مزدوروں نے گھر کی دیوار توڑی تو دو ارب 89 کروڑ روپے مالیت کا سونا نکل آیا، مگر اب یہ کس کو ملے گا؟

    • مصنف, نک بیک اور مایا ڈیوس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

ایک مکان کی مرمت کے دوران مزدورں کو گھر کے تہہ خانے کی دیواروں میں چھپا ہوا خزانہ ملا ہے جس میں سونے کی اینٹیں اور سونے کے سکے شامل ہیں اور ان کی مالیت تقریباً 90 لاکھ یورو یعنی دو ارب 89 کروڑ پاکستانی روپے بتائی جا رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ مشرقی فلینڈرز میں پیش آیا، جہاں مزدور نئے سیوریج پائپ بچھانے کے لیے مکان میں ڈرلنگ کر رہے تھے۔ اسی دوران انھیں دیواروں کے اندر سے سونے کی اینٹیں اور سکے ملے۔

خزانہ ملنے کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اس سونے کا حقدار کون ہو گا؟

ممکنہ طور پر خزانہ دریافت کرنے والے مزدوروں اور مکان کی مالک فلاحی تنظیم، دونوں کا اس پر حق ہو سکتا ہے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید خزانہ تلاش کرنے کے لیے تعمیراتی مقام پر نہ جائیں۔ پولیس کے مطابق مکان کی مکمل تلاشی لی جا چکی ہے اور ملنے والا تمام سونا محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

خزانہ تلاش کرنے والے مزدوروں میں ایک 18 سالہ طالب علم کوبے بھی شامل تھے، جو اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں وقت گزارنے اور کچھ پیسے کمانے کے لیے کام کر رہے تھے۔

کوبے نے بیلجیم کے سرکاری نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو بتایا کہ خزانہ ملنے پر وہ سب پہلے حیران اور پریشان ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ ’شروع میں مجھے لگا کہ یہ ایک یورو کے سکے ہیں، لیکن پھر ہمیں وہاں سونے کی ایک اینٹ بھی نظر آئی۔ تب ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ بہت بڑا خزانہ ہے۔‘

مزدوروں نے کچھ ہی دیر بعد پولیس کو اس سارے معاملے کی خبر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اتنا سب کُچھ اپنے پاس رکھنا ممکن نہیں تھا۔‘

سائٹ مینیجر ماریو نے کہا کہ ’یہاں بہت زیادہ سکے اور سونے کی اینٹیں ہیں۔ انھیں اپنے پاس رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا۔ اس کے علاوہ ایسا کرنا چوری ہوتا۔‘

کوبے نے بھی کہا کہ ’90 لاکھ یورو مالیت کا سونا چھپا کر اپنے پاس رکھنا ممکن نہیں تھا۔‘

یہ مکان اس وقت ’سی اے ڈبلیو اوست فلاندرن‘ نامی فلاحی ادارے کی ملکیت ہے، جو ڈیندرمونڈے شہر میں ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 47 ہزار ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر گیرٹ ہلائرٹ نے کہا کہ ’خزانہ ملنے کی خبر پر انھیں بہت حیرت ہوئی۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اگر یہ خزانہ فلاحی ادارے کو مل گیا تو اسے ضرورت مند لوگوں کی مدد اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

مقامی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید سونا تلاش کرنے کے لیے زیرِ تعمیر مکان کا رخ نہ کریں۔ پولیس نے اپنے فیس بک پروفائل کی تصویر بھی سونے کے سکے کی تصویر سے تبدیل کردی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ یہ خزانہ ’صحیح جگہ‘ پہنچے گا اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔

بیلجیم کے قانون کے مطابق اس خزانے کے اصل مالک کے پاس اسے واپس لینے کے لیے پانچ سال کا وقت ہے۔ تاہم تحقیقات کرنے والے مقامی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اصل مالک کون ہے۔

اگر پانچ سال کے دوران کوئی شخص سامنے نہیں آتا تو قانون کے مطابق کسی دوسرے شخص کی ملکیت والی جگہ سے ملنے والا چھپا ہوا خزانہ اسے تلاش کرنے والے اور جائیداد کے مالک کے درمیان تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ قانون صرف اسی صورت میں لاگو ہوگا، جب یہ ثابت نہ ہو کہ یہ سونے کے سکے اور اینٹیں کسی مجرمانہ سرگرمی سے منسلک ہیں۔

اب بلڈرز اور فلاحی ادارے، دونوں کو 1823 دن تک اس انتظار میں رہنا ہوگا کہ کوئی شخص اس خزانے کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی شخص اس خزانے پر دعویٰ لے کر سامنے آتا ہے تو قانون کے مطابق اسے اس سے اپنا تعلق ثابت کرنا ہو گا۔ اگر وہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ سونا اسے تلاش کرنے والے اور جائیداد کے مالک کے درمیان تقسیم ہو جائے گا۔