روسی لیب ورکر کی موت کے بعد طاعون سے متعلق سوالات کیوں جنم لے رہے ہیں؟

    • مصنف, گریگور اتنیسیئن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز روسی
    • مصنف, ماریا یوسٹافیوا
    • عہدہ, بی بی سی گلوبل ڈس انفارمیشن یونٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سائبیریا میں طاعون پر تحقیق کرنے والے مرکز میں ایک روسی لیبارٹری ٹیکنیشن کی موت نے بین الاقوامی خدشات اور نایاب متعدی بیماری کے ممکنہ لیب لیک کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔

روسی حکام نے ابتدائی طور پر اس کی موت کو طاعون سے جوڑا تھا۔ لیکن اب وہ مقامی قرنطینہ کے قیام کے حوالے سے آزاد میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹس کے باوجود اس تعلق سے انکار کر رہے ہیں۔

تو اس عورت کے ساتھ کیا ہوا اور لوگوں کو کتنا پریشان ہونا چاہیے؟

ہم کیا جانتے ہیں؟

سائبیریا اور فار ایسٹ کے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی 28 سالہ ڈاریا شپیلووا کو ستمبر کے آخر میں ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ وہ تین دن بعد علاقائی دارالحکومت ارکتسک سے باہر ایک قصبے شیلیخوف میں وفات پا گئیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ 2 اکتوبر کی بات ہے لیکن بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر پایا۔

ہسپتال کو قرنطینہ کیا گیا، ایک مقامی ایلومینیئم پلانٹ نے ماسک کا نظام متعارف کرایا تھا اور ارکتسک میں ایک بڑے عوامی پروگرام کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

جمعے کے روز خطے کے گورنر ایگور کوبزیف نے کہا کہ روس کے چیف سینیٹری ڈاکٹر ’خاص طور پر خطرناک انفیکشن کے ایک مشتبہ کیس‘ کی تحقیقات کے لیے ارکتسک پہنچے ہیں اور حکام ان لوگوں کی نگرانی کر رہے ہیں جو شپیلووا کے ساتھ رابطے میں تھے۔

اخبار ازویسٹیا کے مطابق تقریباً 197 افراد طبی نگرانی میں تھے۔

اسی دن پڑوسی علاقے بوریاٹیا کے گورنر نے کہا کہ لیب ورکر کی موت طاعون سے ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں ممکنہ لیب لیک ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں ہوئیں۔ ایک مقامی صحافی کی جانب سے ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ محقق ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کے بعد بیمار ہوئی تھیں۔

یہ موقف کیسے تبدیل ہوا؟

روسی شہریوں کے تحفظ اور صحت عامہ کی نگرانی کرنے والی ایجنسی نے ان دعوؤں پر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ اس ہفتے اس نے کہا کہ لیب ورکر، جس کا اس نے نام نہیں لیا، کی موت نمونیا سے ہوئی تھی اور اس ٹیسٹ میں ’اس کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق کوئی مائیکرو آرگنزم نہیں ملے۔‘

اس بیان کے بعد حکومت کے حامی نیوز آؤٹ لیٹ نے طاعون کے ممکنہ کیس کا ذکر کرنے والی پانچ پوسٹس کو حذف کر دیا اور بائیکالسک قصبے کے حکام نے ممکنہ طاعون کے انفیکشن کی وجہ سے شیلیخوف کے سفر کے خلاف مشورہ دینے والے پیغام کو حذف کر دیا۔

لیکن چونکہ حکام صورتحال کی سنگینی کو کم ظاہر کر رہے تھے اس لیے آزاد مقامی نیوز ویب سائٹ پیپل آف بائیکل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ارکتسک کے کم از کم چار ہسپتالوں کو تین ہفتوں کے قرنطینہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دریں اثنا بی بی سی نیوز روسی سروس کو معلوم ہوا ہے کہ ارکتسک اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ اکتوبر کے آخر میں ایک بین الاقوامی طاعون کنٹرول کانفرنس کی میزبانی کرنے والا ہے جس میں چین، منگولیا اور کئی سابق سوویت ممالک کے سائنسدان شامل ہیں۔ بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کے لیے انسٹی ٹیوٹ سے رابطہ کیا ہے کہ آیا یہ تقریب ہو گی۔

طاعون کیا ہوتا ہے؟

یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹریا کے باعث طاعون نے 14ویں صدی کے دوران یورپ کی نصف آبادی کو ہلاک کر دیا تھا۔ اسے بلیک ڈیتھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جانوروں کی بیماری کا سبب بنتا ہے جو اوقیانوس کے علاوہ تمام براعظموں میں پایا جاتا ہے، بشمول روس کے علاقے بوریاٹیا میں مارموٹ جیسے چوہوں میں۔

لوگ پسو کے کاٹنے، جسمانی رطوبتوں یا آلودہ مواد سے رابطے اور سانس کے ذریعے خارج ہونے والے ذرات کے ذریعے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق طاعون کی نیومونک شکل میں انکیوبیشن کی مدت بہت کم ہوتی ہے۔ بعض اوقات صرف 24 گھنٹے اور اگر جلد تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

علامات میں سانس کی قلت اور کھانسی شامل ہیں، اکثر اس میں خون آلودہ بلغم کی شکایت ہوتی ہے۔

ایک روسی سائنس رپورٹر ارینا یاکوٹینکو نے کہا ہے کہ لیب ورکر کی موت کی وجہ کچھ بھی ہو مگر طاعون کی وبا کا خطرہ بہت کم ہے کیونکہ اس وبا کو برقرار رکھنے کے لیے جو حالات درکار ہیں وہ ترقی یافتہ ممالک میں موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے روسی پوڈ کاسٹ کو بتایا کہ ’اینٹی بائیوٹک طاعون کے خلاف اچھی طرح سے کام کرتی ہیں کیونکہ یہ بیماری اب انتہائی نایاب ہے اور اسے وسیع پیمانے پر مزاحمت پیدا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔‘

بین الاقوامی ردعمل کیا ہے؟

اس کے ترجمان نے خبر رساں ادارے پولیٹیکو کو بتایا کہ ڈبلیو ایچ او نے صورتحال اور بین الاقوامی صحت عامہ پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے روسی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

یورپی کمیشن کے ترجمان کے مطابق یورپی متعدی امراض کے نگراں ادارے ای سی ڈی سی کے ماہرین بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکہ روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کی رپورٹس کو ’بہت غور سے دیکھ رہا ہے۔‘ انھوں نے مشورہ دیا کہ امریکہ اس پر قابو پانے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ تاہم ان کے مطابق واشنگٹن نے کریملن کے ساتھ اس معاملے پر بات نہیں کی۔

اس پر وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی بات کی ہے۔

روبیو نے آئس لینڈ کے شہر ریکجاوک میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم روس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ شفاف رہے اور دنیا کے ساتھ مزید معلومات شیئر کرے تاکہ ہم سب اس کے مطابق ردعمل ظاہر کر سکیں۔‘

منگل کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ٹرمپ کی حمایت کی پیشکش کا خیرمقدم کیا۔

پیسکوف نے بی بی سی کے روس کے ایڈیٹر سٹیوروزنبرگ کو بتایا کہ ’جب مدد کی پیشکش کی جاتی ہے تو یہ ہمیشہ بہت اچھا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ صورت حال کے بارے میں صرف سرکاری معلومات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

آن لائن کیا دعوے کیے جا رہے ہیں؟

روس اور بین الاقوامی سوشل میڈیا پر متعدد متضاد رپورٹس گردش کر رہی ہیں۔

بی بی سی نے کم از کم پانچ انسٹاگرام اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے جو دوسرے مبینہ مریض کے بارے میں غیر مصدقہ دعوے شیئر کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 169,000 فالوورز والے اکاؤنٹس نے روسی زبان میں قریب قریب ایک جیسے پیغامات پوسٹ کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وکٹر ناکلونی نامی ایک شخص، جسے ڈاریا شپیلووا کا ساتھی بتایا گیا ہے، بھی فوت ہو گیا ہے۔

روسی حکام اور اداروں کے قریبی ذرائع نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ بی بی سی نے تبصرے کی درخواست کے ساتھ خود تنظیم سے رابطہ کیا ہے۔ سائبیریا اور فار ایسٹ کے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

غیر تصدیق شدہ دعوؤں کو بعد میں برطانیہ کے ڈیلی میل سمیت متعدد بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس نے استعمال کیا جس نے معلومات کو روس کے ’مقامی میڈیا‘ سے منسوب کیا۔

پوسٹوں پر آن لائن ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ کچھ صارفین نے صحت عامہ کے اقدامات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جبکہ دوسروں نے اکاؤنٹس پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔

بی بی سی نے بھی ایکس پر غیر تصدیق شدہ دعوؤں کی ایک حد کی نشاندہی کی، جن میں سے کچھ نے لاکھوں آرا حاصل کی ہیں۔ ایک بلاگر نے کہا کہ اسے ایک دوست کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ روس کا دوسرا سب سے بڑا شہر سینٹ پیٹرزبرگ لاک ڈاؤن میں جانے والا ہے۔ پوسٹ کو ساٹھ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

تاہم نہ تو سینٹ پیٹرزبرگ کے حکام اور نہ ہی میڈیا آؤٹ لیٹس نے شہر میں طاعون کے کسی بھی کیس کی اطلاع دی ہے اور نہ ہی لاک ڈاؤن کے امکان کے بارے میں بتایا ہے۔

ایک علیحدہ پوسٹ میں ایک اور صارف نے دعویٰ کیا کہ ’نیومونک طاعون جو ابھی روس میں ایک لیب سے لیک ہوا، کووڈ سے تقریباً 100 گنا زیادہ مہلک ہے۔‘ اس پوسٹ کو 11.3 ملین ویوز ملے۔

ماہرین کے مطابق اس مرض کا موازنہ کووڈ سے کرنا درست نہیں کیونکہ اسے اینٹی بائیوٹکس سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔