قطر نے فوری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر کا کہنا ہے کہ طالبان نے عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اور انھیں افغانستان کے غیر متنازع حکمرانوں کے طور پر ان کے اقدامات سے جانچا جائے۔
قطر کی نائب وزیر خارجہ لولوۃ الخاطر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو میں بتایا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان نے کرنا ہے بین الاقوامی برادری نے نہیں۔
قطر کی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بات پر کوئی سوال نہیں کہ طالبان ڈی فیکٹو حکمران ہیں۔
ان کا یہ انٹرویو طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان سے پہلے دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بے گھر افراد کابل چھوڑنے میں کامیاب ہوئے، بشمول بہت سی طالبات۔ یہ اس (عملیت پسندی کا عکاس) ہے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ہماری جانب سے کی جانے والی ثالثی پر سوال اٹھا رہے تھے مگر اب ہم اس کو اصل امتحان کے طور پر چھوڑ رہے ہیں اور اب پوری دنیا ہماری جانب دیکھ رہی ہے کہ ہم مدد کریں اور ثالثی کریں۔
لولوۃ الخاطر نے بتایا کہ اگر طالبان انسانی حقوق کی، عورتوں کے حقوق اور خاص طور پر عورتوں کی تعلیم کا احترام کریں گے تو اس کا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ زمین پر لاجسٹکس میں مشکلات کے باوجود امید ہے کہ امداد کی کوششیں بحال ہوں گی۔ اس ضمن میں انھوں نے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے زیادہ سے زیادہ کردار کی اہمیت پر بھی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور امدادی اور ترقیاتی امور میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔














