اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. یوکرین سے 90 امدادی کارکنوں پر مبنی ٹیم ترکی روانہ

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین سے امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد و بحالی کے کاموں کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے منگل کو کہا کہ یوکرینی ماہرین کے پاس قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موزوں تجربہ ہے۔

    اس ٹیم میں 90 امدادی کارکن اور 10 تربیت یافتہ کتے بھی شامل ہیں۔

  2. ترکی میں آٹھ سالہ بچہ 52 گھنٹوں بعد ملبے سے برآمد

    ترکی کے صوبے حطائے میں ایک آٹھ سالہ بچے کو 52 گھنٹوں بعد ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔ اس بچے کی ماں عمارت کے باہر اس کا انتظار کر رہی تھیں جنھوں نے اسے نکالے جاتے ہی گلے سے لگا لیا۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. شام اور ترکی میں زلزلے کی ڈرون فوٹیج

    جنوبی ترکی اور شمالی شام کے علاقوں کی ڈرون فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں کتنے وسیع پیمانے پر تباہی آئی ہے۔ شام کے قصبے اتارب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ زلزلہ آنے کا منظر ’قیامت‘ جیسا تھا۔ مزید دیکھیے ہماری اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

    ،ویڈیو کیپشنترکی اور شام میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی ڈرون فوٹیج
  4. ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہزار سے تجاوز کر گئی، صدر اردوغان متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    ترکی، زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترکی اور شام میں سوموار کو آنے والے زلزلے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد نو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    ترکی میں اب تک تقریبا سات ہزار افراد جبکہ شام میں ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان آج زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

    ان کی جانب سے ترکی کے دس ایسے اضلاع میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے جو زلزلے سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

  5. 45 گھنٹوں تک ملبے میں پھنسے بچے کو بوتل کے ڈھکن سے پانی پلایا گیا

    ،ویڈیو کیپشنترکی میں زلزلے کے بعد ملبے میں پھنسے بچے کو بوتل کے ڈھکن سے پانی پلایا گیا

    ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد ملبے میں پھنسے متاثرین کی حیران کن ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

    امدادی کارکن ہر ایک شخص کو زندہ نکالنے کی کوششوں میں ہیں اور اس کام کے لیے بھاری بھرکم مشینری سمیت ضروری آلات بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    محمد نامی ایک شامی بچہ ہاتائی میں قریب 45 گھنٹوں تک ملبے تلے دبا رہا۔ اس کی پیاس بجھانے کے لیے اسے بوتل کے ڈھکن سے پانی پلایا گیا۔

    ویڈیو پر ردعمل میں سوشل میڈیا پر استنبول کے میئر نے لکھا ’شاباش محمد۔‘

  6. ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد 8700 افراد ہلاک

    سوموار کو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد اب تک 8700 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ملک میں اب تک 6234 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق مشکل ہے لیکن حکومتی میڈیا کے مطابق ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    شام میں باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں کام کرنے والی تنظیم وائٹ ہیلمٹ ریسکیو گروپ کے مطابق 1280 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  7. ترکی اور شام زلزلہ: پاکستان سے امدادی سامان روانہ

    پاکستان کی جانب سے ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد امدادی سامان روانہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    وفاقی ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے کی جانب سے شام کے زلزلہ متاثرین کیلئے خصوصی امدادی کھیپ روانہ کی گئی ہے جس میں خیمے اور کمبل شامل ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق یہ سامان اسلام آباد ائیر پورٹ سے خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے دمشق بھیجا گیا جبکہ مذید امدادی سامان بذریعہ روڈ شام اور ترکی کے لیے جلد روانہ کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق شام میں یہ امدادی سامان پاکستان کے سفیر شاہد علوی وصول کریں گے۔

  8. ترکی اور شام میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو پیسہ بھیجیں، اشیا نہیں، ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنے والوں کو ایسی اشیا بھجوانے سے گریز کرنا چاہیے جن کی ضرروت نہیں ہے۔

    پروفیسر لوسی نے بی بی سی ورلڈ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ مدد دینے والی چیز پیسہ ہے۔

    ان کے مطابق صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں پیسے ہی کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی۔

  9. شام میں تباہی کے بعد وبائی امراض کا خدشہ

    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نتالیہ رابرٹس ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نامی تنظیم کی ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور ان کی ایک ٹیم شام میں موجود ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان کے ایک ساتھی بھی ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ’شام میں تباہی در تباہی ہوئی ہے۔ ترکی کے گازیانتیپ جیسے علاقوں میں لاکھوں شامی شہری کافی برے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘

    رابرٹس نے کہا کہ ’جو لوگ زیادہ عرصے تک زخمی حالت میں ملبے تلے دبے رہتے ہیں ان کے گردے ناکارہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور آنے والے ہفتوں میں ایسے زیادہ کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔‘

    ایسے میں سردی کی شدت بھی ایک مسئلہ ہے کیوں کہ لوگ گھروں میں واپس جانے سے خوف زدہ ہیں۔

    رابرٹس نےکہا کہ ’اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے محفوظ رہائش کا بندوبست کیا جائے ورنہ وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شمالی شام میں کئی ماہ تک زلزلے کے اثرات باقی رہیں گے۔‘

  10. ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد کے مناظر

    ترکی اور شام میں ایک طاقت ور اور تباہ کن زلزلے کے بعد ملبے تلے دب جانے والوں کو بچانے کے لیے وقت کم رہ گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب جا پہنچی ہے۔

    منگل کے دن ریسکیو آپریشن کی چند تصاویر دیکھئے:

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. ترکی کے گول کیپر احمد ترک اسلان ہلاک

    فٹ بال

    ،تصویر کا ذریعہYENI MALATYASPOR

    سوموار کو آنے والے زلزلے میں ترکی کے گول کیپر احمد ترک اسلان بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کے کلب نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد احمد ہلاک ہوئے۔

    کلب کی جانب سے پیغام میں کہا گیا کہ ’احمد، ہم تمھیں نہیں بھولیں گے۔‘

    28 سالہ ترک اسلان ترکی کے سیکنڈ ڈویژن کلب یینی مالاتیاسپور میں 2021 میں شامل ہوئے تھے۔

  12. بریکنگ, زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 7800 سے تجاوز کر گئی

    ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 7800 سے تجاوز کر گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب تک ترکی میں 5894 جبکہ شام میں 1932 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد 7200 سے بڑھ گئی

    ترکی اور شام سے سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے اب تک 7200 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ترکی میں اب تک 5400 جبکہ شام میں 1800 سے زیادہ افراد زلزلے کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6000 سے بڑھ گئی ہے

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6000 سے بڑھ گئی ہے۔

    صرف ترکی میں مرنے والوں کی تعداد 4500 ہو چکی ہے جبکہ شام میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1800 سے بڑھ چکی ہے۔

  15. زلزلے سے کم از کم دو کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں سے علم ہوتا ہے ہے ترکی اور شام میں آنے والے دو زلزلوں سے 23 ملین یا اس سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کئی ہسپتالوں کی بجلی تک منقطع ہوئی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سارا ملبہ صاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس زلزے سے کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کے مدد ریلیف اور ریسکیو کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کو بھی امداد کی ضرورت ہے جن کے اس زلزلے میں پیارے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد کو ذہنی تھراپی کی ضرورت بھی ہے ورنہ یہ طویل عرصے تک مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر ہیرس کہتی ہیں کہ شام میں ان علاقوں تک رسائی جہاں مختلف مخالف گروہوں کا کنٹرول ہے عالمی ادارہ صحت کی ترجیح اول ہے۔

  16. ’گھر تباہ ہو گیا ہے، بچے اب کھلے آسمان تلے ہی رہنے پر مجبور ہیں‘

    Turkey

    ہم جنوبی ترکی میں ادنہ شہر واپس آ چکے ہیں، جہاں بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔

    ارکان قطر میں ملازمت کرتے ہیں اور اب وہاں سے وہ واپس ترکی میں زلزلے سے متاثرہ علاقے ہاتائی میں اپنے گھر پہنچے ہیں۔ یہ علاقہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی اہلیہ اور دو بچے اس زلزلے میں محفوط رہے۔ تاہم ان کے گھر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

    ان کے مطابق میرا گھر ٹوٹ گیا ہے۔ اب ہمارے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ میرا خاندان اب کھلے آسمان تلے ہیں رہے گا۔

    ان کا اپنے خاندان یا دوستوں سے فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا مگر وہ سوشل میڈیا پر تمام تفصیلات دیکھ رہے تھے۔

    ان کے مطابق اس طرح ہمیں پتا چلتا تھا کہ کون مر گیا ہے اور کون ابھی زندہ ہے۔

    اب وہ اپنی کمیونٹی سے لاپتہ افراد کی تلاش میں ہیں۔

  17. برطانوی عوام ترکی کے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد جمع کرتے ہوئے

    UK

    برطانیہ کے عوام ترکی اور شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے مختلف گروپس زلزلہ متاثرین کے لیے مدد بھیج رہے ہیں۔

    بومموتھ کے میورک پارک کیفے میں یہ امداد جمع کی جا رہی ہے۔ عوام سے کمبل، فوڈ، سنیٹری پروڈکٹس اور ہرعمر کے افراد کے لیے کپڑوں کی اپیل کی گئی ہے۔

    یہ امداد جمع کر کے ترکی کو کارگو طیارے میں بھیجی جائے گی۔

  18. برطانیہ کا ترکی میں سرچ اور ریسکیو ماہرین بھیجنے کا اعلان

    برطانیہ نے ترکی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو برطانیہ کے وزیر برائے ترقی اینڈریو مچل نے سکائی نیوز کو بتایا کہ برطانوی ایڈ بجٹ اس وقت بہت دباؤ شکا ہے مگر پھر بھی انسانی بحران میں مدد کے لیے پھر بھی کچھ رقوم مختص کی جائیں گی۔

    ان کے مطابق برطانوی عوام ہم سے اس بات کی ہی توقع رکھتی ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ ہمیشہ اس طرح کے آفتوں کے سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کی ہے۔ اور اس بار بھی ہم انسانی مدد میں پیش پیش رہیں گے۔

    برطانوی حکومت نے 76 افراد پر مشتمل سرچ اور ریسکیو ماہرین برطانیہ بھیجے ہوئے ہیں جو اس زلزلے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کریں گے اور متاثرین کی مدد کریں گے۔

  19. بریکنگ, ترکی کے متاثرہ خطے میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان

    TURKEY

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے زلزلے سے متاثرہ جنوب مشرقی حصے میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ترکی کے اس حصے میں ہلاکتوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 3549 تک پہنچ چکی ہے۔

    ان کے مطابق ارتھ کوئیک ڈیزاسٹر زون میں دس شہر واقع ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ ترکی کو 70 سے زائد ملکوں سے امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔

    ترکی کے صدر نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انتالیہ کے ہوٹلوں کو ایمرجنسی پناہ گاہوں میں بدلا جائے گا تا کہ متاثرہ حصے کے لوگوں کو عارضی رہائش دی جا سکے۔

    یہ ترکی کا وہ حصہ ہے جہاں یورپ سمیت مختلف ممالک سے سیاح آتے ہیں۔

  20. ’جیسے جوہری بم گر گیا ہو:‘ سیاحوں کا ترکی میں زلزلے پر تبصرے

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہTimothy Whiting

    برطانیہ میں یارک شائر کے رہائشی 29 برس کے ٹموتھی وائٹنگ ترکی میں اپنی چھٹیاں گزارنے گئے ہوئے تھے جب ترکی میں زلزلہ آیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو وہ گیسٹ ہاؤس میں تھیں اور جھٹکے سے جاگ گئے اور بہت خوفزدہ ہو گئے۔ تاہم وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔

    ٹموتھی کے مطابق وہ دو منزلہ عمارت کی دوسری منزل پر تھے۔ ان کے مطابق شاید یہی خوش قسمتی کا پہلو تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے اوپر گرنے کے لیے مزید کوئی مزلیں نہیں تھیں۔‘

    انھوں نے وہاں عمارتوں کے منہدم ہونے اور تباہی کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے جوہری بم سے حملہ کیا گیا ہو۔

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہTimothy Whiting

    ان کے مطابق شہر کا شہر زمین بوس ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق وہاں پانچ اور چھ منزلہ عمارتیں ان کی طرف تھیں۔

    ٹموتھی انتاکیہ شہر میں ہاتائی کے مقام پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ وہ وہاں سے پیدل ہی چل نکلیں اور پھر ایک کار نے انھیں ادنہ تک لف دی، جہاں پر وہ اب تھیں۔

    ان کے مطابق وہاں ہر طرف سے لوگ آ رہے تھے اور آدھے لوگوں تو ننگے پاؤں ہی وہاں پر آ گئے تھے۔ یہ افراتفری والا سماں تھا۔

    ملبے تلے دبے لوگوں کا آوازیں آوازیں آ رہی تھیں۔ ان کے مطابق ہم کسی کو بھی وہاں سے نکالنے کے قابل نہیں تھے۔