امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ’اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے گی، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مؤثر قوت سمجھا جاتا ہے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. حوثیوں کا سعودی عرب میں آرامکو تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    حوثی جنگجو
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس کے خلاف دو الگ فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

    بدھ کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے جاری حوثی گروہ کی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں یمن کے خلاف سعودی قیادت میں جاری فوجی مہم اور محاصرے کے جواب میں کی گئیں۔

    بیان کے مطابق پہلی کارروائی میں ینبع میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں خمیس مشیط ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

    حوثیوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں حملوں میں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ تاہم اس دعوے کی بی بی سی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمن کی مسلح افواج سعودی عرب کے اندر اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں اور محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔

  2. مکہ مکرمہ پر حملہ عالمِ اسلام پر حملہ تصور ہو گا: مولانا فضل الرحمان

    خانہ کعبہ مکہ
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے اپنے بیان میں متنبہ کیا ہے کہ مکہ مکرمہ پر کسی بھی حملے کو پورے عالمِ اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی عقیدتوں اور مذہبی وابستگی کا مرکز ہے۔‘

    یاد رہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کے ایک عہدیدار محمد الفرح نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کے بیان کے مطابق اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو حملہ آور عالمِ اسلام کے شدید ردِعمل کا سامنا کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’امتِ مسلمہ مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو کر جواب دے گی۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ٹوئٹ

    بیان میں مسلم ممالک، بالخصوص پاکستان، سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس نازک صورتحال میں سعودی عرب اور حرمِ مکی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اور فوری اعلان کرے۔

    بیان میں کہا گیا کہ مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں ایک مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ پر مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے دفاع میں شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    یاد رہے کہ جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد حوثی گروپ سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کے ساتھ نئی جھڑپوں میں مصروف ہے۔

    حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

  3. غزہ میں جنگ سے متاثرہ عمارت گرنے سے پانچ بچوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک, یولیند نیل، بی بی سی

    غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ ایک رہائشی عمارت گر گئی

    غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ ایک رہائشی عمارت کے گرنے سے پانچ بچوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مقامی امدادی ٹیموں کے مطابق درجنوں افراد ابھی لاپتہ ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عمارت کو غیر محفوظ قرار دیے جانے کے باوجود 10 خاندان وہاں موجود اپارٹمنٹس میں رہ رہے تھے۔

    اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں غزہ شہر میں واقع کثیرالمنزلہ عمارت کی منزلیں ایک دوسرے پر آ گری تھیں جبکہ اس کے ملبے تلے لاشوں اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا عمل جاری دکھائی دے رہا ہے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ریسکیو سروس کے اہلکاروں کے مطابق ابتدائی طور پر انھیں غزہ میں آلات کی درآمد پر عائد اسرائیلی پابندیوں کے باعث ’خالی ہاتھ‘ امدادی کارروائیاں کرنا پڑیں۔ تاہم بعد میں وہ کچھ بھاری مشینری مستعار لینے میں کامیاب ہو گئے۔

    صحت کے حکام اور حماس سے وابستہ ذرائع کے مطابق منگل کو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے اور حماس کا ایک کمانڈر شامل تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر اور شمالی غزہ میں ایک اور جنگجو کو ہلاک کیا۔ دونوں واقعات میں ایک ایک بچے کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

  4. ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہیں: چینی وزیر خارجہ کی عباس عراقچی کو یقین دہانی

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی
    ،تصویر کا کیپشنایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت چین کے دورے پر ہیں

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت چین کے دورے پر ہیں اور چینی وزیر خارجہ نے ان سے ملاقات کے دوران ایران کی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین ’ایران کے ساتھ رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایران اور امریکہ دونوں کو تجویز کرتے ہیں کہ دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

    وانگ یی نے کہا کہ ہم علاقائی کشیدگی کو یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔

    یاد رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس ہفتے چین نے امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی اداروں نے ایران کو ایک ایسے فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں جہاں اردن میں امریکی افواج تعینات ہیں۔

    اس حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

  5. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ دفاعی اتحاد‘ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔
    • پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔
    • سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے یہاں آنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
    • یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔
    • اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ اور مدینہ ریجن پر حوثیوں کے مبینہ حملوں اور سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے۔
    • اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے بیان میں یمن میں کشیدگی فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
    • پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہےجس کے بعد پیٹرول کی قیمت چار روپے 10 پیسے اضافے کے ساتھ 384 روپے 34 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت چھ روپے 41 پیسے اضافے کے بعد 415 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔
    • اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دی جائے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے مزید سینکڑوں لاشیں نکالی گئی ہیں۔
    • عمان نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد دو ملاح لاپتہ ہیں پر 23 دیگر کو بچا لیا گیا ہے۔
    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت انڈین خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی نظام کی بہتری، ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    • انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
  6. تحقیقاتی رپورٹ میں پمز نرسری آتشزدگی ادارہ جاتی ناکامی قرار، وزیر اعظم کا تین ماہ میں اصلاحات کا حکم

    پمز میں آگ سے جھلس جانے والے نومولود کی غم زدہ ماں

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی نظام کی بہتری، ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی پریس ریلیز کے مطابق وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پمز ہسپتال کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے کیے گئے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کیے گئے قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ تین ماہ کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ ہسپتال کی بہتری اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے۔

    انھوں نے فائر سیفٹی نظام کی بہتری کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) سے معاونت اور تجاویز لینے اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سفارشات پر بھی غور کرنے کی ہدایت کی۔

    دوسری جانب پمز کی نرسری میں 26 اگست کو لگی آگ کی تحقیقات کرنے والی حکومتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    43 صفحوں کی رپورٹ کے مطابق ’کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نظام میں اور ادارے کی سطح پر ناکامی ثابت ہو چکی ہے۔ تاہم انفرادی ذمہ داری کا تعین شواہد کی نوعیت اور مضبوطی کے مطابق مختلف ہو گا۔‘

    حکومت کی رپورٹ میں درج ہے کہ مرکزی ذمہ داری پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر آتی ہے کیوں کہ وہ معلوم خطرات، سابقہ انتباہات اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کو ایک مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

    کمیٹی کا کہنا ہے کہ آگ غالباً ایئرکنڈیشنر نمبر دو کی برقی سپلائی کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی کے باعث لگی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری میں دھویں کی نشاندہی کرنے والے نظام، فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ نومولودوں کے انخلا کے لیے کوئی مؤثر ہنگامی منصوبہ بھی موجود نہیں تھا۔

    رپورٹ کے مطابق موجوہ ریکارڈ سے کسی مخصوص فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت نہیں ہوتا، تاہم چار ممکنہ پہلو ایسے ہیں جن پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ (1) ائیرکنڈیشنر نمبر دو کی تنصیب یا دیکھ بھال میں غفلت ہوئی، (2) ہنگامی اخراج کے راستے میں رکاوٹ ڈالی گئی، (3) کسی مخصوص پیشگی تنبیہ کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی، (4) اور بیرونی امدادی اداروں کو طلب کرنے میں تاخیر ہوئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجداری ذمہ داری کے تعین کے لیے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ متعلقہ فرد پر کون سی ذمہ داری عائد تھی، کیا اسے خطرے کا علم تھا یا ہونا چاہیے تھا، اسے کارروائی کا اختیار حاصل تھا یا نہیں اور غفلت کی نوعیت کیا تھی۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرنٹ لائن طبی اور سکیورٹی عملے نے فوری ردعمل دیا اور بعض اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوششیں کیں، اس لیے یہ الزام درست نہیں کہ عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔

    حکومتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وہ فرنٹ لائن اہلکار، جن کے بارے میں ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے امدادی کارروائی کی، انھیں صرف اس بنیاد پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ نتیجہ انتہائی المناک نکلا۔

    26 اگست کو جب آگ لگی تو 15 نومولود پمز کی نرسری میں موجود تھے، ان میں سے صرف ایک بچے کی جان بچائی جا سکی تھی۔

  7. بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی اور انڈین بحریہ کے جہازوں کا مبینہ ٹکراؤ: انڈیا کا پاکستان سے احتجاج, شکیل اختر، بی بی سی، دلی

    Pakistan Navy
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی نیوی کا جہاز انڈین نیوی کے ایک جہاز کے ساتھ ٹکرایا۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، تاہم انڈیا کا مؤقف ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرزِ عمل اپریل 1991 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی براہِ راست خلاف ورزی تھا۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکام نے پاکستانی ناظم الامور کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے تمام فوجی یونٹس احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    انڈیا نے مزید کہا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں تعینات اپنے ناظم الامور کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سامنے اسی نوعیت کا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

  8. برکس اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت کو عمر عبداللہ نے انڈین خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے دیا, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    عمر عبداللہ

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت انڈین خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    برکس میں شامل ممالک کا نمائندہ اجلاس 12 تا 13 ستمبر انڈیا کی میزبانی میں نئی دہلی میں ہوا تھا۔

    سرینگر میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ برکس اعلامیہ میں گذشتہ سال پہلگام میں ہونے والے حملے کی مذمت ’نہایت اہم پیش رفت‘ ہے۔

    انھوں نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اجلاس میں پاکستان کے اتحادی ممالک بھی موجود تھے۔

    عمر عبداللہ نے چین اور انڈیا کے درمیان متنازع سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک میں اتفاق کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی سفارتی کوششیں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسی طرح کا اتفاق ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھی ہو گا۔‘

    چین کی جانب سے انڈین سفارت کاری کے بارے میں مثبت بیانات کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی کی توثیق کے لیے دوسرے ممالک کی رائے کا محتاج نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی پالیسیوں کا تعین اپنی شرائط کے مطابق کرنا چاہیے۔

    عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے انڈیا کی تعریف یا تنقید کو غیر ضروری اہمیت نہیں دینی چاہیے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں 22 اپریل 2025 کو کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ چند ہفتوں بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان محدود فضائی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

    اعلامیے میں ’ریاست کی پشت پناہی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی‘ کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کا اعادہ کیا گیا تھا۔

  9. حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    8 مارچ 2021 کی تصویر: سعودی عرب کے ایف۔15 لڑاکا طیارے اور امریکی بی۔52 بمبار طیارہ مشترکہ مشق کے دوران
    ،تصویر کا کیپشن8 مارچ 2021 کی تصویر: سعودی عرب کے ایف۔15 لڑاکا طیارے اور امریکی بی۔52 بمبار طیارہ مشترکہ مشق کے دوران

    یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کا ایک ایف 15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں ایک سعودی ایف 15 طیارے کو مار گرایا۔

    ان کے مطابق طیارے کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے ایسے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جو مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

    یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا ہدف تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈے ہوتے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل سعودی قیادت والے اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ یمن سے داغے گئے ایک حوثی ڈرون کو مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا گیا۔

    جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد حوثی گروپ سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کے ساتھ نئی جھڑپوں میں مصروف ہے۔

    حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

    ایف۔15 لڑاکا طیارے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    یہ طیارہ فضا سے زمین اور فضا سے فضا میں آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    فضا سے زمین پر حملے کے کردار میں یہ طیارہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو لیزر اور جی پی ایس سے چلنے والے درست نشانہ باز ہتھیاروں سمیت دیگر بم بھی گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس طیارے میں دو افراد کا عملہ ہوتا ہے۔ سامنے پائلٹ بیٹھتا ہے جو طیارہ اڑاتا ہے اور پیچھے ویپن سسٹمز آفیسر بیٹھتا ہے۔

    ویپن سسٹمز آفیسر کے سامنے چار سکرینیں ہوتی ہیں اور وہ اہداف کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ ہتھیار ہدف کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہو۔

    یہ دو افراد پر مشتمل نظام کام کا بوجھ تقسیم کرنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر ایک بھاری اور خطرناک فضائی ماحول میں جہاں پائلٹ کو خطرات سے بچتے ہوئے پرواز کرنا ہوتی ہے۔

  10. امریکہ اور ایران میں ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے: ترجمان پاکستان فوج

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔

    میڈیا ادارے العربیہ انگلش کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کی حیثیت ایک غیر جانبدار اور دیانت دار سہولت کار کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن کا حامی ہے اور اسی لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پوچھا گیا کہ ثالثی کی کوششوں میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

    انھوں نے جواب دیا کہ کئی دہائیوں پر محیط اور پیچیدہ تنازعات میں ثالث کا کردار غیر جانبدار اور معروضی رہنا ہوتا ہے، اس لیے پاکستان بطور ثالث جاری رابطوں یا ممکنہ پیش رفت پر تبصرہ نہیں کرے گا۔

    اس سوال پر کہ پاکستان کیا ایسا کر سکتا ہے جو دوسرے ثالث نہیں کر سکے، ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ثالثوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی پائیدار اور پُر امن حل۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کی قیادت کا اس تنازع میں کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میرٹ اور باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔

  11. افغان سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، ترجمان پاکستان فوج

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

    میڈیا ادارے العربیہ انگلش کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے حوالے سے فوج کا بھی وہی مؤقف ہے جو سیاسی قیادت کا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ متعدد شدت پسند تنظیمیں اب بھی افغانستان سے سرگرم ہیں اور یہ صرف پاکستان کا مؤقف نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔

    ترجمان پاکستان فوج سے پوچھا گیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہو جائے تو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان کن اقدامات کو جائز سمجھتا ہے۔

    احمد شریف چوہدری نے جواب دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 51 دفاع کا حق دیتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کا پابند ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، چاہے خطرات کہیں سے بھی پیدا ہوں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

    بلوچستان کی صورتحال پر سوال کے جواب میں انھوں نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ وہاں کوئی شورش جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے وہ شورش نہیں بلکہ ’دہشت گردی‘ قرار دیتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جہاں ایک جانب انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، وہیں ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی روابط اور معاشی مواقع پر بھی کام ہو رہا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اچھی حکمرانی، مواقع اور مسلسل توجہ ملنی چاہیے، جبکہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔

    العربیہ انگلش پر انٹرویو کے دوران پاکستان فوج کے ترجمان سے مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ عسکری تنازع کے بارے میں بھی سوال کیا گیا کہ ’پاکستان فوج نے اس سے کیا سیکھا؟‘

    جواب میں انھوں نے کہا کہ پہلا سبق یہ ہے کہ دو ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان فوجی تنازع ایک سٹریٹیجک غلطی ہے۔

    ترجمان پاکستان فوج سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا نے یہ سبق سیکھ لیا ہے؟

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس کا جواب انڈیا کو دینا ہے، ’تاہم پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے یہ حقیقت مسلسل یاد دلاتا رہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان مساوی بنیادوں پر امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم اگر فوجی جارحیت کے ذریعے علاقائی بالادستی کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کا ’تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔

    مستقبل میں جوہری تصادم کے خطرات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کو حملے سے باز رکھتی ہے، جبکہ سیاسی قیادت کا تحمل اور رابطے بھی کشیدگی روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوج سے فوج کے روابط کی بحالی کے امکانات موجود ہیں۔

    ترجمان پاکستان فوج نے جواب دیا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن کئی دہائیوں سے مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہے، حتیٰ کہ کشیدگی کے ادوار میں بھی۔

    انڈیا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے متعلق سوال پر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم کوئی بھی بات چیت مساوات، باہمی احترام اور مسائل کے مخلصانہ حل کی کوشش پر مبنی ہونی چاہیے۔

    انڈیا کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان فوجی صلاحیتوں میں انڈیا کی سرمایہ کاری سے آگاہ ہے، تاہم پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ملک کو اپنی دفاعی استعداد پر مکمل اعتماد ہے۔

  12. مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ پر مبینہ ڈرون حملے کی ’شدید ترین الفاظ میں‘ مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اس پر افسردہ اور مضطرب ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’اس نا قابلِ معافی اقدام پر محسوس کیے جانے والے غم اور دکھ کی شدت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

    شہباز شریف نے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید کشیدگی سے گریز کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ تنازعات کے باعث خطہ پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان خود مختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی و تقدس کے دفاع میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان نے مذاکرات اور سفارت کاری کو پائیدار امن کا واحد راستہ قرار دیا۔

  13. اسلامی تعاون تنظیم کی مکہ پر حوثیوں کے مبینہ حملوں کی مذمت

    او آئی سی میں شامل ممالک کے جھنڈے

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ اور مدینہ ریجن پر حوثیوں کے مبینہ حملوں اور سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے۔

    او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’ان حملوں سے بے گناہ شہری خوفزدہ ہوئے، مقدس مقامات اور مساجد کا تقدس پامال ہوا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔‘

    او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کے بیان میں کہا گیا کہ ’مقدس مقامات، مساجد اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی ملیشیا کی کارروائیاں ایسی دہشت گردی ہیں جو اسلامی اقدار، بین الاقوامی اصولوں اور قانون کے منافی ہیں۔‘

    بیان میں زور دیا گیا کہ مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزی ایک ’نا قابل قبول اور نا قابل برداشت‘ اقدام ہے، جس کا ارتکاب کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور ایسے اقدامات کا راستہ روکنا ضروری ہے۔

  14. حوثی عہدیدار نے مکہ پر حملے کے سعودی دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دے دیا

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کے ایک عہدیدار نے سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حوثیوں نے مکہ کی جانب ڈرون داغا جسے مار گرایا گیا۔

    روئٹرز نے حوثیوں کے زیر انتظام سبا نیوز ایجنسی کے حوالے سے محمد الفرح کا بیان شائع کیا۔

    محمد الفرح حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن ہیں۔ انھوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

  15. مکہ معاہدہ جارحانہ نہیں، دفاعی وعدوں کی آپریشنل تفصیلات عوامی سطح پر نہیں بتائی جاتیں: ترجمان پاکستان فوج

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ دفاعی اتحاد‘ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔

    میڈیا ادارے ’العربیہ انگلش‘ کو انٹرویو کے دوران پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی میں کئی دہائیوں پر محیط سٹریٹیجک تعلقات ہیں۔

    احمد شریف چوہدری نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد حکومتی اور عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ ’عوامی روابط اور جذباتی و ثقافتی وابستگیوں‘ پر ہے۔

    ان سے سوال کیا گیا: ’کیا سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان نیا دفاعی تعلق ایران کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن کو پیچیدہ بناتا ہے؟‘

    ترجمان پاکستان فوج کا جواب تھا: ’بالکل نہیں۔‘

    اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ فوجی اتحاد راتوں رات وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک میں پہلے سے موجود سٹریٹیجک تعلقات کو با ضابطہ شکل دی گئی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ’معاہدے کا سادہ سا مطالعہ‘ ہی یہ بتا دے گا کہ اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ معاہدے میں شامل ممالک کے دشمن ان ممالک پر حملے سے باز رہیں۔

    ’اس میں کوئی جارحانہ یا مداخلت پر مبنی عنصر شامل نہیں۔ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔‘

    پاکستان فوج کے ترجمان سے سوال کیا گیا: ’یہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو عملاً کس چیز کا پابند بناتا ہے؟‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا جواب تھا کہ یہ مشترکہ مزاحمت اور تینوں ممالک کے دفاع کے شعبے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دہائیوں پرانے تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔

    انٹرویو کے دوران سوال ہوا کہ کیا یہ بنیادی طور پر دفاعی تعاون ہے یا وسیع تر سٹریٹیجک اتحاد کا آغاز؟

    ترجمان پاکستان فوج نے جواب دیا: ’یہ دفاعی ہے، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس میں کوئی جارحانہ پہلو یا علاقائی توسیع پسندی کا ایجنڈا نہیں۔‘

    سوال کیا گیا کہ ’اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو گا؟‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جواب دیا: ’دفاعی وعدوں سے متعلق آپریشنل تفصیلات کبھی عوامی سطح پر نہیں بتائی جاتیں۔‘

    انھوں نے مزید وضاحت کی کہ بہت سے ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے ہوتے ہیں لیکن کوئی ریاست ان کے نفاذ کی عملی تفصیلات ظاہر نہیں کرتی۔ یہ معاملات آپریشنل سکیورٹی اور خفیہ معلومات کے دائرے میں آتے ہیں۔

    سوال ہوا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ کیا یہ دفاعی معاہدہ ان تعلقات کی تکمیل کرتا ہے یا ان سے مسابقت رکھتا ہے؟

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری: ’یہ ان کی تکمیل کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا تعلق انتہائی سٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔ اس میں مسابقت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    انٹرویو میں ترجمان پاکستان فوج سے سوال کیا گیا کہ ’کیا آپ اس معاہدے کو وسیع تر مسلم دنیا کے سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بنتے دیکھ رہے ہیں؟‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جواب دیا کہ معاہدے میں کہیں بھی اسے ’مسلم اتحاد‘ قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد علاقائی استحکام ہے۔ ’یہ صرف مسلم ممالک کے لیے کوئی مخصوص کلب نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’اتحاد کو وسعت دینا ہے یا نہیں، اور کیسے دینی ہے، اس کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔

    ’امکان موجود ہے کہ مستقبل میں ایسے شراکت دار بھی شامل ہوں جو امن، استحکام، عدم جارحیت اور اجتماعی مزاحمت کے اصولوں سے متفق ہوں۔‘

  16. پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کی مذمت، کشیدگی میں فوری کمی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد
    ،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری بیان میں یمن میں کشیدگی فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’بڑھتا ہوا تنازع علاقائی امن و استحکام، جہاز رانی کی آزادی، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔‘

    بیان کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کی خود مختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی ’غیر متزلزل حمایت‘ کا اعادہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے اس جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنے دفاع، اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مستقل مندوب عاصم افتخار نے آبنائے باب المندب اور اس کے اطراف حوثیوں کے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ یمن کو وسیع علاقائی محاذ آرائی میں دھکیل سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے بچنا ضروری ہے۔‘

    بیان کے مطابق عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان تنازع کے پُر امن حل اور ’ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جو یمن اور خطے میں دیر پا امن اور استحکام لا سکے۔‘

  17. امریکہ کی سعودی عرب جانے والے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    جدہ ایئرپورٹ، سعودی عرب
    ،تصویر کا کیپشنجدہ ایئرپورٹ، سعودی عرب

    سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے یہاں آنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ’ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے امریکی مفادات کو لاحق خطرات، مسلح تنازعات، دہشت گردی، ملک سے باہر جانے پر عائد کی جانے والی پابندیوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مقامی قوانین کے باعث‘ یہاں آنے کے خواہش مند امریکی شہری اپنے ارادوں پر ’دوبارہ غور کریں۔‘

    سفری ہدایت میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے بعض علاقوں میں خطرات کی سطح نسبتاً زیادہ ہے، خاص طور پر یمن کی سرحد کی طرف بالکل سفر نہ کیا جائے کیوں کہ وہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

    واضح رہے کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔

    حوثیوں نے بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی علاقے اور آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

    حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے متعدد مقامات پر حملے کرنے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں اور آج یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ حوثیوں نے مکہ کی طرف ڈرون داغا جسے شہر کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا گیا۔

  18. مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا: اتحادی افواج کا دعویٰ

    ترکی المالکی
    ،تصویر کا کیپشنترکی المالکی (فائل فوٹو)

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا: ’اس دشمن ڈرون کو مکہ المکرمہ کے جنوب میں روکا گیا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ’مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے۔‘

    عسکری اتحاد کے ترجمان نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے دنیا بھر سے مکہ میں آنے والے لاکھوں مسلمان زائرین میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی ہے۔

    میجر جنرل ترکی المالکی کے بقول اس سے پہلے 27 جولائی 2017 کو بھی بیلسٹک میزائل کے ذریعے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

    انھوں نے لکھا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان حوثی ملیشیا اور اس کے دہشت گردانہ رویے کے خلاف ضروری اقدامات کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

  19. اقوامِ متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

    غزہ

    اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دی جائے۔

    یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے مزید سینکڑوں لاشیں نکالی گئی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ٹرک نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے گھروں پر بمباری کے طویل عرصے بعد ملنے والی ان باقیات (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں) سے اشارہ ملتا ہے کہ جنگی جرائم ہوئے ہوں گے۔

    وولکر ٹرک نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی زیرِ کنٹرول علاقوں کو بلڈوزروں کے ذریعے زمین بوس کیا جا رہا ہے اور اس دوران ہلاک شدگان کی لاشوں کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔

    اُنھوں نے متاثرین کی شناخت، فارنزک شواہد کو محفوظ کرنے، تدفین کے مقامات کا اندراج کرنے اور لواحقین کو مطلع کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور دیا۔

    حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حماس نے سات اکتوبر 2023 کو کیے گئے ایک حملے میں تقریباً 1200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

  20. عمان کا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملے میں دو ملاح لاپتا ہونے کا دعویٰ، ’23 کو بچا لیا گیا‘

    سمندر

    عمان نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد دو ملاح لاپتہ ہیں پر 23 دیگر کو بچا لیا گیا ہے۔

    عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر ’ال گایا‘ کا رخ منگل کے روز عمان کی ایک بندرگاہ کی جانب تھا۔

    اس ٹینکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی۔ مرکز کے مطابق جہاز کو مسندم جزیرہ نما کے شمال میں 1.3 ناٹیکل میل (2.4 کلومیٹر) کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔

    پیر کے روز پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ٹینکر ایک ایسے راستے سے گزرتے ہوئے بحری بارودی سرنگوں کی زد میں آیا اور اس میں آگ لگ گئی جسے اُنھوں نے ’ممنوعہ اور غیر محفوظ‘ قرار دیا تھا۔

    تاہم امریکی فوج نے ایران کی اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دیا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر کو گذشتہ ماہ ایک ایرانی میزائل اور پھر ہفتے کے آخر میں ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔