کرسٹا پائیک سے 20 سال قبل جیل میں ملاقات: ’وہ اپنے ماضی کو ایسے یاد کرتی ہیں جیسے وہ کوئی دوسرا شخص ہو‘

    • مصنف, چارلی بکلینڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

لگ بھگ 20 سال قبل صحافی ہیلن رابرٹس نے امریکی ریاست ٹینیسی میں موت کی سزا پانے والی قیدی کرسٹا پائیک سے ملاقات کی تھی تاکہ وہ اُن کی شخصیت کو سمجھ سکیں۔

اُس وقت کرسٹا پائیک کی عمر 30 برس تھی اور وہ سزائے موت پانے کے بعد کال کوٹھڑی میں 11 برس گزار چکی تھیں۔ وہ سزائے موت پانے والی امریکہ کی سب سے کم عمر خاتون تھیں۔ صحافی ہیلن رابرٹس نے خواتین سے متعلق ایک میگزین کی مدیر کی حیثیت سے اُن کا انٹرویو کیا تھا۔

اس ملاقات کے 20 سال بعد 50 سالہ پائیک کو گذشتہ بدھ کے روز موت کی سزا دی جانی تھی۔ تاہم وہ پینٹو باربیٹل کے دو مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود بھی زندہ رہیں اور اب اُن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں موت کی سزا پر عملدرآمد پھانسی کے بجائے قیدی کو زہر کا ٹیکہ لگا کر کیا جاتا ہے۔

صحافی ہیلن رابرٹس نے پائیک سے اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس تجربے نے انھیں نہ صرف ایک صحافی بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی متاثر کیا۔

رابرٹس کے بقول ’اس ملاقات کے دوران بعض مواقع پر میرے لیے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی عورت کی شخصیت اور ان کے ہاتھوں کیے گئے ہولناک جرم کو ایک ساتھ جوڑنا بہت مشکل ہو جاتا تھا۔‘

رابرٹس نے کہا کہ ’وہ مجھے دو بالکل مختلف شخصیات کا مجموعہ محسوس ہوتی تھیں۔ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ جس انسان کو میں اپنے سامنے دیکھ رہی ہوں، وہ اس قدر شدید تشدد کا مرتکب ہو سکتا ہے۔‘

انٹرویو

دسمبر 2006 میں ہیلن رابرٹس ریاست ٹینیسی کی خواتین کی انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں داخل ہوئیں، جو اب ’ڈیبرا کے جانسن ری ہیبیلیٹیشن سینٹر‘ کہلاتی ہے۔

رابرٹس کو یاد ہے کہ ’میں اس سے پہلے کبھی کسی عام جیل میں نہیں گئی تھی، زیادہ سکیورٹی والی جیل تو دور کی بات ہے، اس لیے میں بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملاقات کیسی رہے گی، اور سچ کہوں تو میں کچھ خوفزدہ بھی تھی۔‘

شمالی ویلز کے شہر کونوی سے تعلق رکھنے والی رابرٹس اس وقت خواتین کے جریدے ’مور‘ کے لیے کام کر رہی تھیں اور اس انٹرویو کی غرض سے امریکہ گئی تھیں۔

متعدد سکیورٹی مراحل اور کئی دروازوں سے گزرنے کے بعد ان کی ملاقات شیشے کی ایک دیوار کے پار موجود کرسٹا پائیک سے ہوئی۔ دونوں نے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے گفتگو کی تھی۔

رابرٹس اور پائیک کی عمروں میں صرف چند برس کا فرق تھا۔ رابرٹس کا کہنا ہے کہ وہ اس ملاقات میں کسی قسم کے تعصب کے بغیر شامل ہوئیں، اگرچہ وہ ایک انتہائی سخت مزاج اور سفاک خاتون سے ملنے کی توقع کر رہی تھیں۔ تاہم، جس شخصیت سے ان کا سامنا ہوا، وہ ان کی توقعات سے خاصی مختلف تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت میری عمر بیس برس کے ابتدائی حصے میں تھی اور میں تقریباً اسی عمر کی تھی جس عمر میں کرسٹا خود تھیں۔ کچھ ایسی باتیں بھی تھیں جو ہم دونوں میں مشترک تھیں۔‘

وہ کرسٹا پائیک کو ایک خوش شکل خاتون کے طور پر یاد کرتی ہیں، جن کے گھنگریالے بال ان کے اپنے بالوں سے ملتے جلتے تھے۔ ان کے بقول، یہی چھوٹی چھوٹی مماثلتیں دونوں کے درمیان ایک ابتدائی تعلق کا باعث بنیں۔

رابرٹس کے مطابق ’کرسٹا پائیک دوستانہ مزاج کی حامل شخصیت دکھائی دیتی تھیں اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ سامنے والے پر اچھا تاثر چھوڑنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ وہ ہنستی تھیں، مسکراتی تھیں اور گفتگو کے دوران کھل کر ردِعمل دیتی تھیں۔‘

رابرٹس نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ خوف یا دباؤ محسوس کریں۔ چند منٹ بعد وہ کھڑکی کے قریب کنارے پر بیٹھ گئی اور ایک طرف جھک کر بات کرنے لگیں تاکہ ہم ایک دوسرے کو اور قریب محسوس کر سکیں۔‘

ان کے مطابق ملاقات کا وقت محدود تھا اور دونوں اس بات سے آگاہ تھیں۔ ’ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں تھا اور بہت سے موضوعات پر بات کرنی تھی، اس لیے وہ فوراً اصل گفتگو کی طرف آ گئیں۔‘

رابرٹس کا کہنا ہے کہ کرسٹا پائیک نہ تو دفاعی انداز اختیار کر رہی تھیں، نہ سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں اور نہ ہی کسی بات کو ٹال رہی تھیں۔

’انھوں نے میرے تمام سوالات کے صاف اور واضح جواب دیے۔ وہ گفتگو کے دوران مسلسل نظریں ملا کر بات کرتی تھیں اور بہت کھلے انداز میں اپنی بات بیان کرتی تھیں۔‘

تاہم رابرٹس کے لیے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ کرسٹا پائیک کئی مواقع پر ایک بالکل عام انسان کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ میں ایک بالکل عام انسان سے بات کر رہی ہوں۔‘

رابرٹس کے مطابق، انھوں نے گفتگو کا آغاز کسی جارحانہ یا فیصلہ کن رویے کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ ’میرا مقصد کرسٹا پائیک کو ایک انسان کے طور پر سمجھنا تھا، اس کی زندگی کو جاننا تھا، یہ جاننا تھا کہ وہ کن حالات سے گزریں، ان سے وہ ہولناک فیصلہ کیوں ہوا، اور اب وہ جیل کی اس زندگی کے ساتھ کیسے خود کو ہم آہنگ کر رہی ہیں۔‘

توجہ کا مرکز

سنہ 1995 میں جب کرسٹا پائیک کی عمر محض 18 برس تھی تو انھوں نے اپنے اُس وقت کے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر 19 سالہ خاتون کولین سلیمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ ان تینوں افراد (کرسٹا، اُن کا بوائے فرینڈ اور کولین) کی ملاقات مسائل سے دوچار نوجوانوں کے لیے قائم ایک تربیتی کیمپ میں ہوئی تھی۔

کرسٹا پائیک کا دعویٰ تھا کہ کولین سلیمر نے اس کی تضحیک کی تھی اور وہ ان کے بوائے فرینڈ کو چھیننے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بعد ازاں دو افراد نے عدالت میں گواہی دی تھی کہ کرسٹا پائیک نے قتل سے پہلے اور بعد میں اس واقعے کے بارے میں فخر سے بات کی تھی اور یہاں تک کہ کولین سلیمر کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بھی انھیں دکھایا تھا۔

اس جرم کی پاداش میں سنہ 1996 میں کرسٹا پائیک کو سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اُن کے بوائے فرینڈ، جو اس وقت 17 برس کے تھے، کو پیرول کے امکان کے ساتھ عمرقید کی سزا دی گئی۔ وہ آج بھی جیل میں ہیں۔

ہیلن رابرٹس کے مطابق، پائیک نے انھیں بتایا تھا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران وہ اپنے حالات کی سنگینی کو پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکی تھیں۔ تاہم انھیں میڈیا اور عوامی توجہ ملنے کا احساس پسند آتا تھا، کیونکہ ان کے بقول انھیں اس سے پہلے کبھی ایسی توجہ حاصل نہیں ہوئی تھی۔

رابرٹس کا کہنا ہے کہ جب گفتگو قتل کی ہولناک تفصیلات تک پہنچی تو کرسٹا پائیک نے کسی قسم کی جھجھک یا جذباتی بے چینی کا اظہار نہیں کیا۔

رابرٹس نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’اُن کے لہجے یا رویے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اس بارے میں بہت فطری انداز میں بات کرتی رہیں۔‘

رابرٹس کے مطابق، اس وقت تک کرسٹا پائیک سزائے موت کی کوٹھڑی میں 11 برس گزار چکی تھیں اور انھیں طویل تنہائی میں اپنے ماضی اور اپنے جرم پر غور کرنے کا کافی وقت ملا تھا۔

رابرٹس کے مطابق، ’وہ اپنے ماضی کے بارے میں اس طرح بات کرتی تھیں جیسے وہ کوئی دوسرا شخص ہو۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ جس رات انھوں نے کولین کو قتل کیا تو وہ جیسے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھیں۔ انھوں نے اسے ایک ایسے تجربے سے تشبیہ دی جیسے انسان اپنے جسم سے باہر ہو اور اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ یعنی ’ایسا لگتا تھا جیسے کسی اور قوت نے اس پر قبضہ کر لیا ہو۔‘

رابرٹس کے مطابق، پائیک نے اپنے جرم پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ انھیں یقین نہیں کہ کوئی معافی، وضاحت یا پشیمانی اس نقصان کا ازالہ کر سکتی ہے جو ان کے ہاتھوں ہوا۔

ایک ہنگامہ خیز ماضی

کرسٹا پائیک کا بچپن امریکی ریاست ورجینیا کے ایک چھوٹے سے محنت کش طبقے والی آبادی والے قصبے میں گزرا۔

اُن کے والدین شراب نوشی کے عادی تھے اور اُن کے اپنے بیان کے مطابق، انھیں بچپن میں مناسب توجہ اور محبت نہیں ملی۔ کرسٹا پائیک نے ہیلن رابرٹس کو بتایا تھا کہ اپنی دادی کے سوا انھیں کسی سے حقیقی محبت نہیں ملی۔ جب کرسٹا 12 برس کی تھیں تو دادی بھی فوت ہو گئیں اور اس صدمے نے پائیک کے اندر شدید غصہ اور خودکشی جیسے خیالات کو جنم دیا۔

رابرٹس کے مطابق، پائیک نے یہ بھی بتایا تھا کہ 11 سال کی عمر میں وہ ایک پڑوسی کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بنیں، جبکہ 17 برس کی عمر میں ایک اور شخص نے بھی انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان واقعات نے ان کی ذہنی اور جذباتی کیفیت پر گہرے اثرات چھوڑے۔

مختلف سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پائیک نے 18 سال کی عمر میں نوکس وِل جاب کور پروگرام میں شمولیت اختیار کی، جو کم آمدنی والے نوجوانوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا ہے۔ ان کے بقول، یہ ان کے لیے زندگی میں ایک نئی شروعات کا موقع تھا۔

رابرٹس نے بتایا کہ پائیک اس وقت نرس بننے کا خواب دیکھتی تھیں اور اپنی زندگی کو ایک مثبت سمت دینا چاہتی تھیں۔

پائیک کے وکلا نے ان کی پھانسی روکنے کے لیے 226 صفحات پر مشتمل رحم کی اپیل دائر کی تھی اور آخری لمحات تک امید رکھتے تھے کہ سزا مؤخر ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی پھانسی روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم یہ اپیلیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

ہیلن رابرٹس کے مطابق، پائیک کو آخر وقت تک امید تھی کہ کوئی ان کے کیس میں مداخلت کرے گا اور ان کے بچپن، ذہنی صحت اور ان کی زندگی کے پیچیدہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رحم کی اپیل پر غور کیا جائے گا۔

رابرٹس نے کہا کہ ’وہ جانتی تھیں کہ ان کے سامنے سزائے موت یا عمر قید، یہی دو راستے ہیں۔ لیکن وہ یقیناً عمر قید کو ترجیح دیتی تھیں اور ایک پُرسکون انجام چاہتی تھیں۔‘

رابرٹس نے پھانسی سے قبل کے دنوں کو انتہائی غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل کرسٹا پائیک کے بارے میں سوچتی رہیں۔

’بدھ کے روز (جب موت کی سزا پر عملدرآمد ہونا تھا) میں سارا دن اسی کے بارے میں سوچتی رہی۔ بار بار ذہن میں یہی آ رہا تھا کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب انھیں معلوم ہوا کہ پائیک نے اپنا آخری کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیا تھا تو وہ ان کی ذہنی کیفیت کا تصور کرنے لگیں۔

’میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ کیا سوچ رہی ہوں گی، کیا محسوس کر رہی ہوں گی۔ یہ جانتے ہوئے کہ آپ کی زندگی کے آخری لمحات قریب ہیں، انسان خود کو اس کے لیے کیسے تیار کرتا ہے؟‘

رابرٹس کے مطابق، جب یہ خبر سامنے آئی کہ پائیک جان لیوا انجیکشن کے عمل سے بچ گئی ہیں، تو یہ منظر انھیں ’کسی ڈراؤنی فلم‘ جیسا محسوس ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں اسے سمجھ نہیں سکتی۔ یہ میرے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ یہ پوری صورتِحال انتہائی ہولناک اور سفاک محسوس ہوتی ہے۔‘

انھوں نے اس صورتحال میں موجود تضاد کی طرف بھی اشارہ کیا۔

’ایک طرف ریاست انھیں موت دینے کی کوشش کر رہی تھی اور دوسری طرف، جب وہ زندہ بچ گئیں، تو انھیں ہسپتال منتقل کر کے بچانے کی کوشش کی گئی۔ میرے لیے یہ ایک عجیب ستم ظریفی ہے جس کی کوئی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔‘

ایک جانور کی طرح

جس وقت ہیلن رابرٹس نے کرسٹا پائیک کا انٹرویو کیا تھا، تو وہ روزانہ کم از کم 23 گھنٹے اپنی کوٹھڑی میں گزارتی تھیں اور بعض اوقات انھیں صرف ایک گھنٹے کے لیے باہر چہل قدمی کی اجازت ملتی تھی۔

سزائے موت کی واحد خاتون قیدی ہونے کے باعث انھیں دوسرے قیدیوں سے میل جول کا موقع نہیں ملتا تھا۔ تاہم رابرٹس کے مطابق، پائیک نے جیل کی زندگی میں ایک باقاعدہ معمول بنا لیا تھا۔ وہ کتابیں پڑھتی تھیں، ٹیلی ویژن دیکھتی تھیں اور اپنے قلمی دوستوں کو خط لکھتی تھیں، اور ان سرگرمیوں میں انھیں کچھ سکون ملتا تھا۔

ملاقات کے کچھ عرصے بعد رابرٹس کو پائیک کی جانب سے ہاتھ سے بنایا گیا ایک کارڈ موصول ہوا، جس میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

رابرٹس کو یاد ہے کہ ’وہ جامنی کاغذ سے بنی ایک تتلی تھی۔ ان کے اندر صرف اتنا لکھا تھا: ’میرے ساتھ مہربانی سے پیش آنے اور ایک عورت کی طرح برتاؤ کرنے پر آپ کا شکریہ‘۔‘

ان کے بقول، ’یہ ایک نہایت متاثر کن لمحہ تھا۔‘

تاہم رابرٹس اس بات پر زور دیتی ہیں کہ پائیک کے ساتھ اپنی ملاقات بیان کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کے جرم کی سنگینی کو کم کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بلاشبہ اسے جیل میں ہونا چاہیے تھا۔ انھوں نے ایک سنگین جرم کیا، ایک خاتون کی جان لی، اور انھیں اس کی سزا بھگتنا تھی۔‘

مگر ان کے ذہن میں ایک سوال اب بھی موجود ہے کہ ’انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر اسے زندگی کے نازک مراحل میں مناسب مدد، تحفظ اور سہارا مل جاتا تو کیا وہ پھر بھی وہی راستہ اختیار کرتی جس نے اسے اس انجام تک پہنچایا؟‘

رابرٹس کا کہنا ہے کہ وہ اس عورت کو نظرانداز نہیں کر سکتیں جس سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔

’میں اس شخصیت کو فراموش نہیں کر سکتی جو میرے سامنے بیٹھی تھی، نہ ہی اس تعلق کو جو ہماری گفتگو کے دوران قائم ہوا، اور نہ ہی اس انداز کو جس سے اس نے میرے سوالات کے جواب دیے تھے۔‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’آخرکار وہ ایک انسان تھیں، اور کسی انسان سے اس قدر قریب ہو کر ملنے کے بعد یہ ممکن نہیں کہ وہ آپ پر کوئی اثر نہ چھوڑے۔‘

رابرٹس کے مطابق، ’میرے خیال میں وہ خود بھی جانتی تھیں کہ انھوں نے اپنی زندگی تباہ کر دی ہے۔ انھیں احساس تھا کہ وہ اپنی زندگی میں بہت کچھ اچھا کر سکتی تھیں، لیکن انھوں نے ایسے فیصلے کیے جنھوں نے اس کے تمام امکانات ختم کر دیے۔‘