لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ

    کابل کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کیربی نے اپنے ٹویٹ میں کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی اس دھماکے میں جانی نقصان کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔ ان کے مطابق جب ان کے پاس مزید معلومات جمع ہوں گے تو وہ اضافی تفصیلات بھی شیئر کر دیں گے۔

  2. مغرب نے غلطیاں دہرائیں تو پاکستان مزید ایک پناہ گزین لینے کو بھی تیار نہیں: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کئی ماہ سے طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان ممالک کا اثر و رسوخ آج پاکستان سے زیادہ ہے کیوں کہ طالبان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کو قبول کیا جائے، انھیں مستقبل کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے ’ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، آپ کے پاس ہیں‘۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ اگر طالبان مخلوط حکومت قائم نہیں کرتے تو کیا پاکستان اس کو تسلیم کر لے گا۔

    معید یوسف نے کہا کہ پاکستان جو کچھ کر سکتا ہے کر رہا ہے لیکن یہ ایک مشترکہ کوشش ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایک عام افغان کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ مغرب کو صرف ان کی پرواہ ہے جو ان کے اداروں اور سفارتی مشنز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ’ہم افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کو دہرا رہے ہیں، اس سے بحران پیدا ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستان متاثر ہوگا اور پاکستان میں پہلے سے 30 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں ’اور ہم مزید ایک فرد بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

  3. دنیا بھول جاتی ہے کہ پاکستان افغان جنگ کے متاثرین میں سے ہے: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں مخلوط حکومت کا قیام عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ کیا پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک مخلوط حکومت بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا بھول جاتی ہے کہ ’پاکستان افغانستان جنگ کے متاثرین میں سے ہے‘۔

    انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے 80 ہزار جانیں گنوائی ہیں، 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے اور آج بھی پاکستان میں 30 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔

  4. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ پر ٹیک آف کے دوران اطالوی طیارے پر فائرنگ کی اطلاعات

    کابل کے ایئرپورٹ پر ایک اطالوی طیارے کی طرف اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ٹیک آف کر رہا تھا۔

    تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ فائرنگ کس نے کی ہے اور کیوں کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ملٹری ذرائع سے متعلق خبر دی ہے کہ اس واقعے کے بعد کسی بھی قسم کے نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  5. ہمیں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانی چاہییں: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو جس بڑے پیمانے پر انخلا کا خدشہ تھا وہ صورتحال ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن بین الاقوامی برادری کو پناہ گزینوں کے بحران کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ اطلاعات کے مطابق پناہ گزینوں کے لیے، اس میں وہ لوگ شامل نہیں جن کے پاس آنے جانے کی اجازت ہے، صرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں چمن کی سرحد کھلی ہے۔

    معید یوسف نے اس وال کے جواب میں کہا کہ یہ باتیں ان افرد کے تناظر میں ہو رہی ہیں جو ’20 سے 25 ہزار افراد روزانہ پاکستان آتے اور واپس چلے جاتے ہیں۔‘

    انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انخلا ایک اہم عمل ہے لیکن ’ہم بطور بین الاقوامی برداری وہ غلطی دہرا رہے ہیں، نوے کی دہائی میں افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا اور وہاں سکیورٹی کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے اور نائن الیون جیسے واقعات رونما ہوئے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر مرتبہ غلطی کرتے ہیں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو جائے گا، ہم پناہ گزینوں کا بحران ہیدا ہی کیوں ہونے دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغرب نے ماضی میں بڑی غلطیاں کی ہیں اور پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف 1980 کی دہائی میں اس کی مدد کی لیکن ’ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا، افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں افغانوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایسا بحران پیدا ہی نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ ’مدد موجود ہو، حکومت سازی کا منصوبہ ہو۔۔۔تاکہ پناہ گزینوں کی صورتحال نہ پیدا ہو۔‘

  6. 'پاکستان نے اب تک 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے سات ہزار سے زیادہ افراد کے انخلا میں مدد کی ہے'

    معید یوسف

    پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان ہمیشہ سے انسانی بحران کی صورت میں مدد کے لیے فرنٹ لائن پر رہا ہے۔ اس معاملے میں ہم نے اب 18 ممالک کے سات ہزار افراد کے انخلا میں مدد کی ہے‘۔

    وہ بی بی سی کے ’ٹو ڈے پروگرام‘ میں مشعل حسین کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا پاکستان زمینی راستوں سے آنے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے تیار ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ یا تو ان افراد نے پاکستان سے ٹرانزٹ کیا ہے یا یہ پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں سے پانچ سو سے زیادہ افراد پاکستان نے بڑی مشکل صورتحال میں اپنی فضائی ضروریات پر ترجیح دیتے ہوئے، خود اپنی ایئرلائن کے ذریعے نکالے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے 24 گھنٹوں میں 25 خواتین صحافیوں کی افغانستان سے نکلنے میں معاونت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقومی برادری کے ساتھ دن رات کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی یا سرحدی راستوں کے ذریعے ، جو ہو سکتا ہے پاکستان کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جتنا کیا ہے وہ اب تک کسی ملک نے نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ سرحدوں پر کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں ہے۔ پاکستان نے ویزا کے حصول میں آسانیاں پیدا کی ہیں ’ہم لوگوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ اگر وہ شرائط پر پورا اترتے ہیں تو وہ سرحد پر آکر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پوری بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ اس کے معترف ہیں‘۔

  7. افغانستان سے اکثریت کا انخلا ہو چکا ہے: بورس جانسن

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ایسے افراد کی اکثریت کا انخلا مکمل ہو چکا ہے جو بیرون ملک سفر کرنے کے اہل تھے۔

    انھوں نے یہ بات شمالی لندن پرمننٹ جائنٹ ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران براڈ کاسٹرز سے ملاقات میں کی۔ ان کے اس دورے کے دوران ان کی وہاں پر موجود ایسے فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات ہوئی جو انخلا کے اس مرحلے میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر بورس جانسن کا کہنا تھا کہ تقریباً 15 ہزار لوگوں کو برطانوی دستوں نے انخلا میں مدد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق جتنے کم وقت میں ہم نے انخلا کو یقینی بنایا ہے اس کی ہر کوئی تعریف ہی کر سکتا ہے اور ہم دیگر لوگوں کے انخلا کے لیے بھی جو کر سکے ضرور کریں گے۔

    تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تقریباً دو ہزار ایسے لوگ جو برطانوی حکومت کے آبادی کاری کے پروگرام کے اہل ہیں مگر وہ ابھی افغانستان میں ہی ہیں۔

  8. امراللہ صالح: کابل پر طالبان کے قبضے کے ذمہ دار زلمے خلیل زاد اور پاکستان ہیں

    امراللہ صالح

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان کے قائم مقام صدر ہونے کے دعویدار امراللہ صالح نے کہا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور پاکستان کابل پر طالبان کے قبضے کے ذمہ دار ہیں۔

    بی بی سی نیوز سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کے ذریعے امریکہ کو بلیک میل کیا اور امریکہ نے انخلا سے قبل افغان حکومت کو تیاری کرنے کا وقت نہیں دیا۔

    امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ امریکہ نے راتوں رات افغان فوج کی فضائی حملوں کے ذریعے مدد کرنی بند کر دی۔

    ’ہم اپنے سپاہیوں تک رسد نہیں پہنچا پائے جس کے باعث اُنھوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔‘

    ’واشنگٹن کبھی بھی اس سب سے بری الذمہ نہیں ہو سکے گا۔‘

    امراللہ صالح افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت میں نائب صدر اول تھے۔

    اشرف غنی کے ملک سے چلے جانے کے بعد اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آئینی طور پر وہ افغانستان کے صدر ہیں۔

  9. قندھار میں پاکستانی صحافی طالبان کی حراست میں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    میمد علی اور عبدالمتین

    ،تصویر کا ذریعہNiamat Sarhadi

    افغانستان کے شہر قندھار میں دو پاکستانی صحافیوں عبدالمتین اور محمد علی کو حراست میں لیا گیا ہے جن کا تعلق نجی ٹی وی خیبر سے ہے۔

    دونوں کا تعلق قندھار سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ہے جن میں عبدالمتین چمن میں ٹی وی کے رپورٹر جبکہ محمد علی کیمرہ مین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    عبدالمتین کے بھتیجے محمد نعیم نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں تین روز قبل چمن سے افغانستان میں تبدیل شدہ صورتحال کی کوریج کے لیے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ایک بچہ بھی ہے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ان کو قندھار شہر سے حراست میں لیا گیا اور گذشتہ شب ان کی اہلخانہ سے بات بھی کروائی گئی تھی۔

    ’عبدالمتین نے بتایا تھا کہ اُنھیں آج چھوڑ دیا جائے گا لیکن ابھی ان سےرابطہ نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہم سخت پریشان ہیں۔‘

    چمن کے سینیئر صحافی نعمت سرحدی نے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین اور رپورٹر کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ ان کو قندھار کے پوش علاقے عینو مینہ سے حراست میں لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان سے صحافیوں کی بہت بڑی تعداد کابل اور افغانستان کے دوسرے علاقوں میں ہے لیکن چمن سے تعلق رکھنے والے ان دو صحافیوں کو حراست میں لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    اس متعلق تاحال طالبان کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

  10. ’ہم اپنے گھر چھوڑتے وقت خوف اور صدمے کی حالت میں تھے‘, شمائلہ جعفری، بی بی سی نیوز

    چمن

    میں افغانستان کی پاکستان کے ساتھ سرحد پر سپن بولدک کے مقام پر موجود ہوں۔ عام طور پر یہ سرحد پر مصروف ترین چوکی ہوتی ہے۔

    آج یہاں ہزاروں لوگ سرحد پار کرنے کی کوشش میں موجود ہیں۔

    کچھ پناہ گزینوں نے ہمیں بتایا کہ وہ کاروبار میں مندی کے باعث وہاں سے جانا چاہ رہے ہیں جبکہ کچھ نے کہا کہ وہ طالبِ علم ہیں اور طالبان دور میں تعلیم کے حوالے سے خدشات کے پیشِ نظر پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

    مگر کئی لوگوں، بالخصوص شمالی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی جان کے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

    یہاں موجود کئی لوگوں کے رشتہ دار، دوست اور خاندان کے افراد پاکستان میں ہیں۔ کچھ لوگوں کے تو پاکستان میں اپنے گھر بھی ہیں۔ اگر یہ لوگ سرحد پار کر سکے تو دوسرے شہروں تک پھیل جائیں گے۔

    ہم نے ایک سابق افغان سپاہی کے بیٹے سے بھی ملاقات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے باوجود وہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔

    اس کے علاوہ اقلیتی ہزارہ برادری کے کچھ پناہ گزینوں نے کہا کہ اُنھیں انسانی بنیادوں پر سفری دستاویزات کے بغیر ہی آنے دیا گیا ہے۔

    ایک ہزارہ خاتون نے کہا: ’طالبان ہمارے لیے بہت سخت ہیں۔ زندگی اب اچھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم اپنے گھر چھوڑ کر یہاں آ گئے ہیں۔ ہم اپنے گھر چھوڑتے وقت خوف اور صدمے کی حالت میں تھے۔‘

    ’یہاں سرحد پر رہنے اور بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اُنھیں چاہیے کہ ہمارے لیے کوئی کیمپس بنا دیں۔ پچھلی حکومت میں صورتحال بہتر تھی مگر اب ہمارے پاس اپنا علاقہ چھوڑ دینے کے علاوہ چارہ نہیں رہا۔‘

  11. افغانستان میں اب کوئی موسیقی یا ساز نہیں بجے گا

    music

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے افغانستان میں ایک بار پھر موسیقی پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

    طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’اسلام میں موسیقی حرام ہے۔۔۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم لوگوں کو مجبور کرنے کے بجائے انھیں ایسی چیزیں ترک کرنے پر امادہ کر لیں گے۔‘

    1990 کی دہائی میں طالبان نے بیشتر موسیقی، ٹیلی وژن اور سنیما کا ملک سے خاتما کر دیا تھا۔

    ذبیع اللہ مجاہد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ خواتین کے حوالے سے لوگوں کے خدشات بےبنیاد ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو گھروں میں رہنے یا برقے پہننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق سفر کے دوران مرد کے ساتھ ہونے کی شرط صرفتین روز یا اس سے زیادہ کے سفر کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین جلد اپنے معمول کے کاموں پر واپس آ سکیں گی۔

  12. بریکنگ, برطانوی وزیر: کابل میں ’تباہ کن اور ہلاکت خیز‘ حملے کا قوی امکان

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی مسلح افواج کے وزیر نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جلد ہی ’ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز‘ حملہ ہونے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے رات گئے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ ہوائے اڈے کی طرف نہ آئیں اور جو لوگ وہاں موجود ہیں انھیں وہاں سے نکل جانا چاہیے۔

    وزیر جیمز ہیپی نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ حملے کےخطرے کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں۔

    اس کے کچھ دیر بعد انھوں نے بتاتا کہ: وہ مصدقہ اطلاعات اس نہج پر پہنچ گئی ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ کابل میں ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز حملہ ہو سکتا ہے۔

    خطرے کے نویت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ایک بہت پیچیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کابل میں اور لندن میں کئی اہم فیصلے کرنے پڑیں گے۔

  13. ’اُمید تھی طالبان خواتین کو حجاب میں گھروں سے نکلنے دیں گے لیکن یہ صرف دعویٰ تھا‘

  14. سابق برطانوی کمانڈر: کابل ایئرپورٹ کو صرف دولتِ اسلامیہ سے ہی خطرہ نہیں

    Kemp

    افغانستان میں برطانوی افواج کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کا خطرہ اس وقت سے منڈلا رہا ہے جب سے انخلا کا عمل شروع ہوا۔

    کرنل رچرڈ کیمپ نے بی بی سی کو بتایا: یہ خطرہ کسی سے بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ طالبان، القائدہ یا دولت اسلامیہ کیوں نہ ہوں۔‘

    ’اگر لوگ صرف دولتِ اسلامیہ کے بات کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ صرف ان کی جانب سے ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں یہ خطرہ اس وقت سے ہے جب سے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع ہوا اور مجھے شک ہے کہ ہماری افواج کواس خطرے کا پوری طرح علم نہیں تھا۔ اب کئی دنوں سے وہ ایسے اقدامات لے رہے ہیں جن سے ایسا کچھ ہونے سے روکا جا سکے۔‘

    ان کے مطابق یہ بات طے ہے کہ ’ایئرپورٹ کو کسی نہ کسی قسم کا خطرہ ضرور لاحق ہے، چاہے وہ ایئرپورٹ میں موجود افواج پر کسی قسم کا دہشت گرد حملہ ہو یا ایئرپورٹ کے باہر موجود اہلکاروں یا وہاں جمع ہونے والے لوگوں پر۔‘

  15. کابل کی صورتحال: دکانیں کھلی ہیں لیکن گاہک دور دور تک نہیں, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کابل

    KABUL CITY CENTER

    یہ ہے کابل سٹی سینٹر، افغانستان کے دارالحکومت کا سب سے بڑا شاپنگ مال۔

    آج مال اور اس میں واقع دکانیں تو کھلی ہیں اور دکاندار بھی بیٹھے ہیں لیکن گاہک دور دور تک نہیں نظر آ رہے۔

    ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ بینک بند ہیں، اس لیے ہمارا کاروبار بھی بالکل ٹھپ ہو چکا ہے۔

    KABUL CITY CENTER
    atm

    شہر کے بیشتر بینک بند ہیں اور صرف چیدہ چیدہ مقامات پر اے ٹی ایم کھلے ہیں جن کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    اس مشین کے باہر کھڑے افراد نے بتایا کہ کھانے کی چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ آٹے کی جو بوری پہلے 1600 کی تھی وہ اب دو ہزار کی ہوگئی ہے اور جو چیز دو ہزار کی تھی وہ اب 2700 میں مل رہی ہے۔ اسی طرح دیگر اجناس اور تیل کی قیمتیں بھی بہت بڑھ چکی ہیں۔

  16. طالبان، احمد مسعود کے مذاکرات: بات چیت سے مسئلہ حل کرنا طالبان کے حق میں بہتر ہو گا

    احمد مسعود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وادی پنجشیر میں جنم لینے والی مزاحمت کے رہنما، احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور طالبان رہنما امیر خان متقی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے۔

    مذاکرات کے بعد بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ یہ بحران بات چیت کے ذریعے حل ہو سکے۔

    ’لیکن ہم نے اُنھیں یہ بھی صاف صاف بتا دیا ہے کہ ایسا کرنا طالبان کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اگر صرف ایک ہی فریق کی حکومت بنتی ہے تو، خدا نہ کرے، افغانستان تنہائی کا شکار ہوگا اور بین الاقوامی برادری کے لیے اور افغان عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، جس سے افغانستان کا نظام اور اقتصاد دونوں خراب ہوں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا وہ مزاحمت جاری رکھ پائیں گے، احمد مسعود نے کہا: ’اتنا کہہ سکتا ہوں کہ پنجشیر میں جنگجو اور تجربہ دونوں ہیں، ہم اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔‘’

    یاد رہے کہ احمد مسعود نے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور وادی پنجشیر سے ایک مزاحمتی فرنٹ شروع کیا ہے۔

    احمد مسعود کے مطابق ہزاروں لوگ ان کی مزاحمتی فوج میں شامل ہو رہے ہیں تاہم انھوں نے مغرب سے امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کی مدد کرنا ان ممالک کا ’اخلاقی فرض‘ ہے۔

    map

    دوسری جانب احمد شاہ مسعود کے بھائی نے کہا ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں افغان لوگوں کے عقائد اور رویوں میں ایک تبدیلی آئی ہے اور طالبان اس بار اتنی آسانی سے اسے روند نہیں پائیں گے۔

    احمد ولی محسود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اب خواتین ہی مزاحمت کا مرکز ہیں کیونکہ ان کا طرزِ زندگی طالبان سے بہت مختلف ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی نوجوان نسل بھی اس نئی مزاحمت کا حصہ ہیں اور وہ ملک کی آبادی کا 70 فیصد ہیں۔

  17. معید یوسف: بین الاقوامی کمیونٹی کو طالبان سے رابطے رکھنے پڑیں گے

    Moeed Yusuf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ ایک انسانی المیے اور پناہ گزین کے بحران سے بچنے کے لیے بین الاقوامی کمیونٹی کو طالبان سے بات چیت کرنی ہوگی۔

    بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کی ’سرحد پر کوئی افراتفری نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ ہزاروں افغان سپین بولدک کے راستے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

    ’ابھی تک ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کوئی تشدد یا خون ریزی نہیں ہوئی ہے اس لیے پناہ گزینوں کا ریلا۔۔۔ (پاکستان کی طرف) آیا ہی نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری ’ماضی کی غلطیوں سے سیکھے‘ تو افغانستان میں انسانی بحران ناگزیر نہیں ہے۔

    زمینی حقائق یہ ہیں کہ طالبان کنٹرول میں ہیں۔ ہمیں ان کو اپنے واعدے بھولنے نہیں دینا چاہیے لیکن عام افغان شہریوں کی خاطر ہمیں ان کے رابطے رکھنے چاہییں ورنہ ہم پھر اسی جگہ آ کھڑے ہوں گے اور پچھلی بار ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا۔‘

  18. عالمی ادارۂ خوراک پاکستان سے افغانستان کے لیے امدادی پروازیں چلانے کے لیے تیار

    عالمی ادارۂ خوراک کے سربراہ ڈیوڈ بیزلی نے بتایا ہے کہ ان کا ادارہ اب اسلام آباد سے کابل اور دیگر افغان شہروں کے لیے انسانی امداد کی غرض سے پروازیں چلانے کے لیے تیار ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے طیارے مرمت ہو چکے ہیں ان سے عالمی ادارۂ خوراک کو افغان عوام کی ضروریات پوری کرنے کے آپریشن کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. کابل ایئرپورٹ کو کس سے خطرہ ہے؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    IS-K

    کابل ایئرپورٹ کو درپیش دہشت گرد خطرے کے حوالے سے کوئی تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم یہ بات طے ہے کہ خطرہ اتنا سنگین ہے کہ اس کے پیش نظر مغربی ممالک کی جانب سے انخلا کا کام سست پڑ گیا ہے۔

    گذشتہ کچھ دنوں میں ایسی اطلاعات بار بار سامنے آ رہی ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ (یا داعش) خراسان کے جنگجو کابل پہنچ چکے ہیں۔

    تو یہ گروہ ہے کیا؟

    دولتِ اسلامیہ افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان کے نام سے سرگرم ہے۔ خراسان موجودہ پاکستان اور افغانستان کے کچھ حصوں کا تاریخی نام ہے۔

    اس تنظیم کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی اور اطلاعات کے مطابق اس میں پاکستانی اور افغان طالبان کے سابق اراکین شامل ہیں۔

    یہ گروہ افغان طالبان سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور خیال ہے کہ ان کی طالبان سے جانی دشمنی ہے کیونکہ یہ گروہ طالبان جنگجوؤں کو واجب القتل تصور کرتے ہیں۔

    دولت اسلامیہ نے فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے ہونے والے معاہدے پر بھی تنقید کرتے ہوئے لڑائی جاری رکطنے کا عزم کیا تھا۔

    حال ہی میں انھوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انھیں خفیہ معاہدے کے تحت ملک کی چابیاں پکڑا کر چلا گیا۔

    اس گروہ کو 2019 کے اوآخر میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اگلے سال کے اوال میں ہی اس کے سینیئر رہنماؤں کو گرفار کر لیا گیا تھا۔

    تاہم اس کے بعد سے اس گروہ کی صلاحیتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور اس نے امن مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    ابتدائی طور پر دولتِ اسلامیہ خراسان کا دائرہ کار افغانستان اور پاکستان دونوں تک تھا تاہم مئی 2019 میں پاکستان کو ایک علیحدہ صوبہ قرار دے دیا گیا۔

    دولتِ اسلامیہ خراسان نے ستمبر 2018 میں ایران میں ہنے والے ایک حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔

  20. افغان پناہ گزینوں کو یقین نہیں طالبان کی پالیسی کیا ہوگی, شمائلہ جعفری، بی بی سی، چمن

    chaman

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی افغانستان سے متصل سرحد چمن سے بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان آ رہے ہیں۔

    چمن سرحد پر خواتین، بچوں اور مریضوں پر مشتمل پناہ گزین کے ٹولے جوق در جوق چمن کے راستے پاکستان آ رہے ہیں اور مختلف شہروں کی جانب سفر کر رہے ہیں کیونکہ سرحد پر ان کے لیے فی الحال کوئی کیمپ یا انتظامات نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سرحدی علاقہ ہے اس کا طویل ترین حصہ بلوچستان میں ہے۔

    اس سرحد پر بلوچستان کے چھ اضلاع واقع ہیں، جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں تاہم یہاں سے پیدل اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ چمن ہے۔

    چمن سے متصل افغان علاقے سپین بولدک پر جولائی کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد دو مرتبہ چمن سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوئی تھی لیکن 12 اگست کے بعد سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔

    کابل، قندھار اور غزنی سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ویسے تو ان کے علاقوں میں ابھی تک صورتحال پرامن ہے اور کوئی لڑائی نہیں ہو رہی لیکن لوگوں میں بہت زیادہ خوف ہے اور ابھی اس بارے میں یقین نہیں کہ طالبان کی پالیسی کیا ہو گی۔

    کچھ لوگ افغانستان کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے بھی پاکستان آ رہے ہیں کیونکہ ان کے علاوں میں کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔