اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. ترکی اور شام میں زلزلہ، تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    پیر کو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کو اب پانچ روز گزر چکے ہیں۔ اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے

    • اموات کی تعداد اب 22 ہزار 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
    • ترک صدر رجب طیب اردوغان اور شام کے صدر بشار الاسد دونوں نے ہی آج تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے
    • اردوغان نے تسلیم کیا ہے کہ زلزلے پر حکومت کا ردِ عمل اتنا تیز نہیں رہا جتنا کہ اُنھیں امید تھی
    • زلزلہ متاثرین کے لیے امداد کا ایک اور قافلہ شام پہنچ گیا ہے مگر امدادی کارکنان کو امداد پہنچنے کی رفتار پر سخت تحفظات ہیں
    • شام میں شہری دفاع کی تنظیم وائٹ ہیلمٹس کا کہنا ہے کہ صورتحال ’انتہائی تباہ کن‘ ہے
    • دونوں ہی ممالک میں امدادی کارکنان لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں
    • مگر زلزلے کے پانچ دن بعد بھی کچھ معجزاتی ریسکیو کیے گئے ہیں جن میں ترکی کا جنوبی صوبہ حطائے بھی ہے جہاں پانچ منزلہ عمارت کے ملبے سے چھ افراد کو نکالا گیا ہے
    • برطانیہ میں ڈزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی کی ترک شام زلزلہ اپیل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے دن تین کروڑ 29 لاکھ پاؤنڈ جمع کیے ہیں جن میں برطانوی حکومت کے دیے گئے 50 لاکھ پاؤنڈ بھی شامل ہیں
  2. شام میں صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے: امدادی کارکنان

    ترکی اور شام میں سرحد کے دونوں طرف لاکھوں افراد زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔

    شمال مغربی شام میں ادلب میں گراؤنڈ پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے جبکہ بہت کم امداد لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔

    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنادلب میں خاندان اپنے بچوں کے ساتھ خیموں میں مقیم ہیں
    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنادلب میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے قریب خیمے نصب کیے گئے ہیں
    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنزلزلے میں بچ جانے والے افراد کے لیے حالات اب اور بھی مشکل ہیں
    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسالہا سال کی جنگ سے تباہ شدہ شہر اب ایک اور سانحے کا شکار ہے
  3. اقوامِ متحدہ کا دوسرا امدادی قافلہ شام پہنچ گیا

    شام

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترکی کے ایک سرحدی ناکے سے شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے اقوامِ متحدہ کا دوسرا امدادی قافلہ شام پہنچ گیا ہے۔

    عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے حکام نے کہا ہے کہ اس قافلے میں 14 ٹرک ہیں جن پر خیمے، کمبل، بستر، انسولیٹرز اور صفائی اور خوراک کی کٹس موجود ہیں۔

    شمال مغربی شام کا علاقہ باغیوں کے زیرِ انتظام ہے اور یہاں امداد پہنچانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ترکی سے صرف ایک ہی سرحدی ناکہ ’باب الحوا‘ ہے جہاں سے شام جایا جا سکتا ہے۔

    جمعرات کو پہلا امدادی قافلہ ترکی سے شام پہنچا تھا۔

  4. رجب طیب اردوغان: ’حکومت کا ردِ عمل اتنا تیز نہیں رہا جتنی کہ ہمیں امید تھی‘

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تسلیم کیا ہے کہ پیر کے زلزلے پر حکومت کا ردِ عمل اتنا تیز نہیں رہا جتنی کہ ہمیں امید تھی۔

    زلزلے میں بچ جانے والے لوگوں نے صدر اردوغان پر تنقید کی ہے کہ امدادی کارکنان کی تعداد بہت کم تھی۔

    آدیامن میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’اتنی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے کہ ہم خواہش کے باوجود اپنی امدادی کارروائیاں تیز نہیں کر سکے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ کچھ لوگ مارکیٹس لوٹ رہے ہیں چنانچہ اس علاقے میں ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے جس کے تحت حکومت ضروری سزائیں دے سکے گی۔

  5. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار سے بڑھ گئی

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پیر کے روز ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس زلزلے کو ’صدی کا سب سے بڑا سانحہ‘ قرار دیا ہے۔

    جمعرات کو عالمی بینک نے ترکی کے لیے 1.78 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دی ہے جس میں بنیادی ضروریات کے انفراسٹرکچر کی فوری تعمیر اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بھی رقوم رکھی گئی ہیں۔

    امریکہ نے دونوں ممالک کے لیے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    اس دوران گراؤنڈ پر موجود ایک لاکھ سے زیادہ امدادی کارکنان کی کوششیں نقل و حمل کے مسائل بشمول گاڑیوں کی کمی اور تباہ سڑکوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔

  6. ترکی میں نوزائیدہ بچہ اور ماں 90 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ نکال لیے گئے, جیمز فٹزجیرالڈ، بی بی سی نیوز

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEkrem Imamoglu

    جنوبی ترکی میں نوزائیدہ بچے اور ان کی ماں کو 90 گھنٹے بعد زندہ بچا لیا گیا ہے۔

    یاگز نامی 10 روزہ بچے کو صوبہ حطائے میں ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے نکالا گیا ہے۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کو نکال کر ایک ایمرجنسی کمبل میں لپیٹا گیا اور پھر ایمبولینس تک لے جایا گیا۔

    ان کی والدہ کو سٹریچر پر باہر لایا گیا۔ دونوں کی صحت کے متعلق مزید کوئی معلومات فی الوقت دستیاب نہیں ہیں۔

  7. ریسکیو آپریشن کی رفتار دھیمی، لوگوں کے چہروں پر غم کے آثار نمایاں, نِک بیاک، بی بی سی نیوز، غازی انتیپ، ترکی

    ترکی

    ترکی اور شام میں زلزلہ آئے ہوئے اب 100 گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں اور ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کرنے کی امیدیں ہوا ہوتی جا رہی ہیں۔

    شہر کے اس حصے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ریسکیو آپریشن کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ جب ہم آج صبح آئے تو ہمیں یہاں پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں آ رہی تھیں جو ایک دن پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔

    پھر بھاری مشینوں کی گڑگڑاہٹ دوبارہ شروع ہوئی اور مزید ملبہ ہٹایا جانے لگا۔

    یہاں پر ریسکیو آپریشن کے نگران نے ہمیں بتایا کہ اُنھوں نے ہمارے سامنے موجود ایک بلاک سے 22 لوگوں کو نکالا ہے مگر حالیہ دورانیے میں کوئی مزید افراد نہیں نکالے گئے۔

    یہاں آپ سے کوئی نہیں کہے گا کہ اُنھوں نے اُمید کا دامن چھوڑ دیا ہے مگر اب ملبہ اٹھانے والے لوگوں کے چہروں پر تھکاوٹ اور غم کے آثار نمایاں ہیں۔

  8. ترکی اور شام میں 20 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں، شدید سردی کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوموار کو ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے آنے والی تباہی کی مکمل تصویر اب تک غیر واضح ہے۔

    ریسکیو حکام اب تک ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں تاہم سو گھنٹے گزر جانے کے بعد امید دم توڑ رہی ہے۔

    دوسری جانب شدید سردی نے ہزاروں بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جن کے پاس پانی اور خوراک کی کمی ہے۔

    ترکی کے صدر نے اس زلزلے کو صدی کی سب سے بڑی آفت قرار دیا ہے۔ تاہم عالمی طور پر امداد کی کوششوں میں تیزی آ رہی ہے۔

    جمعرات کو عالمی بینک نے ترکی کو ایک اعشاریہ 78 ارب ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن ریسکیو کرنے والوں کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور خستہ سڑکوں اور گاڑیوں کی قلت کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    ایسے میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریز نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے اثرات ابھی تک واضح ہو رہے ہیں۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی امداد پہلی بار شام کے شمال مغربی علاقے میں داخل ہوئی۔

    جمعرات کو حکام نے بتایا کہ ترکی میں 17600 جبکہ شام میں 3377 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل 1999 میں ترکی میں آنے والے ایک زلزلے کے بعد 17 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  9. ترکی میں زلزے سے بڑی تعداد میں عمارتوں کے منہدم ہونے کی وجہ زلزلے کی شدت ہے یا حکومتی نااہلی؟

  10. برطانوی حکومت شام کو مزید 30 لاکھ پاؤنڈز دے گی

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ شام میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے مزید 30 لاکھ پاؤنڈز فراہم کرے گی۔

    برطانوی حکومت کے مطابق یہ فنڈنگ وائٹ ہیلمٹس نامی غیر سرکاری تنظیم کو دی جائے گی۔ یہ تنظیم باغیوں کے زیرِ انتظام شمال مغربی شام میں شہریوں کو امداد فراہم کر رہی ہے۔

    اس سے قبل اس تنظیم نے کہا کہ تھا وقت تیزی سے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔

  11. ’ریسکیو اہلکار تین دن بعد تک بھی ہم تک نہیں پہنچے‘, روزینہ سینی، بی بی سی نیوز

    جنوب مشرقی ترکی میں آدیامن صوبے میں رہنے والے رسات گوزلو نے بتایا کہ زلزلہ آنے کے چار دن بعد وہ اور دیگر افراد کیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

    رسات اس وقت ایک سپورٹس کمپلیکس کے فرش پر اپنے خاندان کے ہمراہ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ کئی دیگر خاندان بھی یہاں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں زلزلہ آنے کے تین دن بعد تک بھی نہیں آئی تھیں اور ان کے مطابق ٹیموں میں رابطہ کاری کا بھی فقدان تھا۔

    وہ کہتے ہیں کہ اب بھی ملبے میں کئی لوگ دبے ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے مر چکے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ویسے تو کمپنیاں اور دیگر افراد کھانا اور پانی فراہم کر رہے ہیں مگر ٹوائلٹ جیسی دیگر بنیادی چیزیں موجود نہیں ہیں، چنانچہ لوگوں کو حوائجِ ضروریہ کے لیے خالی عمارتوں اور سنسان گلیوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وبائی امراض پھوٹ پڑیں گے۔

  12. ملبے کے نیچے سے بجنے والا فون اور دم توڑتی امیدیں, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز اسکندریون

    اسکندریون

    اسکندریون میں آج جب اہلکاروں کو ملبے کے نیچے سے فون بجنے کی آواز آئی تو تھوڑی دیر کے لیے خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

    ملبے کی چوٹی پر کھڑے ایک شخص نے ’ٹیلیفون‘ کی آواز لگائی اور پھر اس علاقے میں موجود تمام لوگوں کو آگے بڑھ کر مدد کرنے کے لیے بلا لیا گیا۔

    پاس کھڑے دیگر لوگ بھی مدد کے لیے بھاگے اور ان میں وہ خاتون بھی شامل ہو گئیں جنھوں نے دراصل اس فون پر کال کی تھی۔

    پھر وہ بار بار اضطراب کے عالم میں فون کرنے لگیں تاکہ ریسکیو اہلکاروں کو گھنٹی سنائی دیتی رہے۔

    تقریباً 20 منٹ بعد امدادی کارکنان ملبے سے نیچے اتر آئے۔ مایوسی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔

    یہاں پر لوگ بچ جانے والے مزید افراد کی تلاش میں ہیں مگر اب امید دم توڑتی جا رہی ہے۔

  13. ایران کی جانب سے امداد کی پانچویں کھیپ شام پہنچ گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہILNA

    ایران کی جانب سے امداد کی پانچویں کھیپ آج دمشق پہنچ گئی ہے۔

    ایرانیئن لیبر نیوز ایجنسی (النا) نے بتایا ہے کہ 45 ٹن وزنی کھیپ میں کمبل، قالین، خیمے اور خوراک شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قعانی نے شمالی شام کے شہر حلب کا دورہ کیا تھا۔

  14. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 19 ہزار 300 سے زیادہ

    پیر کو آنے والے زلزلے کے باعث اب تک 19 ہزار 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    جمعرات کی سہ پہر تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ صرف ان کے ملک میں ہی اب تک 16 ہزار 710 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے۔

  15. ریسکیو 1122 نے 82 گھنٹے بعد بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    ترکی میں پاکستانی ریسکیو 1122 ٹیم نے 82 گھنٹے بعد 16 سالہ بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ یہ ریسکیو آپریشن آدیامن میں کیا جا رہا ہے اور اس وقت پاکستانی ٹیم چھ مختلف منہدم عمارتوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ترجمان کے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی پہلی ترجیح عمارتوں میں پھنسے زندہ لوگوں کا ریسکیو ہے۔

  16. ترکی سے امدادی قافلہ سرحد پار کر کے شام میں داخل ہو گیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمال مغربی شام میں اپوزیشن کے قبضے میں موجود علاقوں کے لیے امداد کا پہلا قافلہ اب اطلاعات کے مطابق ترکی سے شام میں داخل ہو گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ چھ ٹرک ادلب کے باب الحوا سرحدی ناکے سے اس جنگ زدہ ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل چار دن تک تباہ سڑکوں اور نقل و حمل کی دیگر مشکلات کے باعث جان بچانے والی امداد کی فراہمی متاثر رہی تھی۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 1900 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں خاندان اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    زلزلہ آنے سے پہلے بھی یہاں کے 41 لاکھ افراد زندگی گزارنے کے لیے امداد پر ہی منحصر تھے۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  17. ’زلزلے سے نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو سکتے ہیں‘

    ترکی

    پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ہزار مزید افراد بے بھر ہو گئے ہیں۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس زلزلے کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی نقصان ہوا ہے۔ مالیاتی ریٹنگز کے ادارے فِچ کا کہنا ہے کہ یہ نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو سکتے ہیں۔

    فچ ریٹنگز نے کہا کہ ’معاشی نقصانات کا اس وقت اندازہ بدلتی صورتحال کی وجہ سے لگانا مشکل ہے مگر بظاہر یہ دو ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے اور چار ارب ڈالر یا ’اس سے بھی زیادہ‘ ہو سکتے ہیں۔‘

    اس کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں انشورنس کوریج کی کمی کی وجہ سے انشورڈ نقصانات کہیں کم یعنی ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ریٹنگز ایجنسیوں کا کام ملکی معیشت کی مضبوطی کا جائزہ لے کر اسے ریٹنگ دینا ہوتا ہے۔

  18. زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک کا مشکل اور طویل سفر, لیز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، بی بی سی نیوز

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہDave Bull

    ترکی کے شہر استنبول سے جنوبی ترکی کی 15 گھنٹے کی ڈرائیو میں جگہ جگہ ہمیں تباہی کے مناظر دکھائی دیے۔

    زمینی منظرنامہ بھی تبدیل ہوتا رہا۔ شروعات میں تو پہاڑوں پر پاؤڈر جیسی ہلکی برف پڑی نظر آ رہی تھی مگر آگے جا کر ہمیں برف سے ڈھکے میدان نظر آئے۔

    درجہ حرارت کئی جگہوں پر تو صفر سے بھی کم تھا جو کہ سال کے اس وقت کے لیے غیر معمولی ہے۔ اس کی وجہ سے زلزلہ متاثرین اور اُنھیں بچانے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    رات کے اندھیرے میں ہم ڈھائی گھنٹے تک پیٹرول کی لائن میں لگے رہے۔ ہمارے ساتھ لائن میں امدادی گاڑیاں، ایمبولینسز اور ہر طرح کی گاڑیاں موجود تھیں۔

    چمکتی ہوئی جیکٹس پہنے ہوئے ہنگامی کارکنان ایک جگہ پر ریسکیو سرگرمیوں میں ذرا سا وقفہ لے کر خود کو گرم رکھنے کے لیے گرم مشروبات پی رہے تھے۔

    زلزلے کے چوتھے دن سورج کی نکھری ہوئی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ہم ایک مشہور ٹرک سٹاپ پر رکے تو وہاں پر صرف دالوں کا سوپ مل رہا تھا۔

    جب ہم عثمانیہ پہنچے تو ہم نے نیلے خیموں کی قطاریں دیکھیں جبکہ ایک قبرستان کے قریب لکڑی کے خالی تابوتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہDave Bull

  19. ترک ڈاکٹروں کی زندگی اور کریئرز کے مشکل ترین دن, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز اسکندریون

    ترکی

    ترکی کے صوبہ ہاتائے میں مقامی ڈاکٹروں محمت اور سیلدا نے ہمیں بتایا کہ یہ ان کے کریئرز اور زندگیوں کے مشکل ترین دنوں میں سے ہیں۔ یہ دونوں اسکندریون شہر میں ہیں جہاں زیادہ تر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔

    سیلدا جس ہسپتال میں کام کرتی ہیں وہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ منگل کو معمول کے مطابق اپنے کام پر جانے کے بجائے سیلدا نے ’ڈیتھ سرٹیفیکیٹس بھرتے ہوئے‘ اپنا دن گزارا۔ اب وہ ایک اور ہسپتال میں لوگوں کا علاج کر رہی ہیں۔

    محمت نے کہا کہ ان کے پاس مسلسل زلزلے کے باعث زخمی ہونے والے افراد اور میتیں آ رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: ’ہم نے اب تک بہت سی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں، ٹوٹی گردنیں، سر پر چوٹیں، اور بہت سی اموات دیکھی ہیں۔‘

    ’ہم نے سوچا کہ کووڈ برا دور تھا جب ہم پورا دن کام کرتے تھے اور بہت سی اموات ہوئی تھیں۔ مگر میں نے اس جیسی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘

  20. ترکی اور شام میں زلزلہ: ملبے تلے دبے بچے کو بوتل کے ڈھکن سے پانی پلانے کی ویڈیو وائرل