توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے۔ انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجیں گے: فرانسیسی صدر

    فرانسیسی صدر

    فرانس کے صدر صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ان ملک سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجے گا۔

    فرانسیسی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور حوثیوں کی جانب سعودی عرب کی تیل کی تنبصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

    سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتی ہیں۔

    فرانس کے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مقام کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل بھیجیں گے، یعنی فوجی اہلکار، ریڈارز اور دفاعی نظام۔‘

    انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بحیرۂ احمر میں واقع ینبع میں تیل کی تنصیب کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل، یعنی فوجی، ریڈار اور دفاعی نظام تعینات کریں گے۔‘

    فرانس کے صدر کے مطابق اس فیصلے کو سعودی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ینبع بندرگاہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور حالیہ حملے کے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس فوج کا مقصد کسی جنگ یا عسکری تنازع میں شامل ہونا نہیں ہے۔

    ’ہمارا مقصد کسی لڑائی میں حصہ لینا نہیں، بلکہ اس مقام کا تحفظ کرنا ہے۔‘

    انھوں یہ بھی کہا کہ فرانس آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے فرانس خاص طور پر ایران اور عمان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری ہی پائیدار حل کا راستہ ہے اور فرانس توانائی کی رسد اور عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں کے تحفظ کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔

  2. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کے چار اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کا نوٹیفیکیشن وزارت داخلہ نے جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومت پنجاب کی درخواست پر رینجرز کی تعیناتی اور رینجرز کو قانونی اختیارات کے تحت مکمل معاونت کی اجازت دی ہے۔
    • پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں گلستان سیکٹر پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ دراندازی کی کوشش کے دوران کئی طالبان جنگجو ہلاک کر دیے گئے ہیں۔
    • بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق سندھ سے تھا اور دونوں کو ضلع کیچ کے علاقے کلاتُک میں نشانہ بنایا گیا۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی نیو یارک میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ’علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق‘ کیا ہے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ انھیں اعتماد ہے کہ ان کا ملک دوبارہ امریکہ کے F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام میں شامل ہو جائے گا اور انھیں توقع ہے کہ واشنگٹن اس مقصد کے حصول کے لیے ’عملی اور ٹھوس‘ اقدامات کرے گا۔
    • چین کے صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’خوبصورت‘ امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے پر خوشی ہے اور وہ مہمان نوازی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔
    • امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سائبر کرائم میں ملوث ایک گروپ کے اس دعوے کی تحقیقات کر رہا ہے کہ اس نے ادارے کے تقریباً 38,000 ملازمین کی حساس معلومات چوری کر لی ہیں۔ ہیکرز کے گروپ شائنی ہنٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایف بی آئی کے تمام اہلکاروں کے نام، عہدوں، بیج نمبر، گھروں کے پتے، فون نمبرز اور پارٹنرز کی تفصیلات سمیت دیگر معلومات موجود ہیں۔