سعودی عرب میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کے الزام پر سزائے موت: ’میرے بیٹے کو معاف کر دیں‘

    • مصنف, دینوک ہواویتھرانا اور جولیانا خان
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’میں اپنے بیٹے کی غلطیوں پر رحم کی درخواست کرتا ہوں۔ براہ کرم اسے معاف کر دیں اور اسے ہمارے پاس واپس بھیج دیں۔‘

راسمانیکم یوگلکشمی یہ کہنے کے دوران آبدیدہ ہو گئے تھے۔ وہ سعودی عرب سے اپنے بڑے بیٹے انوجن سیواراسا کے لیے رحم کی اپیل کر رہے تھے۔ 24 سالہ انوجن کو سعودی عرب میں سزائے موت کا سامنا ہے۔ ایک عدالت نے انھیں پیغمبرِ اسلام اور مذہب کی توہین کا مرتکب قرار دیا ہے۔

اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد سری لنکا میں بڑے پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ متعدد سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں نے انوجن کی معافی کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔

تاہم خاندان کو 28 ستمبر کے بعد سے ان کی حالت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے اہل خانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کے دوران مزید بیان دینے سے گریز کریں۔

سعودی حکام نے پھانسی کی باضابطہ ٹائم لائن شائع نہیں کی ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ سزا پر عمل درآمد کب ہوگا۔ سعودی عرب میں خاندانوں یا غیر ملکی سفارتخانوں کو خبردار کیے بغیر پھانسی دینے کی تاریخ موجود ہے۔ سزا سنائے جانے کے بعد صرف رشتہ داروں کو مطلع کیا جاتا ہے۔

انوجن کے کیس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سری لنکا میں ہندو یاترا کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع ہوا۔ اس کے بعد انوجن کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

جون کے آخر میں ہندو زائرین کے پیچھے ایک کتے کو لات مارنے والے ایک نوجوان مسلمان کی فوٹیج سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہی، جس سے آن لائن بحث شروع ہوئی۔

سوشل میڈیا پر کمنٹس میں ایک صارف نے ایک ہندو دیوتا کے بارے میں توہین آمیز بیان پوسٹ کیا جس کی وجہ سے انوجن نے تمل زبان میں پیغمبر اسلام کی توہین پر مبنی جواب پوسٹ کیا۔

اگرچہ انوجن نے فوری طور پر اپنا تبصرہ حذف کر دیا اور معافی کی ویڈیو پوسٹ کی تاہم اس کا سکرین شاٹ موجود تھا اور اسے اس کے آجر اور سعودی حکام کی توجہ میں لایا گیا جس کے نتیجے میں جولائی میں انوجن کو گرفتار کر لیا گیا۔

موبائل فون سمیت ان کی ذاتی ڈیوائسز کو بعد میں ضبط کر لیا گیا اور سعودی حکام نے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیا۔

انوجن کے بھائی ہمسیدن سیواراسا نے بی بی سی سنہالا کو بتایا کہ ’سعودی عرب میں لوگ اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہ سری لنکا میں لوگ تھے جنھوں نے اس کمپنی کو ای میل بھیجے جہاں میرا بھائی کام کرتا تھا۔ میں یہ بتانا بھی نہیں چاہتا کہ وہ لوگ کون ہیں۔‘

ہمسیدن کے مطابق انوجن کو ملازمت دینے والی کمپنی نے سعودی عرب میں حکام کو مطلع کیا جنھوں نے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

انوجن کو ابتدائی طور پر الاحسا کریمنل کورٹ نے پانچ سال قید کے ساتھ ساتھ 30 لاکھ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ کے مطابق انوجن کی سزا میں کمی کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔

17 ستمبر کو سعودی پراسیکیوٹرز نے انوجن کے خلاف ملک کے انسداد سائبر کرائم قوانین کی بجائے شرعی قانون کے تحت مقدمہ چلانے کی اپیل دائر کی جس نے کیس کا رُخ موڑ دیا۔ عدالت نے استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انوجن کی قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔

سری لنکا میں وزارت خارجہ کے مطابق وہ انوجن کی مدد کے لیے تمام دستیاب اقدامات کر رہی ہے۔

ان کے اہل خانہ نے 21 ستمبر کو صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے صدارتی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ صدر نے انھیں یقین دلایا کہ حکومت ان کے لیے عام معافی حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ انھوں نے سفارتی حکام کو سعودی حکام سے مزید بات چیت کرنے کی ہدایت کی۔

سری لنکا کے مذہبی حلقوں نے انوجن کی حمایت کی ہے۔

بدھ مت رہنماؤں نے ہندو رہنماؤں کے ساتھ مل کر صدارتی سیکرٹریٹ کو ایک میمورنڈم سونپا ہے جس میں فوری ریاستی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سری لنکا کا ایک چار رکنی قانونی وفد اس ہفتے انوجن کے مقامی دفاعی وکلا سے ملاقات کے لیے سعودی عرب کا سفر کر رہا ہے۔

ٹیم میں سے ایک صدر کے وکیل اپل کمارپروما نے بی بی سی سنہالا کو بتایا کہ ’سعودی عرب میں دو قانونی فرم ہیں جو انوجن کے کیس کو دیکھ رہی ہیں۔ ہم وہاں ان دو فرموں کے وکلا سے ملنے جا رہے ہیں۔ اس کیس پر بات کریں گے اور منصوبہ بنائیں گے کہ آگے کیا کیا جا سکتا ہے۔‘

انوجن اور اس کے خاندان کے درمیان رابطے مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔ ہمسیدن نے 28 ستمبر کو بتایا تھا کہ ’میرے بھائی نے دو دن سے فون نہیں کیا۔‘

’ہم نے سفارت خانے کو مطلع کیا اور حکام سے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور ہمیں اپ ڈیٹ کریں۔ انھوں نے کہا کہ وہ چیک کریں گے۔ ہم ابھی تک انتظار کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔‘

سعودی جیلوں میں سزائے موت کے قیدی عام طور پر ذاتی موبائل آلات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ جیل حکام کے ذریعے فون کالز کی سہولت میں سختی برتی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی عرب میں آن لائن تقریر پر سخت سزاؤں کے حوالے سے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2023 میں ریٹائرڈ سعودی سکول ٹیچر محمد الغامدی کو متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے تبصروں پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے تحقیق اور وکالت کے ڈائریکٹر فلپ لوتھر نے اس وقت کہا تھا کہ ’محمد بن ناصر الغامدی کے دونوں گمنام ٹوئٹر اکاؤنٹس پر کل صرف 10 فالورز ہیں اور ان پر سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے علاوہ کسی اور چیز کا الزام نہیں ہے۔ انھیں سزائے موت دینا مضحکہ خیز ہے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم اے ایل کیو ایس ٹی کے مطابق الغامدی کا حکم الٹ دیا گیا اور انھیں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق سعودی عرب میں ایک کروڑ سے زائد غیر ملکی کارکن ہیں۔ گروپ اس بات پر زور دیتا ہے کہ کم اجرت والے تارکین وطن کارکنوں کو عربی زبان کی لاعلمی اور مناسب قانونی نمائندگی میں کمی کی وجہ سے سعودی قانونی نظام میں مختلف خطرات کا سامنا ہے۔

سعودی عرب میں منشیات کے جرائم یا عدالتوں کے ذریعے قتل کی سزاؤں کے مقابلے میں توہین مذہب کے جرم میں پھانسی کی شرح نسبتاً کم ہے۔