آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. طالبان پر خاتون پولیس اہلکار کو گھر میں گھس کر قتل کرنے کا الزام

    FAMILY PHOTO

    ،تصویر کا ذریعہFAMILY PHOTO

    افغانستان کے صوبہ غور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت فیروز کوہ میں مبینہ طور پر طالبان نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو اس کے گھر میں گھس کر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

    اس واقعے کے متعلق بانو نگار نامی خاتون کے رشتے داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔

    یہ قتل افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ مظالم کی اطلاعات کے درمیان ہوا ہے۔

    بی بی سی نے طالبان حکام سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس واقعے کا علم ہے اور میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ طالبان نے اس خاتون کو قتل نہیں کیا۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے پہلے ہی سابق حکومت کے لیے کام کرنے والے افراد کو معافی دینے کا اعلان کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ نگار کا قتل ’ذاتی دشمنی یا کسی دیگر وجہ سے ہوا ہو۔‘

    اس واقعے کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں کیونکہ فیروزکوہ میں کچھ لوگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر انھوں نے اس بارے میں بات کی تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔

  2. طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ کی تردید

    طالبان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

    طالبان ترجمان ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجشیر میں دشمن کے مکمل علاقے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور پوری وادی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

    دوسری جانب قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔

    ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں قومی مزاحمتی اتحاد کا کہنا ہے کہ این آر ایف فورسز لڑائی جاری رکھنے کے لیے وادی بھر میں تمام سٹریٹجک پوزیشنوں پر موجود ہیں۔ ہم افغانستان کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان اور ان کے شراکت داروں کے خلاف جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف اور آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔

    تاہم بی بی سی آزادانہ طور دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو پنجشیر کے گورنر ہاؤس (مقامِ ولایت) کے باہر سلفیاں لیتے اور امارت اسلامیہ کا سفید اور سیاہ جھنڈا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    کلچرل کمیشن، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف احمد اللہ متقی نے بھی گورنر ہاؤس کے باہر کھڑے طالبان کی تصویر شئیر کی ہے۔

    @Ahmadmuttaqi01

    ،تصویر کا ذریعہ@Ahmadmuttaqi01

  3. بریکنگ, جنرل فیض حمید کی ملا برادر سے ملاقات، ’افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی‘

    GettyImages/ISPR

    ،تصویر کا ذریعہGettyImages/ISPR

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی قیادت میں جس وفد نے اختتامِ ہفتہ پر کابل کا دورہ کیا تھا اسے اس بات کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ طالبان افغان سرزمین سے پاکستان میں کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

    بی بی سی کے ملک مدثر کے مطابق جنرل فیض حمید کے دورہ کابل کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ انھوں نے طالبان رہنما ملا برادر سے ملاقات کی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’کل آنے والے وفد کے خدشات ڈیورنڈ لائن کی حفاظت اور جیلوں سے بھاگنے والے قیدیوں سے متعلق تھے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرکے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

    طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے انھیں تسلی کروائی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان سے سرحد پار کرنے کے خواہشمند افغانوں کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’سرحد پر ہمارے لوگوں کو روکا ہوا ہے اور تجارت نہیں ہونے دی جا رہی‘۔

    ’ہم نے کل آنے والے پاکستانی وفد سے بات کی ہے کہ ہمارے لوگوں کو آنے جانے کی سہولت فراہم کریں تاکہ آرام سے تجارت ممکن ہو سکے۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کہہ چکا ہے کہ وہ کسی افغان پناہ گزین کو قبول نہیں کرے گا اور سرحد پار کرنے کے لیے ویزا لازمی ہے۔

  4. طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجشیر میں دشمن کے مکمل علاقے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور پوری وادی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان نے افغانستان کے تمام جنگی سازو سامان پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان اس ملک میں کہیں پر بھی کسی بھی طرح کی جنگ نہیں چاہتے لیکن کچھ لوگ کابل سے فرار ہو گئے اور بیت المال کے اسلحے کو استمعال کرتے ہوئے حکومت اور لوگوں کے لیے سردرد بنے۔

    ’ہم افغانستان کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ متحد رہیں اور دوبارہ ایسے حالات نہ بننے دیں۔‘

  5. افغانستان کی تازہ صورتحال

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے حوالے سے ہماری کوریج جاری ہے اور یہاں آپ کو اس اہم خبر سے جڑی تازہ ترین معلومات، خبریں اور تجزیے ملیں گے۔

    اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • طالبان کے ترجمان ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبہ پنجشیر پر مکمل طور پر طالبان نے قبضہ کر لیا گیا ہے۔
    • شمالی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے
    • طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے اندورنی اختلافات کے باعث حکومت سازی کی خبریں بے بنیاد ہے۔
    • ذبیح اللہ نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد از جلد حکومت کا اعلان کیا جائے گا۔

    گذشتہ ہفتے کیا کیا ہوا؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

  6. کیا 111 سالہ بڑھیا کی کہانی نے بابر کو ہندوستان کی فتح کا خواب دکھایا؟

  7. قندھار ہائی جیکنگ: انڈین ایئرلائنز کی پرواز 814 قندھار کیسے پہنچی اور پھر کیا ہوا

  8. ’افغان سوچتے ہیں کہ پاکستان طالبان کو چابی دے کر چلا رہا ہے لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے‘