کابل ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے سے متعلق ترکی اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے صدر طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا مشترکہ انتظام سنبھالنے میں مدد سے متعلق حتمی فیصلے کیے جا سکیں۔
صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے طالبان سے تین سے چار گھنٹوں پر محیط بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کہ ترکی ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنےکے لیے تیار ہے لیکن اس کی سکیورٹی کے انچارج طالبان ہوں گے۔
ایئرپورٹ کا انتظام کیسے سنبھالا جاتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ بنایا جاتا ہے یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اس کا متحرک ہونا افغانستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہو گا۔
ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے اور یہ اس اتحادی افواج کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔ ترکی نے گذشتہ چھ سالوں سے ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔
تاہم طالبان ترکی سمیت تمام بین الاقوامی افواج کا ملک سے انخلا چاہتے ہیں۔ صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کی افواج ایئرپورٹ پر موجود رہیں گی یا نہیں۔











