پاکستانی فوج کا ملا شیرین کی قیادت میں غیرملکی جنگجوؤں کے ساتھ میٹنگ کا دعویٰ ’بے بنیاد پروپیگنڈا‘ ہے: قندھار انتظامیہ

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

افغانستان کے صوبہ قندھار کی انتظامیہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ترجمان کے اُس دعوے کو مسترد کرتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قندھار کے گورنر ملا شیرین اخوند کی صدارت میں ’غیر ملکی جنگجوؤں کا ایک اجلاس‘ منعقد ہوا تھا۔

قندھار حکومت کے میڈیا اور انفارمیشن سینٹر کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے الزامات اور دیگر دعوے ’بے بنیاد پروپیگنڈا‘ ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’پاکستان کے عسکری حلقے افغانستان میں شہریوں کی ہلاکت اور دیگر کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے اس نوعیت کے کھوکھلے دعوے کر رہے ہیں۔‘

قندھار انتظامیہ نے مزید کہا کہ افغانستان کو نہ تو غیر ملکی جنگجوؤں کو دعوت دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کے اجلاس منعقد کرنے کی۔

یاد رہے کہ جمعرات (یکم اکتوبر) کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہددری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس ’26 اگست کو ہونے والی وہ میٹنگ کیا تھی جس کی صدارت قندھار کے گورنر ملا شیرین نے کی تھی، اور جس میں القاعدہ، بشیر زیب، گل بہادر اور افغان طالبان موجود تھے؟‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ دعویٰ اُس وقت کیا گیا جب پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے حالیہ دنوں میں افغانستان میں حملوں میں اضافے اور مستقبل میں کسی زمینی کارروائی کے امکان کے بارے میں سوال کیا۔

اس کا جواب دیتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہم افغان طالبان حکومت کے حوالے سے کیا کریں گے اور کب کریں گے، اس کا فیصلہ ہم خود کریں گے۔‘

تاہم اس کے بعد انھوں نے افغان طالبان پر الزام لگایا کہ انھوں نے دہشت گردی کی معاونت اور سرپرستی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ’سوال جو پوچھا جانا چاہیے، وہ یہ ہے کہ بشیر زیب کہاں ہے، نور ولی کہاں ہے؟‘

اس کے بعد انھوں نے دعوی کیا کہ ’26 اگست کو ہونے والی وہ میٹنگ کیا تھی جس کی صدارت قندھار کے گورنر ملا شیرین نے کی، جس میں القاعدہ، بشیر زیب، گل بہادر اور افغان طالبان موجود تھے؟‘

تاہم قندھار میں صوبائی ترجمان نے اب اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

یاد رہے کہ بشیر زیب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جبکہ حافظ گل بہادر تحریکِ طالبان پاکستان سے منسلک ہیں۔

تاہم یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان فوج کی جانب سے افغان طالبان حکومت کے ایک مرکزی عہدیدار پر بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو ایک جگہ باضباطہ طور پر اکھٹا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے افغانستان میں ممکنہ کارروائی اور طالبان حکومت پر شدت پسندوں کی سرپرستی کا الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

جمعرات کی صبح پاکستان کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے ’مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم افغان طالبان حکام نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ افغان صوبوں کنٹر اور ہلمند میں عام شہریوں کے گھروں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یانامہ‘ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یکم اکتوبر کو ہوئے فضائی حملوں میں کم از کم دس شہری، جن میں زیادہ تر بچے تھے، ہلاک جبکہ نو زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے 21 ستمبر اور 24 ستمبر کو بھی افغانستان کے مختلف صوبوں پر فضائی حملے کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ اور ’خودکش بمباروں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم دونوں مواقع پر طالبان حکام کا کہنا تھا کہ اس حملوں میں عام شہری مارے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران یہ الزام بھی لگایا کہ یہ تمام اس بات پر رابطہ کاری کر رہے ہیں کہ وہ اپنی قوتوں کو کس طرح یکجا کریں، کیونکہ الگ الگ رہ کر وہ بُری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔

'لہٰذا طالبان یہ کہہ رہے ہیں کہ آئیں بیٹھتے ہیں اور باہمی رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔'

احمد شریف چوہدری کی جانب سے اس دعویٰ کے بعد سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ قندھار کے گورنر کون ہیں اور ان کی افغان طالبان قیادت میں کیا حیثیت ہے؟

حاجی ملا شیرین کون ہیں؟

واشنگٹن میں قائم ریسرچ تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ’طالبان ٹریکر‘ کے مطابق 2023 سے قندھار کے گورنر کے طور پر تعینات ملا محمد شیرین اخوند طالبان کے ایک نمایاں رہنما ہیں۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ وزارتِ دفاع میں انٹیلیجنس کے نائب وزیر کا عہدہ بھی رکھتے ہیں۔

ملا شیرین عبدالعلی حنفی اور عبداللہ حنفی کے ناموں سے بھی جانے جاتے ہیں۔

افغان صحافیوں کی جانب سے چلائے جانے والے آمو ٹی وی کے مطابق ملا شیرین علی زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا شیرین عام طور پر عوامی منظرنامے سے دور ہی رہتے ہیں۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق وہ طالبان کی قیادت کی شوریٰ کے رکن اور تنظیم کے عسکری و انٹیلیجنس شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

ملا شیرین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے بانی رہنما ملا محمد عمر کے قریبی معاون تھے، اور 2001 میں امریکی مداخلت کے بعد کچھ عرصے کے لیے ملا عمر کی ذاتی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی انھوں نے سنبھالی۔

امریکی ریسرچ ادارے جیمز ٹاؤن کی تحقیق کے مطابق 2013 میں ملا محمد عمر کی وفات کے بعد اخوند نے تنظیم میں زیادہ اہم قیادی ذمہ داریاں سنبھالنا شروع کیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ2016 میں طالبان کی عسکری کمیٹی کے تحت انھیں ملک کے مشرقی اور شمالی علاقوں کے 19 صوبوں میں طالبان کی جنگی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔

جیمرز ٹاؤن کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2018 ایک رپورٹ میں انھیں طالبان کے جنوبی خطے کے انٹیلیجنس سربراہ کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اسی سال طالبان کے رہبرِ اعلی ہبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے تنظیمی قیادت میں کی گئی ردوبدل کے دوران انھیں قندھار کا نام نہاد ’شیڈو گورنر‘ مقرر کر دیا گیا۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران ملا شیرین طالبان کے مذاکراتی وفد کے رکن تھے جہاں وہ طالبان کے سخت گیر دھڑے کی نمائندگی کرتے تھے اور اس مؤقف کے حامی تھے کہ طالبان کے امیر کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملا شیرین طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے موجودہ نائب وزیرِ داخلہ محمد ابراہیم صدر کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، جو ماضی میں طالبان کے عسکری کمیشن کی قیادت کر چکے ہیں۔

جب حاجی ملا شیرین پاکستان-افغانستان جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے لیے اسلام آباد آئے

جنوری 2024 میں اسلام آباد میں جب پاکستان-افغانستان جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا چھٹا اجلاس ہوا تو اس میں شرکت کے لیے آنے والے افغان وفد کی سربراہی افغانستان کے ملٹری انٹیلی جنس کے نائب سربراہ اور قندھار کے گورنر حاجی ملا شیرین کر رہے تھے۔

اس موقع پر ملا شیرین کی ملاقات پاکستان کے اس وقت کی نگران حکومت میں وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی سے بھی ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے دوران نگران وزیر خارجہ نے افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے اور باہمی فائدے پر مبنی تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام باہمی مسائل سے نمٹنا ضروری ہے۔

ملا شیرین نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی اور حمایت پر پاکستان کو سراہا۔ انھوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔