سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجیں گے: فرانسیسی صدر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فرانس کے صدر صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ان ملک سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجے گا۔
فرانسیسی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور حوثیوں کی جانب سعودی عرب کی تیل کی تنبصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتی ہیں۔
فرانس کے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مقام کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل بھیجیں گے، یعنی فوجی اہلکار، ریڈارز اور دفاعی نظام۔‘
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بحیرۂ احمر میں واقع ینبع میں تیل کی تنصیب کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل، یعنی فوجی، ریڈار اور دفاعی نظام تعینات کریں گے۔‘
فرانس کے صدر کے مطابق اس فیصلے کو سعودی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ینبع بندرگاہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور حالیہ حملے کے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاہم فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس فوج کا مقصد کسی جنگ یا عسکری تنازع میں شامل ہونا نہیں ہے۔
’ہمارا مقصد کسی لڑائی میں حصہ لینا نہیں، بلکہ اس مقام کا تحفظ کرنا ہے۔‘
انھوں یہ بھی کہا کہ فرانس آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے فرانس خاص طور پر ایران اور عمان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری ہی پائیدار حل کا راستہ ہے اور فرانس توانائی کی رسد اور عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں کے تحفظ کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔
