پاکستان اور انڈیا ایشین گیمز میں کرکٹ کے فائنل میں پہنچ گئے

انڈیا، پاکستان
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان نے جاپان میں جاری ایشین گیمز میں کرکٹ کے مقابلوں کے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ہے جہاں گولڈ میڈل کے لیے اس کا مقابلہ انڈیا سے ہو گا جس نے یکطرفہ مقابلے کے بعد سری لنکا کو شکست دی۔

یہ ان مقابلوں میں پہلا میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم کو کھیلنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل پاکستانی ٹیم کے تمام میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوئے تھے اور آئی سی سی ٹی 20 درجہ بندی میں بہتر پوزیشن کی وجہ سے اسے آگے جانے کا موقع دیا گیا تھا۔

جاپان کے شہر نِشّن میں واقع کوروجی سپورٹس پارک میں جمعرات کو کھیلا گیا میچ بھی گیلی آؤٹ فیلڈ کی وجہ سے 13 اوور فی اننگز تک محدود کر دیا گیا تھا۔

اس میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو فتح کے لیے 112 رنز کا ہدف دیا جسے پاکستان نے عبدالصمد کی 15 گیند پر 30 اور حسن نواز کی 27 رنز کی اننگز کی بدولت 12ویں اوور میں چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

عبدالصمد اور حسن نے پانچویں وکٹ کے لیے 59 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کی اور ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دوسرے سیمی فائنل میں انڈیا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوور میں سات وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز بنائے۔ انڈین اننگز کی خاص بات مڈل آرڈر میں ایشان کشن کی جارحانہ بلے بازی تھی۔

ایشان نے 46 گیندوں پر چار چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 80 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ نوجوان اوپنر ویبھو سوریاونشی 38 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ تاہم باقی بلے باز قابلِ ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔

ایشان کشن
،تصویر کا کیپشنایشان کشن نے دوسرے سیمی فائنل میں 80 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی

170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم کو آغاز سے ہی مشکلات کا سامنا رہا اور اس کی تین وکٹیں دو کے مجموعی سکور پر گر چکی تھیں جبکہ 18 کے سکور پر نصف سری لنکن ٹیم پویلین لوٹ گئی تھی۔

سری لنکا کی جانب سے صرف نووانیدو فرنینڈو کا سکور ڈبل فگر میں داخل ہو سکا جنھوں نے 15 رنز بنائے۔

انڈیا کے لیے جسپریت بمرا، اکشر پٹیل اور ابھیشیک شرما نے دو، دو وکٹیں لیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن جہاں اپنی ٹیم کو ’دنیا کی تیسری یا چوتھی بہترین ٹیم‘ قرار دے چکے ہیں وہیں انھوں نے ایشن گیمز 2026 کی شروعات میں انڈین ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وائٹ بال کرکٹ میں مثالی کارکردگی دکھا رہی ہے اور پاکستان کو ’ان کے برابر پہنچنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ہم بھرپور انداز میں تیاری کر رہے ہیں اور اگر مقابلہ ہوا تو ہم ان پر دباؤ ڈالیں گے، جیسے ہم نے ایشیا کپ فائنل میں کیا تھا۔‘

اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی صاحبزادہ فرحان کو سونپی گئی ہے۔ اس بارے میں مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کے پاس تجربہ حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے مگر آیا وہ 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی کپتانی کریں گے، اس کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی کو کرنا ہوگا۔

ایشین گیمز کرکٹ: 10 ٹیمیں ’پاکستان جیسی‘ پچ پر مدمقابل

جاپان کے شہر ناگویا میں ایشین گیمز کرکٹ کے چوتھے ایڈیشن میں مردوں کا ٹورنامنٹ 24 ستمبر کو شروع ہوا تھا اور فائنل تین اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔

انڈیا ان مقابلوں کا دفاعی چیمپیئن ہے، جس نے 2022 میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

اولمپکس کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے کھیلوں کے مقابلے ایشین گیمز کو ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے، جس میں 45 ممالک کے کھلاڑی 40 سے زیادہ کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

یہ گذشتہ پانچ ایڈیشنز میں چوتھی مرتبہ ہو گا کہ کرکٹ ایشین گیمز کا حصہ ہو گی۔ کرکٹ کو پہلی بار 2010 میں ایشین گیمز میں شامل کیا گیا تھا۔

پاکستان خواتین کے مقابلوں میں دو بار (2010 اور 2014) گولڈ میڈل جیت چکا ہے جبکہ بنگلہ دیش (2010)، سری لنکا (2014) اور انڈیا (2022) مردوں کے مقابلوں میں ایک ایک بار چیمپیئن رہے ہیں۔