مجیب کے قتل سے پہلے کے چند ہفتوں میں بنگلہ دیش میں کیا کچھ ہوا؟
- مصنف, طارق الزمان شمل
- عہدہ, بی بی سی نیوز بنگلہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 15 منٹ
بنگلہ دیش کو آزادی کے صرف ساڑھے تین سال بعد پہلی فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بغاوت 15 اگست 1975 کی صبح ہوئی جس میں بنگلہ دیش کے اُس وقت کے صدر شیخ مجیب الرحمٰن اپنے اہلِ خانہ سمیت مارے گئے۔
اس بغاوت کی منصوبہ بندی ایسے وقت میں کی گئی جب ملک عدم استحکام کا شکار تھا۔
کثیر جماعتی سیاست کے بجائے یک جماعتی نظام قائم کرنے کے لیے بنگلہ دیش کرشک سرمک عوامی لیگ (بکسال) تشکیل دی گئی۔ اس زمانے میں چار اخبارات کے سوا تمام اخبارات کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اسی دوران بدعنوانی، لوٹ مار اور چوری کے واقعات کے باعث عوام میں غصہ اور تشویش پائی جا رہی تھی۔
دوسری جانب مختلف شدت پسند تنظیموں نے اپنی جماعتوں پر پابندی اور اپنے رہنماؤں و کارکنوں کی 'ماورائے عدالت گرفتاریوں اور ہلاکتوں' کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف مختلف سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔
اس وقت ڈھاکہ میں امریکی سفارت خانے نے واشنگٹن کو آگاہ کیا تھا کہ اگست سے پہلے بھی شیخ مجیب پر حملہ ہو چکا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار محی الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا ’مجموعی طور پر ملک گھٹن زدہ عدم استحکام کی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ چونکہ حالات کو منظم طریقے سے حل کرنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا، اس لیے شاید فوج کے ایک حصے نے بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔‘
لیکن شیخ مجیب کے قتل سے پہلے کے ہفتوں میں بنگلہ دیش میں آخر کیا ہو رہا تھا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرپشن اور لوٹ مار
آزادی کے چند ہی برسوں کے اندر شیخ مجیب کی حکومت بنگلہ دیش کے مختلف شعبوں میں پھیلتی ہوئی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دینے لگی تھی۔
اس دور کی مختلف یادداشتوں اور اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ 1974 کے قحط کے آغاز کے بعد بدعنوانی اور لوٹ مار میں اضافہ ہوا۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ایم اے حمید اپنی کتاب ’تین فوجی بغاوتیں اور ان کہی باتیں‘ میں لکھتے ہیں کہ ’امدادی سامان ضرورت مند لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ گندم، چاول اور کمبل چوری ہو رہے تھے۔‘
ایک مرحلے پر شیخ مجیب کی حکومت نے بدعنوانی، لوٹ مار اور سمگلنگ کی روک تھام سمیت مجموعی صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے فوج بھی تعینات کی۔ تاہم کارروائی کے دوران فوج کو معلوم ہوا کہ عوامی لیگ کے متعدد رہنما اور کارکن بدعنوانی اور سمگلنگ میں ملوث ہیں۔
ایم اے حمید اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، ’اس وقت نوجوان فوجی افسران کے حکمران جماعت کے کئی بااثر رہنماؤں سے اختلافات پیدا ہو گئے۔ پارٹی رہنما مسلسل شیخ صاحب سے فوج کی شکایات کرنے لگے تھے۔‘
پارٹی کے اندر سے دباؤ بڑھنے پر حکومت نے فوج کو دوبارہ بیرکوں میں بھیج دیا۔
سیاسی تجزیہ کار محی الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’ایسے فیصلے سے فوجی اہلکاروں اور عام لوگوں میں یہ منفی تاثر پیدا ہوا کہ شیخ مجیب اپنی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کو روکنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔‘
حکومتی فیصلے کے نتیجے میں بدعنوانی اور لوٹ مار میں مزید اضافہ ہوا۔ 26 جولائی 1975 کو روزنامہ اتفاق میں ایسی تصاویر شائع ہوئیں جن میں سرکاری غذائی گوداموں سے اناج کی لوٹ مار کے مناظر دکھائے گئے تھے۔
اخبار نے اس واقعے کو ’ہریر لوٹ‘ کے تہوار سے تشبیہ دی جس میں پرساد ہوا میں اچھالی جاتی اور لوگ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ گوداموں سے غذائی اجناس کی سمگلنگ کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں۔
چند روز بعد ایک اور رپورٹ سامنے آئی جس میں الزام لگایا گیا کہ سرکاری گوداموں سے ملک کے مختلف علاقوں کو بھیجے جانے والے غذائی اناج کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ’پراسرار طور پر غائب کر دیا جاتا ہے۔‘
خبر میں کہا گیا کہ ریل گاڑیوں کے ڈبوں کو راستے میں توڑ کر ’بڑے پیمانے پر غذائی اجناس کی سمگلنگ‘ کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی گئی کہ زیادہ تر غذائی سامان مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر بھیجا جا رہا تھا۔ اخبار نے اس واقعے کی تصاویر بھی شائع کیں۔
10 اگست کو روزنامہ دی بنگلہ نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں کہا گیا کہ ’آج معاشرے کا ہر طبقہ بدعنوانی کے زہر سے چھلنی ہو چکا ہے۔۔۔ آزادی کی جنگ کے شہدا کے خاندانوں کو دیے جانے والے 271 چیکس بھی غائب کر دیے گئے ہیں۔‘
امن و امان کی ابتر ہوتی صورتحال
1974 کے قحط کے بعد بنگلہ دیش میں امن و امان کی صورتِ حال بتدریج خراب ہونے لگی تھی۔
ڈھاکہ سمیت مختلف اضلاع میں تقریباً روزانہ چوری، ڈکیتی اور قتل کے واقعات پیش آ رہے تھے۔ اس زمانے کے اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس سے معلوم پڑتا ہے کہ لوگوں کے گھروں میں چوری اور ڈکیتیوں کے علاوہ ٹرینوں اور کشتیوں میں بھی لوٹ مار کے واقعات کثرت سے ہو رہے تھے۔
11 اگست 1975 کو روزنامہ دی بنگلہ نے ایسی ہی ایک ٹرین ڈکیتی کے متعلق خبر شائع کی۔
’خوفناک ٹرین ڈکیتی‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس خبر میں کہا گیا تھا کہ یہ واردات چپائنواب گنج سے ایشوردی جانے والی ایک مسافر ٹرین میں پیش آئی۔ رپورٹ کے مطابق جب مسافروں نے ڈاکوؤں کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے سو سے زیادہ گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں دو مسافر ہلاک اور کم از کم 22 دیگر زخمی ہو گئے۔
سراج سکدر کا قتل اور شدت پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ
1975 کے اوائل میں مشرقی بنگال میں بائیں بازو کے سرکردہ رہنما سراج سکدر پولیس کی فائرنگ میں مارے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد اس شدت پسند تنظیم کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اپنی پرتشدد سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا۔ اس کے بعد حکومت نے مؤقف اپنایا کہ ملک کے ’امن و امان میں خلل پڑ رہا ہے۔‘
صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے سراج سکدر کی پارٹی سمیت مختلف شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔
ان کارروائیوں کی خبریں اُس دور کے اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔ گرفتاریوں اور اسلحہ برآمد ہونے کی اطلاعات کے علاوہ بعض اوقات شدت پسند رہنما اور کارکن حکومتی فورسز کے ساتھ ’جھڑپوں‘ میں بھی مارے جاتے تھے۔
شاذ و نادر ہی حکومتی فورسز کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آتی تھیں۔
شیخ مجیب کے قتل سے دو روز قبل، 13 اگست کو روزنامہ اتفاق میں شائع ہونے والی ایسی ہی ایک خبر کی سرخی تھی: ’چار شدت پسند ہلاک، ایک گرفتار‘۔
خبر کے مطابق جب سکیورٹی فورسز ضلع جھینائی دہ کے علاقے شیلکوپا میں ایک چھاپہ مارنے گئیں تو ’شدت پسندوں‘ نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے شدت پسند تنظیم کے چار ارکان موقع پر ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔ باقی افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پہلے قحط، پھر سیلاب
غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت نے کسانوں کو زیادہ رقبے پر دھان کاشت کرنے کی ترغیب دی۔
بہت سے کسانوں نے اس اپیل پر عمل کیا، لیکن چند ہی دنوں بعد خشک سالی نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
9 جولائی 1975 کو روزنامہ اتفاق میں شائع ہونے والی ایک خبر کی سرخی تھی کہ ’پانی کی کمی سے دھان کی فصل سوکھ رہی ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مون سون کے عروج کے دوران بھی بارش نہ ہونے اور آبپاشی کے ناکافی انتظامات کے باعث کوملہ، نیتراکونا اور کالی گنج سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں دھان کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کسان پریشان تھے کیونکہ پانی کی کمی کے سبب دھان کے پودے سوکھ کر مر رہے تھے۔
اس خبر کے ڈیڑھ ہفتے بعد ہی ملک ایک اور قدرتی آفت کا شکار ہو گیا۔ خشک سالی کے بعد مسلسل بارشیں شروع ہو گئیں۔
شدید بارشوں اور انڈیا کے بالائی علاقوں سے آنے والے پہاڑی ریلوں کے باعث سلہٹ، چٹاگانگ اور رنگ پور کے متعدد علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے۔ اس سے فصلوں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا جبکہ کئی افراد کی جانیں بھی گئیں۔
دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اسہال سمیت آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ اس کے ساتھ خوراک اور صاف پانی کی قلت کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا گیا۔
فوج میں بڑھتی بے چینی
سابق فوجی افسران کی یادداشتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت مختلف وجوہات کی بنا پر فوج کے اندر بے چینی اور عدم اطمینان پایا جاتا تھا۔
خاص طور پر فوج کے بہت سے نوجوان افسران حکمران جماعت کے رہنماؤں کے دباؤ پر فوج کو واپس بیرکوں میں بھیجنے کے حکومتی فیصلے پر ناراض تھے۔
دوسری جانب شیخ مجیب کے یک جماعتی نظامِ حکومت کو فوج کا ایک طبقہ ناقابلِ قبول سمجھتا تھا۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ایم اے حمید اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’اس وقت کچھ نوجوان افسر جنھوں نے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا تھا وہ بہت غصے میں تھے۔ انھوں نے آپس میں گروہ بندیاں شروع کر دی تھیں۔‘
فوج کی اعلیٰ قیادت میں عہدوں اور تقرریوں کے حوالے سے بھی اختلافات پیدا ہونے لگے تھے۔
دوسری جانب فوجیوں میں گارڈز کو دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں بھی بے اطمینانی اور تشویش پائی جاتی تھی۔ اسی دوران ایک افواہ نے اس بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔
سابق فوجی افسر ایم اے حمید کی کتاب کے مطابق ’چھاؤنی میں یہ افواہ پھیل گئی کہ شیخ صاحب فوج کو ختم کر کے انڈین تعاون سے ایک سکیورٹی فورس تشکیل دے رہے ہیں۔ وہ اس فورس کو جدید ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ نئے بیرک، نئی گاڑیاں اور سکیورٹی فورس کی نئی وردیاں فوج کے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔‘
ایم اے حمید مزید لکھتے ہیں کہ مختلف معاملات پر بعض نوجوان فوجی افسران کو ملازمت سے برطرف کیے جانے پر بھی بہت سے لوگوں میں غصہ پایا جاتا تھا۔
بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کارروائی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے دورِ حکومت میں انتظامیہ کی مختلف سطحوں پر جس طرح بے ضابطگیاں اور بدعنوانی پھیل گئی تھی، اس کے نتیجے میں اُس وقت کی حکومت بتدریج عوامی حمایت کھو رہی تھی اور ایک مرحلے پر خود شیخ مجیب کو بھی اس کا احساس ہوگیا تھا۔
اس کے بعد ان کی حکومت نے بدعنوانی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کئی مرحلوں میں کارروائیاں شروع کیں۔ ان میں سے آخری کارروائی شیخ مجیب نے اپنے قتل سے تقریباً تین ہفتے قبل شروع کی تھی۔
جولائی کے آخری دنوں میں شروع کی گئی یہ کارروائی بنیادی طور پر سرکاری افسران اور ملازمین کے خلاف کی گئی تھی۔ چنانچہ اُس وقت کے اخبارات میں سرکاری اہلکاروں کی معطلی اور گرفتاری کی خبریں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔
یکم اگست سنہ 1975 کو روزنامہ اتفاق میں شائع ہونے والی ایسی ہی ایک خبر کی سرخی تھی کہ ’سات لاکھ سے زائد ٹکا خردبرد کرنے کے الزام میں تین افراد گرفتار۔‘
خبر کے مطابق انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کو معلوم ہوا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف بنگلہ دیش (ٹی سی بی) کے تین اہلکاروں نے بینک کی جعلی رسیدیں استعمال کرکے سرکاری رقم سے تقریباً سات لاکھ 27 ہزار ٹکا مالیت کا سیمنٹ حاصل کیا، اسے فروخت کیا اور حاصل ہونے والی رقم خردبرد کرلی۔ بعد ازاں تینوں اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
بدعنوانی کے الزامات پر وزیرِ مملکت برطرف
سنہ 1975 کے اوائل میں اُس وقت کے وزیرِ مملکت برائے مواصلات نورالاسلام منظور کے خلاف بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر جولائی کے تیسرے ہفتے میں نورالاسلام منظور کو وزیرِ مملکت کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
اُس وقت کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حکومت اور انتظامیہ میں بدعنوانی میں ملوث افراد کو ’خبردار کرنے اور حکومت کے تشخص کو بہتر بنانے‘ کے مقصد سے کابینہ کے اس رکن کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
برطرفی کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے اُس وقت کے صدر اور حکومت کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن نے 21 جولائی کو نورالاسلام منظور کو ایک خط ارسال کیا۔
اگلے روز شائع ہونے والے روزنامہ اتفاق کی رپورٹ میں اس خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا کہ ’آپ کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات کے پیشِ نظر، عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے آئین کی دفعہ 58(5) کے تحت میں آپ کو وزیرِ مملکت کے عہدے سے برطرف کر رہا ہوں۔‘
بغاوت کی منصوبہ بندی
فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے اور اُس وقت کے صدر شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کرنے کی بنیادی منصوبہ بندی کا ذمہ دار میجر سید فاروق الرحمٰن کو قرار دیا جاتا ہے۔
اُس وقت فرسٹ بنگال لانسرز رجمنٹ سے وابستہ اس افسر نے کافی عرصہ منصوبہ بندی میں صرف کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے انھوں نے 15 اگست سے چند ہفتے قبل دیگر فوجی افسران سے رابطے بھی شروع کر دیے تھے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ فوج کے ایک جونیئر افسر میجر فاروق، جو خود بھی جنگِ آزادی میں حصہ لے چکے تھے، نے اچانک شیخ مجیب کو قتل کرنے اور فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کیوں کی؟
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ایم اے حمید نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’فاروق بہت جذباتی طبیعت کا حامل تھا۔ ملک میں بدعنوانی، اقربا پروری، قحط، حکمران جماعت کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال، قتل اور اغوا برائے تاوان وغیرہ دیکھ کر وہ شدید طور پر بددل ہو گیا تھا۔‘
انھوں نے مزید لکھا ’یہ تصور کہ ملک مسلسل انڈیا کے زیرِ اثر ہوتا جا رہا ہے اور شیخ مجیب ملک کو انڈیا کا خدمت گار بنا رہے ہیں، فاروق کے اندر شدید ذہنی اذیت پیدا کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی غلامی سے آزاد ہو کر ہم انڈیا کی غلامی کی زنجیریں پہننے پر آمادہ نہیں ہیں۔‘
فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کے بارے میں میجر فاروق نے سب سے پہلے فوج کے ایک اور میجر خوندکر عبدالرشید کو آگاہ کیا۔ دونوں آپس میں ہم زلف تھے۔
کتاب ’تین فوجی بغاوتیں اور کچھ ان کہی باتیں‘ میں درج ہے کہ 12 اگست کی رات دونوں نے مشاورت کے بعد منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 15 اگست کی تاریخ منتخب کی۔
مشرف سے ملاقات
فوج سے برطرف کیے جانے اور جبری ریٹائرمنٹ پر ناراض کئی افسران سے میجر فاروق اور میجر رشید نے رابطہ کیا۔
ملازمت سے محرومی کے باعث ناراض ان افسران میں میجر شریف الحق ڈالم، نور چودھری، راشد چودھری، عزیز پاشا اور سلطان شاہریار رشید خان شامل تھے۔
اس کے علاوہ ایک فوجی انٹیلی جنس افسر بزلل ہودا نے بھی بغاوت میں حصہ لیا۔
ان فوجی افسران کے ساتھ ساتھ بغاوت کے منصوبہ سازوں نے عوامی لیگ کے متعدد اہم رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا تاکہ ان کے خیالات اور ممکنہ ردِعمل کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ان میں سے انھیں صرف خوندکر مشتاق احمد کی جانب سے مثبت جواب ملا۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ایم اے حمید نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ دو اگست 1975 کو میجر رشید نے شیخ مجیب کی حکومت کے وزیر خوندکر مشتاق احمد سے ملاقات کی۔
دونوں کا تعلق کومیلا، یعنی ایک ہی علاقے سے تھا۔
حمید کے مطابق ’مشتاق احمد شیخ کی حالیہ سرگرمیوں سے مطمئن نہیں تھے اور نجات کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ رشید نے ان سے گفتگو کرکے آسانی سے اندازہ لگا لیا کہ ضرورت پڑنے پر اس بزرگ شخص کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
منصوبہ حتمی طور پر یہ طے پایا کہ شیخ مجیب کو اقتدار سے ہٹانے اور قتل کرنے کے بعد خوندکر مشتاق احمد سربراہِ مملکت کا منصب سنبھالیں گے اور تمام سیاسی دباؤ کا سامنا کریں گے۔
آخری لمحات میں ’حالات کا جائزہ‘
15 اگست کو آخری حملہ کرنے سے ایک روز قبل بغاوت میں شامل فوجی افسران نے دھان منڈی 32 نمبر پر واقع اُس وقت کے صدر شیخ مجیب الرحمٰن کی رہائش گاہ اور اس کے اردگرد کے علاقے کا جائزہ لیا اور سکیورٹی کی صورتحال کا مشاہدہ کیا۔
شیخ مجیب کے قتل کے مقدمے کے ایک اہم گواہ صوبیدار گنی نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ 14 اگست کی سہ پہر انھوں نے میجر ڈالم کو شیخ مجیب کی رہائش گاہ کے سامنے موٹر سائیکل پر گھومتے ہوئے دیکھا تھا۔
تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ کیپٹن بزلل ہودا کو بھی اسی روز دھان منڈی 32 نمبر کے علاقے میں دیکھا گیا تھا۔
سابق فوجی افسر ایم اے حمید نے اپنی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ ’اسی روز چھاؤنی کے ٹینس کورٹ میں میجر ڈالم سمیت فوج سے برطرف کیے گئے کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔‘
اس کے بعد معمول کی فوجی مشقوں کا بہانہ بنا کر بغاوت میں شامل فوجی افسران رات کے وقت ٹینکوں، ہتھیاروں اور فوجیوں سمیت ڈھاکہ چھاؤنی میں جمع ہوئے۔ تمام اہلکاروں کو ان کی ذمہ داریاں سونپنے کے بعد 15 اگست کی صبح شیخ مجیب الرحمٰن کو ان کے اہلِ خانہ سمیت قتل کر دیا گیا۔
دھان منڈی 32 نہیں، ڈھاکہ یونیورسٹی میں سکیورٹی سخت کی گئی تھی
سنہ 1975 میں 15 اگست کی رات کے آخری پہر جب باغی فوجی شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کرنے کے لیے دھان منڈی 32 نمبر پہنچے تو وہاں انھیں روکنے کے لیے خاطر خواہ سکیورٹی موجود نہیں تھی۔ بعد میں سامنے آنے والی انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی اس کا ذکر کیا گیا۔
اس کے برعکس، اُس روز ڈھاکہ یونیورسٹی کے علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی، کیونکہ اُس وقت کے صدر شیخ مجیب نے 15 اگست کی صبح یونیورسٹی کا دورہ کرنا تھا۔ اس دورے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام تیاریاں بھی مکمل کرلی تھیں۔
اسی دوران یونیورسٹی کے علاقے میں کئی بم دھماکے ہوئے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان حملوں کے پیچھے کون تھا، تاہم اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے بعد پولیس سمیت سکیورٹی اداروں نے وہاں نگرانی مزید سخت کر دی تھی۔
دوسری جانب، دھان منڈی 32 نمبر پر واقع شیخ مجیب کی رہائش گاہ بڑی حد تک غیر محفوظ تھی۔ بعد کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے پاس مناسب مقدار میں گولہ بارود موجود نہیں تھا۔
اس سے پہلے بھی شیخ مجیب پر حملہ ہو چکا تھا
سنہ 1975 میں اگست سے قبل بھی شیخ مجیب الرحمٰن پر حملہ کیا گیا تھا، تاہم اُس وقت حکومت نے اس واقعے کو منظرِ عام پر نہیں آنے دیا۔
تاہم ڈھاکہ میں قائم امریکی سفارتخانے نے اس حملے کی اطلاع اُس وقت واشنگٹن کو ایک خفیہ مراسلے کے ذریعے دی تھی۔
مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ 21 مئی 1975 کی شام شیخ مجیب الرحمٰن پر ایک حملہ کیا گیا۔ شیخ مجیب اس حملے میں محفوظ رہے، تاہم واقعے میں دو نامعلوم افراد زخمی ہوئے۔
یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب شیخ مجیب ایک ٹیلی ویژن سٹیشن کے دورے کے بعد اپنی رہائش گاہ واپس جا رہے تھے۔ تاہم امریکی سفارتخانے کے خفیہ مراسلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے میں کون لوگ ملوث تھے۔
مراسلے کے مطابق، شیخ مجیب کی سکیورٹی پر مامور ایک پولیس افسر نے امریکی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو اس حملے کی تصدیق کی تھی۔
تاہم حکومت کے فیصلے کے تحت عوام کو اس واقعے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ امریکی خفیہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ اطلاعات نے اخبارات کو اس خبر کی اشاعت سے روکنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی تھیں۔