ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاہدہ: توہین مذہب کے ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت بھی مقدمہ چلایا جائے
اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنما شفیق امینی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے معاہدے کی تصدیق کی۔
اس معاہدے کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے مل کر طریقہ کار طےکیا ہے اور توہین مذہب کی روک تھام کے لیے مشاورت سے ایک لائحہ عمل تک پہنچے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت حکومت توہین مذہب اور توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمات چلیں گے۔ اس معاہدے کے تحت حکومت امریکہ کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے خط لکھے گی اور اس بابت اقدامات اٹھائے گی۔
اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے، ایک بے گناہ خاتون کو نہ صرف غلط سزا دی گئی اور قید میں بھی رکھا گیا ہے، پاکستان کے حالات پر کانگریس ارکان کو خط لکھنے والے ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ بھی دیکھیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر خط بھی لکھے گی۔
اس معاہدے کے تحت حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق طریقہ کار ٹی ایل پی کے سامنے رکھا، اسحاق ڈار نے یقین دلایا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔ اس معاہدے کے تحت حکومت کو اردو زبان کی ترویج کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔
ٹی ایل پی کے رہنما شفیق امینی نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات مان لیے ہیں، ہمارے مطالبات میں تحفظ ناموس رسالت، مہنگائی کا خاتمہ اور ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ شامل تھا، ہم نے اپنے مطالبات کے لیے پھر امن مارچ کیا۔
شفیق امینی کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کا شکریہ کہ انھوں نے لاکھوں لوگوں کے جذبات کی قدر کی اور ہامرے مطالبات مانے۔
خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا مطالبات کے حق میں کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ جاری تھا جو کہ حکومت نے جہلم کے قریب روک رکھا تھا۔